وزیراعظم پاکستان عمران خان اور جہانگیرترین

چینی سکینڈل، ذمہ داروں کا احتساب یا ڈرامہ بازی؟

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

عبیداللہ عابد:

گزشتہ روز جیو ٹی وی کے ایک پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے:
” ہمیں اس بات پرا عتراض ہے کہ عدالت عالیہ نے ہمیں شوگرملز کیخلاف ایکشن لینے سے روک دیا، ہم ایکشن نہیں لیں گے تو کیسے چینی کی قیمت 70روپے پر لاسکیں گے۔“

ان کا یہ بیان پڑھ کے بہت سے لوگوں کے لبوں پرکسی قدر شرارتی اور کسی قدر فخریہ مسکراہٹ کھیلنے لگ گئی کہ دیکھا ! ہم نہ کہتے تھے کہ جہانگیرترین ، خسروبختیار، عبدالرزاق دائود اور اسد عمر کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ چینی کمیشن سکینڈل کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی محض ایک ڈرامہ تھا ،اس کے علاوہ کچھ نہیں۔

شرارتی مسکراہٹ والے مزید کہتے ہیں کہ جہانگیرترین کو بھگا دیا گیا،ان کے علاوہ باقی کردار اہم حکومتی عہدوں پر براجمان ہیں۔ جہانگیرترین کے فرزندارجمند اپنے والد کے کاروبار کو مکمل طور پر سنبھالے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف شوگرملز ایسوسی ایشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے سٹے آرڈر لے لیا ہے، اب شہزاد اکبر اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر اعتراض کررہے ہیں حالانکہ یہ سب کچھ اس ڈرامے کے سکرپٹ میں لکھا نظر آتا ہے۔

ڈرامہ ختم ہوگا تو جہانگیرترین ، خسروبختیار، عبدالرزاق دائود اور اسد عمر اپنی اپنی جگہ پر قہقہے لگاتے نظر آئیں گے اور کہیں گے کہ دیکھا! کیسا بنایا بدھو اپنے بھولے بھالے عوام کو!! اور وزیراعظم عمران خان کہیں گے مجھے صدارتی نظام کے ذریعے اس ملک کا صدر بنا دو تو چینی کمیشن سکینڈل کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کروں گا۔

میں شروع میں شرارتی انداز میں مسکرانے والوں کو اپوزیشن کا حصہ سمجھتا رہا لیکن اب تو میرے ذہن میں بھی سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔ میں ان سوالات کا اب بھی سرکچلنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔اور اب بھی اس حسن ظن سے کام لینے کی کوشش کرتا ہوں کہ چینی کمیشن کے معاملے میں اگر حکومتی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا ہے تو وہ نقصان جرمانے کے ساتھ پورا کیا جائے گا۔

اگر چینی کمیشن کے معاملے میں لٹے پٹے عوام کی جیبوں پر بڑا ڈاکہ مارا گیا ہے ( اور واقعی مارا گیا ہے، اور ایسے وقت میں‌مارا گیا ہے جب وہ لاک ڈائون کی وجہ سے شدید مالی مشکلات کا شکار تھے) تو ان ذمہ داروں سے پیسہ وصول کرکے عوام کی جیبوں میں ‌واپس پہنچایا جائے گا۔

صرف ان سے پیسہ ہی واپس نہیں لینا ، جرمانہ ہی نہیں وصول کرنا بلکہ ان پر بدعنوانی کے مقدمات چلائے جائیں گے اور انھیں بدعنوانی کی سزائیں سنائی جائیں گی اور جیلوں میں بھی ڈالا جائے گا تاکہ آئیندہ کسی کو ایسا کرنے کی جرات نہ ہو۔

یادرہے کہ ماضی میں بھی ایسا ہوچکا ہے، جنرل پرویزمشرف کے دور میں چینی کا بحران پیدا کیا گیاتھا، ان دنوں اچانک چینی کی قیمت 135 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت جہانگیر ترین اس شعبے سے متعلقہ وزارت پر براجمان تھے۔ نہ اس وقت کسی نے جہانگیر ترین سے پوچھ گچھ کی، اور نہ ہی تحریک انصاف میں شامل کرتے وقت کسی نے 135 روپے فی کلوگرام والا حساب لیا۔

ایک بات افسوس کے ساتھ کہنا پڑتی ہے کہ عمران خان نے جو اس قوم سے وعدے کئے تھے، حکومت کی آدھی مدت پوری ہونے والی ہے لیکن کوئی وعدہ پوری نہیں ہوسکا۔ مجھے بھی محسوس ہوتا ہے کہ نظام پارلیمانی رہے یا صدارتی ہوجائے، احتساب ایک ڈرامہ ہی ثابت نہ ہو جائے۔ ابھی تک تو ایسا ہی ثابت ہورہاہے۔


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں