دعا عظیمی، اردو افسانہ نگار

محوراور مرکز

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

دعا عظیمی :

” کبھی کبھی دکھ کہنے کے لیے لفظ نہیں بچتے“
” دکھ کیا ہے؟ “
میں نے بےچارگی سے ان کی خالی آنکھوں میں دیکھا۔
وہ چاندنی میں نہائی ہوئی تھیں مگر ان کے بالوں کا رنگ چاند کی چاندنی میں بھی بجھی راکھ کے رنگ کا سا نمایاں نظر آ رہا تھا۔
ایش کلر
یہ راکھ کہاں سے ملی ہوگی؟
میں نے دل میں سوچا،
وہ پلکیں جھپکے بغیر فضا میں کسی نکتے پہ نظریں جمائے تھیں.
کیا ہوا؟
مس؟
میں انہیں پیار سے ” مس “ ہی پکارا کرتا تھا ۔۔۔۔۔ کیونکہ اس کے بعد وہ دل نشیں انداز سے مسکرا دیتیں.

انہیں یہاں آئے چوتھا ماہ تھا ۔۔۔۔ ساٹھ برس کی نہ ہوتیں تو اولڈ ہوم میں داخلہ کون دیتا؟؟؟؟
اولڈ ہومز کی شرائط بھی کڑی تھیں، ہر بےگھر انسان کو یہ سہولت کب میسر تھی ۔۔۔۔ کہ جس کے پاس چھت نہ ہو وہ اولڈ ہوم کا دروازہ کھٹکھٹائے اور اسے نرم بستر میسر آ جائے.

داخل ہونے والے کا کسی حد تک صحت مند ہونا بھی ضروری تھا ۔۔۔۔۔۔ ہاں ! یہاں داخل ہو کے جتنا مرضی بیمار ہو لے اس کے بعد وہ ادارے کی ذمہ داری تھا.

میرا کام تو بس اتنا تھا کہ میں شدید بیمار مریضوں کو سٹریچر پہ ڈالتا اور احاطے سے باہر ملحق ہسپتال کے ایمرجینسی وارڈ میں منتقل کر دیتا۔

یہ خاتون مجھے اچھی لگی، سنجیدہ شاعرانہ مزاج والی..
ہر دم ہاتھ میں احمد فراز کی ” جاناں جاناں “ رکھتی تھیں.
اس سے پہلے کہ میں مین گیٹ کا تالا چیک کرتا میری ان سے مڈبھیڑ ہو گئی ۔

” آپ دکھ کی بات کر رہی تھیں “
” ہاں ! بس اسی قدر… “
وہ روحی بانو کی طرح کچھ کھوئی کھوئی تھیں.

شاید وہ کچھ نہیں کہنا چاہتی تھیں ، مگر میں سننا چاہتا تھا، اس یقین کے ساتھ کہ کہہ دینے سے دکھ آدھا اور سکھ دگنا ہو جاتا ہے.

” دکھ تو بس یہی ہے کہ زمین گھومتی ہے اور چاند میں داغ ہے “
” میں سمجھا نہیں “
ان کے چہرے پہ پراسرار مسکراہٹ ابھری ،

” کیا چاند حسین ہے؟ “
” جی “
” سورج کی روشنی سے چمکتا ہے “
” مگر چمکتا ہے “
” جی آپ دکھ کے بارے میں بات کر رہی تھیں “

انہوں نے اپنے راکھ زدہ بال سمیٹے اور مجھے مسکرا کے دیکھا.
” میرا دکھ یہ ہے کہ ہر شخص اپنے گرد گھومتا ہے “
” وہ چاہ کے بھی مکمل طور پہ کسی کا نہیں ہو سکتا “

یہ تو سچ ہے
اس کی ہر سوچ محوری ہے
اس کا مرکز اس کی ذات کے سوا کچھ بھی نہیں
ہم سب سیاروں کی طرح ہیں
خواہ اپنے گرد گھومتے ہیں مگر ساتھ ساتھ ایک اور مرکز کے گرد بھی گھومتے ہیں

مرکز؟؟؟؟
ہاں کسی کا مرکز وہ خود ہے، کسی کا مرکز خدا اور کسی کا خاندان
اور کسی کا انسانیت
ہم ہر پل دو حرکت پہ مجبور ہیں
زمین کی طرح
ایک طرف اپنے گرد
اور دوسری طرف محبوب کی طرف
محبوب؟؟؟؟
وہ چاند کو دیکھ کر مسکرا رہی تھیں
کیا ان کا بھی کوئی محبوب ہو گا ۔۔۔۔


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں