رضوان رانا، اردوکالم نگار

تقدیر تدبیر پر ہنستی ہے

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

رضوان رانا :

عمران خان کی حکومت کو دو سال پورے ہوئے. پہلے دن سے آج تک حکمران جماعت کو مُخالفین کی طرف سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے. منفی اورجھوٹے پروپیگنڈے کی ایسی مثال شاید ہی پاکستان میں پہلے کبھی دیکھنے کو ملے. عمران خان نے ابھی حلف بھی نہیں اُٹھایا تھا کہ اس کے کے خلاف نفرت کی آخری حدوں کو چھونے والے سوشل میڈیا اور میڈیا کے کُچھ مخصوص عناصر تنقید کے مُسلسل تیر برسا کر ہلکان ہوئے جا رہے ہیں.

ایک بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ نفرت کی یہ شدت آئی کہاں سے؟
تھوڑا سا غور کرنے پر آپ کو پتہ چلے گا کہ زیادہ غصے میں وہ لوگ ہیں جو پچھلے دس سالوں میں کسی نا کسی طریقے سے زرداری اور لیگی حکُومت سے فوائد اُٹھا رہے تھے، یا حکومتی خرچے پر مزے ُاڑا رہے تھے . جبکہ باقی تنقید اُن کی طرف سے ہے جن کو عمران خان کے وجود سے ہی نفرت ہے . نہیں معلوم کیوں مگر اُن کی اس نفرت کا کوئی علاج نہیں وہ خود ہی نفرت کی آگ میں جلتے رہیں گے.

بے شک اللہ تعالی جسے چاہتے ہیں عزت سے نوازتے ہیں اور جسے چاہیں ذلت دیں . تو اگر اللہ تعالی کی طرف سے تقدیر کے پنوں پر یہ لکھا جا چُکا ہے کہ عمران خان ہی پاکستان کے وزیر اعظم رہیں گے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت خان کو گرا نہیں سکتی. سب حاسدین مل کر بھی عمران خان اور پی ٹی آئی کی حکومت کا بال بھی بیکا نہیں کر سکیں گے.

یہ ایک حقیقت ہے کہ جس بہادری اور دلیری سے بے خوف ہو کرعمران خان نے اسٹیٹس کو کا مُقابلہ کیا، بڑے بڑے بُرج اُلٹے وہ کوئی آسان کام نہیں تھا. بڑے بڑے سورماؤں نے اُسے گرانے کی ہر کوشش کر ڈالی، اُس کے خلاف فنڈنگ کیس کھُلے، اُس کی ذات پر غلیظ حملے کیے گئے، یہاں تک کے سابقہ بیوی سے کتاب تک لکھوائی گئی، لیکن تقدیر کا فیصلہ عمران کے حق میں رہا.

پہلے دن سے سازشیں اور جھوٹا پروپیگنڈہ اپنی جگہ مگر عمران خان اب تک اپنے چاہنے والوں اور متوالوں کی امیدوں پر پورا اُترنے میں کامیاب نہیں ہو سکے. وہ اور ان کی ٹیم اس طرح سے پرفارم کرنے میں ناکام رہی ہے جس کی توقع اور امید اُن سے کی جارہی تھی.

بے شمار ملکی مسائل اور معاشی چیلنجز کے باوجود عمران خان ابھی تک بھرپور طریقے سے ڈٹے ہوئے ہیں.
جو سیاسی مبصرین یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ عمران خان کی حکومت اپنی مدت پوری نہیں کر سکتی اور حکومت کرنا عمران خان کے بس کا روگ نہیں. عمران خان ایسے مبصرین کے لیے سب سے بڑا روگ اور ڈراؤنا خواب بن چکے ہیں.

جبکہ کورونا وائرس آنے سے پہلے پاکستان میں حکومت چینی، آٹا اور دیگر اشیائے ضروریات، بے روزگاری اور مہنگائی کے سونامی میں ڈوبنے ہی والی تھی مگر یہاں پھر تقدیر نے فیصلہ عمران خان کی حکومت کے حق میں دیا اور ان کی مدد کے لیے کورونا کو بھیج دیا جو مکمل طور پر عوام اور سیاست دانوں کی سوچ کو بہالے گیا اور پوری قوم کورونا وائرس کے خوف میں مبتلا ہو گئی.

کورونا وائرس کرائسز میں عمران حکومت کی سمارٹ لاک ڈاؤن حکمت عملی نے تحریک انصاف کی حکومت میں ایک نئی روح پھونک دی ہے. نہ صرف پاکستان اس وباء کے چُنگل سے نکلنے ہی والا ہے بلکہ ڈبلیو ایچ او سمیت دنیا بھر کے مبصرین پاکستان کی تعریف کر رہے ہیں.

عربی زبان کا ایک مقولہ مشہور ہے کہ ” تقدیر تدبیر پر ہنستی ہے “ ابھی تک تو ساری اپوزیشن اور مخالفین کی ساری تدبیریں تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف بُری طرح ناکام ہیں اور پاکستان کے عوام اب بھی عمران خان سے مایوس نہیں ہوئے. یوں لگتا ہے جیسے تقدیر، قدرت نے اس ملک کو تبدیل کرنے اور سنوارنے کا فیصلہ ایک غیر سیاسی کھلاڑی کے ہاتھ پر لکھ دیا ہے. بے شک تقدیر کے فیصلوں کو زیر کرنا کسی شرارتی اور پرانے سیاسی پاپیوں کے بس کی بات نہیں.

قسمت اور تقدیر پر مجھے کئی سال پہلے پڑھا ایک شہزادے کا قصہ یاد آگیا جسے اس کے چچا نے اس کے باپ بادشاہ کی وفات کے بعد تخت پر قابض ہو کر ملک بدر کر دیا تھا اور بادشاہ کا بیٹا اپنے تین دوستوں کے ساتھ ملک چھوڑ کر چل نکلا. ان دوستوں میں سے ایک تاجر کا بیٹا، دوسرا کسان کا بیٹا، تیسرا ایک بہت خوبصورت نو جوان تھا۔ راستے میں بہتر مستقبل کے بارے میں سب دوست اپنی اپنی رائے پیش کرنے لگے.

کسان کے بیٹے نے کہا :محنت سے انسان سب کچھ بنتا ہے باقی سب باتیں بیکار ہیں.
تاجر کا بیٹا بولا :عقل اور حسن تدبیر سب سے بڑا ہتھیار ہے ، یہ نہ ہو تو انسان نا کام ہے .
خوبصورت نوجوان بولا : حُسن و جمال سب سے بڑی نعمت ہے.

بادشاہ کا بیٹا اللہ کی ذات پر بھروسہ کرنے والا ، نہایت تدبر و تفکر کرنے والا انسان تھا. سب کی باتیں غور سے سننے کے بعد کہنے لگا:
” سب اپنی جگہ درست ہے مگر سب سے بڑی چیز اللہ کی رضا اور تقدیر ہے، اس کی ذات کا فیصلہ ہی ہر چیز پر غالب ہے. جب تک ہمارا عقیدہ تقدیر پر مکمل نہ ہو اُس وقت تک راحت سکون حاصل نہیں ہو سکتا.“

انہی باتوں کے درمیان وہ کسی دوسرے ملک جا پہنچے جہاں انہوں نے صحرا میں پڑاؤ ڈالا. اس وقت کسان کا بیٹا کہنے لگا :
” ہمارے پاس کھانے پینے کے لئے کچھ نہیں ہے تو اب پتہ چلے گا کس کی بات ٹھیک ہے. سب اپنی بات آزماتے ہیں .“

پہلے دن انہوں نے کسان کے بیٹے کو کہا آج ہم دیکھیں گے، محنت کے کیا فائدے ہیں . جائو اپنی محنت سے آج کے کھانے کا انتظام کرو. کسان کا بیٹا اٹھا اور جنگل کا رخ کیا ، لکڑیاں توڑیں اور شہر میں آ کر دو درہم کی بیچ دیں . ایک درہم کا کھانا لیا، دوسرا درہم اپنے پاس محفوظ کر لیا اور ساتھیوں کے پاس آ کر انہیں بھی کھلایا سب نے اس کو شاباش دی۔

اگلے دن تاجر کے بیٹے کا نمبر تھا کہ وہ عقل اور حسن تدبیر کا مظاہرہ کرے . وہ اٹھا اور ساحل سمندر پر آیا ۔سمندر میں سامان سے لدی کشتی ساحل کی طرف آ رہی تھی۔ تاجر کا بیٹا کشتی میں بیٹھ گیا اور دوسرے راستے سے چیکے سے لدی کشتی کے مالک کے پاس پہنچا۔ اس سے سامان کا بھائو تائو کیا۔ادھار پر سارا سامان سو درہم میں خرید لیا۔

جب کشتی ساحل پر پہنچی تو مقامی تاجر انتظار میں تھے۔ تاجر کا بیٹا ان کے پاس آیا سارا سامان گیارہ سو درہم کے عوض بیچ دیا اور سو درہم سامان کے مالک کو دیئے اور باقی جیب میں ڈالے۔ دوستوں کے لیےبہترین کھانا لیا ان کو خوب سیر کرائی سب نے اس کے حسن تدبیر کی تعریف کی.

تیسرے دن خوبصورت نوجوان کا نمبر تھا جس کا کہنا تھا انسان خوبصورتی کے بل بوتے پر کامیابی حاصل کرتا ہے۔ دوستوں نے کہا آج ہم دیکھیں گے کہ آپ کا حسن ہم کو کیسے کھانا کھلائے گا۔ وہ اٹھا میک اپ کیا اور شہر کی طرف روانہ ہوا اور ایک گھر کے باہر درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔

اوپر سے ایک خاتون نے کھڑکی سے جھانکا، ایک خوبصورت نوجوان پریشان بیٹھا ہے اور کچھ سوچ رہا ہے۔ اس نے بلا کر کھانا کھلایا کہ مسافر ہے، پھر پریشانی کی وجہ پوچھی تو اس نے دوستوں کا قصہ سنایا تو خاتون نے نوجوان کو کچھ رقم تھما دی۔ وہ نوجوان سب کے لئے کھانا لے آیا. سب دوستوں نے اس کو بھی سراہا.

چوتھے روز بادشاہ کے بیٹے کی باری تھی. سب سوچنے لگے کہ کسان کے بیٹے نے بھی محنت کی اور تاجر نے بھی کچھ کیا ‘ نوجوان نے بھی کچھ کر ہی لیا مگر اب بادشاہ کا بیٹا جو کہتا ہے کہ اللہ کا فیصلہ رضا اور تقدیر ہر چیز پر غالب ہے یہ کیا کر کے دکھائے گا۔

شہزادہ اللہ کا نام لیتا ہوا شہر میں داخل ہوا اور راستے کے کنارے جا بیٹھا، وہاں سے اسی ملک کے بادشاہ کا جنازہ لے جایا جا رہا تھا۔ وزرا فوج پولیس جنازہ کو کندھا دیئے جا رہے تھے. شہزادے کو راستے میں بیٹھا دیکھ کر پولیس آفیسر نے اس کو ڈانٹا کہ تمھیں شرم نہیں آتی بادشاہ کا جنازہ جا رہا ہے اور تم اس طرح بیٹھے ہو.

بادشاہ کی تدفین کے بعد جب پولیس افسر واپس آئے تو دیکھا شہزادہ اب بھی وہیں بیٹھا ہے، فورا ً اس کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا. دن گزرا اور اس کے دوست شہزادے کے واپس نہ آنے کی وجہ سے قیاس آرائیاں کرنے لگے۔ وہ شہزادے کو ڈھونڈتے ہوئے شہر کی طرف چل پڑے لیکن شہزادہ جیل میں بند تھا اور وہ تلاش نہ کر سکے تو اگلے دن پر موخر کر دیا.

ادھر کابینہ کے وزرا ء مشیر جمع تھے، نئے بادشاہ کے انتخاب کے لئے غور و فکر کر رہے تھے کہ نیا بادشاہ بادشاہوں کے خاندان سے منتخب کیا جائے اور عام آدمی منتخب نہ کیا جائے مگر بادشاہ کا کوئی وارث نہیں تھا۔

سینئر وزیر نے اعلان کروایا کہ تم میں سے جو بادشاہوں کے خاندان سے تعلق رکھتا ہو، وہ ہاتھ کھڑا کرے مگر کابینہ میں کوئی ایسا بندہ نہ تھا۔ پولیس افسر کہنے لگا کہ ایک بندہ ہے جس کو میں نے قید کیا ہے، وہ شہزادہ معلوم ہوتا ہے۔ اسے حاضر کرنے کا حکم ہوا۔ شہزادے کو کابینہ کے سامنے لایا گیا اور پوچھا آپ کون ہو؟ اور یہاں کس غرض سے آئے ہو؟

شہزادہ بولا : میں فلاں ملک کے بادشاہ کا بیٹا ہوں ، باپ مر گیا اور میرے چچا نے تخت پر قابض ہو کر مجھے ملک بدر کر دیا۔ تمام کابینہ نے اس کی بات کو قبول کیا اور اس کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور اسے اپنا بادشاہ منتخب کر لیا۔ شہزادے کے منہ سے بے ساختہ نکلا
یقینا ً اللہ کا فیصلہ تمام تدبیروں پر غالب ہے .

اب وزرا نے بادشاہ کو ملک کی سیر کرانے کے لیےباہر نکالا ۔ بادشاہ شہر میں گشت کر رہا تھا۔ لوگ بادشاہ بادشاہ زندہ باد کے نعرے بلند کرتے ہوئے بادشاہ کے پیچھے جا رہے تھے جبکہ ادھر شہزادے کے دوست شہر میں اس کی تلاش میں نکلے تھے ۔ انہوں نے شہزادے کو اس حالت میں دیکھا تو سمجھ گئےاور بے ساختہ بول اٹھے :

’’واقعی اللہ کا فیصلہ تمام تدبیروں سے بڑھ کر ہے وہ بھی ” بادشاہ زندہ باد “ کے نعرے لگاتے ہوئے بادشاہ کے ساتھ محل میں داخل ہو گئے.

بادشاہ تخت پر بیٹھا ۔ یہ لوگ اس کی خدمت میں حاضر ہوئے تو بادشاہ نے ان کے سامنے کل کا جملہ دہراتے ہوئے کہا:

اللہ نے یہ سب کچھ اس لئے کیا تا کہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا فیصلہ اس کی رضا، طاقت ہر چیز پر غالب ہے۔ بے شک اللہ جو چاہے کر سکتا ہے جو جیسا گمان کرتا ہے اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ ہوتا ہے.

بادشاہ نے تاجر کے بیٹے کو مشیر مقرر کر لیا اور کسان کے بیٹے کو وزیر زراعت کے عہدے پر مقرر کیا ا ور جو خوبصورت نوجوان تھا اسے کہا کہ یہ عارضی حسن کسی فائدے کا نہیں اس کو کچھ مال تحفے میں دے کر رخصت کر دیا.

اس واقعے سے آپ نے یہ سبق بالکل نہیں لینا کہ میاں صاحب گورے چٹے اور خوبصورت تھے تو خان نے بھی ان کی خوبصورتی اور حُسن وجمال کی وجہ سے باہر جانے دیا کہ یہ حُسن تو دنیا میں عارضی ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں اس لیے بہتر ہے ان کو رخصت ہی کر دیا جائے…!!!


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں