رٹو، استور، گلگت بلتستان، پاکستان

رٹو سے آگے ( 10 )

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

پاکستان کے صوبہ گلگت بلتستان کا ایک دلچسپ اردو سفرنامہ

ابن فاضل :

رٹو سے آگے ( 1 )

رٹو سے آگے ( 2 )

رٹو سے آگے ( 3 )

رٹو سے آگے ( 4 )

رٹو سے آگے ( 5 )

رٹو سے آگے ( 6 )

رٹو سے آگے ( 7 )

رٹو سے آگے ( 8 )

رٹو سے آگے ( 9 )

برف پر مسلسل چلنے سے پاؤں تو پہلے نصف گھنٹہ میں ہی شل ہوچکے تھے. اب ہمیں قدم اٹھاتے ہوئے وزن کی وجہ سے یہ احساس تو ہوتا تھا کہ ٹانگ کے آخری سرے پر کچھ ہے، مگر یہ بالکل نہیں معلوم پڑتا تھا کہ وہ کیا ہے. اور اس پر مستزاد یہ کہ برف کے تسلسل میں ایک بھی جگہ ایسی نہ تھی جس پرکچھ دیر بیٹھ کر سستا لیتے.

آرام کرنے کیلئے بھی بس تھوڑی دیر کھڑے ہو کر رکنا ہی ہوتا یا زیادہ سے زیادہ ہائکنگ سٹک کے سہارے کھڑے ہوکر سانس بحال کرتے. سورج کافی روشن اور بلند ہوچکا تھا اس کی روشنی سفید چمک دار برف پر پڑ کر منعکس ہورہی تھی وہ ہماری بصیرت کیلئے بہت مسائل پیدا کررہی تھی لیکن شکر خدا کا کہ ہم سب کے پاس دھوپ والی عینکیں تھیں جو فوراً لگا لی گئیں.

جیسے جیسے ہم بلندی کی طرف جارہے تھے. آکسیجن کی کمی کا مسئلہ بھی درپیش آتا جارہا تھا. حتیٰ کہ اب ہم مسلسل زور زور سے سانس لیتے ہوئے چل رہے تھے. تقریباً چھ گھنٹے کی جانگسل اور سرتوڑ چڑھائی کے بعد ہم درے سے صرف پانچ سو فٹ نیچے ہوں گے. اور فاصلہ کوئی تین سو میٹر رہا ہوگا لیکن تھکاوٹ اور سانس اکھڑنے کا یہ عالم تھا کہ ایسا لگ رہا تھا کہ یہ پانچ سو فٹ اور تین سو میٹر شاید ہم بارہ بجے تک بھی نہ کرپائیں گے.

تب ہم نے ایک حکمت عملی بنائی. ہم اپنے دونوں ہاتھوں سے پہلے دائیں ران پکڑ کرپورے زور سے دائیں ٹانگ اٹھا کر آگے رکھتے پھر اسی طرح دونوں ہاتھوں سے بائیں ران پکڑ کر بائیں ٹانگ اٹھا کر آگے رکھتے.اور ایسا کرنے کیلئے ہمیں اپنی ہائکنگ سٹک اپنے آگے کافی فاصلے پر نیزے کی طرح پھینک کربرف میں گاڑنا پڑتی. مگراس طرح بھی محض دس قدم چلنے کے بعد سانس اس قدر پھول جاتا کہ رک کر بحال کرنا پڑتا.

ہمارے تینوں دوست آگے تھے اور ہم ان سب کے پیچھے. یہ آزمودہ فارمولا ہے کہ چڑھائی کے وقت ٹیم آگے رہے تاکہ سب آپ کی نظر میں رہیں اور اترائی کے وقت گروپ لیڈر آگے رہے. دونوں صورتوں میں مقصد یہ ہوتا ہے کہ کسی حادثے کی صورت میں کسی بھی ممبر کو نیچے گرنے یا لڑھکنے سے بچایا جاسکے.

اسی طرح ہم رینگتے ہوئے آگے بڑھتے رہے. ہمارا اور درہ کا فاصلہ کچھ اور بھی کم ہوگیا ہوگا اس دوران ہمارا پورٹر گائیڈ درے پر پہنچ چکا تھا. اس نے وہاں سامان اتارا. کچھ دیر سانس بحال کرتا رہا لیکن جب اس نے دیکھا کہ ہماری حالت بہت خراب ہے اور ایک ایک قدم اٹھانے کیلئے خود سے لڑنا پڑ رہا ہے تو گھوڑا لے کر ہمارے پاس آگیا اس نے کہا باری باری سب کو چوٹی پر پہنچا دیتا ہوں.

ہم نے باری باری تینوں دوستوں کو پیشکش کی کہ آپ بیٹھ جائیں. ان سب کا خیال تھا کہ اس قدر منزل کے قریب آکر اگر گھوڑے سے پھسل گئے یا گر گئے تو دوبارہ کیسے چڑھ پائیں گے. اس سے بہتر ہے ہم پیدل ہی چلتے رہتے ہیں.

تینوں سے اچھی طرح مایوس ہو کر ہم نے خود گھوڑے پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا. بیس سے پانچ ہزار فٹ بلند چوٹی کے بالکل پاس انتہائی عمودی برف پر محض ڈھائی، تین سو فٹ چڑھائی کی خاطر گھوڑے پر بیٹھنا بہت بڑا رسک تھا.

واقعی گھوڑے کی یا ہماری ذرا سی چوک ہمیں ہزاروں فٹ نیچے برف پر لڑھکا سکتی تھی مگر وہ مابدولت ہی کیا ہوئے جو ہر حال اور ہر حالت میں نئے تجربات نہ کریں یا زندگی کی کسی رمز سے خوفزدہ ہو جائیں. سو ہم کانپتے ہاتھوں اور شل پاؤں کے ساتھ ہی گھوڑے صاحب پر سوار ہو لیے. اور چند منٹ میں ہی بفضل تعالیٰ ٹاپ پر پہنچ گئے.

صد شکررحمان کہ ٹاپ پر جو چھوٹا سا پلیٹو تھا اس میں کافی حصہ پتھروں اور مٹی پر مشتمل تھا یعنی برف نہیں تھی. پہلے تو ہم پہنچتے ساتھ ہی تھیلوں کے ڈھیر کے ساتھ ٹیک لگا کر نیم دراز ہوگئے. دس پندرہ منٹ بے سدھ پڑے رہنے کے بعد کچھ ہلنے جلنے کے قابل ہوئے تو اٹھ کر دیکھا کہ تینوں دوست بس پچاس فٹ کے فاصلے پر ہی تھے.

انہیں تھوڑا جوش دلایا اور دور کسی چوٹی سے ٹکرا کر آنے والی اپنی ہی آواز سے خود بھی جوش پکڑا. اب ہمارے لیے سب سے اہم مسئلہ پینے کے پانی کا حصول تھا. بیشک ہر طرف برف تھی اور یخ بستہ ہوائیں بھی چل رہی تھیں، لیکن بہرحال اس قدر مشقت آمیز چڑھائی میں ہمارا بہت سا پسینہ نکل چکا تھا. اور سخت پیاس محسوس ہورہی تھی. اور یہاں کہیں پانی کی ایک بوند بھی میسر نہیں تھی.

وجہ اس قلت آب کی یہ تھی رات کا بچا کھچا پانی ہی لیکر چلے تھے جو آدھ راستہ میں ہی کہیں ختم ہوگیا. کیونکہ صبح جس نالے سے ہمیں بوتلیں بھرنا تھیں وہ تو جم چکا تھا اور چولہا جلا کر برف سے پانی بنانے کا وقت نہیں تھا.

اتفاق سے وہاں پر ایک بہت بڑی نسبتاً سیدھی چٹان تھی. ہم نے اسے صاف کیا. اور ایک طرف سے کافی مقدار میں برف اٹھا کر اس کی ایک پتلی سی تہہ اس چٹان پر بچھا دی. دھوپ تو بہرحال تھی. لہذا اس عمل سے تھوڑی سی دیر میں چٹان پر کچھ پانی بن گیا جو چٹان کی قدرتی ڈھلوان کی وجہ سے ایک طرف سے قطرہ قطرہ گرنا شروع ہوگیا. اس کے نیچے ایک گلاس نکال کر ٹکایا جو تھوڑی دیر میں نصف سے کچھ کم بھر گیا. اس وقت یہ مٹیالا سا یخ بستہ نصف گلاس پانی ہمارے لیے کائنات کی سب سے بڑی نعمت تھی.

پانی پینے کی بعد ہم نے دوبارہ گلاس اسی قطرئی آبشار کے نیچے ٹکادیا اور پھر سے بیگز کے ساتھ ٹیک لگا کر نیم دراز ہوگئے. کچھ دیر بعد تینوں مہم جو ایک ایک کر کے آگئے اور آتے ہی زمین بوس ہوتے گئے. چند منٹ خیریت سے گزرے ہوں گے کہ ان کی طبیعت بگڑنے لگی. چکر آنے لگے اور قے بھی.

تینوں کو ہائیٹ سکنس ہوچکی تھی. اس میں کچھ کمال رات کے چاولوں کے کوفتے کا بھی تھا. اور کچھ کمال صبح ناشتہ نہ ملنے کا، کہ خالی پیٹ، کم آکسیجن، بے حد بلندی اور آخری درجہ کی مشقت. کم از کم شہری، سہل پسند جسموں کا اتنا تو احتجاج بنتا تھا. الٹیاں کرنے کے بعد کچھ چکر آنے تو کم ہوئے لیکن سر درد بہت تھا.

ہمارے پاس اموکسولون اور پیراسیٹامول کا وافر ذخیرہ ہوا کرتا تھا. تینوں مریضوں کو دو، دو گولی اموکسولون اور پیراسیٹامول فی کس کے حساب سے پگھلی برف کے ساتھ کھلائی اور اللہ کریم سے دعا کی کہ یا اللہ ان کو ٹھیک کردے ابھی جانے پڑاؤ کی منزل جانے کتنی دور ہے.

ہم نے پورٹر گائیڈ سے آگے کا راستہ سمجھا. اس نے بتایا کہ یہاں سے سیدھا نیچے اترتے جائیں. جب تقریباً بیس کے قریب پہنچیں گے تو دائیں ہاتھ والے پہاڑ کے ساتھ چلنا شروع کردینا. وہاں سے وادی بائیں طرف مڑتی ہے. آپ نے دائیں طرف رہنا ہے، جب وادی کا موڑ مکمل ہو جائے تو پھر بائیں طرف والے پہاڑ کی طرف آجائیں اور چلتے جائیں تاوقتیکہ برف کے نیچے سے دریائے نیلم برآمد ہوجائے.

یہ نیلم آپ کے دائیں طرف ہونا چاہیے. پھر اس نیلم کے ساتھ ساتھ آپ نے سیدھا سفر کرتے جانا ہے۔ پانچ سات کلومیٹر کے بعد شنٹر گاؤں آجائے گا. راستہ سمجھنے کے بعد اسے ہم نے سات سو روپیہ ادا کیا،پھر اس کا شکریہ ادا کیا، دعائیں دیں، اور لیں. وہ واپس روانہ ہوگیا.

تمام سفر میں اس سے صرف چند جملوں کا تبادلہ ہوا ہوگا مگر جانے کیوں جب وہ جارہا تھا تو ہمیں سخت کوفت ہورہی تھی. جیسے کوئی بہت اپنا چھوڑ کر جارہا ہو. شاید ہم نے دل ہی دل میں اسے مسیحا یا نجات دہندہ مان لیا تھا. قلبی تعلق کی ایک نئی جہت اس عالم تنہائی میں ہم پر آشکار ہورہی تھی.

اسے رخصت کرنے کے بعد ہم نے سب سے اونچی جگہ پر کھڑے ہو کر چاروں طرف کے مناظر کو کیمرا میں قید کیا. بدقسمتی یہ رہی کہ اس تمام مہم کی ہمارے حصہ کی ساری تصاویر اور ان کے نیگیٹو حوادث زمانہ کی نذر ہوگئے ہیں. نہیں معلوم کہاں گئے. شکر ہے غوری صاحب کے پاس کچھ تصاویر محفوظ ہیں وگرنہ ہم سمجھتے کہ شاید ہم نے کوئی خواب دیکھا تھا.

درے پر سے جو جغرافیائی مناظر دکھائی دے رہے تھے ان کی تفصیل کچھ اس طرح ہے.
درے کے دائیں طرف یعنی وادی کشمیر کے مخالف شنٹر کے برابر کی کئی چوٹیاں ساتھ ساتھ تھیں. جو تمام برف سے مکمل طور پر ڈھکی ہوئی تھیں. مگر بائیں طرف یعنی کشمیر کی طرف صرف کھائی تھی اور پہاڑ دور دور تھے. وہ بھی برف کے بغیر مگر سرسبز. جس طرف سے ہم آئے تھے اس طرف دور دائیں طرف بل کھاتی وادی. اور جس طرف ہم نے اترنا تھا بہت عمودی ڈھلوان اور برف ہی برف.

بارہ بج رہے تھے گھڑی پر. دوست بے سدھ پڑے تھے. ہم نے انہیں بتایا کہ دوستو ! بارہ بج چکے ہیں. گو کہ ابھی مطلع بالکل صاف ہے اور کسی طوفان کے کوئی آثار نہیں، تاہم، ہم ان علاقوں کے موسمی تغیرات سے نابلد ہیں، یہ نہ ہو کہ کسی مصیبت میں پھنس جائیں. ہمت کرو یہاں سے نکلتے ہیں. زندگی کے سب سے خوبصورت اور اہم دو سبق یہاں سے ملے.

ایک یہ کہ حالات جتنے بھی کٹھن اور ناموافق ہوں، طبعیت کیسی بھی ہو، مزاج پر جو بھی بیت رہا ہو آگے بڑھنا ناگزیر ہی نہیں زندگی کی علامت ہے. اور دوسرا یہ کہ آپ کے ہمرو آپ کے جتنے بھی قریبی اور عزیز ہوں، آپ سے جتنی بھی محبت کا دم بھرتے ہوں، آپ کا جتنا بھی بھلا چاہتے ہوں، اپنا بوجھ آپ نے خود ہی اٹھانا ہے، کیونکہ ہمرو اپنے اپنے ثقل زیست کے نیچے بے حرکت ہوئے ہیں.

اللہ کریم کا بہت شکر کہ آدھ گھنٹہ کے سکون کے بعد تینوں دوست فریش اور سفر کے قابل ہوچکے تھے. سب نے اپنے اپنے تھیلے کمر پر لادے اور برف کی ڈھلوان پر نپے تلے قدموں سے نیچے کو چل دیے. پہاڑوں سے نیچے اترنا بسا اوقات ان پر چڑھنے سے بھی زیادہ دشوار اور پر خطر ہوتا ہے. لیکن یہاں چونکہ تاحد نگاہ برف تھی سو کسی قسم کا خطرہ نہیں تھا کہ اگر خدانخواستہ پاؤں پھسلا اور لڑھک بھی گئے تو بھی برف کی وجہ سے چوٹ نہیں لگے گی.

پندرہ بیس منٹ تو ہم شرافت سے برف پر اترتے رہے لیکن ہم نے سوچا کہ اس طرح تو بہت دیر لگے گی کہ جس قدر ہم نے چڑھائی کی ہے قریب اسی قدر اترائی ہے. اگر رفتار دوچند بھی رہے تو بھی تین گھنٹے محض بیس تک پہنچنے کے لئے درکار ہیں.

تب ہم نے ایک اور تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا. ہم برف پر بیٹھ گئے اور جیسے بچے سلائیڈ لیتے ہیں ایسے سلائیڈ کرنا شروع کیا. برف بہت سخت اور پھسلویں تو تھی ہی اور ڈھلوان بھی بہت تھی سو بالکل کسی رکاوٹ کے بغیر ہم تادیر سلائیڈ کرتے رہے. بلکہ الٹا رفتار بہت تیز ہورہی تھی سو رفتار کم کرنے کیلئے جاگرز کی ایڑھیوں کو برف میں دھنسا کر کچھ مزاحمت پیدا کی.

پاؤں کے سامنے برف کا ایک ڈھیر سا اکٹھا ہوگیا اور اس کی وجہ سے ہم رک گئے. اٹھ کر پیچھے دیکھا تو سارا قافلہ ہی اسی طور گھسٹتا آرہا تھا. انہوں نے بھی ہمارے قریب پہنچ کر جیسے تیسے خود کو روک لیا. تجربہ کامیاب رہا تھا. ہم نے کوئی دس منٹ کا فاصلہ دو تین منٹ میں طے کرلیا تھا. بس اب بیس کیمپ تک یہی چلن رہے گا. ہم نے سوچا. مگر رکنے اور رفتار قابو میں رکھنے کے عمل ہر کچھ مزید تجربات کرنا باقی تھے.

دو تین بار کے تجربات کے بعد ہم نے سیکھ لیا کہ کس طرح برف پر پھسلتے ہوئے رفتار بنا ایڑیاں دھنسائے قابو کی جاسکتی ہے اور رکنے کا سب سے قابل اعتماد طریقہ کیا ہے. بس پھر ہم دس دس منٹ کی سلائیڈ لیتے ہوئے بہ سرعت تمام بیس شنٹر کی بیس کی طرف رواں تھے کہ ان دیکھے راستوں پر ایڈوینچر کا ایک اور شاخسانہ رونما ہوا اور بھی ایسا کہ بس کارگہہ حیات میں کاتب تقدیر کا بست وقدر زندگی کا ضامن نہ ہوتا تو ہم چاروں آج قصہ پارینہ ہوتے. اور رٹو کے مقامی اگلے سال آنے والوں کو بتارہے ہوتے کہ بہتر ہے واپس چلے جاؤ کہ پچھلے سال لاہور سے چار نوجوان آئے تھے جن کا آج تک نشان نہیں ملا.
(جاری ہے)


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں