باحجاب خاتون

وجود زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

اقصیٰ ظفر:

اللّہ ذوالجلال نے اس کائنات میں کسی بھی چیز کو بے مقصد تخلیق نہیں کیا۔ ہر شے کا کوئی نہ کوئی مقصد تخلیق ہےاور تمام خلقت ایک دوسرے پر موقوف ہے۔ جب حضرت آدم علیہ السلام اس دنیا میں تشریف لائے تو قادر مطلق کی طرف سے انہیں بخشا گیا،انہیں عزت و وقار عطا کیا گیا۔ مگر ان سب نعمتوں کے باوجود حضرت آدم علیہ السلام بارگاہِ الٰہی میں سجدہ ریز اللّہ سے التجا کر رہے ہیں کہ

اے اللہ! مجھے ایک رفیق عطا فرما جو میری ضروریات کو تمام کر دے ، تو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی التجاء قبول کر کے ان کی پسلی سے ایک جنس کی تخلیق کی جسے حضرت حوا علیہ السلام کے نام سے نوازا گیا۔

عورت کا وجود صرف لطف وسرور اور تسکین ہی نہیں بلکہ عورت نسل انسانی کی بقاء کی ضامن ہے۔ عورت اللّہ پاک کی ان بڑی نعمتوں میں سے ہے جو انسانیت کی اجتماعی ترقی میں مردوں کے شانہ بشانہ شریک ہے۔

اشاعت اسلام سے پہلے عورتوں کو معاشرے میں ذلت آمیز نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور انہیں معاشرے میں عزت و وقعت حاصل نہیں تھی۔عرب قبیلوں میں یہ ظالمانہ دستور تھا کہ وہ بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیا کرتے تھے۔ بیوہ ہو جانے پر ان کے ساتھ قطع تعلق کر کے ان کو ایک تنگ و تاریک جھونپڑے میں قید کر دیا کرتے تھے۔ پریشانیاں اور ذلتیں ان کے دلوں پر آ ب پیکاں کی رفتار سے وار کرتی تھیں۔

مظلوم اور بے کس عورتوں کی مجبوری اور لاچاری کا یہ عالم تھا کہ ان کے لئے کوئی حقوق مقرر تھےاور نہ ہی ان کی مظلومیت پر دادو فریاد کے لئیے کسی قانون کا سہارا تھا ۔ ہزاروں برس تک یہ ظلم کی ماری دکھیاری عورتیں اپنی چشم سے آ نسو بہاتی رہیں مگر ان کے زخموں پر مرہم رکھنے والا اور ان کی مظلومیت کے آ نسو پونچھنے والا دور دور تک کوئی نظر نہیں آتا تھا۔ اس کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ رحمت خداوندی کا انتظار کریں۔اللہ غیب سے کوئی ایسا انتظام کریں جس سے ساری دنیا میں ایک انوکھا انقلاب برپا ہو جائے۔چنانچہ جب رحمت اللعالمین کی رحمت کا آ فتاب طلوع ہو گیا تو ساری دنیا نے یہ محسوس کیا

جہاں تاریک تھا، ظلمت کدہ تھا، سخت کالا تھا
کوئی پردے سے کیا نکلا کہ گھر گھر میں اجالا تھا

رحمت اللعالمین اس دنیا میں اللّہ کی طرف سے دین اسلام کا پیغام لے کر جب اس دنیا میں تشریف لائے تو دنیا بھر کی ستائی ہوئی عورتوں کی قسمت کا ستارا چمک اٹھا اور مردوں کے ظلم و ستم سے کچلی اور روندی عورتوں کا درجہ اس قدر بلند ہو گیا کہ وہ مردوں کے دوش بدوش کھڑی ہو گئیں ۔عورتوں کو ان کے حقوق سے نوازا گیا۔ اور ان کے حقوق کی حفاظت کے لیے اسلامی قانون کے ماتحت عدالتیں قائم ہوئیں۔

یہ عورت ہی ہے جو ماں کے روپ میں شفیق، بہن ہو تو مہربان، بیوی ہو تو حیاء اور بیٹی کی شکل میں رحمت کا ذریعہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ آ پ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ردا مبارک بیٹھنے کے لیے تین بار بچھائی ۔ یہ شرف دنیا میں صرف تین شخصیات کا مقدر بنا اور تینوں بار یہ شرف عورتوں کو عطا ہوا۔

آ پ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ماں کی شان اور مرتبے کے بارے میں ارشاد فرمایا:” ماں کے قدموں تلے جنت ہے“ یہ عورت کو کتنا اچھا خراجِ تحسین ہے۔

نپولین نے جو کہ دنیا کا ایک بڑا فاتح تھا، ماں کی شان کے بارے میں کہا کہ ” تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھی قوم دوں گا“۔

اگرچہ مرد کی ذمّہ داریاں عورتوں کی ذمّہ داریوں سے زیادہ ہیں مگر اللّہ پاک کی طرف سے عورتوں پر جو کام لگایا گیا ہے وہ بہت کٹھن ہے۔

حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللّہ تعالیٰ عنھا کی شان مبارک دیکھئے ،اس باپ کے لیے رحمت جو خود رحمت اللعالمین ہے، اس شوہر کے لیے نصف ایمان جو کہ خود کامل ایمان ہے اور آ پ کے قدموں میں آ پ رضی اللّہ تعالیٰ عنھا کے بیٹوں کی جنت ہے جو خود جنت کے سردار ہیں۔

آ پ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے” مجھے تمہاری دنیا کی در چیزیں بہت پسند آ ئیں ایک عورت اور دوسری خوشبو“ سبحان اللہ

قرآن مجید میں ارشاد ہے” خوش قسمت ہے وہ مرد جسے نیک عورت ملی۔ نیک عورت دنیا میں ملنے والا انعام ہے“۔

نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ” عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلیوں میں سب سے زیادہ اوپر کا حصہ ٹیڑھا ہے اور اگر اسے سیدھا کرو گے تو ٹوٹ جائے گی اور اسے چھوڑے رہو تو ٹیڑھی ہی رہے گی پس عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو“۔

عورت کو بائیں طرف کے پسلی سے اس لیے پیدا کیا گیا کہ اسے دل کے قریب رکھا جائے اور اسے پیار ومحبت سے سمجھایا جائے۔

اک زندہ حقیقت میرے سینے میں ہے مستور
کیا سمجھے گا وہ جس کی رگوں میں ہے لہو سرد

نےپردہ،نہ تعلیم، نئی ہو کہ پرانی
نسوانیت زن کا نگہبان ہے فقط مرد

جس قوم نے اس زندہ حقیقت کو نہ پایا
اس قوم کا خورشید بہت جلد ہوا زرد

اللّہ نے بے حیائی اور والدین کی نا فرمانی کا ذکر شرک اور قتل کے ساتھ کی ہے، جس سے ان گناہوں کے مہلک ہونے کا اندازہ ہوتا ہے اور ہم تو اپنی جہالت کی بدولت ان کو گناہ سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ استغفر اللہ

ایک حدیث کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ جس میں حیاء نہیں وہ جو مرضی کرے۔

آ ج بھی شیطانی قوتیں ہمیں میڈیا کے ذریعے جدیدیت کے نام پر بے حیا بنا رہی ہیں۔ شیطان نے صرف چال اور طریقہ بدل لیا ہے لیکن مقصد وہی ازلی ہے جو کہ اللّہ پاک کی نا فرمانی ہے۔

زندگی کی جدو جہد جاری رکھنے کے لئیے عورت نے مرد کو مایوسی سے باہر نکالا ہے۔عورت کی محبت ماں کے روپ میں ہو ،بہن کی شکل میں، بیوی کی صورت میں یا بیٹی کے پیکر میں اس نے ہمیشہ مرد کو حوصلوں سے نوازا ہے۔

اگر ہم حالات حاضرہ پر نظر دوڑائیں تو ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں نے مردوں کے شانہ بشانہ کام کیا ہے۔اگر سائنس اور ٹیکنالوجی پر نظر دوڑائیں تو ہمیں ارفع کریم جیسی قابل فخر کم سن نظر آ ئے گی۔ اگر امن کی خاطر جد وجہد کرنے والوں پر نظر دوڑائیں تو ہمیں مریم مختار شہید جیسی باہمت لڑکی نظر آ ئے گی۔

لہذا عورت سے امتیاز ی سلوک کرنے والے اس اندھیرے کو پرنور کرنا ہو گا ، ظلم کے اندھیرے کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہنا ہو گا، سحر کو ظہور سحر میں ڈھالنا ہو گا اور عورتوں کو ان کے حقوق سے نوازنا ہو گا۔

کیا چیز ہے آ رائش وقیمت میں زیادہ
آ زادی نسواں کہ زمرد کا گلوبند


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں