مہاجرین کا قافلہ 1947

ہندوستان سے پاکستان ، ہجرت کی خونچکاں داستان ( دوسری قسط )

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

قربان انجم :

ہندوستان سے پاکستان ، ہجرت کی خونچکاں داستان ( پہلی قسط )

رات کی تاریکی میں میرے خاندان کے جو افراد پاکستان جانے کے لئے مہاجرین کے قافلے میں شمولیت کی خاطر روانہ ہوئے، میں بھی ان میں شامل تھا۔ عصر کے وقت جب حملے اور قتل و غارت گری کا پتہ چلا تو میں خوفزدہ ہوگیا مگر جب رات کو گاؤں سے نکلے تو میرا ڈر اور خوف کافور ہوچکا تھا۔

مہاجرین کے قافلے کو طویل فاصلے تک پیدل چلنا پڑا۔ پاؤں میں چھالے پڑ جاتے جو خود ہی پھوٹ جاتے، ان کا احساس بھی بہت کم تھا تاہم بھوک اور پیاس کی شدت کا اب تک احساس موجود ہے۔ کئی گھنٹے کی مسافت کے بعد روٹی کا خشک ٹکڑا جس پر نمک اور پانی لگا کر ہم نے کھایا تو اتنا لذیذ محسوس ہوا کہ الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔

اک دردانگیز منظر، جس کا نقش لوح ذہن پر آج بھی سب سے گہرا ہے، یہ ہے کہ جب بی بی جان نے چھوٹی بہن (دو سالہ بتول) کو گود میں لے کر سورہ یٰسین کی تلاوت شروع کی تو مجھے یہ منظر بے حد سوگوار لگا۔ میں لاشوں پر چلتا رہا، پاؤں پر آبلے بنتے اور پھوٹتے رہے مگر ہر قسم کے احساس سے عاری رہا لیکن جب بتول آہستہ آہستہ آنکھیں موندتی جارہی تھی تو دل غم میں ڈوبا جارہا تھا۔ میری آنکھیں چھلک پڑیں۔

بتول نے ہچکی لی، اس کی گردن ڈھلک گئی، فرش پر لٹائی تو رخ ماں کے قدموں کی طرف مڑ گیا، شاید جنت تلاش کررہی تھی۔ بی بی جی نے کمال صبر کا مظاہرہ کیا، مجھے دلاسہ دیا اور چھوٹے ماموں مرتضیٰ حسن کی تلاش میں دوسرے خیموں کی طرف چلی گئیں۔ ماموں آئے، انھوں نے کمسن شہید کی لاش بستر پر ایک پھٹی پرانی چادر میں لپیٹ کر ایک گڑھے میں دفن کردی۔ تجہیز و تکفین کا کوئی سامان نہیں تھا۔

چند سال بعد جب میں کچھ باشعور ہوا تو میں نے بڑے بھائی غلام رسول چودھری سے ہجرت کی داستان سنی، انھوں نے بتایا کہ اپنے گاؤں سے نکل کر ہم نواحی گاؤں صریح پور پہنچ چکے تھے۔ اس وقت صبح ہوچکی تھی، وہاں ہمارے قریبی رشتہ دار تھے، وہ بھی رخت سفر باندھ رہے تھے۔ سب لوگوں نے مل کر ضلع ہوشیار پور کے تحصیل ہیڈکوارٹر دسوہہ شہر کے ملحقہ باغ میں ڈیرہ ڈال دیا۔

اس ” مہاجر کیمپ “ میں قیام کے دوران سکھوں اور ہندوؤں نے کئی بار حملوں کی کوشش کی۔ نوجوان لڑکیوں کے اغوا کی دل خراش اطلاعات بھی ملتی رہیں۔ دو ماہ تک وہاں انتہائی سراسیمگی اور پریشانی کے عالم میں قیام کیا۔ حملوں کے خوف کے علاوہ راشن کی شدید قلت تھی۔ ہمیں طویل وقفوں کے بعد جو خوراک میسر آتی وہ روٹی، نمک اور پانی پر مشتمل ہوتی۔ ہم روٹی کو پانی میں بھگو کر نمک لگاتے اور کھالیتے تھے۔

والدہ اپنے حصے کی خوراک ہم تینوں بہن بھائیوں کو دے دیا کرتی تھیں۔ ایک روز ہمیں کہیں سے مسور کی دال مل گئی، ہماری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ دادا جان احمد علی نے(جو بعد میں راستے ہی میں شہادت پاگئے تھے) والدہ سے کہا:
” بیٹی! میرے حصے کی روٹی رکھ لو، مجھے اس کے بدلے دال ہی دے دو۔“

ان کی یہ حسرت بھری التجا جب بھی یاد آتی ہے تو آنکھوں سے آنسو ابل پڑتے ہیں۔ اس دوران میں برسات شروع ہوگئی، گردو نواح میں پانی کثیر مقدار میں ذخیرہ ہوکر تعفن پیدا کرنے لگا۔ انتہائی بے چینی سے دوماہ گزرے جس کے بعد یہ قافلہ پاکستان کی طرف چل پڑا۔

فوجیوں نے قافلے کو اس طرح ترتیب دیا کہ گھوڑے، خچر اور گدھے پر سوار افراد سب سے آگے تھے۔ ان کے پیچھے مہاجرین پیدل چل رہے تھے، ان کے پیچھے بیل گاڑیاں تھیں۔ پندرہ بیس میل کا فاصلہ طے کرنے کے بعد کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے۔

راستے میں ایک قصبہ غالباً جنڈیالہ نام تھا، ہمیں وہاں پورا دن قیام کرنا پڑا کیونکہ اس روز عیدالاضحیٰ تھی۔ماموں جان نے کسی طور گوشت خرید کر پکانے کا اہتمام کرلیا۔ یہ دیکھ کر ہمیں بہت دکھ اور افسوس ہوا کہ اس گوشت میں انسانوں کے ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیاں بھی شامل تھیں جو ہم نہ کھاسکے۔

ہمارے قافلے پر سکھوں اور ہندوؤں نے تین بار حملہ کیا جس میں بعض مہاجرین زخمی بھی ہوئے۔ جب قافلہ دریائے بیاس کے پل پر سے گزر رہا تھا تو اس میں لا تعداد لاشیں تیرتی دکھائی دیں۔ ہمارے اپنے خاندان میں چند افراد گاؤں کا دفاع کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے تھے۔ دادا احمد علی اور ان کے بھائی غلام علی پاکستان پہنچنے سے پہلے راستے ہی میں شہادت پا گئے۔ زخمیوں کا علاج نہیں ہوسکتا تھا، اس لئے انھیں بے حد تکلیف میں سفر کرنا پڑا۔ بعض لوگوں کے زخموں میں کیڑے پڑ گئے لیکن زخمیوں نے صبر ایوب کی تقلید میں ہمارے شکستہ حوصلے بلند کرنے میں مدد دی۔

والد صاحب کی ایک چچی فاطمہ بی بی کو سترہ زخم آئے مگر وہ زندہ رہیں۔ اس قدر بہادر عورت تھیں کہ انھوں نے حملہ کرنے والے سکھوں میں سے ایک کی تلوار سے وار کرکے اسے قتل کردیا تھا۔ اس سکھ نے دراصل طاقت کے نشے میں فاطمہ بی بی کو کمزور عورت جان کر اپنی تلوار دیوار کے ساتھ رکھ کر لوٹ مار کرنا چاہی تھی۔ فاطمہ نے آنکھ بچا کر تلوار اٹھائی اور اس سکھ کے پیچھے سے سر پر ایسا کاری وار کیا کہ وہ زمین پر گرتے ہی دم توڑ گیا۔

اس دوران میں مزید سکھ وہاں پہنچ گئے جنھوں نے فاطمہ بی بی اور اس کی بیٹی حمیدہ کو شدید زخمی کردیا۔ وہ اپنے خیال میں فاطمہ کا کام تمام کرچکے تھے مگر بعد میں جب ہمارے عزیز و اقارب گاؤں چھوڑنے لگے تو دیکھا کہ ان میں زندگی کی رمق باقی ہے تو انھیں ایک بیل گاڑی پر لاد کر لے آئے مگر دسوہہ کے مہاجر کیمپ ان کی حالت اس قدر خراب تھی کہ سفر ملتوی کردیا گیا۔ بعد میں بادل نخواستہ فاطمہ بی بی اور حمیدہ کو اسی حالت میں بیل گاڑی پر لاد کر لانا پڑا۔ اللہ کے فضل و کرم سے وہ زندہ بچ گئیں اور کئی برس بعد بھی زندہ رہیں۔ ( جاری ہے)


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں