ہزارہ قتل عام پر ماتم کناں ہزارہ خواتین

ہزارہ کی وہ بہن جو اپنے مرحوم بھائی کا چہرہ بھی نہ دیکھ سکی

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

معوذ سعد صدیقی :

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہزارہ کے مظلوموں کے لیے جتنے بھی نوحے پڑھے جائیں کم ہیں ۔ حالیہ واقعہ میں ایک خبر گردش کررہی ہے جس میں ہزارہ کی چھ مظلوم بہنوں کا ذکر ہے، جن کا کہنا ہے کہ اُن کے گھر میں کوئی مرد نہیں وہ اپنے بھائی کا جنازہ وہ خود اُٹھائیں گی۔

مجھے ایسے میں ہزارہ کی ایک بہن یاد آئی جس کو اپنے اکلوتے بھائی کا جنازہ بھی نہ مل سکا۔ میں نے شاید اس کا پہلے بھی تذکرہ مختلف انداز میں کیا تھا ۔

سات آٹھ سال قبل جب میری اکنا ریلیف شیلٹر ہوم کی ذمہ داری تھی۔ ایک شام ایک لڑکی آفس آئی اور کہا کہ مجھے شیلٹر چاہیے، وہ انتہائی کمزور اور پریشان لگ رہی تھی، میں سمجھا نیپالی مسلمان ہے ۔ میں نے انگریزی میں بات شروع کی مگر اُس نے کہا :” میں اردو بول سکتی ہوں ۔“

پھر اُس نے مجھے بتایا کہ اَس کا تعلق پاکستان سے ہے اور وہ کوئٹہ میں انگریزی پڑھاتی تھی۔ پانچ بہنیں اور ایک اکلوتا بھائی ہے ۔ اُس کا کہنا تھا کہ ہم سب موت کے سائے میں رہتے ہیں ۔ مجھے امریکہ آنے کا موقع مل گیا ہے ، شاید میں گھر کے معاشی حالات ٹھیک کرسکوں اور گھر والوں کو خطرے سے نکال سکوں۔“

میں نے یہ سنتے ہی کہ اس کا تعلق ہزارہ سے فوراً اُس کو رکھ لیا کہ شاید کچھ زخموں کا کچھ مداوا ہوسکے ۔
ماشااللّہ اَس لڑکی نے اپنے اپ کو ثابت کیا ، انتہائی ذہین اور محنتی تھی ۔ اُس نے اکنا ریلیف کے لیے رضاکارانہ کام کیا ۔ اُس کو ذہانت اور محنت کو دیکھتے ہوئے اکنا ریلیف نے جَز وقتی نوکری آفر کی ، پھر اپنی محنت اور لگن سے وہ فُل ٹائم ہوگئی ۔ ماشااللّہ ترقی کرتے ہوئے آج کل وہ امریکہ کے انتہائی معتبر تعلیمی ادارے میں اپنی مکمل اسلامی شناخت کے ساتھ اعلیٰ پوسٹ پر کام کرتی ہے ۔

کاش ! پاکستان اُس کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکتا ۔ خیر اب آتا ہوں اصل بات یا واقعہ کی طرف جس کا ذکر میں نے پہلے کیا ، جس کا کرب میں آج تک محسوس کرتا ہوں ۔

ایک صبح جب میں آفس آیا ، دیکھا ، ہر وقت ہنستی مسکراتی میری چھوٹی بہن ش زاروقطار روتی جارہی ہے۔
میں نے گھبرا کر پوچھا تو اُس کے منہ سے الفاظ کے بجائے صرف چیخ ہی نکلتی تھی۔ پھر مجھے کسی نے بتایا کہ پاکستان سے کال آئی ہے اس کے اکلوتے بھائی کو دھشت گردوں نے مار دیا ہے ۔

ہزارہ کی اس مظلوم بہن کو اپنے بھائی کا جنازہ تو کیا شکل بھی دیکھنے کو نہیں ملی ۔ مجھے یاد ہے کہ خود تنگی میں گزارا کرکے اپنے گھر والوں کو خرچہ بھیجتی تھی ۔ خود پرانا فون رکھا تھا اور گھر والوں کو نیا فون تحفے میں دیتی تھی ۔

کئی دنوں تک اُس کے چہرے کی مسکراہٹ بھی غائب رہی ۔ کافی دنوں بعد مجھے وہ پاکستان میں تحریک انصاف کی فتح کے اگلے دن جیکسن ہائٹس میں ملی جہاں وہ دیگر درجنوں نوجوانوں کی طرح تبدیلی کا جشن منانے آئی تھی ۔ مجھے دیکھ کر بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ اُس نے کہا :
” معوذ بھائی ! اب پاکستان تبدیل ہوگا۔“

مجھے نہیں معلوم کہ اُس کی یہ خوشی اور اُمید آج بھی باقی ہے یا نہیں !
اپ کا کیا اندازہ ہے؟


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں