غم زدہ ، روتی ہوئی پاکستانی خاتون

” یہ روش چارہ سازی، یہ ادائے غمگساری “

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

آصفہ عنبرین قاضی :

میں نے پچھلے دس دنوں میں سماجی رویوں کا بغور مشاہدہ کیا. کچھ رسم و رواج اور رویے ہمارے معاشرے کے ناسور ہیں۔ ہو سکتا ہے ہر جگہ ایسا نہ ہو، مشاہدے اور تجربے میں زیادہ فرق نہیں، لیکن تجربہ زیادہ تلخ ہوتا ہے۔

گھر کے ایک ذمہ دار فرد یا منتظم کے طور پر اس صورت حال سے پہلی مرتبہ گزری۔ جس گھر میں مرگ ہو وہ لوگ دو طرح کی اذیت سے گزر رہے ہوتے ہیں ایک مرنے والے کی جدائی اور ایک زندوں کی خُدائی۔۔۔۔ مجھے لگتا تھا ہم ایک بدبودار نظام معاشرت میں زندہ ہیں لیکن اب کی بار اس کی سڑاند بہت قریب سے محسوس کی۔

کون سا دکھ ، کیسی چارہ گری ، کون سی تسلی ، کہاں کی تعزیت۔۔۔۔۔ آپ تو سوگواران کو حرف تسلی سے زیادہ اذیت اور زحمت دینے آتے ہیں ۔

پچھلے کئی گھنٹوں سے پانی کا ایک گھونٹ اندر نہیں گیا تھا۔ گھر کا ایک اہم فرد چلا گیا تھا ، لیکن کچھ لوگوں کے لیے کچھ اور اہم تھا۔ چند جملے متواتر میری سماعتوں سے اس وقت ٹکڑاتے رہے جب مجھے اپنی زندگی کی سب سے تلخ حقیقت کا سامنا تھا۔

” صرف چائے نہیں، ناشتہ بھی، صبح جلدی میں نکلے نا اب پتا نئیں جنازہ کتنے بجے ہے“
میں صرف آوازیں ہی سن سکتی تھی، یہ پتا نہیں کون تھا لیکن اتنا پتا چلا کہ غم دوسرے کا ہو تواپنی بھوک پر اثر انداز نہیں ہوتا۔۔۔۔

” ڈبے کے دودھ کی چائے؟ یہ تو نہیں پی جاتی، تازہ دودھ نہیں؟
”وہ تو ختم ہو گیا، اب یہی استعمال ہو رہا۔“ ( میری ہیلپر وضاحت دیتی رہی)
” اب بچوں کے فیڈر میں کیا ڈالیں ؟ “
” تھوڑا سا انتظار کریں کسی کو بھیج کے منگوا لیتے ہیں۔ عرفان راستے میں ہے۔“ شاید میری امی کی آواز تھی ۔
” بھوک “ غم پر حاوی تھی۔

” دوپہر کو نان ، اور اب بھی؟ مجھے چبانے کا مسئلہ ہے۔“ ایک سرگوشی ابھری ۔
” آپ کو بنا دیتی ہوں ابھی گیس آجاتی ہے ، تکلیف کے لیے معذرت۔“
” بنانی ہیں تو ایک میرے لیے بھی، ایک میری بھی ، میں بھی وہی کھا لوں گی ۔۔“
تین چار آوازیں تھیں بس۔۔۔۔
” خواہش“ غم پر حاوی تھی

” کمفرٹر نہیں رضائی چاہیے، اس میں سردی لگتی ہے۔“ رات کو ایک اور آواز آئی۔
” ان کو میرے کمرے سے کمبل بھی لادو ۔“ مہمان زیادہ تھے، اب اتنی رضائیاں کہاں سے آتیں۔
” پھر آپ کیا لیں گی؟ وہاں پہلے ہی ایک رکھا ہے۔“ میری بھابی نے پوچھا۔ اب اسے کیا بتاتی نرم و گداز بستر یا کمبل تعزیت کے احسان سے زیادہ بھاری ہے، سو مجھے ضرورت نہیں۔
” ہیٹر بھی چلا دیں، بالائی منزل میں تو بہت ٹھنڈ ہے۔“ ایک اور کمرے سے آواز آئی
” جی بہتر! “
” آرام “ غم پر حاوی تھا۔

ہاں ۔۔۔۔ یاد آیا، دوسرے دن وہ بھی آئی تھی ، کافی طویل سفر تھا۔ شاید چار گھنٹوں کا، میرے پاس بیٹھی رہی ہاتھ میں ایک باکس تھا کچھ بنا کے لائی تھی گھر سے ، کچھ پھل بھی تھے۔ سب کو حوصلہ دیتی رہی، تھوڑی دیر بعد اسے جانا تھا، لاکھ منتیں کیں کھانا تو کیا پانی تک نہ پیا۔ جو بنا کے لائی تھی مجھے زبردستی کھلا کے گئی، لوگوں نے حیرانی سے دیکھا۔

” جانیکا شبیر ہے، میری دوست۔“
” کھانا کیوں نہیں کھایا؟ “
” کہتی ہے ہمارے مذہب میں ایسے موقعوں پر اچھا نہیں سمجھا جاتا ۔“
” اچھااااا۔۔۔۔کون ہے یہ؟ “
” غیر مسلم ہے “
انسانیت اور محبت غم پر حاوی تھی۔


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں