استاد بچے کو وارننگ دیتے ہوئے

پیرنٹنگ : ایک احساس ، کیفیت

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

نگہت حسین :

ہم تو روایتی پیرنٹنگ اور جدید پیرنٹنگ کے درمیان میں ہی مارے گئے۔
وہ ماں کا کھینچ کر مارا ہوا ایک جوتا زندگی کی یادوں کی کتاب میں ورق الٹتے بہت سوں کے چہروں پر مسکان لانے کا سبب بن جاتا تھا ، اب اچانک ہی اپنی ساری شخصیت کی خرابی کا ذمہ دار ٹھہرنے لگا ہے۔

ہر ایک پیر نٹنگ لیکچر ہر ٹپس کے بعد یہ جو ہمارے دل میں ایک کٹہرا وجود پا رہا ہے جس میں ہمارے والدین مجرم بنے کھڑے ہیں یہ کیا ہے ؟

یہ جو مجھے اب زندگی کی تیس ، پینتیس ، بہاریں دیکھنے کے بعد اچانک سے ہی اپنےابا کی دس سال کی عمر میں پڑی ایک ڈانٹ کی تپش محسوس ہورہی ہے جس نے میرے وجود کو جلا رکھا تھا لیکن اس کی تپش کا احساس مجھے آج ہوا ہے۔

اور وہ جو میری اماں نے مجھے تھپڑ رسید کیا تھا جس سے میری عزت نفس مجروح ہوگئی تھی اس کا اندازہ مجھے آج ہوا ہے ۔

اف والدین کے خلاف یہ بھینچی ہوئی مٹھیاں اور سر اٹھاتی بغاوت !
آہ ! ایک رنج کے ساتھ اپنے بچوں کو ان چیزوں سے بچانے کی سر توڑ کوشش میں کچھ عجیب و غریب سر پھرے من مانے بچے ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ بھی تو پیرنٹنگ کا فطری طریقہ نہیں ۔۔۔۔۔
سو فیصد اتفاق کے ساتھ کہ روایتی پیرنٹنگ جو کہ غیر فطری اصولوں پر تھی ، کی پیروی بہت سے نقصانات کر چکی ہے لیکن۔۔۔۔۔۔

اگر پیرنٹنگ کا ہر لیکچر اپنے ہی والدین کو مجرم بنا رہا ہے تو رک جائیے۔
اگر پیرنٹنگ کی ٹپس آپ کو ہر وقت اس اضطراب میں مبتلا کیے ہوئے ہیں کہ آپ اچھی والدہ یا والد نہیں تو ذرا ٹھہر جائیے۔
اگر پیر نٹنگ سیشنز آپ کے لیے مزید ذہنی دباؤ کا سبب ہیں تو ذرا سن لیجیے۔

ہم نے اپنا بچپن ایک روایتی پیرنٹنگ کے ساتھ گزارا ہے جس میں بہت خلوص نیت سے ہمارے والدین نے ہماری اصلاح کے لیے ہر وہ کوشش کی اور طریقہ اپنایا جو وہ اپنے اردگرد یا نسل در نسل دیکھتے آئے تھے۔
یقینا وہ بہت سے سنی سنائی باتوں اور روایتی قسم کے اصولوں پر مبنی تھا لیکن اس کے باوجود ان کی نیتوں کو جانچنا ، ان سے دلوں کو خراب کرنا اور ان کے بارے میں باغیانہ رویہ اپنانا کر خود کو اچھا والدین بنانے کی کوشش کرنا یا ان کو جاہل کہنا مناسب نہیں لگتا ۔

مجھے اندازہ ہے کہ بہت نازک موضوع ہے ، تمام تر حساسیت کے ساتھ کہ اس روایتی پیرنٹنگ کے نتیجے میں بہت سے ایسے مجروح بھی ہیں جن کے رستے زخم ناسور بن چکے ہیں جو شاید اپنی کرچیاں آج بھی چنتے پھر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود آپ والدین کے ذمہ دار نہیں ۔ ہاں ! اپنی ذات کی پوری ذمہ داری لے سکتے ہیں، اور نہ ہی اس الزام کے ساتھ اپنے آپ کو سدھارنے سے بری الزمہ ہو سکتے ہیں۔

اپنی اصلاح اپنے بچوں کی بہتری کے لیے اپنے والدین سے دل کو خراب کیے بغیر کرنے کی کوشش، یہی اس دور کا آرٹ ہے !
ہم نے اپنے آپ کو بہتر والدین بننے کے لیے پیش کیا ہے ، اپنے والدین کو جانچنے کے لیے نہیں اس لیے تربیت اولاد کی ان کوششوں کو اپنے والدین کے لیے انتقام ، بغاوت یا الزام نہ بنانے کا کام اپنے آپ کو مثبت بھی رکھے گا اور ہر وقت کی اس ٹیس چھبن اور خلش سے بھی بچا لے گا جو دل کے کسی نہ کسی کونے میں والدین کے لیے وجود پا رہی ہوتی ہے۔
کیا خیال ہے ؟


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں