خاتون ڈاکٹر کورونا ویکسین لگانے کی تیاری کر رہی ہیں

جو چلے تو گیٹ سے گزر گئے

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

محترمہ آصفہ عنبرین قاضی کا اپنے والد اور والدہ سے دلچسپ مکالمہ جو کورونا ویکسین سے خوفزدہ تھے

ابو جی ! ویکسین لگوا لیں ، آپ کے نمبر پر میسج آ یا ہے۔
قطرے نہیں پلاتے کیا؟

نہیں! انجکشن لگاتے ہیں، آپ چھوٹے بچے ہیں کیا ؟
میں نے سنا ہے انجکشن سے ری ایکشن ہو جاتا ہے۔

مثلاً؟
رنگ کالا ہو جاتا ہے ۔
اس عمر میں آپ نے گورا رنگ کرنا بھی کیا ہے ابا ؟

سنا ہے خون بھی جم جاتا ہے اور پانی ملا کے لگا رہے ہیں۔
اگر پانی ملا کے لگا رہے ہیں تو خون پتلا ہوگا جمے گا کیوں ؟؟

میں نے سنا ہے ویکسین کام نہیں کرتی ۔
ابا یہ ویکسین ہے ، حکومت نہیں ۔۔۔۔۔ کچھ تو کرے گی کام۔

اچھاااا۔۔۔ لیکن وہ تو ستر سال کے لوگوں کو لگا رہے ہیں۔
آپ ستر سے اوپر ہیں، فلمسٹار میرا نہ بنیں اب ۔

درد ہوگا۔۔۔۔۔؟
ابا بھینس والی سرنج ابھی انسانوں کو نہیں لگاتے۔۔۔ نہیں ہوتا درد ۔

یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ درد نہ ہوگا !
نرس سے کہتے ہیں پہلے انیستھیزیا کا ٹیکہ لگائے ، پھر بےہوشی میں کرونا کا لگوا لیتے ہیں ۔

اب مذاق تو نہ کرو
وہ تو آپ کر رہے ہیں۔ ہمیں تو بچپن میں نو، نو حفاظتی ٹیکے لگوائے اور خود ۔۔۔۔۔

درد تو نہیں ہوگا؟
اتنا ہر گز نہیں جتنا پی ڈی ایم کو ہوا ہے، یہ ٹیکا کلنک کا نہیں کرونا کا ہے ۔

اچھااا۔۔۔۔
اب پلیز روئیے گا مت ۔۔۔

اچھا !

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ویکسین سے بچنے کے لیے اماں صبح سے آئیں بائیں شائیں اور ہم ” جائیں جائیں “ کر رہے تھے ۔ دو بار شناختی کارڈ کو بھی جھاڑ پونچھ کر دیکھ چکی تھیں کہ شاید ساٹھ سال سے ایک دو سال کم نکل آئیں لیکن نادرا کئی بار جھوٹ نہیں بھی بولتا۔ ہم دونوں بہن بھائی اب باقاعدہ منتوں پر اتر آئے تھے لیکن ان کا ہر بار نیا عذر ہوتا۔

” شاہدہ نے کہا ہے جن کا بی پی ہائی ہو ان کو ویکسین نہیں لگوانی چاہیے “ انہوں نے آنٹی شاہدہ کا حوالہ دیا جن کو اماں آج سے پہلے ہمیشہ جعلی ڈاکٹر کہتی آئی تھیں۔
” لیکن آپ کا بی پی low رہتا ہے۔“ میں نے یاد کروایا۔

” لیکن کل سے مجھے لگتا ہے ہائی ہے ، دھڑکن بھی تیز ہے ۔“ انہوں نے نبض پر ہاتھ رکھ کر سامنے کلاک پر نظریں جما لیں۔

” یہ دیکھو ! اب بھی ایک سیکنڈ میں پانچ بار دل دھڑکا ہے۔“ وہ دکھی ہوئیں۔
” اماں یہ کلاک بند ہے، آپ کا دل ٹھیک ہے۔“ ان کی نبض جاری تھی اور سوئیاں وہیں رکی تھیں۔
اماں تھوڑی سی شرمندہ ہوئیں مگر ہار نئیں مانی ۔
” مجھے درد یا انجکشن کا ڈر نہیں لیکن اس قسم کے ٹیکوں کے بعد لازمی بخار ہو جاتا ہے۔“

” آپ نے ایم بی بی ایس کر رکھا ہے اور ہمیں بتایا ہی نہیں ۔ “ میں نے لاڈ سے کہا۔
ابا بھی سینہ چوڑا کر کے بولے:” چلی جائو کچھ نہیں ہوتا ، مجھے دیکھو۔۔۔ وہ کمانڈر سیف گارڈ بنے بیٹھے تھے ( جیسے ہمیں تو ان کی بہادری کے قصے بھول گیے ہوں )۔

2 بجے بڑی مشکلوں سے راضی ہوئیں۔ بلال نے گاڑی نکالی ، وہ میرے ساتھ بڑے گیٹ سے باہر نکلیں اور چھوٹے سے اندر چلی گئیں۔ اب بلال گاڑی میں ، ابا بالکونی میں اور میں سڑک پر کھڑی تھی اور اماں غائب ۔۔۔۔
” جو چلے تو گیٹ سے گزر گئے ۔۔۔ “ بلال نے زور سے آواز لگائی۔

” ہائے اللہ اب اندر کیوں چلی گئیں ؟“ لیکن اندر بھی تو نہیں تھیں۔ آوازیں دینے کے بعد پتا چلا کہ تیسری بار بیت الخلا گئی ہیں۔
” جو ’ امّاں ‘ ملی تو کہاں ملی ۔۔۔“ ( اقبال سے معذرت)

خیر اب کے سخت حفاظتی اقدامات میں گاڑی میں بٹھایا اور چائلڈ لاک لگانا نہ بھولے ۔ راستے میں گھمبیر خاموشی رہی ، میرے چٹکلے بھی اماں کو نہ ہنسا سکے۔ انجکشن لگا اور کچھ بھی نہ ہوا ۔ واپسی پہ کہا: ” ہائے مجھے چکر آ رہے ہیں ، شاہدہ سچی تھی ۔ “ اماں نے سیٹ سے ٹیک لگا لی۔

” اماں ! یہ چکر آپ کو نہیں آ رہے، گاڑی رائونڈ ابائوٹ سے چکر کاٹ رہی ہے۔“ بھائی نے باہر کی طرف اشارہ کیا تو ان کی جان میں جان آئی ۔ شام کو خاندان کی ہم عمر خواتین کو فون کر کے بتا رہی تھیں کہ
” ویکسین سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ، اب مجھے ہی دیکھ لیں۔ “

کئی سالوں سے پچاس پر کھڑی ضدی خواتین کو وہ باور کروا رہی تھیں کہ اب آپ سٹھیا گئی ہیں اور وہ اتنی سی بات پر سٹپٙٹا گئی تھیں۔


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں