ڈاکٹر امتیاز عبدالقادر ، سکالر ، ریاست جموں و کشمیر

علامہ شبلیؔ : مؤرخانہ تدقیق اورمذاقِ فن

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

ڈاکٹر امتیاز عبد القادر ، مرکز برائے تحقیق و پالیسی مطالعات ، بارہمولہ

ہندوستان کی حکومت سنبھالتے ہی انگریزوں نے عوام کواپنی عظمت کے قصّے سناکرمرعوب کرنے کی کوشش شروع کردی تھی جس کے نتیجے میں جدید تعلیم یافتہ طبقہ یورپ ہی کو لیاقت اورقابلیت کاسرچشمہ سمجھنے لگا۔ دوسری طرف مستشرقین اسلامی تاریخ کومسخ کرنے کی کوشش میں جُٹ گئے۔ بقول شبلیؔ:

”یورپ کے بے درد واقعہ نگاروں نے سلاطینِ اسلام کی غفلت شعاری، عیش پرستی اورسیہ کاری کے واقعات کواس بلند آہنگی سے تمام عالم میں مشہور کیاہے کہ خود ہمیں کو یقین آچلا اورتقلید پرست توبالکل یورپ کے ہم آہنگ بن گئے“۔(المامون، ص4)

اس غلامانہ ذہنیت اوراحساس کمتری سے نجات دلانے کے لئے ضروری تھا کہ اسلامی تاریخ کے ایسے زریں اوراق الٹ کردکھائے جاتے جن سے مسلمانوں کے دل میں یہ احساس پیدا ہوتا کہ ہم ایک ایسے دین سے تعلق رکھتے ہیں جس کی عظمت، بلندی اور بڑائی کے آگے بڑی قومیں بھی پست اورہیچ نظرآتی ہیں۔

ابتداًً علامہ شبلی ؔ کا ارادہ ایک مکمل اسلامی تاریخ لکھنے کا تھا لیکن یہ کام اتنا وسیع تھا کہ اسے پورا کرنا فردِ واحد کے بس کی بات نہ تھی۔ چنانچہ پوری اسلامی تاریخ رقم کرنے کاخیال ترک کرکے انہوں نے ’نامورانِ اسلام‘(Heroes of Islam) کا سلسلہ لکھنے کا فیصلہ کیا۔اس سلسلے میں انہوں نے وہ ناموران منتخب کیے جو اپنے طبقے میں عظمتِ حکومت کے اعتبارسے اپنا ہمسر نہ رکھتے تھے۔

کارلائلؔ اورگبنؔ کے بعد شبلیؔ نے بکّل ؔکے فلسفہ تاریخ سے استفادہ کیاہے۔ بکلؔ نے اپنی تاریخ ’تمدن انگستان‘(1857ء) میں معاشرت پر طبعی حالات کا اثربڑی تفصیل سے دکھایا ہے۔ہیگلؔ کے خاموش اثرات بھی شبلیؔ کی تحریروں میں ملتے ہیں۔ ہیگلؔ نے مذہب کوترقی کی اسا س قرار دیا ہے اور یہ رائے ظاہر کی ہے کہ دنیا کے مختلف مذاہب میں سے ہر ایک کسی نہ کسی عظیم ’قدر‘ کی نمائندگی کرتا ہے چنانچہ انہوں نے اسلام کو عدل و انصاف کا نمائندہ قرار دیا ہے۔

علامہ شبلیؔ نے اسلامی تاریخ نگاری اورمغربی تاریخ نگاری دونوں کا تجزیہ کیا ہے اور ان غلطیوں کی نشاندہی کی ہے جو مؤرخوں کے ان دونوں طبقوں سے سرزد ہوئیں۔ قدرتی طور پر شبلیؔ نے اسلامی تاریخ پر زیادہ گہری ناقدانہ نظر ڈالی ہے۔ شبلیؔ کی رائے یہ ہے کہ دنیا کے سب سے اچھے مؤرخ عرب (مسلمان) ہی تھے کیونکہ اُن کے علوم کامادہ اُولیٰ تاریخ ہی سے اُبھرا ہے۔لکھتے ہیں:

”عرب میں جب تمدن کاآغاز ہوا تو سب سے پہلے تاریخی تصنیفات وجود میں آئیں۔ اسلام سے بہت پہلے بادشاہانِ حیرۃ نے تاریخی واقعات قلمبند کرائے اور وہ مدت تک محفوظ رہے، چنانچہ ابن ہشام نے۔’کتاب التیجان‘ میں تصریح کی ہے کہ میں نے ان تالیفات سے فائدہ اُٹھایا۔

اسلام کے عہد میں زبانی روایتوں کاذخیرہ ابتداہی میں پیدا ہوگیا تھا، لیکن چونکہ تالیف و تصنیف کاسلسلہ عموماً ایک مدت کے بعد قائم ہوا، اس لئے کوئی خاص کتاب اس فن میں نہیں لکھی گئی، لیکن جب تالیفات کاسلسلہ شروع ہوا تو سب سے پہلی کتاب جو لکھی گئی تاریخ کے فن میں تھی“۔(الفاروق،ص 2۔3)

اسلامی ادبیات میں تاریخی تصنیفات باقی تمام تصانیف کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ اور مسلمان مصنفوں کا تاریخی شعور اس درجہ قوی ہے کہ آج بقول شبلیؔ ”ہمارے لٹریچر کاجملہ گویاقومی تاریخ کا مختصر سا متن ہے“۔

شبلیؔ کی رائے میں اسلامی تاریخ کاروشن زمانہ پانچویں صدی تک قائم رہا۔ بعد ازاں متاخرین کا دور شروع ہوا، انہوں نے اصل تاریخ نگاری کی بجائے تلخیص کا ڈھنگ اختیارکیا۔ نتیجہ یہ کہ واقعات کی روح اور ان کے صحیح اسباب نظر انداز ہوئے۔

اسلامی تاریخ کے دو ارکان درایت اور روایت ہیں۔ ان میں سے روایت کا طریقہ اس لحاظ سے مفید تھا کہ اس کے ذریعے نقد وجرح میں بڑی آسانی ہوتی تھی۔ابتداً یہ طریقہ حدیث کی طرح تاریخ میں بھی مروّج رہا مگر پچھلے مؤرخوں نے سند بہ سند بیان کرنے کاطریقہ چھوڑ دیا۔ اس سے صحت واقعات کوبھی نقصان پہنچا اور عام سوانحی مواد بھی معدوم ہوتاگیا۔

متاخرین نے تلخیص کی کوشش میں تمدنی اور عام اجتماعی معاملات اور حالات کو بھی نظرانداز کردیا۔ اس کی وجہ سے رفتہ رفتہ اسلامی تاریخیں واقعات کو خالی خولی فہرستیں بن کررہ گئیں۔ متاخرین کی تاریخوں کے ان نقائص سے شبلیؔ نے جا بجا بحث کی ہے مگران کی رائے یہ ہے کہ اسلامی تاریخ اپنے روشن زمانے میں ان کمزوریوں سے پاک تھی۔ مسلمان مورخوں کا سب سے بڑا نصب العین یہ تھا کہ واقعات کوبے آمیز صداقت کے ساتھ پیش کیاجائے۔

اس کے علاوہ ان کی نظر واقعات کے سلسلے میں ان سے متعلق تمام گردوپیش پرجمی رہتی تھی۔ وہ اس معاملے میں وسعت نظر کے قائل تھے۔ اس وجہ سے واقعات کے ضمن میں ہرقسم کی جزئیات کے پیش کردینے کوضروری خیال کرتے تھے،اس طریق کار کی مددسے عام اجتماعی اور تہذیبی تفاصیل خودبخود ان کی تصانیف میں جمع ہوجاتی تھیں۔

تاریخ نگاری یہ ڈھنگ مسلم مؤرخوں نے سیرت نگاری سے حاصل کیا جس میں رسول اللہ ؐ کی ذات ستودہ صفات سے متعلق چھوٹی سی چھوٹی جزئیات کو بھی محفوظ کرلیاگیا اور اس طرح آپؐ کی ایک ایک ادا محفوظ رہ گئی۔

شبلی ؔ نے لکھا ہے کہ اصولِ درایت کے معاملے میں اس بات کو خاص اہمیت دی گئی کہ کوئی بات محسوسات، اصول مسلّمہ، عقل اور مشاہدہ کے خلاف نہ ہو۔ نیز یہ بھی دیکھا گیا کہ بیان میں تاریخی تناقص، زمان ومکان کا تضاد اور اشخاص متعلقہ میں التباس نہ ہو اور واقعہ بذاتِ خود وزنی، وقیع اور قرینِ قیاس ہو اور اندرونی جزئیات ایک دوسرے کے خلاف نہ ہوں۔ علامہ شبلیؔ اس حوالے سے لکھتے ہیں:

”درایت کے اصول بھی اگرچہ موجود تھے چنانچہ ابن حزم ؔ،ابن القیمؔ،خطابیؔ،ابن عبدالبرؔ نے متعدد روایتوں کی تنقید میں ان اصولوں سے کام لیا ہے لیکن انصاف یہ ہے کہ اس فن کو جس قدرترقی ہونی چاہیے تھی، نہیں ہوئی اور تاریخ میں تواس سے بالکل کام نہیں لیاگیا البتہ علامہ ابن خلدون نے جوآٹھویں صدی ہجری میں گزراہے، جب فلسفہ تاریخ کی بنیادڈالی تو درایت کے اصول نہایت نکتہ سنجی اور باریک بینی کے ساتھ مرتب کیے…. علامہ موصوف نے تصریح کی ہے کہ واقعہ کی تحقیق کے لئے راویوں کی جرح وتعدیل سے بحث نہیں ہونی چاہیے بلکہ یہ دیکھنا چاہے کہ واقعہ فی نفسہٖ ممکن بھی ہے یا نہیں، کیونکہ اگر واقعہ کا ہونا ممکن ہی نہیں تو راوی کا عادل ہونا بیکار ہے۔“ (الفاروق،ص 14)

یہ سب اہتمام اصلاً آنحضرت ؐ کی ذات کے سلسلے میں کئے گئے تھے۔ مگر فن تاریخ بھی اس فیض سے محروم نہیں رہا اور اس کا تاریخ نگاری پر اتنا اچھا اثر پڑا کہ بقول شبلیؔ ”یورپ با ایں ہمہ کمال اس خاص امر میں مسلمان مؤرخوں سے بہت پیچھے ہے۔“(ایضََا ص5)

مقریزی ؔ کی ”تاریخ مصر“ بھی شبلیؔ کے خیال میں اعلیٰ تاریخوں میں سے ہے۔ ان کے علاوہ متاخرین میں سے چند مؤرخ ایسے بھی ہیں، جن کی تاریخیں ان کے نزدیک معیاری ہیں مگر رفتہ رفتہ عام تاریخ نگاری کا معیار پست ہوتا گیا۔ شبلیؔ نے ان اسباب کا بھی تذکرہ کیا ہے، جن کے سبب اسلامی تاریخ میں نقائص پیدا ہوتے چلے گئے۔ ان میں سب سے بڑا سبب شخصی سلطنت کا بُرا اثر ہے۔

دوسرا سبب یہ ہے کہ دورِانحطاط میں بادشاہوں کی خارجی زندگی کو زیادہ وقعت دی گئی اور انقلابات و واقعات کے اندرونی اسباب سے بحث نہیں کی۔ سلاطین بنو امیہ کاعام اثر بھی اچھا نہ ہوا۔ ان کے ماتحت واقعات جنگ یہاں تک کہ سیرت رسول ؐ کے سلسلے میں بھی اسی کو ضروری قرار دیا اور اس کا نام ’مغازی‘ رکھا، حالانکہ یہ طریقہ سوانح نگار نبوت کے لئے موزوں نہ تھا کیونکہ یہ سکندرکی لائف نہ تھی، ایک پیغمبر کی لائف تھی۔ جوغلطی پہلے صرف سیرت نگاری میں سرزد ہوئی، یہی پھرعام تاریخ میں بھی پھیل گئی۔

مغربی تاریخ نگاری کے متعلق شبلیؔ کی تنقید مخلوط قسم کی ہے۔ ابتدائے کار میں وہ یورپ کے مؤرخوں کے فلسفیانہ طریقِ کار کے بہت مدّاح تھے۔ یہاں تک کہ ایک موقعہ پر ان کی تفصنیفات کو انہوں نے ’کشف زعفران‘ سے تعبیر کیا۔’المامون‘ میں لکھتے ہیں:
”میں علانیہ اعتراف کرتا ہوں کہ موجودہ زمانے میں تاریخ کا فن ترقی کے جس پایہ پر پہنچ گیا ہے اور یورپ کی دقیقہ سنجی نے اس کے اصول و فروع پر جو فلسفیانہ نکتے اضافے کئے ہیں، اس کے اعتبار سے ہماری قدیم تصانیف ہمارے مقصد کے لئے بالکل کافی نہیں“۔(ص9)

نیز ’الفاروق‘میں لکھتے ہیں:
”تاریخ وتذکرہ کے فن میں آج جو ترقی ہو رہی ہے، اس کے لحاظ سے یہ بے بہاخزانے بھی چندان کارآمد نہیں۔“(ص7)

فلسفیانہ طریق کار کے متعلق لکھاہے کہ:
”یورپ کواس فن کے متعلق جس اختراع وایجاد پرنازہے۔ وہ اسی طلسم کی پردہ کشائی ہے“۔(سیرۃ النبی ج1،ص86)

مگر اس تحسین وآفرین کے باوجود شبلیؔ مغربی مؤرخوں سے بتدریج بدظن ہوتے جاتے ہیں اوران کے فن اور ان کے بعض طریقوں پرکڑی تنقیدکرتے ہیں۔خصوصاً وہ اس تعصّب کوبھی فراموش نہیں کرسکتے کہ مغربی مؤرخ نے آنحضرت ؐ کی پاک سیرت اور بعض نیک دل و انصاف پسند مسلمان بادشاہوں کی تاریخ کے ساتھ سخت بے انصافی کی ہے۔

یورپ میں آنحضرت ؐ کی سیرت نگاری کاآغاز ہلدی برٹؔسے ہوتاہے۔جس نے 1139ء میں آپؐ کی حیات طیبہ پرایک کتاب لکھی۔ اس کے بعد یہ سلسلہ تا ہنوز جاری ہے اور اس طرف اس حد تک توجہ ہوئی کہ آنحضرت ؐ کے سوانح نگاروں میں جگہ پانا ایک اور چیز سمجھی جانے لگی۔ اس گروہ میں ہم کوبڑے بڑے فضلائے مغرب کے نام ملتے ہیں۔ ولہازنؔ، نولدیکیؔ، مارگولیوثؔ، فان کریمرؔ، میورؔ وغیرہ۔ مگر ان بزرگوں کی فضیلت کے باوجود شبلیؔ کو ان مصنفوں کی تصانیف سے بڑی مایوسی ہوئی۔چنانچہ ایک خط میں لکھا:
”یورپین مؤرخوں پرروزبروزحیرت بڑھتی جاتی ہے“۔(مکاتیب شبلی،ج 1،ص213)

اور بالآخر شبلیؔ کی یہ بدگمانی اس قدر بڑھی کہ ’سیرۃ النبی‘ لکھتے وقت یہ نتیجہ نکالا کہ کوئی یورپین مؤرخ سیرت پرکتاب لکھ ہی نہیں سکتا کیونکہ اس معاملے میں جس غیرجانبداری، احتیاط اور اصولِ حدیث سے واقفیت اورہمدردی کی ضرورت ہے وہ کسی غیر مسلم کومیسّر آہی نہیں سکتی۔

شبلیؔ کی رائے میں مغربی سیرت نگاروں کی ان غلطیوں کی بڑی وجہ تعصّب کے ساتھ ساتھ یہ ہے کہ وہ حدیث سے زیادہ مغازی اورعام سیرت کی کتابوں سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ یورپ سرے سے روایت کے اصول اوراس کی اہمیت ہی سے بے خبر ہے۔ یورپ میں اگرکوئی ریاکار راوی کسی جھوٹی بات کومعقول پیرائے میں بیان کردے گا تو وہاں کا مؤرخ اس کوقبول کرلے گا مگر مسلمان مؤرخ سب سے پہلا سوال یہ کرے گا کہ یہ راوی کہیں جھوٹ بولنے کاعادی تونہیں؟

پامرؔ اور مارگولیوثؔ جیسے مستشرقین کے ترکش سے وہی تیر نکلے ہیں جو عام پادریوں کے پاس تھے اورمارگولیوثؔ کا تو یہ عالم تھا کہ وہ ایک سادہ سی بات کواپنی طبّاعی کے زور سے بد نظر بنادیتا ہے۔ اس کی’لائف آف محمدؐ‘ شبلیؔ کی نظر میں ”ایک حرف بھی ساری کتاب میں صحیح نہیں“۔(کتب خانہ اسکندریہ)

شبلیؔ کے نزدیک علمائے یورپ کے تعصب کی ایک بڑی وجہ محاربات صلیبی کی کش مکش تھی۔جب تعصب کا یہ پہلو کمزورہوگیا تو 18ویں اور19ویں صدی کے مقامی اور تنگ نظرانہ قومیت کا سیلاب اُمڈ آیا او راستعمار و ملک گیری کا نشہ مفکرین یورپ کے سرپرسوار ہوگیا۔

اس کے زیراثر مفتوح اقوام کی تاریخ کومسخ کرکے پیش کیاگیا تاکہ غلامی کا طوق تہذیب کا طوق زریں بن کرخوش نما اورخوش آئند معلوم ہو اور مشرق کے لوگ اپنی تاریخ کوپڑھ کر اپنی تہذیب سے خود نفرت کرنے لگیں۔ شبلیؔ جب یورپ کے اس تعصّب کاذکر کرتے ہیں توان کا لہجہ نہایت تُند وتلخ ہوجاتاہے اوروہ کہہ اُٹھتے ہیں:

”اگردنیا کی عجیب وغریب غلط فہمیوں کی فہرست تیار کی جائے توان میں یورپ اورمؤرخین یورپ کی ان غلط بیانیوں کوسب سے اونچے درجے پر رکھنا پڑے گا اورگرکوئی شخص ان غلط فہمیوں کودورکرنا ہی اپنی زندگی کا سب سے بڑامقصد قرار دے لے تو اس کے لئے یہ عمرکافی نہ ہوگی بلکہ اس کام کی تکمیل کے لئے اسے خدا سے ایک اور عمر کی دعا کرنی پڑے گی“۔(المامون،ص153)

شبلیؔ نے اس قسم کی چند غلط بیانیوں کی تردید کرنے کی کوشش کی ہے مثلاً الجزیہ میں، سفرنامہ روم وشام، میں ترکی حکومت پر بدانتظامی کا الزام کے حوالے سے ’اورنگ زیب عالمگیر پر ایک نظر‘ لکھ کر انہوں نے اصل حقیقت ظاہر کی ہے اور یہ ثابت کیا ہے عام تعصب کے علاوہ غلط بیانی کا ایک سبب یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ مغربی علما ء پرانے زمانے کا مقابلہ جدید دور سے کرتے ہیں،حالانکہ صحیح اصول یہ ہے کہ ”وہ موجودہ طرزسلطنت سے ایشیائی حکومت کو نہ ناپیں“۔ پھریہ بھی نہایت غلط طریق کار ہے کہ مسلمان بادشاہوں کے ذاتی اعمال و افعال کو ان کے مذہب کی طرف منسوب کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ مذہب کو ان کے ذاتی اعمال بد سے کوئی تعلق نہیں۔

علامہ شبلی نعمانیؒ کی اسی محنت،مشقت اور ریاضت کا نتیجہ ہے کہ ان کے دشمن بھی ان کی عظمت کے قائل اور ان کی تصانیف کی اہمیت کے معترف ہیں۔ ایس۔ایم۔اکرام نے اپنی تصنیف ’شبلی نامہ‘ اور’موج کوثر‘ میں شبلیؔ کے خلاف جوکچھ لکھا ہے اس کا نشانہ زیادہ تر شبلی ؔ کی ذات بنی ہے۔

ان کے فن اور خصوصاً تاریخ نویسی کے فن کے بارے میں انہوں نے بہت کم تنقید کی ہے، انہوں نے بھی یہ مانا ہے کہ ”سرسیدؔ کے حلقے میں پیرمیکدہ کے بعد شبلیؔ جیسی جامع الصفات ہستی کوئی نہ تھی“۔ انہیں اس بات کا بھی اعتراف ہے کہ ”قلیل مدت حیات اورکمزوری صحت کے باوجودشبلیؔ نے جوکچھ کر دکھایا ہے وہ ایک معجزے سے کم نہیں۔‘(موج کوثر،ص259)

بلاشبہ شبلیؔ ایک بڑے مؤرخ تھے،جنہوں نے کہیں بھی تاریخ نویسی کی فنی ضروریات اور مقتضیات کو نظرانداز نہیں کیا اسی بات کو دیکھتے ہوئے مہدی افادیؔ نے کہاہے:

”ہم میں صرف شبلیؔ ایسا شخص ہے جو بہ لحاظ جامعیت اور وسیع النظری، مورخانہ تدقیق اور مذاقِ فن کی حیثیت سے آج یورپ کے بڑے بڑے مؤرخوں سے پہلو بہ پہلو ہوسکتاہے“۔(افاداتِ مہدی،ص103)
٭٭٭


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں