سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیراعظم عمران خان کی طبی سہولیات سے متعلق درخواست پر اہم عبوری احکامات جاری کرتے ہوئے انہیں دو روز کے اندر معائنے اور علاج کے لیے شفاء انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔ اسی کے ساتھ عدالت نے اٹک جیل حکام کی جانب سے توہینِ عدالت کی کارروائی خارج کیے جانے کے فیصلے پر بھی اسلام آباد ہائیکورٹ سے وضاحت طلب کر لی۔
سپریم کورٹ کے مسٹر جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ، جس میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے، نے پیر کے روز اس ضمن میں دائر متعدد باہم مربوط مقدمات کی مشترکہ سماعت کی۔
زیرِ التوا اپیل: طبی سہولت پر التوا
سب سے پہلے 2023 کی اس درخواست کو نمٹایا گیا جس میں سزا کی معطلی کی استدعا کی گئی تھی۔ چونکہ درخواست گزار کے وکیل 21 اگست 2026 تک عمومی رخصت پر ہیں، اس لیے عدالت نے کارروائی مؤثر طور پر آگے نہ بڑھنے کے باعث معاملہ ملتوی کر دیا۔
توہینِ عدالت کیس: ہائیکورٹ سے وجوہات طلب
عدالت نے دو اپیلوں پر بھی سماعت کی جو توہینِ عدالت کی کارروائیوں سے متعلق تھیں۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے دیے گئے تحریری یقین دہانی اور 6 ستمبر 2024 کے حکم کی خلاف ورزی کی گئی، تاہم ہائیکورٹ نے 24 مارچ 2025 کے حکم میں فریقین کی باہمی رضامندی کی بنیاد پر توہینِ عدالت کی کارروائی محض یہ کہہ کر ختم کر دی کہ کسی فریق نے اعتراض نہیں اٹھایا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ہائیکورٹ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کارروائی ختم کرنے کی بنیاد کیا تھی، اور بغیر وجوہات درج کیے دیا گیا فیصلہ منصفانہ ٹرائل اور قدرتی انصاف کے اصولوں سے متصادم ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ قانون عدالتی فیصلوں میں وجوہات کے اظہار کا تقاضا کرتا ہے تاکہ انصاف کی فراہمی میں شفافیت برقرار رہے۔ اس پس منظر میں تمام مدعا علیہان کو نوٹس جاری کر دیا گیا اور انہیں اگلی سماعت پر تحریری وضاحت اور ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی۔
طبی سہولیات سے متعلق درخواست: عدالت کے اہم احکامات
معاملے کا مرکزی نکتہ عمران خان کی جانب سے دائر وہ درخواست تھی جس میں طبی معائنے، آنکھوں کے علاج، خاندان اور وکلاء تک رسائی سے متعلق ریلیف مانگا گیا تھا، جسے ہائیکورٹ نے 12 مارچ 2026 کو مسترد کر دیا تھا۔
سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے ابتدا میں نوٹس نہ ملنے پر التوا کی استدعا کی، تاہم معاملے کی نوعیت اور حساسیت کے پیشِ نظر انہوں نے کارروائی میں حصہ لیا۔
یہ بھی پڑھیے
فوج عمران خان سے ڈیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی، برطانوی جریدہ
عمران خان غیر معمولی سیاسی طاقت سے کیسے محروم ہوئے؟
صرف ایک بات ، عمران خان کو آدھے سے زائد مسائل سے چھٹکارا دلا سکتی ہے
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا حکومت پر عمران خان اور ان کے اہلِ خانہ کو طبی رپورٹس، ٹیسٹ رپورٹس اور علاج کی تفصیلات فراہم کرنے میں کوئی قانونی رکاوٹ حائل ہے، جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے تسلیم کیا کہ ایسی کوئی قانونی رکاوٹ موجود نہیں۔ عدالت نے سنٹرل جیل اڈیالہ کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی طبی رپورٹ کو محض ’خلاصہ‘ قرار دیتے ہوئے ناکافی قرار دیا۔
وکیل صفائی کے مطابق سپرنٹنڈنٹ جیل کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان کی صحت مزید بگڑ چکی ہے اور انہیں خاندان سے بار بار ملاقات اور مطالعاتی مواد تک رسائی کی ضرورت ہے۔ وکیل نے استدعا کی کہ ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو باقاعدہ ملاقات اور علاج میں شمولیت کی اجازت دی جائے، جبکہ بیٹوں کو ٹیلیفون پر بات چیت کی اجازت دی جائے۔ وکیل نے صحت کی دیکھ بھال کو آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت بنیادی حق قرار دیا۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے درخواست کی سماعت کے قابل ہونے پر بھی اعتراض اٹھایا، جسے عدالت نے فی الوقت طے کیے بغیر آئندہ سماعت پر زیرِ غور لانے کا فیصلہ کیا۔
عبوری حکم کے دس نکات
عدالت نے قرار دیا کہ قید کے باوجود کوئی شخص انسانی سلوک اور ضروری طبی امداد کے حق سے محروم نہیں ہوتا، اور بطور عبوری انتظام درج ذیل ہدایات جاری کیں:
حکومت مکمل طبی ریکارڈ، بشمول تمام ٹیسٹ، نسخے اور رپورٹس، گرفتاری سے تاحال، عدالت میں پیش کرے۔
گزشتہ تین ماہ کے دوران قیدی اور اس کے اہلِ خانہ و وکلاء کے مابین ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
قیدی کے خلاف زیرِ سماعت، زیرِ ٹرائل اور فیصلہ شدہ تمام مقدمات کی مکمل تفصیلات پیش کی جائیں۔
عمران خان کو اگلے دو دن میں شفاء انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقل کیا جائے۔
اسپتال انتظامیہ کے تعاون سے فزیشن، جنرل سرجن، اندرونی امراض کے ماہر، امراضِ چشم کے ماہر اور امراضِ قلب کے ماہر پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔
ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو معائنے و علاج کے دوران ساتھ رہنے کی اجازت ہوگی۔
علاج اور سہولیات کے اخراجات قیدی یا اس کے اہلِ خانہ برداشت کریں گے۔
اگلی سماعت تک قیدی کے اہلِ خانہ، سیاسی جماعت یا وکلاء صحت سے متعلق معلومات میڈیا یا عوام کے ساتھ شیئر نہیں کریں گے۔
حکومت ہفتے میں ایک بار خاندان سے ملاقات کی سہولت فراہم کرے گی۔
حکومت ہفتے میں دو بار بیٹوں سے ٹیلیفونک رابطے کی سہولت فراہم کرے گی۔
سیاسی سرگرمی پر پابندی اور دیگر ہدایات
امن و امان برقرار رکھنے کے لیے عدالت نے مزید ہدایت دی کہ شفاء انٹرنیشنل اسپتال کے احاطے میں کوئی سیاسی اجتماع منعقد نہیں ہوگا، اور طبی معلومات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال میں نہیں لایا جائے گا۔
عدالت نے متنبہ کیا کہ ان ہدایات کی خلاف ورزی کی صورت میں دی گئی سہولیات واپس لی جا سکتی ہیں۔ فریقین کو کسی بھی زیادتی یا شکایت کی صورت میں عدالت سے رجوع کرنے کی اجازت دی گئی، جبکہ حکومت کو اسپتال میں قیام کے دوران مناسب سیکیورٹی انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔
عدالت نے حکم دیا کہ شفاء انٹرنیشنل اسپتال میں معائنے اور علاج کی مکمل رپورٹس اگلی سماعت پر عدالت میں پیش کی جائیں۔ یہ معاملہ جزوی طور پر سنا گیا (پارٹ ہرڈ) قرار دیتے ہوئے آئندہ سماعت کے لیے 16 ستمبر 2026 مقرر کر دی گئی۔









