راولپنڈی میں ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (DHA) فیز ون کے قریب سواں ندی کے پل پر پیش آنے والے ایک دردناک واقعے میں 28 سالہ خاتون ندی میں گر کر جاں بحق ہو گئیں۔ متوفیہ کی شناخت کومل جان دختر جان عالم کے نام سے ہوئی ہے، جو راولپنڈی کے علاقے گلستان کالونی کی رہائشی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) میں ملازمت کرتی تھیں۔ وہ سوشل میڈیا پر بطور کنٹینٹ کریئیٹر اور ہیوی بائیکنگ کے شوقین کے طور پر بھی جانی جاتی تھیں۔
ذرائع کے مطابق بدھ کی دوپہر تقریباً دو بجے ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر ایک شہری نے اطلاع دی کہ سواں پل سے ایک خاتون ندی میں گر گئی ہیں۔ اطلاع ملتے ہی راولپنڈی پولیس اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔ پل پر متوفیہ کی بائیک، ہینڈ بیگ، ہیلمٹ، موبائل فون اور شناختی کارڈ موجود تھا، جس کی مدد سے ان کی شناخت ممکن ہوئی۔
ریسکیو 1122 کی غوطہ خور ٹیموں نے تیز بہاؤ والے دریائے سواں میں فوری طور پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ تقریباً دو سے ڈھائی گھنٹے کی مسلسل تلاش کے بعد حادثے کے مقام سے تین کلومیٹر دور، جی ٹی روڈ کے مرکزی سواں پل کے قریب سے ان کی لاش برآمد کی گئی، جسے پوسٹ مارٹم اور ضروری طبی عمل کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پولیس کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، واقعہ اس وقت پیش آیا جب کومل جان اپنے ایک موبائل فون کے ذریعے ندی اور پل کا منظر کیمرے میں محفوظ کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے لیے ویڈیو بنا رہی تھیں۔ اس دوران اچانک توازن بگڑنے کے باعث وہ بے قابو ہو کر ندی کے تیز بہاؤ میں جا گریں۔ پولیس نے واقعے کی تمام زاویوں بشمول حادثہ اور دیگر پہلوؤں سے تفتیش کی، تاہم موقع کے شواہد اور عینی شاہدین کے بیانات سے یہ بات سامنے آئی کہ واقعہ بنیادی طور پر ایک ناگہانی حادثہ تھا۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر متوفیہ کے اہل خانہ بھی موقع پر پہنچ گئے۔ ورثاء نے کسی بھی شخص یا عنصر پر شک کا اظہار نہیں کیا اور واقعے کو حادثاتی قرار دیا۔ پولیس کے مطابق تمام قانونی امور اور ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد لاش کو آخری رسومات کے لیے ورثاء کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا اور بالخصوص ٹک ٹاک کے لیے وائرل ویڈیوز یا سنسنی خیز مواد بنانے کے چکر میں پاکستان اور دنیا بھر میں کئی افسوسناک حادثات پیش آ چکے ہیں، جہاں چند سیکنڈز کی ویڈیو یا لائکس کی خواہش جان لیوا ثابت ہوئی۔
1. پاکستان میں پیش آنے والے دیگر واقعات
ٹرین کی زد میں آنا (راولپنڈی – جنوری 2021)
راولپنڈی کے علاقے شاہ خالد میں 18 سالہ حمزہ نوید ریلوے ٹریک کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے ٹک ٹاک ویڈیو بنوا رہا تھا۔ پیچھے سے آنے والی تیز رفتار ٹرین کا اندازہ نہ ہونے اور کیمرے کے سامنے پوز دینے کے چکر میں ٹرین کا زوردار جھٹکا لگا اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔
چلتی ٹرین سے گرنا (مندرہ، راولپنڈی – مارچ 2026)
راولپنڈی کے قریب مندرہ کے مقام پر 24 سالہ حسنین علی پشاور سے لاہور جاتے ہوئے ٹرین کے دروازے میں کھڑے ہو کر ٹک ٹاک ویڈیو بنا رہا تھا کہ اچانک توازن بگڑنے کی وجہ سے نیچے جا گرا اور لاش پٹریوں سے برآمد ہوئی۔
نہر میں ڈوبنے کا حادثہ (نوشہرو فیروز، سندھ – جون 2024)
سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز میں دو کمسن بہنیں نہر کے کنارے کھڑی ہو کر ویڈیو بنا رہی تھیں کہ ایک بہن کا پاؤں پھسل گیا اور دوسری اسے بچاتے ہوئے دونوں تیز بہاؤ میں بہہ کر جاں بحق ہو گئیں۔
جعلی گولی چلانے کا سٹنٹ (سیالکوٹ / کراچی)
پاکستان میں ایسے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جہاں نوجوانوں نے ٹک ٹاک ویڈیو کے لیے نقلی یا اصلی پستول کنپٹی پر رکھ کر ایکشن کرنے کی کوشش کی۔ سیالکوٹ اور کراچی میں 16 سے 19 سال کے نوجوانوں سے ویڈیو شوٹنگ کے دوران غلطی سے ٹرگر دب گیا اور گولی چلنے سے وہ جاں بحق ہو گئے۔
2. دنیا بھر کے نمایاں واقعات
عمارت کی چھت سے گرنا (ترکیہ – اگست 2021)
استنبول (ترکیہ) میں 23 سالہ ٹک ٹاکر کبرا ڈوگن (Kubra Dogan) اپنی کزن کے ساتھ عمارت کی چھت پر سورج غروب ہونے کا منظر شوٹ کر رہی تھی۔ ویڈیو بناتے ہوئے اس کا پاؤں چھت پر لگے پلاسٹک کے کمزور پینل پر پڑا جو ٹوٹ گیا اور وہ تقریباً 50 میٹر (160 فٹ) کی بلندی سے نیچے گر کر جاں بحق ہو گئی۔
آبشار سے گرنا (ہانگ کانگ – جولائی 2021)
ہانگ کانگ کی مشہور 32 سالہ سوشل میڈیا ایڈونچر انفلوئنسر صوفیا چیونگ (Sofia Cheung) ہاپ تائی نگوئی پارک میں ایک خوبصورت آبشار کے کنارے تصویر اور ویڈیو بناتے ہوئے توازن کھو بیٹھی اور 16 فٹ گہری کھائی میں جا گری، جس سے ان کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔
گاڑی کا خطرناک سٹنٹ (ماسکو، روس – اپریل 2021)
ماسکو کے قریب ایک 21 سالہ نوجوان اپنے کزن کی گاڑی کے ساتھ ٹک ٹاک اسٹنٹ شوٹ کر رہا تھا۔ تیز رفتار گاڑی پر قابو نہ رہنے کی وجہ سے گاڑی براہ راست ٹک ٹاکر سے جا ٹکرائی اور وہ شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔
ویڈیو کے دوران حادثاتی فائرنگ (امریکا)
امریکا میں بھی چند ایسے واقعات سامنے آئے جہاں انسٹاگرام لائیو یا ٹک ٹاک ریکارڈنگ کے دوران اسلحے سے کھیلتے ہوئے ناگہانی طور پر گولی چل گئی اور ویڈیو بنانے والے یا ان کے ساتھی کی جان چلی گئی۔
ان تمام واقعات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ:
خطرناک مقامات سے گریز: ریلوے ٹریکس، اونچی عمارتوں کے کنارے، ندی نالوں کے تیز بہاؤ اور چلتی گاڑیوں کے قریب ویڈیوز بنانا انتہائی خطرناک ہے۔
اسلحے اور اسٹنٹس پر پابندی: ہتھیاروں کا استعمال اور بنا کسی حفاظتی تدابیر کے اسٹنٹس کرنا زندگی کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے۔









