ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈے نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع میں پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد کی یہ کوششیں ’دنیا اور خود ہمارے لیے ایک عظیم خدمت ہیں‘
پاکستان کے دو روزہ دورے پر موجود نارویجن وزیر خارجہ نے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا، ’میں اس ڈرامائی جنگ میں پاکستان کے انتہائی اہم کردار کی مکمل حمایت کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں، جو 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے سے شروع ہوئی تھی‘ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ ناروے ان مغربی ممالک میں شامل تھا جنہوں نے سب سے پہلے اور واضح طور پر اس جنگ کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
نارویجن وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ ’اگر ہم بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی بات کرتے ہیں تو اس کا اطلاق ہر وقت، ہر جگہ اور تمام ممالک پر یکساں ہونا چاہیے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ دیگر امور پر ایران سے ان کے شدید اختلافات موجود ہیں، تاہم بطور ریاست تحفظ حاصل کرنا ایران کا بھی حق ہے۔
پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ بخوبی سمجھتے ہیں کہ دو فریقین کے درمیان ثالثی اور مذاکرات کی سہولت کاری کتنا مشکل کام ہے۔ انہوں نے سول اور عسکری قیادت کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا، ’جب آپ نے اسلام آباد کو نہ صرف مذاکرات کے مقام کے طور پر پیش کیا بلکہ سہولت کار کا کردار بھی سنبھالا، تو میں جانتا ہوں کہ یہ کتنا بڑا اور بھاری ٹاسک تھا۔ آپ جو کچھ کر رہے ہیں وہ واقعی دنیا کی خدمت ہے۔‘
انہوں نے وضاحت کی کہ چونکہ ناروے ایک بڑی بحری و تجارتی قوم ہے، اس لیے پاکستان کی ثالثی کوششیں ان کے لیے بھی اہم ہیں۔ انہوں نے کہا، ’ہم کھلے سمندری راستوں کی آزادی، آزادانہ تجارت اور سمندری قوانین کے احترام میں یکساں مفاد رکھتے ہیں۔ اس افسوسناک اور غیر ضروری جنگ کے نتیجے میں کچھ بھی سامنے آئے، ہمیں آزادانہ نقل وحرکت کے اصول کا تحفظ کرنا ہوگا، اور مجھے خوشی ہے کہ اس معاملے پر ہمارے موقف میں مکمل ہم آہنگی ہے۔‘
نارویجن وزیر خارجہ نے تمام فریقین پر زور دیا کہ خلیج میں کھلے سمندری راستوں اور آزادانہ نقل وحرکت کا مسئلہ صرف جنگی فریقین کا نہیں بلکہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے مسئلہ کشمیر اور افغانستان سمیت دیگر علاقائی صورتحال پر بھی بات چیت کی۔ اس کے علاوہ، انہوں نے مکہ میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے دفاعی معاہدے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ناروے کے ان تینوں ممالک کے ساتھ انتہائی دوستانہ تعلقات ہیں۔
پریس کانفرنس کے آغاز میں ایڈے نے کہا کہ وہ 10 سال بعد پاکستان کا دورہ کرنے والے پہلے نارویجن وزیر خارجہ ہیں اور انہیں یہاں آ کر بے حد خوشی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناروے اور پاکستان کے درمیان مضبوط شراکت داری اور عوامی سطح پر گہرے روابط موجود ہیں۔ ناروے میں مقیم پاکستانی تارکین وطن سیاست اور معاشرے کے اہم شعبوں میں بہترین خدمات انجام دے رہے ہیں، اور دونوں ممالک سے واقف یہ برادری معاشی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا بہترین ذریعہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اوسلو اور اسلام آباد تجارت کو مزید منظم بنانے اور معاشی روابط بڑھانے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے ماحولیاتی تبدیلی کو بھی اپنی خارجہ پالیسی کا اہم جزو قرار دیا ہے۔
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی گفتگو
اس سے قبل نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، دفاع، آئی ٹی، ماحولیات اور سمندری امور سمیت تمام باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ سیاسی مشاورت (BPC) کا عمل باقاعدگی سے جاری ہے اور اس کا اگلا دور رواں سال کے آخر میں اسلام آباد میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تجارتی حجم ان کی صلاحیت سے کم ہے جسے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے نارویجن کمپنی ‘یارا انٹرنیشنل’ اور ‘فوجی فرٹیلائزر’ کے درمیان مشترکہ منصوبے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ پاکستان کی ناروے کو آئی ٹی برآمدات میں گزشتہ دو سالوں میں 5 گنا اضافہ ہوا ہے جو کہ ایک بڑی کامیابی ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 1 اپریل کو پیرس معاہدے کے آرٹیکل 6 کے تحت مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ، شپ ری سائیکلنگ کے شعبے میں بھی پاکستان ناروے کے ساتھ تعاون بڑھا رہا ہے۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ انہوں نے نارویجن ہم منصب کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا اور زور دیا کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بند کرے۔ انہوں نے امریکہ ایران کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کرنے پر نارویجن وزیر خارجہ کا شکریہ بھی ادا کیا۔
وفود کی سطح پر مذاکرات اور دیگر ملاقاتیں
دفتر خارجہ کے مطابق، اس سے قبل دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان محدود اور وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔
نارویجن وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈے نے مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت اور شراکت کو خصوصی طور پر سراہا۔
انہوں نے کہا کہ جاری جنگ عالمی امن اور معیشت کے لیے انتہائی خطرناک ہے اور پاکستان نے اس مشکل وقت میں آگے بڑھ کر انتہائی ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے، جس سے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار اور امن ساز کی حیثیت مزید مضبوط ہوئی ہے۔ انہوں نے پیشکش کی کہ ناروے بھی ایران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ روابط رکھتا ہے اور امن کی اس کوشش میں جہاں ممکن ہو سکا، پاکستان کی مدد کے لیے تیار ہے۔
واضح رہے کہ نارویجن وزیر خارجہ کا یہ دورہ 13 اور 14 اگست پر محیط ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان طویل العصر دوستانہ تعلقات کو مزید وسعت دینے میں اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔









