TTP terrorists

افغان طالبان کی ٹی ٹی پی حمایت سے پاکستان میں حملے مزید ہلاکت خیز ہوئے، اقوام متحدہ

·

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نگرانی ٹیم نے کہا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران افغان طالبان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی حمایت نے پاکستان میں عسکریت پسندوں کے حملوں کو مزید ہلاکت خیز بنایا۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان سے پیدا ہونے والا عسکریت پسندوں کا خطرہ بدستور برقرار ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے لیے کام کرنے والی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی ٹیم نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ افغانستان میں متعدد عسکریت پسند گروہوں کو کارروائیاں جاری رکھنے کی صلاحیت پڑوسی ممالک اور وسطی ایشیا کے لیے ایک ’دیرپا خطرہ‘ ہے۔ 10 اگست کو جاری رپورٹ کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار حملوں کا سلسلہ جاری رہنے کے باعث جنوبی ایشیا میں کشیدگی بدستور بلند رہی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی عبوری حکومت نے ٹی ٹی پی کی حمایت جاری رکھی، جس کے نتیجے میں پاکستان میں حملوں میں اضافہ ہوا اور دونوں ممالک کے درمیان فوجی جھڑپیں ہوئیں۔ طالبان افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کی تردید کرتے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ٹیم کے مطابق افغان حکام نے ٹی ٹی پی کے تقریباً 2 ہزار جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو پاکستانی سرحد سے افغانستان کے اندرونی علاقوں میں منتقل کیا تاکہ ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کو محدود کیا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق طالبان کے سربراہ ہبت اللہ اخوندزادہ نے مبینہ طور پر پسِ پردہ رابطوں کے ذریعے ٹی ٹی پی کی قیادت کو پاکستان پر حملے روکنے کی تنبیہ بھی کی، تاہم اس کے باوجود ٹی ٹی پی نے حملوں میں اضافہ جاری رکھا۔ مارچ کے آغاز میں تنظیم نے متعدد زبانوں میں اپنی موسمِ بہار کی مہم’آپریشن خیبر‘کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کے اندر اور اس کے خلاف حملوں میں اضافے پر زور دیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق 16 فروری کو خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں ایک گاڑی میں نصب بارودی مواد کے دھماکے میں 11 سیکیورٹی اہلکار اور ایک بچہ جاں بحق ہوئے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ ٹی ٹی پی نے افغانستان سے کارروائی کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں پاکستان میں کم از کم 401 عسکریت پسند مارے گئے، جو ایک دہائی سے زائد عرصے میں کسی ایک ماہ کی سب سے بڑی تعداد ہے، جبکہ 112 سیکیورٹی اہلکار بھی شہید ہوئے، جو 2023 کے بعد سب سے ہلاکت خیز ماہ تھا۔ رواں سال کے پہلے سات ماہ میں عسکریت پسندی اور اس کے خلاف کارروائیوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 2,786 افراد مارے گئے، جن میں 1,857 عسکریت پسند، 463 شہری، 434 سیکیورٹی اہلکار اور امن کمیٹیوں کے 32 ارکان شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کی ٹیم نے داعش اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کے خلاف طالبان کی کارروائیوں کا بھی اعتراف کیا، تاہم کہا کہ افغان حکام’دہشت گردی کے مسئلے کو ختم کرنے ‘ میں ناکام رہے ہیں۔ رپورٹ میں القاعدہ کی افغانستان میں موجودگی اور طاقت کو بھی’بدستور برقرار ‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ 28 اپریل کو القاعدہ کے میڈیا ونگ السحاب میڈیا فاؤنڈیشن نے طالبان کی حمایت اور پہلی مرتبہ پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کی بھی کھلی حمایت کی۔ اقوام متحدہ کے مطابق القاعدہ طویل عرصے سے ٹی ٹی پی کو نظریاتی رہنمائی، تربیت اور معاونت فراہم کرتی رہی ہے۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں