شمالی بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے ضلع چمولی میں زیرِ تعمیر ‘وشنو گڑھ پیپل کوٹی’ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کی سرنگ اچانک بیٹھنے سے کم از کم 7 مزدور جاں بحق جبکہ 3 لاپتہ ہو گئے ہیں۔ سرنگ میں پانی اور ملبہ بھرنے کے باعث امدادی عملیات میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ضلع چمولی کے سینئر اہلکار گورو کمار کے مطابق، جمعرات کی دیر رات ‘وشنو گڑھ پیپل کوٹی’ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کی سرنگ میں اچانک پانی کے تیز بہاؤ اور ملبے کے داخل ہونے سے حادثہ پیش آیا، جس کے فوری بعد وسیع پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔
ریاست اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حادثے کے وقت سرنگ میں کل 22 افراد کام کر رہے تھے، جن میں سے 12 کو محفوظ طریقے سے زندہ نکال لیا گیا ہے جبکہ 3 مزدور اب بھی لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ قومی اور ریاستی قدرتی آفات سے نمٹنے والی فورسز (NDRF اور SDRF)، انڈو تبتی بارڈر پولیس اور فائر سروسز کی مشترکہ ٹیمیں سرنگ میں بڑھتے ہوئے پانی اور ملبے کے باوجود لاپتہ مزدوروں کی تلاش میں مصروف ہیں۔
نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس کے ٹیم کمانڈر امرت لال مینا نے صورتِ حال کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا:
’جب ہماری ٹیم موقع پر پہنچی اور آپریشن کا آغاز کیا تو سرنگ کے اندر پانی کا بہاؤ بہت زیادہ تھا اور اطراف کی دیواروں سے بھی پانی رس رہا تھا۔ اس کے بعد سے سرنگ میں پانی کی سطح میں مزید نمایاں اضافہ ہو چکا ہے، جس سے امدادی کارروائیوں میں دشواری پیش آ رہی ہے۔‘
واضح رہے کہ بھارت میں بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی تیز رفتار ترقی کے دوران غیر متوقع جغرافیائی ساخت، تعمیراتی خامیاں، شدید موسم اور حفاظت کے ناقص انتظامات کے باعث ایسے حادثات اکثر پیش آتے رہتے ہیں۔
خصوصاً ہمالیائی خطے میں پہاڑوں کی نازک ساخت، زلزلے کے خدشات اور زمین دوز سرنگوں کی غیر یقینی صورتِ حال کے باعث سرنگ سازی کے منصوبے انتہائی خطرناک سمجھے جاتے ہیں۔ اس سے قبل فروری میں پڑوسی ریاست میگھالیہ کی ایک کوئلے کی کان میں دھماکے سے کم از کم 18 مزدور جاں بحق ہو گئے تھے، جبکہ 2023 میں بھی اتراکھنڈ ہی میں ایک سرنگ کا حصہ بیٹھ جانے سے 41 مزدور 17 دنوں تک پھنسے رہے تھے جنہیں بعد میں ایک طویل آپریشن کے بعد محفوظ نکال لیا گیا تھا۔
گزشتہ کچھ عرصے کے دوران پیش آنے والے دیگر حادثات
بھارت میں بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور کان کنی کے دوران گزشتہ کچھ عرصے کے دوران متعدد بڑے اور دردناک حادثات رونما ہو چکے ہیں۔
سِلکیارا بارکوٹ سرنگ کا حادثہ، اتراکھنڈ (نومبر 2023)
اتراکھنڈ کے ضلع اترکاشی میں چَار دھام پروجیکٹ کے تحت زیرِ تعمیر ‘سلکیارا-بارکوٹ’ سرنگ کا ایک بڑا حصہ اچانک بیٹھ گیا تھا، جس کے نتیجے میں 41 مزدور سرنگ کے اندر محصور ہو کر رہ گئے تھے۔ 17 دنوں تک جاری رہنے والے ایک انتہائی دشوار اور عالمی توجہ کے حامل ریسکیو آپریشن کے بعد تمام 41 مزدوروں کو بحفاظت زندہ نکال لیا گیا تھا۔
سلکیارا سرنگ میں دوبارہ حادثہ (جولائی 2026)
سلکیارا-بارکوٹ سرنگ میں ہی دوبارہ کنکریٹ کی لائیننگ گرنے کا واقعہ پیش آیا، جس میں تعمیراتی کام میں مصروف ایک 21 سالہ مزدور لقمہ اجل بن گیا۔
ناگرکرنول سرنگ کا حادثہ، تلنگانہ (فروری 2025)
ریاست تلنگانہ کے ضلع ناگرکرنول میں ‘سری سیلم لیفٹ بینک کینال’ (SLBC) پروجیکٹ کی آبپاشی سرنگ کا ایک حصہ اچانک بیٹھ گیا اور شدید پانی و کیچڑ داخل ہونے سے 8 انجینئرز اور مزدور اندر پھنس گئے، جن میں سے بعد میں لاشیں برآمد ہوئیں۔
امرانگسو کوئلے کی کان کا حادثہ، آسام (جنوری 2025)
ریاست آسام کے ضلع ڈیما حسائو کے علاقے امرانگسو میں ایک کوئلے کی کان میں اچانک پانی بھر جانے سے 9 مزدور اندر محبوس ہو گئے تھے، جن میں سے کئی مزدوروں کی لاشیں ریسکیو آپریشن کے بعد نکالی گئیں۔
کوئلے کی کان میں دھماکہ، میگھالیہ (فروری 2024)
بھارت کی مشرقی ریاست میگھالیہ میں غیر قانونی اور غیر محفوظ طریقے سے جاری کوئلے کی کان کنی کے دوران ایک دھماکہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں کم از کم 18 مزدور جاں بحق ہو گئے تھے۔
یہ تمام واقعات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ خصوصاً ہمالیائی خطے کی نازک اور زلزلہ خیز زمینی ساخت میں مناسب جیولوجیکل سروے، ہنگامی حفاظتی راستوں (Escape Shafts) کی عدم موجودگی اور حفاظتی تدابیر میں غفلت مزدوروں کی زندگیوں کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہے۔









