مولانا فضل الرحمن ، سربراہ جمعیت علمائے اسلام پاکستان 87

مولانا فضل الرحمن کا الٹی میٹم: دو دن بعد کیا ہونے والا ہے؟

عبیداللہ عابد۔۔۔۔

تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے میرے دوست دو ہفتے قبل کہہ رہے تھے مولانا فضل الرحمن کبھی اسلام آباد کی طرف آنے کی ہمت نہیں کریں گے، جب مولانا کا کارروان کراچی سے چل پڑا تو تحریک انصاف کے دوست کہنے لگے کہ ان کے ساتھ پیپلزپارٹی نہیں، مولانا لاہور پہنچے تو دوست کہنے لگے کہ ان کے ساتھ ن لیگ بھی نہیں۔ مولانا اسلام آباد پہنچے تو عمران خان کے دیوانے ابر آلود آسمان کی طرف منہ اٹھا کر دعا کرتے پائے گئے کہ یااللہ! بارش کردے تاکہ جمعیت علمائے اسلام کے کارکنان کیچڑ میں دھنس جائیں۔ جب بارش بھی نہ ہوئی تو کہاجانے لگا کہ صرف 35 ہزار ہی لوگ ہیں، یہ کیا کرلیں گے بھلا! جی ہاں! انھوں نے پہلے بھی آپ کے اندازے غلط ثابت کئے، اب مزید بھی غلط ثابت کریں گے۔

کوئی وقت تھا جب تحریک انصاف کے یہی دوست دعویٰ کررہے تھے شہبازشریف دھرنے میں شریک نہیں ہوں گے، بلاول بھٹو زرداری نہیں آئیں گے لیکن آج بروز یکم نومبر دھرنے سے شہبازشریف نے بھی خطاب کیا اور بلاول بھٹو زرداری نے بھی۔ گویا تحریک انصاف کے سارے اندازے اور دعوے الٹ رہے ہیں، اور آنے والے دنوں میں ان کا یہ خیال بھی غلط ثابت ہونے والا ہے کہ عمران خان کی حکومت کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کرسکتا۔

یہ حقیقت ہے کہ عمران خان کی وزارت عظمیٰ کے دن زیادہ نہیں ہیں،ان کا یہ زعم باطل ثابت ہونے والا ہے کہ ساری خدائی ناراض ہوجائے تو کیا فکر، “اقتدار عطا کرنے والی قوت” تو ساتھ ہے نا! کچھ دیر پہلے سینئر صحافی اور تجزیہ نگار حامد میر بھی کہہ رہے تھے: “یہاں(اسلام آباد میں) آنے والے، سب کو معلوم ہے کہ مولانا یہاں بیٹھنے کے لیے آئے ہیں، واپس جانے کے لیے نہیں۔ وزیراعظم کہتے ہیں کہ استعفیٰ نہیں دوں گا، دُعا کرنی چاہیے کہ مولانا ایک ہی استعفیٰ مانگیں، دو نہ مانگ لیں کہیں۔ میرا تو خیال ہے کہ استعفوں کی نوبت تین چار تک بھی جاسکتی ہے”۔

مولانا فضل الرحمن نے انتہائی چالاکی سے اب تک اپنے کارڈز کھیلے، پہلے اپنے کارکنوں کو اٹھایا، پھر اپنی تمام تر قوت کے ساتھ اسلام آباد میں پہنچ گئے، ان کی مقامی قیادت نے اسلام آباد انتظامیہ اور وفاقی حکومت کو مذاکرات اور معاہدوں میں الجھائے رکھا۔ اس دوران میں تحریک انصاف والے غلط اندازے ہی لگاتے رہ گئے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن اپنے مخالفین کے لئے نہایت مشکل ترین، پیچیدہ اور سخت جان مخالف ثابت ہورہے ہیں۔ انھیں آسان سمجھنے والے اس وقت انگشت بدنداں ہیں۔

یہ اطلاعات ہیں کہ اگر عمران خان نے استعفیٰ نہ دیا اور اگر انھیں لانے والوں نے عمران خان کو بچانے کے لئے ذرا سی بھی حرکت کی تو مولانا پھر ایک اہم ترین ادارے کے سربراہ کا استعفیٰ بھی مانگیں گے۔ صورت حال انتہائی دلچسپ بھی ہوچکی ہے اور سنسنی خیز بھی۔ مولانا نے دو دن کا الٹی میٹم دے کر اسلام آباد سے راولپنڈی تک، سب کی دوڑیں لگوادی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان پچھلے کئی روز سے سخت پریشان دکھائی دے رہے ہیں، انھوں نے اپنا دورہ سعودی عرب منسوخ کردیا، وہ کابینہ کا اجلاس پہ اجلاس بلائے جارہے ہیں۔ صلاح مشورے کررہے ہیں کہ اب کیا کرنا چاہئے۔ عمران خان مولانا فضل الرحمن اور دیگر اپوزیشن رہنمائوں کو جتنا آسان چارہ سمجھ رہے تھے، وہ ان کے لئے اتنا ہی زیادہ پریشان کن بن ہے۔ تاہم اب ان کے پاس کوئی چال باقی نہیں بچی حتیٰ کہ انھیں لانے والوں کے پاس بھی نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں