امام-احمد-بن-حنبل،-ترک-ٹی-وی-سیریز-کا-ایک-منظر

حکایات ہجویریؒ: ہر حال میں اللہ کی رضا پر راضی بندوں کا قصہ

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

دفعتاً بازار میں آگ لگ گئی اور آسمان شعلوں سے سرخ ہو گیا۔ اتنے میں کچھ لوگ بھاگتے ہوئے آئے اور ایک شخص کو بتایا کہ تمھاری دکان جل کر راکھ ہو گئی۔ اس شخص نے یہ خبر سنی اور کہا:

‘ الحمدللہ، میں مال کی قید سے آزاد ہو گیا۔’

تھوڑی دیر کے بعد کچھ دوسرے لوگ اس شخص کے پاس پہنچے اور اطلاع دی کہ سارا بازار تو جل کر راکھ ہو گیا لیکن اللہ نے آپ کی دکان کو محفوظ رکھا۔ اس شخص نے پھر اللہ کا شکر ادا کیا اور دکان کا تمام تر اسباب راہ خدا میں تقسیم کر دیا۔

حکمت:

صاحب کشف المحجوب نے لکھا ہے کہ یہ واقعہ معروف صوفی بزرگ حضرت سری سقطی کے ساتھ پیش آیا تھا۔ اس حکایت میں صوفیا کے اس مشرب کی وضاحت کی گئی ہے جس کے مطابق وہ غمی، خوشی ہر حال میں اللہ کی رضا پر راضی اور اس کے شکر گزار رہتے ہیں۔ یہ کیفیت انھیں غم اور خوشی دونوں کیفیات سے بے نیاز کر کے صرف اور صرف اللہ کی رضا اور خوش نودی کا طالب بنا دیتی ہے۔

یہی کیفیت زندگی کے دیگر شعبوں کے کام یاب انسانوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ زندگی کے مشاہدات اور تجربات ان کے مزاج میں توازن پیدا کر دیتے ہیں لہٰذا وہ جذباتی کیفیات پر قابو پا کر عام لوگوں سے بلند ہو جاتے ہیں۔ کام یابی ایسے لوگوں کے ہی قدم چومتی ہے۔

بے پناہ ظلم و ستم اور تشدد کے بعد جب امام احمد بن حنبل کو رہا کر دیا گیا تو کچھ لوگ آپ کے پاس آئے اور سوال کیا کہ جن لوگوں نے آپ پر ظلم کیا، اُن کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں یعنی کیا آپ اُن کی مذمت کرنے یا اُن سے انتقام کی خواہش رکھتے ہیں؟

امام نے ایک نظر سوال کرنے والوں پر ڈالی اور کہا:

‘ میں اُن سے انتقام کیوں لوں گا، انھوں نے اللہ کے واسطے مجھے تکلیف دی۔ میں تو روز قیامت بھی اُن کے تازیانوں کا بدلہ لینے کی خواہش نہیں رکھتا۔’

حکمت:

اِس حکایت میں معتزلہ کے ہاتھوں حضرت امام احمد بن حنبل کی گرفتاری اور بدترین تشدد پر اُن کا ردِعمل سامنے آتا ہے۔ معتزلہ سمجھتے تھے کہ قرآنِ حکیم مخلوق ہے جب کہ امام کا مؤقف اس کے برعکس تھا۔ اِس حکایت میں دو معاملات کے بارے میں راہ نمائی ملتی ہے۔

پہلی یہ کہ اہلِ علم اور اللہ کے نیک بندے اپنے علمی مخالفین حتیٰ کہ ظالموں کے گروہ سے بھی انتقام پر یقین نہیں رکھتے بلکہ معاملہ اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہی حلیمانہ رویہ اللہ کے اِن نیک بندوں کو اللہ کی بارگاہ میں مقرب بناتا ہے اور مخلوق خدا کی نظر میں بھی اُن کا احترام پیدا کر دیتا ہے۔

اِس حکایت کا دوسرا اہم ترین سبق یہ ہے کہ اہلِ علم اور خاص طور پر اللہ کے نیک بندے اپنے مخالفین کے بارے میں بھی حسنِ ظن رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اگر اُن کامؤقف غلط بھی ہے تو یقیناً نیک نیتی پر مبنی ہو گا یعنی وہ حسنِ ظن سے کام لیتے ہیں۔

جس سماج میں اختلافی معاملات میں حسنِ ظن سے کام لیا جائے، وہاں اختلافات اگر حد سے بڑھ بھی جائیں تو دوسرے فریق کی دانش مندی اُس میں ٹھہراؤ پیدا کر سکتی ہے۔ یہ ٹھہراؤ ہی کشیدگی اور تصادم جیسے فتنوں کا راستہ روک دیتا ہے۔

(ماخوذ از کشف المحجوب۔ انتخاب، تہذیب و تحریر: ڈاکٹر فاروق عادل)


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں

ایک تبصرہ برائے “حکایات ہجویریؒ: ہر حال میں اللہ کی رضا پر راضی بندوں کا قصہ”

  1. جاوید اصغر Avatar
    جاوید اصغر

    سبق آموز حکایات