Headline

بصارت سے بصیرت تک ایک مہیب سفر

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

ڈاکٹر حافظہ خولہ علوی

"ہائے اللہ! کیا میں نابینا ہو گئی ہوں؟”میں نے گہرے دبیز اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کی کوشش کرتے ہوئے چیخ ماری۔لیکن وہ بند کمرے کے در و دیوار سے ٹکرا کر رہ گئی۔

یہ میرے لڑکپن کی بات ہےجب میں سکول میں چھٹی کلاس میں پڑھتی تھی۔ ماہ دسمبر میں کڑاکے کی سردی پڑ رہی تھی۔ امتحانات کا دور دورہ تھا اور ہر سو دسمبر ٹیسٹ چھائے ہوئے تھے۔ ایک دفعہ رات کو نماز عشاء کے بعد میں ڈرائنگ روم میں تنہا بیٹھی پڑھتے پڑھتے سو گئی۔ صبح میرا انگلش کا پیپر تھا اور کمرے میں لائٹ جلی (on) ہوئی تھی۔ بیڈ پر کتابیں اور نوٹ بکس پھیلی ہوئی تھی جنہیں میں نے سونے سے پہلے سمیٹ کر ایک طرف رکھ دیا تھا۔ تھکن کی وجہ سے فوراً ہی میری آنکھ لگ گئی۔ 

رات کے کسی پہر پیپر کی فکر و پریشانی سے اچانک میری آنکھ کھلی تو ہر سو اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ تاریکی نے چاروں طرف احاطہ کیا ہوا تھا اور محاورتاً نہیں حقیقتاً ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ کھڑکیوں کے پردے گرے ہوئے تھے اور کہیں سے بھی روشنی بلکہ روشنی کی جھلک تک نظر نہ آرہی تھی۔ 

کمرے کا دروازہ بھی بند تھا اور ہر طرف، ہر سو مہیب تاریکی پھیلی ہوئی تھی۔ میں نے اپنی آنکھیں ملیں مگر مجھے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ میں نے پھر ہر طرف آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اور نہایت غور سے دیکھنے کی کوشش کی لیکن کہیں سے بھی روشنی کی کوئی کرن نظر نہ آئی۔ 

میں بہت پریشان ہوگئی کہ "خدانخواستہ کہیں میری بینائی تو نہیں چلی گئی؟کیا سونے کے دوران یا سو کر اٹھنے کے بعد  میرے ساتھ کوئی ایسا  اتفاقی حادثہ پیش آگیا ہے جس کی وجہ سے میں دیکھنے کے قابل نہیں رہی؟” 

میں انہی وسوسوں میں گھری پریشان بیٹھی تھی۔ مجھے اچھی طرح یاد تھا کہ میرےسونے سے پہلے کمرے میں لائٹ جلی ہوئی تھی۔ پھر میں ہمت کرکے اٹھی اور اندھوں کی طرح اندازے سے ٹٹول ٹٹول کر کمرے کے دروازے تک پہنچی اور دروازہ کھولا۔ لیکن باہر بھی تاریکی کی سوا کچھ دکھائی نہیں دیا۔

پھر اسی طرح ٹٹول ٹٹول کر میں کمرے کی کھڑکی تک پہنچی۔ اور کھڑکی کا پردہ پیچھے کیا لیکن وہاں بھی روشنی کی کوئی صورت نہ دکھائی دی۔ یہ میری زندگی کی ایسی عجیب و غریب رات تھی اور اس میں یہ ایسا پریشان کن معاملہ تھا جس نے مجھے انتہائی پریشان اور بےبس کر دیا تھا۔

آج چاند کی بھی تاریک رات تھی جس میں چاند کی روشنی بالکل دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ اب تو میری پریشانی کی انتہا نہ رہی۔ اسی اثناء میں تقریباً دس منٹ گزر چکے تھے اور مجھے ہنوز معلوم نہیں تھا کہ خدانخواستہ اندرونی طور پر میری آنکھوں کی بینائی کے ساتھ کوئی مسئلہ بن چکا ہے یا بیرونی طور پر باہر روشنی کا کوئی مسئلہ ہے؟

میں وہیں نیچے قالین پر بیٹھ کر اللہ سے تڑپ تڑپ کر اور گڑگڑا کر دعائیں مانگنے لگی کہ "اے اللہ! مجھے آنکھوں کی بینائی عطا فرما دے۔  مجھے آنکھوں کے نور اور بصارت سے محروم نہ کرنا۔ اے اللہ ! مجھے نابینا لوگوں میں شامل ہونے سے بچا لے ۔ اے اللہ ! میرے گناہوں کو معاف کردے اور مجھے اس آزمائش سے نکال دے۔ ” 

دعا کرتے وقت مجھے یہ بھی یاد آرہا تھا کہ امی جان نے بتایا تھا کہ  "امام بخاری (صحیح بخاری کے مؤلف) کی بینائی بچپن میں کسی حادثے کی وجہ سے ختم ہو گئی تھی اور وہ نابینا ہوگئے تھے۔ ان کی والدہ نے ان کی بینائی کے لیے گڑگڑا کر، تڑپ تڑپ کر، سجدوں میں گر کر دن رات اللہ تعالیٰ سے بہت دعائیں مانگی تھی اور اللہ تعالی نے ان کی دعاؤں کو بالآخر قبول کر کے ان کے ننھے بیٹے کو بینائی واپس لوٹادی تھی۔” 

یہ سوچ کر میں بھی وہی زمین پر سجدہ ریز ہو گئی اور اللہ تعالیٰ سے تڑپ کر اور گڑگڑا کر دعائیں مانگنے لگی۔

اچانک پردے کے پیچھے روشنی کی ہلکی سی جھلک پر میری نظر پڑی۔ ساتھ ہی کمرے میں روشنی پھیل گئی۔ لائٹ آ چکی تھی اوراندر باہر ہر سو (کم یا زیادہ، رات کی وجہ سے)  روشنی پھیل چکی تھی۔  

میں نے بے اختیار اللہ تعالیٰ کا بہت شکر ادا کیا کہ "الحمدللہ میری آنکھوں کی بینائی سلامت ہے۔ میں نابینا نہیں ہوئی۔ اللہ تعالی نے آنکھوں کی عظیم نعمت سے مجھے نوازے رکھا ہے۔” میں بہت خوش ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت کی خوشی میرے بیان سے باہر ہے۔ میں نے ان چند منٹوں میں یہ عظیم حقیقت جان لی تھی کہ آنکھیں اللہ تعالیٰ کی کتنی بڑی نعمت ہیں!

قارئین کرام! ممکن ہے کہ آپ سوچ رہے ہوں کہ یہ تو "کھودا پہاڑ، نکلا چوہا” والی بات ثابت ہوئی لیکن پندرہ بیس منٹ کے اس عرصے نے مجھے بہت ساری حقیقتیں کھول کھول کر سمجھا دی تھیں۔

اس عرصے میں جب مجھے کہیں روشنی نہ دکھائی دی  تھی تو میں پریشان ہوکر یہ بھی سوچ رہی تھی بلکہ خود کلامی کر رہی تھی کہ "میں آئندہ زندگی آنکھوں کے بغیر کیسے بسر کر سکوں گی؟ کیا میرا علاج ممکن ہو گا یا میں ایسے ہی نابینا رہوں گی؟میرے والدین اور بہن بھائی کتنے پریشان ہوں گے کہ بیٹھے بٹھائے اچانک یہ کون سی آفت ہم پر ٹوٹ پڑی ہے؟ اور جب لوگوں کو پتہ چلے گا کہ میں اچانک ہی بیٹھے بٹھائے نابینا ہو چکی ہوں تو ان کا کیا ردعمل ہوگا؟”

اس طرح کی سوچوں نے مجھے اچھی طرح اس شعور سے بہرہ ور کردیا کہ "انسان کی اوقات کیا ہے اور وہ کس قدر کمزور ہے!”؎

بصارت ایسی بصیرت نوازدے اللہ

ہمیں سجھائی دے نکتہ ہماری خامی کا


آنکھوں کی بینائی اور بصارت اللہ رب العزت کی اتنی بڑی نعمت ہے جن کا ہم گمان بھی نہیں کر سکتے۔ اللہ سبحانہ و تعالی نے قرآن مجید میں کافروں اور منافقین کا تذکرہ کرتے ہوئے بار بار بیان فرمایا ہے کہ ترجمہ:”ان کی آنکھیں ہیں لیکن وہ ان سے (حقیقت کو) دیکھتے نہیں ہیں۔ (الاعراف: 179)”

صبح وشام کے اذکار میں ایک بڑی پیاری اور خوبصورت دعا ہمیں سکھائی گئی ہے جو صبح وشام تین تین دفعہ پڑھتے ہیں، جس سے جسم اور اس کے مختلف بنیادی اعضاء و حسیات مثلاً آنکھوں کی بصارت اور کان کی سماعت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

اللھم عافنی فی بدنی اللھم عافنی فی سمعی اللھم عافنی فی بصری لا الہ الا انت۔(سنن ابی داؤد :5090)ترجمہ: ” اے اللہ! مجھے میرے جسم میں عافیت عطا فرما۔ اے اللہ! مجھے میری سماعت میں عافیت عطا فرما۔ اے اللہ! مجھے میری آنکھوں میں عافیت عطا فرما۔تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔”

اللہ تعالیٰ ہمیں آنکھوں کی بینائی کی اس عظیم نعمت کا شکر ادا کرنے، نظروں کی حفاظت کرنے اور ان کی خیانت کرنے سے بچائے۔ اور وسعت نظر کے ساتھ ساتھ قلب کی بصیرت سے بھی بہرہ ور کردے۔ آمین
؎ یوں ہی ہوتی نہیں ہے وسعت فکر و نظر پیدابصارت میں بصیرت در حقیقت دل سے آتی ہے


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں

4 پر “بصارت سے بصیرت تک ایک مہیب سفر” جوابات

  1. احمد Avatar
    احمد

    بہت خوب تحریر ہے ماشاء اللہ

  2. مقصورہ Avatar
    مقصورہ

    اعلیٰ کاوش ہے ماشاء اللہ.
    بصارت سے بصیرت تک کا سفر بہت خوب رہا. احسن انداز میں بیان کیا گیا ہے.
    پڑھ کر بہت اچھا لگا.

  3. الیاس Avatar
    الیاس

    بہترین اور عمدہ کاوش ہے ماشاءاللہ.
    بلاشبہ آنکھیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہیں.

    1. سعیدہ Avatar
      سعیدہ

      بہترین اور مؤثر کاوش ہے ماشاء اللہ