سوفی کی دنیا

سوفی کی دنیا کا ایک جائزہ

سوفی کی دنیا…….ایک جائزہ
مصنف : جوسٹین گارڈر
مترجم : شاہد حمید
تبصرہ نگار : ماہ رخ شہریار

جب سے انسان دنیا میں میں آیا ہے تو اس کائنات اور اپنے وجود سے متعلق ہی سوالات کے جوابات جاننے کے لیے سرگرداں ہے ۔ لیکن کوئی کیسے جانے کہ اس نے کیا جاننا ہے اور اسے کیا جاننا چاہیے؟ اور کیسے جاننے کی کوشش کرے ۔

اللہ نے انسانی خصلت کی بنیاد ہی تجسس پہ رکھی ۔ زمانہ قدیم سے کئی لوگوں ان سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کی مگر سوالات کا لامتناہی سلسلہ ابھی تک نہیں تھما۔
کیا واقعی ہم وہ جانتے ہیں جو ہم سمجھتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں؟

اور جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ جانتا ہے مگر نہیں جانتا، تو کیا نہیں جانتا؟ اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ جانتا ہے اور وہ واقعی جانتا ہے تو پھر اسے یہ کیسے معلوم ہوا کہ وہ واقعی جانتا ہے؟

ایسے ہی سوال و جواب اور ان کی فلسفیانہ وضاحت آپ کو ” سوفی کی دُنیا ” ناول میں ملے گی جو جوسٹین گارڈر کی تصنیف ہے۔

جوسٹین گارڈر

جوسٹین گارڈر 8 اگست 1952ء کو اوسلو میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد استاد تھے اور وہ خود بھی استاد تھے ۔ 1991 میں نارویجی زبان میں ان کی کتاب “Sofies verden” شائع ہوئی جس نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا اور انٹرنیشنل بیسٹ سیلر کا درجہ حاصل کیا۔
1994 میں انگریزی میں “Sophie’s world” کے نام سے شائع ہوئی۔

اردو میں اس ناول کے اب تک دو تراجم ہوچکے ہیں ۔ پہلا مشہور و معروف مترجم شاہد حمید نے کیا ہے اور دوسرا ابوالفرح ہمایوں نے کیا ہے ۔ فرق صرف یہ کہ اول الذکر ترجمے میں مکمل متن کا ترجمہ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ناول خاصا ضخیم یعنی تقریباً سات سو صفحات پر مشتمل ہے ۔ مؤخر الذکر ترجمے کو ترجمے سے زیادہ تلخیص کہنا مناسب رہے گا کیونکہ فاضل مترجم نے ناول میں موجود بہت سی غیر ضروری چیزوں کو حذف کیا ہے اور یہ لگ بھگ پونے تین سو صفحات پر مشتمل ہے۔ قارئین کی اکثریت نے اول الذکر ترجمے کو زیادہ پسند کیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا نے بھی اس پر بھرپور تبصرے کیے ہیں۔

سوفی کی دنیا ( ناول )

”ایک انوکھی اور نادر کتاب۔ سقراط سے لے کر سارتر تک کے نظریات کا نچوڑ۔ ایک ایسی گولی جو شہد اور دودھ کے مرکب سے بنائی گئی ہے۔ ایک بار پڑھنا شروع کرنے کے بعد اس کو آسانی سے ایک طرف ڈال دینا آپ کے بس کی بات نہیں۔“
(نیویارک نیوز ڈے)

فلسفے نے روز اوّل سے بنیادی سوالات سے سروکار رکھا ہے ۔ ہم کون ہیں؟ جس دنیا یا کائنات میں ہم رہتے ہیں، کیسے بنی؟ اسے کس نے بنایا؟ خیر و شر اور جبر و اختیار کے معنی کیا ہیں؟ ہم اپنی ذات کو، دوسروں کو، کون و مکاں کو کس طرح بہترین طور پر سمجھ سکتے ہیں یا سمجھ بھی سکتے ہیں یا نہیں؟ یہ جاننے کے لیے فلسفہ سمجھنا ضروری ہے۔

ناول کی مرکزی کردار سوفی کو بھی اسی قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ ایک دن سکول سے آتی ہے تو اسے ایک گمنام خط ملتا ہے جس میں دو سوال ہوتے ہیں کہ تم کون ہو؟ یہ دنیا کیا ہے؟ سوفی ان کے بارے میں سوچنے لگتی ہے ۔ پھر اسی طرح ہر روز سوفی کو گمنام خطوط ملتے ہیں جن میں فلسفے کے اسباق ہوتے ہیں ۔ سوفی تجسس میں مبتلا ہوجاتی ہے کہ آخر کون اسے یہ گمنام خطوط بھیجتا ہے۔

فاضل مصنف خود بھی فلسفے کے استاد ہیں ۔ اس لیے انہوں نے کوشش کی ہے کہ فلسفے جیسے خشک موضوع کو دلچسپ انداز میں پیش کیا جائے اور میرے نزدیک وہ اس میں خاصے کامیاب بھی رہے ہیں۔

ناول کو اگر فلسفہ اور فلسفیوں پر لکھی ہوئی سینکڑوں کتابوں کا نچوڑ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ کیونکہ ناول میں فلسفے کو شروعات سے بیان کیا گیا ہے جب سائنس ، فلسفہ اور تاریخ ایک دوسرے میں الجھے ہوئے تھے۔

اس میں یونانی ، مغربی ، اور دوسرے فلسفیوں کا ذکر کیا گیا ہے جیسے کہ ڈیموکریٹس ، سقراط ، افلاطون ، ارسطو ، دیکارت ، سپینوزا ، گلیلیو ، نیوٹن ، لوک ، برکلی ، ہیوم ، کانٹ ، ہیگل ، کرکیگارڈ ، مارکس ، ڈارون اور سارتر جیسی شخصیات کے فلسفے کو بیان کیا گیا ہیں۔ اس ناول میں فلسفے اور سائنس کے علاوہ ادب کے بے شمار دلچسپ گوشوں تک رسائی کا موقع بھی ملے گا۔

سوفی کا استاد کون تھا؟ اس نے کیوں سوفی کو فلسفہ پڑھانا اور سمجھانا چاہا؟ یہ تجسس بھی ساتھ ساتھ برقرار رہتا ہے ۔

سوفی کی کہانی کے متوازی ایک اور لڑکی کی کہانی بھی چلتی ہے۔ لوگوں کے اس لڑکی کو بھیجے گئے خطوط سوفی کے پوسٹ بکس میں آتے ہیں ۔ آخر کیوں؟ تجسس اور اسرار میں لپٹی یہ کہانی یقیناً آپ کی دلچسپی کا باعث بنے گی۔

فاضل مصنف نے ناول میں فلسفہ سمجھانے کے لیے کئی دلچسپ مثالوں کا استعمال کیا گیا ہے تاکہ سمجھنے میں آسانی رہے ۔ ان میں سے ایک مثال ملاحظہ فرمائیں:

”سوفی فلسفی اور عام لوگوں میں ایک فرق یہ ہے کہ فلسفی کبھی حیران ہونا نہیں چھوڑتا۔ ایک بچہ جو تین یا چار سال کا ہے اس کی مثال سے بات سمجھ آئے گی ۔ اس کے لیے ہر چیز نئی ہے , وہ ہر بات دیکھ کر خوش ہوتا ہے اور تالیاں بجاتا ہے جب کہ اس کی ماں اور باپ کے لیے یہ بات عام سی ہوتی ہے کیونکہ وہ یہ سب دیکھ دیکھ کر سیکھ چکے ہیں۔

اب سوچو ایک دن ماں کچن میں ناشتہ بنا رہی ہے ٹامس ٹیبل پہ بیٹھا ناشتہ کر رہا ہے کہ باپ آکر اڑنے لگتا ہے . ٹامس خوش ہوکر تالیاں بجاتا ہے . واہ ڈیڈی اڑ رہے ہیں ۔ اس کے لیے یہ بھی کئی نئے کرتبوں میں سے ایک کرتب ہے جیسا وہ روز دیکھتا ہے۔ مگر اب سوچو جب ماں مڑے گی تو اس کا کیا ردعمل ہوگا۔ ہوسکتا ہے شوہر کو اڑتا دیکھ کر اس کے ہاتھ سے جام کی شیشی گر کے ٹوٹ جائے۔“

فاضل مصنف نے ایسی کئی خوبصورت و پرلطف مثالوں سے مختلف مکاتب فکر کے نظریات کو واضح کرنے کی کوشش کی۔ اس سے ہمارے خیالات کو وسعت ملتی ہے , تخیل کا پرندہ اونچی پرواز کرنا شروع کرتا ہے ۔ اس سے ہمیں کسی بھی چیز کا جائزہ لینے، اسے سمجھنے یا اس کا تجزیہ کرنے میں آسانی رہتی ہے۔

ناول کی واحد چیز جو مجھے بالکل پسند آئی وہ یہ کہ ناول میں آغاز سے لے کر بیسیویں صدی تک تقریباً تمام قابل ذکر فلسفیوں کا ذکر کیا گیا۔ اس لیے میری رائے ہے کہ آپ ایک بار اس ناول کو ضرور پڑھیں تاکہ آپ کے خیالات میں وسعت پیدا ہو اور آپ مختلف نقطہِ نظر کو جان سکیں , ان کے بارے غور و فکر کریں . یہی فلسفے کی دعوت ہے کہ آپ سوچیں، سمجھیں اور پرکھیں۔

سوفی کی دنیا ( مترجم : شاہد حمید ) بک کارنر ، جہلم نے شائع کیا۔ ان دنوں اس کی قیمت 1500 روپے کے بجائے محض 1050 روپے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں