گشتابہ ، مشہور کشمیری ڈش

گشتابہ کا تذکرہ ، جو راولپنڈی کے صرف ایک ہوٹل میں ملتا ہے

یوسف ابراہیم

“گشتابہ” کے نام اور ذائقے سے ہم اسلام آباد آ کر متعارف ہوئے ۔ بہت مہربان دوست چوہدری ناصر امین نے کوئی آٹھ سال قبل پوچھا ، کبھی آپ نے گشتابہ کھایا ہے؟

جواب دیا کہ ” ہم نے تو نام ہی پہلی دفعہ سنا ہے جناب ۔۔۔!”

ناصر صاحب نے سب پہلے تو اس نایاب کشمیری ڈش کے تیار ہونے کے محنت طلب عمل کو بڑے رومانوی انداز میں مزے لے کے بیان کیا۔ فرمایا : بکرے کے سب سے اچھے حصے کا گوشت لیا جاتا ہے ۔ چربی اور ہڈیوں سے اچھی طرح پاک کیا جاتا ہے ۔ عموما یہ بکرے کی ران ہوتی ہے ۔ پھر اس گوشت کو لکڑی کے ہتھوڑے یا سونٹے سے اس قدر کوٹا جاتا ہے کہ اس کے ریشے ختم ہو جاتے ہیں ۔ پھر اس بے ریشہ قیمے میں خالص کشمیری مصالحے ملائے جاتے ہیں ۔ لال مرچ ہرگز نہیں ہوتی ۔ پھر اس آمیزے سے درمیانے سائز کے کینو یا سیب کے برابر کوفتے بنا لیے جاتے ہیں جنھیں دودھ۔ دہی اور لسی میں رات گئے تک پکایا جاتا ہے ۔

مشہور کشمیری ڈش ، گشتابہ اور سفید ابلے ہوئے چاول

جب پک جاتا ہے تو اس کا اپنا روغن اس کے ذائقے کو دوبالا کر دیتا ہے ۔ اسے خشکے ( سفید ابلے چاول) کے ساتھ کھایا جاتا ہے ۔ اول اول اس کا سائز خربوزے کے برابر رکھا جاتا تھا جسے چار لوگ مل کر کھاتے تھے ۔

کہنے لگے کہ یہ خاص جاڑوں کی سوغات ہے . راولپنڈی میں اسے ایک ہی شخص بناتا ہے ۔ ملک جمال نامی ایک شخص 1947 می سری نگر ضلع کپواڑہ ( جموں کشمیر )سے ہجرت کر کے راولپنڈی آ کر آباد ہوئے ۔ وہ سری نگر میں بھی اسی پیشے سے وابستہ تھے ۔ پچھلے پچھتر سال سے دلبر ہوٹل کشمیری کھانے بناتا چلا آرہا ہے ۔

آغاز میں دلبر ہوٹل صرف چائے خانہ تھا جہاں تمام مہاجر کشمیری بیٹھک کیا کرتے تھے ۔ ملک جمال نے شروع میں کھانا اپنے لیے بنایا۔ لیکن اپنی برادری کے کہنے پر اپنے کام کو بڑھا دیا۔

دلبر ہوٹل ، راولپنڈی

راجہ بازار کے قرب میں پرانا قلعہ بازار کلاں میں اس قدیم دلبر ہوٹل کی صورت , والد کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے اعجاز اور اسلم دونوں اس میراث کے معیار کو قائم رکھے ہوئے ہیں ۔ دلبر ہوٹل صرف کشمیری کھانوں کی وجہ سے مشہور ہے ۔ یہاں ہم نے شب دیگ تو نہیں لیکن کشمیری ہریسہ ، گوشت رستے ، پالک پنیر بھی کھائے ہیں۔ 

 شب دیگ دہلی اور کشمیر دونوں علاقوں میں بنتی ہے . فرق یہ ہے دہلی والے اس میں پوری پوری گاجر اور کشمیری اس میں سالم شلجم ڈالتے ہیں۔

گشتابہ کے بارے میں ہمارے دوست نے بتایا کہ اسے حاصل کرنے کے لئے دو چار دن پہلے آرڈر دینا پڑتا ہے ۔ اور یہ صرف ہفتے کے روز ایک دن ملتا ہے ۔ وجہ اس کی یہ معلوم ہوئی کہ اس پر محنت اس قدر ہوتی ہے کہ زیادہ مقدار اور بار بار بنانا مشکل ہے ۔ یہ نہایت نفیس اور کھانے میں بہت لذیذ ہے ۔

کوئی آٹھ برس قبل ناصر امین صاحب نے گشتابہ کھلایا اور پھر اس روایت کو آج تک قائم رکھا ۔

 اس سال بھی دسمبر ابھی شروع ہواتھا ۔ فرمانے لگے : ” تیار رہیں ، آئندہ ہفتے گشتابہ کی دعوت ہے ” ۔ ہم نے گشتابہ بھی کھایا اور دیگر نعمتیں بھی۔ فرمائش پر آٹھویں مرتبہ اس کی تیاری کی ترکیب بھی سنی ۔

اس بار نشست پر چوہدری اکرم صاحب کا اضافہ تھا ، وہ کہنےلگے :

” ہم کئی برس کشمیر میں رہے لیکن کبھی نام سنا نہ ذائقہ چھکا ، یہ خالص جموں کشمیر کی ڈش ہے ۔ “

بہرحال اللہ کریم ناصر صاحب کی توفیق اور رزق میں برکت عطا فرمائے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

گشتابہ کا تذکرہ ، جو راولپنڈی کے صرف ایک ہوٹل میں ملتا ہے” ایک تبصرہ

  1. Interesting, thanks for sharing.
    I heard about this dish . But never know the recipe.

تبصرے بند ہیں