خود پسند لڑکا

خودپسند شخص کی چند دلچسپ عادات

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

فروا حسن

صاحبِ نہج البلاغہ کا قول ہے:
‘جو شخص اپنے آپ کو بہت پسند کرتا ہے، وہ دوسروں کو نا پسند ہو جاتا ہے’
خودپسندی کا شمار ایسے ہی رزائل میں ہوتا ہے جن میں مبتلا انسان نہ صرف اپنی ذات بلکہ دوسروں کے لیے بھی آزار اور تکلیف کا باعث بنتا ہے۔

ایسے لوگ نہ صرف اپنی تعریفوں پر خوش رہتے ہیں بلکہ دوسروں کو ہر وقت تنقید کے نشانے پر بھی رکھتے ہیں اور کسی کے ہنر اور خوبی کو در خور اعتنا نہیں سمجھتے۔

خور پسندی دراصل اپنی اپنے آپ کو سب سے زیادہ پسند کرنے اور خد سے متاثر ہونے کا نام ہے۔ ایسا شخص خود کو برتر و اعلیٰ سمجھتے ہوئے دوسروں کو حقیر جانتا ہے
جو کہ ایک عادتِ بد ہے۔

اس دورِ پُر فتن میں ہر دوسرا شخص کسی نہ کسی زعم میں مبتلا ہے، کسی کو اپنے خاندانی ہونے کا زعم ہے تو کسی کو دینی یا دنیاوی علوم کا۔

آپ نے دیکھا ہو گا کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں ہر شخص اپنی اور اپنے ہنر یا کسی خوبی، خاندانی اثر و رسوخ کے زعم میں مبتلا ہے، ہر کوئی خود کو درست اور دوسرے کو غلط ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے۔

خود پسند اشخاص کی کچھ عام عادات ایسی ہیں جو قارئین کے لیے دلچسپی کا باعث ہوں گی
1-خود پسند شخص اپنی ذات کو نمایاں کرنے کے لیے بات بات میں برتری کا مظاہرہ کرتا ہے۔
2-اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے ضد اور ہٹ دھرمی سے کام لیتا ہے۔
3-خود پسند شخص اپنے تئیں یہ خیال کرتا ہے کہ وہ تمام و کمال ترقی کے مدارج طے کر چکا ہے، اب اسے سیکھنے کی مزید ضرورت نہیں۔

خود پسندی اور تکبر کی سب سے بڑی مثال ابلیس ہے۔ خود پسندی کی بنیاد ہی اس نے رکھی۔
درحقیقت خود پسندی ابلیس کا شیوہ ہے۔
اسی زعم اور تکبر میں اس نے بہت قلیل مدت میں عزازیل سے ابلیس تک کا سفر طے کر لیا۔ اسے بھی یہی لگتا تھا کہ وہ سب سے بہتر ہے، بلند ہے مگر خدا نے اسے مردود اور رانده درگاہ قرار دیا۔

ابلیس کو خدا نے سوچنے کی صلاحیت سے نوازا مگر اس نے اپنی فکر ہی تبدیل کر لی اور اس تبدیلی نے اسے عرش سے پاتال میں لا پٹخا اور اسے تنہا کر دیا۔

اقبال نے خدا اور ابلیس کے درمیان مکالمے کو بیان کرتے ہوئے جب یہ لکھا کہ ابلیس خدا سے کہتا ہے کہ
‘ہاں مگر تیری مشیت میں نہ تھا میرا سجود’
یعنی اس نے اپنی بات ثابت کرنے کے لیے تاویل گھڑی، تو خدا نے فرشتوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

پستی ءِ فطرت نے سکھلائی ہے یہ حجت اسے
کہتا ہے تیری مشیت میں نہ تھا میرا سجود
دے رہا ہے اپنی آزادی کو مجبوری کا نام
ظالم اپنے شعله سوزاں کو خود کہتا ہے دود

تو جو شخص بھی خود پسندی میں مبتلا ہے درحقیقت اس کا تعلق ابلیسی مکتبہ فکر ہے۔
ابلیس سے بھی آدم کی تعریف برداشت نہ ہو سکی تھی، اسی طرح خود سے متاثر شخص دوسرے کی تعریف ہضم نہیں کر سکتا۔

خود پسند آدمی اپنے دائرے میں قید رہتا ہے، وہ اس سے باہر نکلنے کی کوشش ہی نہیں کرتا۔
نتیجتا تنہا رہ جاتا ہے۔
اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان کے نیک اعمال برباد ہو جاتے ہیں۔ یہ خدا کے نزدیک ناپسندیدہ فعل ہے۔ اس میں انسان کے ہاتھ صرف مذمت آتی ہے۔
لہذا اس ابلیسی عمل سے حتی الامکان خود کو کنارے پر رکھنا چاہیے۔
خدا ہم سب کو اخلاق فاضلہ اپنانے کی توفیق دے۔ آمین


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں

3 پر “خودپسند شخص کی چند دلچسپ عادات” جوابات

  1. حسن رضا Avatar
    حسن رضا

    بہت اعلی

  2. عظمت زہرا Avatar
    عظمت زہرا

    عمدہ تحریر خصوصاً اقبال کا حوالہ دل چھو گیا

  3. گلِ یاسمین Avatar
    گلِ یاسمین

    خود پسندی اور خود گدازی دونوں ہی نقصان دہ ہیں۔۔۔