بچہ-باغیچہ-میں-کھیل-رہا-ہے

ہمارے بچے تخلیق کار کیوں نہیں بنتے؟

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

ایک بے چارہ معصوم سا بچہ اگر  اپنی زندگی کے ابتدائی پانچ سال تک ’ فارغ‘ گھر پر بیٹھ گیا تو ہم سب پریشان ہوجاتے ہیں۔ ایسے جیسے کوئی بے روزگار گھر بیٹھا ہو۔

پھر اس کو وہ سکھانا چاہتے ہیں جس کے لیے قدرت نے اس کو ابھی سیکھنے کے انداز دئیے ناں صلاحیت۔

اور وہ جو کچھ کررہا ہوتا ہے اس کو ہم فضول سمجھ رہے ہوتے ہیں ۔

اس عمر کے بچے اسکول نہیں جاتے تو کرتے کیا ہیں؟ 

اس کی ایک فہرست بنالیں اور پھر دیکھیں آپ کی ’ناں‘، ’ناں‘ اور ’یہ نہیں‘، ’وہ نہیں‘ کے بعد اس کے لیے سیکھنے کو کیا بچتا ہے؟ 

آپ نے قدرتی ماحول سے اس کو دور رکھا ہے۔

جسمانی کھیل کود ورزش کا آپ کو پتہ ہے نہ بچے کو۔ 

میل ملاپ بھی ہمارے  ماحول میں الا ماشاء اللہ طنز، طعنے، کرید، غیبت سے بھرپور ہوتے ہیں۔ 

اور ایک گھر سے  دوسرے گھر تک محدود ہوتے ہیں۔

ماں، باپ، بہن، بھائی، رشتے دار، پڑوسی ۔۔۔۔ اس سارے منظر میں اس کے پاس سیکھنے کے لیے قدرتی ماحول، فطری ماحول ہے کہ نہیں؟ 

یہ دیکھنا اہم ہے۔

 چار، پانچ سال کا صاف ستھرا بچہ بیگ لے کر اسکول جا کر جو کچھ پڑھتا ہے، اسے ’فارمل لرننگ‘ کہتے ہیں جو کہ structured ہوتی ہے جو کہ کلاس روم میں ہوتی ہے۔ اس کا سلیبس ہوتا ہے، کریکیولم ہوتا ہے، ٹائم ٹیبل ہوتا ہے۔

صفر سے سات سال تک اس انداز کی قطعا کوئی ضرورت نہیں۔ اس وقت کا سارا زور اس کی ’ان فارمل لرننگ‘ informal learning  پر لگانا چاہیے جس کے لیے آپ کو کچھ نہیں کرنا سوائے اپنے آپ کو اور گھر کو سدھارنے کے۔

اس عمر کے بچوں کے لیے قدرتی انداز فطری طریقہ تعلیم یہی ہے کہ جو وہ کرنا چاہتے ہیں، انھیں کرنے دیا جائے۔ وہ اپنے  شوق، مشاہدے، تجربے سے اپنے سیکھنے کی ایک بنیاد بناتے ہیں۔

ہم تین، چار سال کے بچے کو پینسل پکڑاتے ہیں جب کہ اس کی انگلیوں کے مسلسز اس کو پکڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، اسے سیدھی لکیر لگانا  بھاری مشقت لگتی  ہے ۔

اس کا eye hand coordination ۔ اس کے موٹر مسلسز سب ابھی فارمل لرننگ کے لیے نہیں تیار ۔۔۔۔

اور مہنگے اسکول اسی کی فیس لے کر پری رائٹنگ ایکٹیویٹیز کرواتے ہیں، موٹر مسلزکی مشقیں کرواتے ہیں۔

گلی محلے کے اسکول پینسل پکڑاتے پکڑاتے انگلیاں ہی ٹیڑھی کردیتے ہیں یا زندگی بھر غلط قلم پکڑنے کی عادت ہوجاتی ہے۔

آپ بچے کو مٹی سے کھیلنے تو دیں، دو، چار ٹماٹر پیاز انڈے قربان کرکے سیکھنے تو دیں۔

تین،چار سیل بیٹری، تار، چمچ ، گلاس ٹوٹ جائیں گے۔ 

بچے کو چھلانگیں لگانے، اترنے، چڑھنے کی مشقیں تو کروائیں۔ 

۔ کچھ کھلونے توڑنے دیں، جوڑ توڑ کرنے دیں، رنگوں کو پکڑ کر رنگ کرنے دیں،

زمین، آسمان، چاند، سورج، پہاڑ، دریا، سمندر، پھول، پودوں کی طرف متوجہ کریں نظارے کرنے دیں۔۔۔۔۔

پھر کہیں کہ بچہ کچھ نہیں کرتا۔۔۔

وہ سب کچھ جو بچہ کرنا چاہتا ہے تو ہمارا گھر بکھر جاتا ہے، گندہ ہوجاتا ہے اور کچھ چیزیں ٹوٹنے سے ہمارا نقصان ہوجاتا ہے۔

لیکن یہی وہ بنیاد ہوتی ہے جس سے بچہ لکھنے، پڑھنے اور تخلیقی صلاحیت کے ساتھ اعتماد محبت حاصل کرسکتا ہے۔

یاد رکھیں بچہ فارغ نہیں ہے۔۔۔۔۔ آپ فارغ ہیں اور معذرت کے ساتھ  ہر چیز سے۔ 

بچے کی بہت سی مصروفیات ہیں، اس کو کسی ٹائم ٹیبل اور نصاب کی ضرورت نہیں، اس کو قدرت نے سیکھنے کی ہر چیز فیڈ کر کے بھیجی ہے۔

اس کا رحجان شوق دماغ اس کو خود بخود ان سرگرمیوں میں مشغول رکھتا ہے جو اس کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔لیکن ہمیں اسکول بھیجنے کی جلدی ہوتی ہے۔

سات سال تک بچہ رٹنے کی مشین بن جاتا ہے، علم کو نمبر اور امتحان سمجھتا ہے۔

ذہانت، کامیابی کا مطلب گریڈز اور نمبرز سمجھنے لگتا ہے۔ پڑھنے کو نمٹانا چاہتا ہے کہ طبعیت بوجھل ہوتی ہے۔ بڑے ہونے تک یہی رحجان ڈگری کے لیے فوکس ہوجاتا ہے پھر اچھی جاب تک بس! 

علم کا شوق ختم ہوجاتا ہے۔ 

ہمارے پاس تحقیق نہیں، سائنسدان نہیں، تخلیق کار نہیں کیوں؟ یہی وجہ ہے کہ ہر کام شارٹ کٹ کر کے نمٹانے کے رحجان کی وجہ سے

فونکس ، گنتی اور دو حرفی لفظ سیکھانے کی اتنی جلدی ہوتی ہے کہ علم کی بنیاد شوق، اعتماد اور تخلیقی صلاحیت ہر ایک قیمتی قدرتی تحفے کا خاتمہ کردیتے ہیں۔

 سات سال کے بعد بھی بچے فونکس، گنتی وغیرہ وغیرہ  سب سیکھ سکتے ہیں اور زیادہ تیزی ہوشیاری سے سیکھتے ہیں۔۔۔ اور اس سے پہلے بھی ۔۔۔۔ اہمیت یہی ہے کہ پہلے اس تعیلم کی بنیاد تو بنائیں۔ 

اس لیے اسکول نہیں گھر کے ماحول کو فطری تعلیم و تربیت کے لیے سازگار بنائیں ۔۔۔۔ اور یہی ہوم اسکولنگ ہے۔ خدارا ہوم اسکولنگ کے نام پر گھر پر ایک اور اسکول نہیں کھولنا۔

اور ہاں ۔۔۔

 حدیث کا مفہوم ہے کہ بچہ فطرت سلیم میں پیدا کیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔

اس کے مزاج میں فطری انداز میں وہ ہے ہی نہیں جس کی ہم شکایت کرتے ہیں اگر وہ  مرضی سے غلط کام کرتا ہے تو مرضی کیسے  ماحول سے بنی، اس پر توجہ دیں


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں

ایک تبصرہ برائے “ہمارے بچے تخلیق کار کیوں نہیں بنتے؟”

  1. جاوید اصغر Avatar
    جاوید اصغر

    بہت عمدہ تحریر ۔۔۔۔ اور سب کے لیے،والدین اساتذہ اور سوسائٹی کے لیے ۔۔۔۔ ۔۔۔ ہمارے تعلیمی نظام کی پہلی اینٹ۔۔۔۔۔ کاش سرکار ۔۔ اسے تعلیمی پالیسی کا حصہ بنالے۔۔۔ لیکن جنھوں نے تعلیم کو کام یا ب "انڈسٹری”بنایا ہے وہ تو چاہیں گے کہ انھیں زیادہ سے زیادہ "خام مال”
    جلد ازجلد ملے۔۔۔۔۔ اور وہ دام کھرے کریں۔۔۔ بھاڑ میں گئی تعلیم،تربیت،تخلیق اور خود اعتمادی ۔۔۔

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے