بادبان-،-عبید-اللہ-عابد

عام انتخابات کے انعقاد پر اب بھی سوالیہ نشان کیوں؟

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

کیا دنیا میں پاکستان کے علاوہ کوئی دوسرا ملک ایسا ہے جہاں عام انتخابات کا اعلان کردیا جائے اور اس کے بعد بھی لوگ یوم انتخاب تک ایک دوسرے سے پوچھتے پھریں کہ انتخابات منعقد ہوں گے یا نہیں؟

پاکستان میں بہرحال ایسا ہوتا رہا ہے اور بدقسمتی سے اب بھی ہورہا ہے۔ شاید غیریقینی کی یہ صورت حال پاکستانی تاریخ میں پہلے کبھی اس قدر زیادہ نہ تھی۔

اگرچہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس محترم قاضی فائز عیسیٰ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور صدر مملکت جناب ڈاکٹر عارف علوی کے مابین مشاورت کا اہتمام کرا کے ، حکومت کو آٹھ فروری کی تاریخ پر پکا کردیا تھا، صحافیوں پر پابندی عائد کردی تھی کہ وہ کسی سے یہ سوال پوچھیں گے اور نہ ہی اس پر کوئی بحث مباحثہ کریں گے کہ کیا واقعی آٹھ فروری دو ہزار چوبیس کو عام انتخابات ہوں گے؟

اس کے باوجود یہ سوال لوگوں کے ذہنوں میں اب بھی موجود ہے حالانکہ انتخابات ہونے میں صرف تین دن باقی رہ گئے ہیں، حالانکہ چیف الیکشن کمشنر اور حکومتی زعما بار بار قوم کو یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ عام انتخابات آٹھ فروری ہی کو ہوں گے۔

لوگ غلط طور پر شکوک و شبہات کے شکار نہیں ہیں، کوئی تو ہے جو عام انتخابات کا انعقاد نہیں چاہتا۔ سوال یہ ہے کہ وہ ‘کوئی’ کون ہے؟ نہایت آسان کام یہ ہے کہ ہم کہہ دیں، دشمن حکومتیں پاکستان کو سیاسی عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتی ہیں اور اپنی جگہ پر کامل اطمینان سے، ٹانگ پر ٹانگ دھر کے بیٹھ جائیں۔

سوال یہ ہے کہ پاکستان میں عام انتخابات ملتوی کرانے کی خواہش بعض بیرونی طاقتون کی ہے تو پھر پاکستان کے ایوان بالا میں انتخابات ملتوی کرنے کی قراردادیں کیوں منظور ہوتی رہیں؟

آپ کو یاد ہوگا کہ پانچ جنوری دو ہزار چوبیس کو سینیٹ کے اجلاس میں اچانک عام انتخابات ملتوی کرنے کی ایک قرارداد پیش ہوئی اور دلچسپ بات ہے کہ چیئرمین سینیٹ جناب صادق سنجرانی کی زیر صدارت اجلاس میں وہ قرارداد منظور بھی ہوگئی۔

جب سینیٹر دلاور خان نے قرارداد پیش کی تو اجلاس میں صرف پندرہ لوگ شریک تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سینیٹر دلاورخان کو سینیٹ انتخابات کا ٹکٹ پاکستان مسلم لیگ ن نے دیا تھا۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس قرارداد کی مخالفت میں پاکستان مسلم لیگ ن ہی کے سینیٹر افنان اللہ کھڑے ہوگئے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ ‘الیکشن کمیشن آٹھ فروری کا الیکشن شیڈول معطل کرے کیوں الیکشن کے لیے سازگار ماحول موجود نہیں، مولانا فضل الرحمٰن پر بھی حملہ ہو چکا ہے اور دیگر سیاسی رہنماؤں کو بھی دھمکیاں مل رہی ہیں۔’ قرارداد میں مزید کہا گیا تھا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں صورتِ حال بہت خراب ہے، وہاں دہشت گردی کی کارروائیاں جاری ہیں۔ اس کے علاوہ محکمہ صحت بھی عندیہ دے چکا ہے کہ کرونا وائرس پھیل رہا ہے اور چھوٹے صوبوں میں الیکشن مہم چلانے کے لیے مساوی حق بہت ضروری ہے۔

آزاد سینیٹر ہدایت اللہ نے بھی ایک قرارداد جمع کروا کر انتخابات ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس قرارداد میں شمالی وزیرستان، باجوڑ اور تربت سمیت ملک بھر میں پُرتشدد واقعات کا حوالہ دیا گیا تھا۔ اس میں الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ تین ماہ کے وقفے کے بعد پُرامن الیکشن کا انعقاد کیا جائے۔

اس کے بعد ایک دوسرے سینیٹر ہلال الرحمان نے بھی انتخابات ملتوی کرانے کی قرارداد پیش کی، جس میں کہا گیا کہ شدید سردی اور برف باری میں صوبہ خیبر پختونخوا کے شہریوں کو چیلنجز کا سامنا ہے جبکہ صوبے میں ‘بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر امیدواروں کو انتخابی مہم کے دوران دہشت گرد حملوں کا شدید خطرہ لاحق ہے۔’

اس میں مزید یہ کہا گیا ہے کہ ‘عوام اور امیدواروں میں اس حوالے سے احساس محرومی اور خاص طور پر سابقہ فاٹا سے تعلق رکھنے والے امیدوار سکیورٹی مسائل سے متاثر ہو رہے ہیں۔’

سینیٹر ہلال نے مطالبہ کیا کہ آٹھ فروری کی بجائے ‘کسی ایسی موزوں تاریخ تک’ عام انتخابات کو ملتوی کیا جائے جو ‘تمام شراکت داروں کے لیے قابل قبول ہو اور آزادانہ منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے سلسلے میں راستے میں حائل رکاوٹوں میں مددگار ثابت ہو۔

یوں پاکستان کے ایوان بالا سے تین قراردادوں کے ذریعے الیکشن ملتوی کرانے کی کوشش کی گئی۔

ہاں! یاد آیا کہ حضرت مولانا فضل الرحمن، سربراہ جمعیت علمائے اسلام بھی ایک روز الیکشن ملتوی کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے خاصے جذباتی ہورہے تھے، انھوں نے  دھمکی بھی دی تھی کہ انتخابی مہم کے دوران ان کی جمعیت کے کسی کارکن کو نقصان پہنچا تو ذمہ دار چیف الیکشن کمشنر ہوں گے۔ بعض میڈیا رپوٹس میں اس دھمکی کے مخاطب چیف جسٹس آف پاکستان بھی تھے۔

جب ان دھمکیوں اور قراردادوں کا الیکشن کمیشن آف پاکستان پر اثر نہ ہوا تو پھر اچانک امیدواروں اور انتخابی ریلیوں پر حملے شروع ہوگئے۔ زیادہ تر واقعات بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ہو رہے ہیں۔ ایک  دن بھی ایسا نہیں گزر رہا کہ کوئی افسوس ناک واقعہ رونما نہ ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں انتخابات کے مخالفین آخری دن تک اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ جوں جوں آٹھ فروری قریب آرہا ہے، ان کی فرسٹریشن بڑھ رہی ہے۔ ان کی کیفیت کو محسوس کرتے ہوئے یقین ہو رہا ہے کہ عام انتخابات کے انعقاد ہی میں قوم کا بھلا ہے۔

دنیا میں کتنی ہی اقوام ایسی ہیں جن کے ہاں قومی، صوبائی اور مقامی انتخابات باقاعدگی سے ہو رہے ہیں۔ ان سب اقوام کی فہرست مرتب کی جائے تو یہ تحریر کافی طول پکڑ جائے گی ۔ صرف ذرا امریکیوں ہی کو دیکھ لیجیے،  وہ ہر چار سال بعد نومبر کے پہلے منگل کو صدارتی انتخاب منعقد کرتے ہیں، باقاعدگی سے کرتے ہیں، چاہے سورج برس رہا ہو یا برف پڑ رہی ہو، طوفان آئے ہوئے ہوں یا کوئی دوسرا، تیسرا بحران، صدارتی انتخاب ہر چال سال بعد نومبر کے پہلے منگل ہی کو ہوگا۔

چلیں! اگر امریکی قوم کا حوالہ سن کر منہ کسیلا ہو رہا ہو تو ترکوں کو دیکھیے، وہ مسلمان ہیں، وہ انتخابات کو کسی بھی حال میں ملتوی کرنے کا سوچتے بھی نہیں ہیں۔

دراصل یہ اقوام جانتی ہیں کہ انتخابات کے باقاعدہ انعقاد سے ہی ان کا ہی بھلا ہوتا ہے، انہی کی زندگیوں میں بہتری اور پھر مزید بہتری پیدا ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے سیاست دانوں کو کم از کم انتخابات ملتوی کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔

مکرر عرض ہے کہ جوں جوں آٹھ فروری قریب آ رہا ہے، انتخابات کی مخالف قوتوں کی فرسٹریشن بڑھ رہی ہے، اس کے نتیجے میں وہ کچھ بھی کرنے کو تیار ہوجائیں گی، اس تناظر میں سیکورٹی اداروں کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں۔ اللہ کرے کہ وہ باقی سارے کام چھوڑ کر اپنے فرائض منصبی ادا کریں، اور عام انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے چیلنج پر پورے اتریں۔


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں

ایک تبصرہ برائے “عام انتخابات کے انعقاد پر اب بھی سوالیہ نشان کیوں؟”

  1. جاوید اصغر Avatar
    جاوید اصغر

    عمدہ تجزیہ۔۔۔۔ خدا خیر کرے۔۔۔ یہ الیکشن ہوگئے تو آئیندہ کے لیے شاید راہ ہموار ہوجائے۔۔

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے