ایک-پاکستانی-خاتون-ووٹ-ڈالتے-ہوئے

آہ ! جمہوریت کی دیوی

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

نازیہ بی بی ایک خاتون خانہ ہیں، خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ کے ایک دور افتادہ گاؤں ’چورلکی‘ سے تعلق رکھتی ہیں، اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ شوہر ایک سرکاری ادارے میں آٹھویں گریڈ کے ملازم ہیں۔ گھر میں صبر، شکر اور قناعت کے دولت کے سوا کچھ خاص نہیں۔ فقر و غنا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔

چند ہفتے قبل انھیں جماعت اسلامی کے’حلقہ خواتین‘( ویمن ونگ) کی ایک ضلعی رہنما کی فون کال موصول ہوئی:

’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ آپ جماعت کے ٹکٹ پر خیبر پختونخوا اسمبلی کے لیے انتخاب لڑیں گی‘۔

نازیہ بی بی یہ حکم سن کر ہکا بکا رہ گئیں کہ وہ کیسے ایک ایسے الیکشن میں حصہ لے سکتی ہیں جہاں ہر طرف روپے پیسے کا کھیل کھیلا جاتا ہے۔ اگرچہ وہ جماعت اسلامی کی ایک کارکن ہیں لیکن کبھی ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں آیا تھا کہ انھیں عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے میدان میں اتارا جائے گا۔  ویسے بھی بڑی سیاسی جماعتیں کب کسی کو امیدوار بناتے ہوئے اخلاص اور صلاحیت دیکھتی ہیں، بلکہ ان سے لاکھوں روپے محض ٹکٹ کی درخواست دینے کے عوض فیس وصول کرتی ہیں، اس کے بعد ٹکٹ کا فیصلہ بھی درخواست دہندہ کی مالی حالت دیکھ کر ہی کیا جاتا ہے۔

 جماعت کی خاتون رہنما نے نازیہ بی بی کو تسلی دی کہ انھیں ٹکٹ کے بدلے میں ایک پیسہ بھی فیس ادا نہیں کرنا پڑے گی اور ان کی انتخابی مہم کے اخراجات بھی جماعت ہی اٹھائے گی، بس! وہ رابطہ عوام مہم شروع کریں۔ یوں اب وہ صوبائی حلقہ PK.90  سے  ’ترازو‘ کے انتخابی نشان کے ساتھ انتخاب لڑ رہی ہیں۔

نازیہ بی بی پہلی اور واحد مثال نہیں ہیں۔ ایسی ہی مزید مثالیں بھی دیکھنے سے بہ آسانی مل جائیں گی لیکن وہ چند ایک ہی ہوں گی۔ ایسی مثالیں صرف جماعت اسلامی ہی میں نہیں ہیں، ممکن ہے کہ بعض دیگر جماعتوں نے بھی ایسے ہی اپنے کارکنان کو اسمبلیوں میں پہنچانے کا اہتمام کیا ہو۔ بہرحال وہ چند ایک ہی ہوں گی۔ یہ دعویٰ بڑی احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ کر رہا ہوں۔ آزمائش شرط ہے۔

اگر کسی معاشرہ میں ایسی مثالیں زیادہ دکھائی دینے لگیں اور پھر زیادہ سے زیادہ ہوتی جائیں، ایسے ہی معاشرے کو ’جمہوری‘ قرار دیا جاسکتا ہے۔ انہی معاشروں میں جمہوریت کا پھل میٹھا ملتا ہے۔ اور جن معاشروں میں جمہوریت کے نام پر روپے پیسے، اثرورسوخ، دھونس دھاندلی کا کھیل کھیلا جائے اور اس کے نتیجے میں پھل کسیلا اور کڑوا نکلے تو پھر جمہوریت کو دوش دینا جہالت اور ناانصافی ہوگی۔

بدقسمتی سے پاکستان میں عشروں سے ایسا ہی کھیل کھیلا جاتا ہے۔ انتخابات کے نتیجے میں اسمبلیوں میں پہنچنے والوں کی صرف ایک خوبی ہوتی ہے کہ وہ کروڑ پتی ہوتے ہیں اور بس!  چنانچہ ہر قسم کی صلاحیت سے محروم یہ لوگ اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں، وہ پورے پانچ برسوں میں ایک بار بھی اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہوکر قوم کو درپیش مسائل پر ایک لفظ بھی کہنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، کسی اسٹینڈنگ کمیٹی میں بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتے کہ معاملات میں خرابی کہاں اور کیسے پیدا ہو رہی ہے اور اس کی اصلاح کیسے ممکن ہے؟

پارلیمان میں قوانین بنتے ہیں تو یہ ارکان اسمبلی آنکھیں بند کرکے صرف قانونی مسودے پر انگوٹھا چھاپتے ہیں۔ اس سارے کھیل کے نتیجے میں جب عوام کو کڑوا پھل ملتا ہے تو وہ منہ بھر کے گالیاں بے چاری جمہوریت کو دیتے ہیں۔ کیا یہ ناانصافی نہیں؟ ذرا سوچیے نا!

بے صلاحیت لیکن کروڑ پتی ارکان اسمبلی کی وجہ سے پاکستانی قوم کو کیسا کڑوا پھل کھانے کو ملتا ہے، اس کا جواب صرف ایک معاملے سے بھی سمجھا جا سکتا ہے، جو کہ بذات خود نہایت تلخ اور دردناک ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں سے معاہدے کس قسم کے ارکان اسمبلی نے کیے تھے؟ جی ہاں! انہی کروڑ پتی لیکن انگوٹھا چھاپ ارکان اسمبلی نے۔ انھیں معاہدے کی تفصیلات بھی پڑھنا نہیں آتی تھیں، چنانچہ بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں نے اپنے ہی لکھے معاہدوں پر ان سے انگوٹھے لگوا لیے۔ اس کے نتیجے میں اب مہینے کے تیس دنوں میں بار بار بجلی  مہنگی کی جاتی ہے۔

جب بجلی کی قیمتوں میں بدترین اضافہ ہوتا ہے تو پھر کیا ہوتا ہے؟ پھر فیصل آباد کا محمد حمزہ بجلی کا بل چالیس ہزار روپے دیکھ کر خود کشی پر مجبور ہوتا ہے۔ اس کی خودکشی پر حکومت کے خلاف لوگ احتجاج کرتے ہیں تو حکومت ایک سو اٹھاون لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کرتی ہے۔ اگر کوئی خودکشی نہ کرے تو اسے اپنی بیوی کا سارا زیور فروخت کرکے بل ادا کرنا پڑتا ہے۔

کیا ایک مثال کافی ہے؟ یا کڑوے پھل کی مزید مثالوں سے بات مزید سمجھانے کی کوشش کی جائے؟ بس! ایک بار پھر یاد کرا دوں کہ یہ کڑوے پھل ان ارکان اسمبلی کی بدولت آپ کو ملتے ہیں جو قومی اسمبلی کا ٹکٹ لینے کے لیے دو لاکھ روپے اور صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے ایک لاکھ روپے دیتے ہیں۔ اور پھر انتخابی میدان میں اتر کر کامیابی حاصل کرنے کے لیے کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں۔ جب منتخب ہوتے ہیں تو سب سے پہلے کروڑوں کے انتخابی اخراجات کا بل وصول کرتے ہیں، پھر کروڑوں روپے ڈکارتے ہیں اور اس کے بعد کروڑوں روپے اگلی انتخابی مہم کے لیے جمع کرتے ہیں۔

نازیہ بی بی ایسے لوگ اسمبلیوں میں پہنچیں تو وہ اپنی اوقات میں رہتے ہیں، وہ  ریاست کے وسائل کو دیکھ بھال کر خرچ کرتے ہیں، وہ روپے پیسے اور اثرورسوخ کے بجائے کارکردگی اور عوامی خدمت کی بنا پر سیاست کرتے ہیں۔ ورنہ تو لوگ یہ کہہ کر سیاست کرتے ہیں کہ ہماری اوپر بات ہوچکی ہے۔

گزشتہ شب انتخابی مہم ختم ہوچکی ہے، اب کل یوم انتخاب ہے۔ کاش! یہ عام انتخابات روپے پیسے کا کھیل نہ ہوتے، ہر قسم کے اثرورسوخ ، دباؤ، دھونس ، دھاندلی سے پاک الیکشن ہوتے!

کاش! ہم متناسب نمائندگی کے اصول کے تحت انتخابات منعقد کرواتے جس میں انتخابات کی بنیاد صرف اور صرف کارکردگی ہوتی ہے، کوئی اپنے روپے، پیسے، اثرورسوخ کی بنیاد پر کامیابی حاصل نہیں کرسکتا۔ ووٹرز دیکھتے ہیں کہ کس کا منشور بہتر ہے اور کس کی ماضی میں کارکردگی بہتر تھی اور پھر اس کے حق میں ووٹ کاسٹ کئے جاتے ہیں۔ جس پارٹی کو جس قدر زیادہ ووٹ ملتے ہیں، پارلیمان میں اسی تناسب سے نشستیں ملتی ہیں۔

کوئی وقت تھا کہ پاکستان میں بعض جماعتیں متناسب نمائندگی کے تحت انتخابات کا مطالبہ کیا کرتی تھیں، لیکن پھر وہ مایوس ہوکر خاموش ہوگئیں یا موجودہ نظام انتخاب کے ساتھ ہی سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہوگئیں جس میں خرابیاں ہی خرابیاں ہیں۔ یہ خرابیاں بیان کی جائیں تو ضخیم کتب مرتب ہوجائیں۔

دنیا میں قریباً ایک سو ممالک نے اس قسم کے ’انتخاب‘ سے منہ موڑ کر متناسب نمائندگی کا نظام اپنا لیا۔ ایک پاکستان ہے جو ناانصافی پر مبنی نظام کو سینے سے لگائے بیٹھا ہے، جس کے نتیجے میں ہم ایسے انتخابات منعقد کرواتے ہیں جن کے بارے میں سوویت یونین کے انقلابی رہنما جوزف اسٹالن نے کہا تھا کہ ایسے انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے فیصلہ نہیں کرتے بلکہ ووٹ گننے والے فیصلہ کرتے ہیں۔

بادبان، عبید اللہ عابد


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں

ایک تبصرہ برائے “آہ ! جمہوریت کی دیوی”

  1. جاوید اصغر Avatar
    جاوید اصغر

    بہت عمدہ تحریر ۔۔۔۔۔ عوام الناس اور سیاسی جماعتوں کو ان کی ” کارکردگی”کا آئینہ دکھایا ہے۔۔۔ اور حل بھی تجویز کیا ہے۔۔۔ متناسب نمائندگی ۔۔۔۔ لیکن ووٹ "گننے”والوں کو یہ نظام "سوٹ”کرتا ہے۔۔۔

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے