نثار-موسیٰ-چابھار-ایئر-لائنز-کے-جہاز-کے-ساتھ

ایران کشور جہان ( سفرنامہ، قسط:3)

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

آج 27 اپریل ہے اور ہم نے گبد۔ ریمدان بارڈر سے ایران میں جانا ہے۔ صبح جلدی اٹھے اور میزبان کے روایتی ناشتے سے لطف اندوز ہوئے۔ پراٹھے، مچھلی، چنے، انڈہ آملیٹ اور چائے۔ کراچی کے دوستوں کو یہ کمبینیشن بہت اچھا لگا۔ گوادر سے بارڈر کراسنگ تک، ڈیڑھ گھنٹے کا سفر ہے جو مکران کوسٹل ہائی وے کی وجہ سے خوشگوار ہوتا ہے۔ ہم دو گاڑیوں میں بارڈر پہنچے۔ سامنے ایرانی بلند و بالا جھنڈے کو دیکھا تو بہت اچھا لگا کہ ایک مرحلہ طے ہونے کو ہے۔ پاکستان کی طرف بارڈر کا علاقہ گبد جبکہ ایرانی سائیڈ پر یہ علاقہ ریمدان کہلاتا ہے۔

پاک ایران بارڈر

آج ہمارے گروپ کو کچھ مزید زبردست دوستوں نے جوائن کرنا تھا۔ وہاں پر گوادر ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائیرکٹر جنرل کے پی ایس نثار لال، گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین کے پی ایس عادل احمد، مقامی کاروباری شخصیت میر عقیل بلوچ، نوجوان ٹرانسپورٹر مسلم شاکر اور تربت سے آئے ہوئے مہمان سجاد حمید ہمارے قافلے میں شامل ہوئے۔ ان میں سے اکثر دوستوں سے میری پہلی ملاقات تھی۔

نثار لال نے فوری طور پر ہمیں امیگریشن کے عمل سے بخوبی گزارا۔ جمعہ کو بارڈر بند ہونے کی وجہ سے زائرین کی وجہ سے کافی رش تھا۔ اسی دوران مجھے واش روم جانا تھا۔ وہاں صورتحال دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ ہم ایک معمولی سی سہولت کو بھی بہتر انداز میں مینٹین نہیں کر پا رہے۔

اب نثار لال کے قیادت میں دس لوگوں کا قافلہ اپنے سامان سفر کے ساتھ ایرانی حدود میں داخل ہوگیا۔ وہاں موجود ایرانی سیکیوریٹی گارڈز نے کچھ بیگس کو چیک کیا پھر ہم ایک لائن میں لگ کر ایرانی ایمیگریشن کا انتظار کرنے لگے۔ یہاں پر بہت زیادہ رش کی وجہ سے گھٹن محسوس ہو رہی تھی۔

ہم نے انھیں بتایا کہ ایرانی حکومت کے مہمان ہیں جس کی وجہ ہمارے تھمب امپریشنز اور تصاویر کے عمل کو تیز کیا گیا۔ اس کے بعد کافی مشکل پیش آئی۔ خدا کا شکر ایرانی بارڈر پر ہمیں جو ٹور آپریٹر لینے آئے تھے انہوں نے بھی عملے سے رابطہ رکھا۔ ایران ایکسپو کے شرکاء کو بڑی مشکل کے بعد آخری مراحل کے لیے ایرانی بارڈر گیٹ پاس کرنے کا موقع ملا۔ جب آخری کاؤنٹر پر پہنچے تو انھوں ہم سے پوچھا کہ آپ اینٹری اسٹیمپ ویزے پر لگوانا چاہتے ہیں پاسپورٹ پر؟ بعض دوستوں نے پاسپورٹ اور کچھ نے ویزے پر اینٹری لگوائی۔

یہ مرحلہ طے ہوا تو کچھ راحت محسوس ہوئی ورنہ قطار بہت لمبی اور غیر منظم تھی۔ سامان کی اسکینگ کے بعد ہم اپنے بہت ہی پیارے ٹور آپریٹر علی اکبر رئیسی سے ملے۔ نوجوان علی اکبر نے ہمیں اپنی نئی وین میں بٹھایا۔ بارڈر پر زائرین کے لیے استقبالیہ اور خیرمقدمی بینرز لگے دیکھے۔ زائرین کی اکثریت کا تعلق سندھ اور پنجاب کے گاؤں دیہاتوں سے محسوس ہورہا تھا۔ وہ بہت عقیدت اور جوش سے ایران میں قدم رکھ رہے تھے۔

بارڈر سے چابھار  کے لیے روانہ ہوئے تو دیکھا کہ پانچ کلومیٹر سے زائد طویل ایل پی جی بوزرز، کنٹینرز اور آئل ٹینکرز کی قطار ہے جو پاکستان کی انرجی ضروریات پورا کرنے کے لیے جا رہے تھے۔

راستے میں ایک مقام پر پانی اور اسنیکس لینے کے لیے رکے۔ ہم ایرانی مصنوعات کو ایران میں پہلی مرتبہ استعمال کر رہے تھے، ہمیں بہت اچھا لگا۔ ہمارا ٹور آپریٹر تھوڑی دیر ہی میں ہم سے گپ شپ کرنے لگ گیا تھا اور ہمیں راستے کے بارے میں معلومات دے رہا تھا۔ ایرانی سائیڈ پر سڑک کی حالت اچھی نہیں تھی، اس کے مقابلے میں ہماری سائیڈ کا روڈ کافی بہتر ہے۔ ہم دو گھنٹے کے بعد چابھار شہر پہنچے۔

شہر میں جب داخل ہو رہے تھے تو ایک جھٹکا لگا۔ میں سمجھ رہا تھا کہ چابھار ہمارے گوادر کی طرح ایک چھوٹا سا شہر ہوگا مگر یہاں تو ایک بڑا، منظم اور ترقی یافتہ شہر ہمارے سامنے تھا۔ گوادر کا چابھار سے کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ یاد رکھیں! ہمارا غرور و تکبر ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑتا۔

چابھار پورٹ کی تعمیر کا آغاز پہلی مرتبہ شاہ ایران کے دور میں 1973 میں ہوا، پھر انقلاب ایران 1979 کی وجہ سے کام بند کیا گیا. اسے دوبارہ 1984 میں تعمیر کرکے آپریشنل کیا گیا جو آج گلف آف اومان میں ایران کی ایک اہم بندرگاہ ہے. چین اور انڈیا آج کل اسے وسط ایشیائی ممالک تک رسائی حاصل کرنے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ ہر قوم اور ملک کو اپنی قومی مفاد اور جیو پولیٹیکل اسٹریٹیجی کے طور پر کام کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

چابھار میں پہلا کام فون کی سم کا حصول تھا۔ اس کے بعد عادل کے ایک دوست امین درانی نے ہمارے لیے ظہرانے کا اہتمام کیا تھا تاہم ان کے پاس جانا تھا۔ مشکل یہ تھی کہ فون بند ہونے کی وجہ سے ان سے رابطہ نہیں ہو رہا تھا۔ جب نیٹ بحال ہونا شروع ہوا تو ان صاحب سے ملاقات ہوگئی۔ انھوں نے اپنے ایک عزیز کے پیٹرول پمپ پر جانے کو کہا۔ وہاں پہنچے تو ہمیں اس پمپ کے مالک جناب حاجی علی اکبر اور ان کے بیٹے حاجی اختر کے پاس ان کی وسیع بیٹھک میں لے جایا گیا جو پیٹرول پمپ کے ساتھ ہی تھی۔

وہاں پر حاجی صاحب نے ہمارا استقبال کیا۔ پانی اور رانی جوسز کے کین سے ہماری تواضع کی گئی۔ ہم سمجھے کہ یہی صاحب ہمارے میزبان ہیں۔ تھوڑی دیر بعد ایک اور صاحب تشریف لائے اور حاجی صاحب کے بیٹے کے ہمراہ باہر چلے گئے۔ ہم نے کچھ دیر انتظار کیا، حاجی صاحب کے ساتھ علاقے اور شہر کے حوالے سے گفتگو کی۔ پھر ہمیں حکم ملا کہ چلیں۔ جب باہر آئے تو عادل نے بتایا کہ ہمارا میزبان کوئی اور ہے لیکن حاجی صاحب بضد ہیں کہ یہ لوگ اب میرے مہمان ہیں۔ انھوں نے فوری طور پر گھر پر انتظامات کا بھی کہہ دیا تھا۔ کافی مذاکرات کے بعد اس شرط پر ہمیں چھوڑنے پر راضی ہوئے کہ انھیں کھانے کے بعد میرے گھر لائیں تاکہ میں انھیں چائے پلا سکوں۔

یہ ایران میں ہمارا پہلا دن تھا۔ ہم روایتی بلوچ مہمان نوازی کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ یہ شاندار ثقافت اور روایت شہروں میں اب ایک خواب ہی لگتی ہے۔

ظہرانہ کیا تھا ایک شاہی دسترخوان تھا۔ مچھلی، بھنا ہوا گوشت، موٹی روٹی جو وسط ایشیائی ریاستوں میں کھائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ چکن کڑاہی، بریانی، پلاؤ، دہی، لسی بھی دسترخوان پر موجود تھی۔ عادل کے دوست نے بہت زبردست اہتمام کیا تھا۔ دوستوں نے ایران کے سفر میں ایسے شاندار نظارے دیکھے کہ مسحور ہو کر رہ گئے۔

کھانے کے بعد تربوز اور خربوزہ ایک مختلف انداز میں پیش کیا گیا جنھیں کھا کر ہم نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ پھر ہمیں حاجی اختر صاحب کے شاہی مہمان خانے میں لے جایا گیا جو اسی گلی میں تھا۔ وہاں گپ شپ ہوتی رہی ، فروٹس اور چائے کے دور چلتے رہے۔ وہاں ایک نوجوان کو لایا گیا جس نے دوستوں کے نیٹ کے مسائل کسی حد تک حل کرنے کی کوشش کی۔ وی پی این ہمارے لیے خریدے گئے۔ اس طرح کی پرخلوص مہمان نوازی نے آج کے دن کی تھکاوٹ دور کردی۔

شام کو علی اکبر رئیسی نے ہمیں چابھار کی سیر  کرائی۔ ایک تفریحی مقام ’لیپار‘ لے گئے اور لیمن چائے پلائی جو بہت ہی زیادہ مزیدار لگی۔ اس کو جس انداز میں پیش کیا گیا وہ بہت اچھا تھا۔لیمن چائے بنیادی طور پر ایک قہوہ تھا جو سیاہی مائل سبز قہوہ تھا۔ ہمارے سامنے ایک کیتلی تھی۔ میزبان قہوہ لاتے تھے اور اس کیتلی میں ڈالتے چلے جاتے تھے۔ ساتھ ہی ہمیں ایک لالی پاپ جیسی میٹھی چیز دی گئی تھی جسے قہوہ کی چسکیاں لگاتے ہوئے چوسنا تھا۔

ایرانی لیمن چائے

’لیپار‘ ساحل سمندر پر ایک پہاڑ پر بنایا گیا ہے جہاں وزیٹرز اور فیملیز کو گھومنے پھرنے کا ایک پرسکون ماحول ملتا ہے، سردیوں کی شامیں رومانوی سی لگتی ہیں۔

اب ہمیں ایران کے دارالحکومت ’تہران‘ بذریعہ ہوائی  جہاز جانا تھا۔ہماری فلائٹ کا وقت رات 9:45 تھا۔ ہم سب نے فیصلہ کیا کہ ہمیں اب ائیرپورٹ کی طرف چلنا چاہیے۔ یہ تقریباً 45 منٹ کا سفر ہے۔ ائیرپورٹ پہنچے تو گوادر چیمبرز آف کامرس کا ایک وفد گوادر میونسیپلیٹی کے چئیرمین جناب شریف میانداد کی قیادت میں ایران ایکسپو تہران جارہا تھا۔

فلائٹ آدھ گھنٹہ لیٹ ہوئی۔ یہ میرا پہلا سفر تھا جو کسی دوسرے ملک میں ایک شہر سے دوسرے شہر ہوائی جہاز کے ذریعے کر رہا تھا۔ چابھار ایئر لائنز کاجہاز پرانا تھا اور اس میں 3 بائی 2 سیٹس سنگل آئل کے ساتھ لگی تھیں۔ دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کیونکہ چابھار ٹو تہران بس پر سفر 24 گھنٹے کا ہے۔(جاری ہے)


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے