مسلمان-باحجاب-نوجوان-خاتون-دعا-مانگتے-ہوئے

معاف کرنے کا ایک حیران کن سائیڈ ایفکیٹ

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

دوسروں کو معاف کر دینے کے حوالے سے مختلف احباب اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔

مجھے لگتا ہے کہ مردوں کی نسبت خواتین کے لیے معاف کرنا، بھلانا زیادہ مشکل ہے، شاید اس لیے کہ وہ زیادہ حساس ہیں اور انہیں تکلیف پہنچانے والے کا نقش ان کے ذہن کے نہاں خانہ میں محفوظ رہتا ہے، آسانی سے مٹ نہیں سکتا۔

میرا اس حوالے سے اب یہی نظریہ ہے کہ جس نے کوئی زیادتی کی، تکلیف پہنچائی، اسے اللہ کی خاطر معاف کر کے آگے بڑھا جائے۔ غصہ، نفرت، انتقام یا عدم درگزر دراصل آپ کی اپنی ذات ہی کو نقصان پہنچاتا رہتا ہے۔ آپ کسی کو اپنے رب کی خاطر معاف کرتے ہیں، یہ سوچ کر کے روز آخرت ہمارا عظیم رب شاید ایسا کرنے کی وجہ سے ہمیں معاف کر دے گا۔

ایک لمحے کے لیے ذرا سوچیے کہ وہ وقت جب ماں اپنے بچے کی پروا نہیں کرے گی، ہر کوئی خوف اور بے یقینی سے کانپ رہا ہو، جب معمولی تنکے کا سہارا بھی بڑا محسوس ہو، اس مشکل اور کڑے ترین وقت میں آج دنیا میں عفو ودرگزر کا فعل اگر مدد کے لیے لپک کر آئے اور شدید ترین بحرانی دور میں سروائیول ممکن بنائے، ہماری بخشش کا باعث بن جائے تو اس سے اچھا اور کیا ہوسکتا ہے؟

یہ بھی تو سوچیے کہ اپنے دل میں غصہ، نفرت، کینہ، سختی پال کر ہم نے کیا کر لینا ہے؟ اس سے ہمیں حاصل کیا ہوجائے گا؟ الٹا اپنا ہی دل جلاتے رہ جائیں گے۔ خود ہی کڑھتے رہیں گے۔ جب اللہ کی خاطر معاف کر دیا، بھلا دیا، دل صاف کر دیا تو ایک طرح سے وہ معاملہ کلوز ہوگیا۔ یہ معاف کرنا دراصل کلوزر ہوتا ہے۔ آپ اس معاملے کو نمٹا کر آگے بڑھتے ہیں، موو آن کرتے ہیں۔

ہمارے شیخ قبلہ سرفراز شاہ صاحب نے ایک عجیب ایکسرسائز کرائی، جس پر پہلے تو ہم بھونچکا رہ گئے، پھر اس کی بے پناہ افادیت بھی سامنے آئی۔

شاہ صاحب سے ایک بار رزق میں اضافے کی دعا کرنے کی درخواست کی۔ شاہ صاحب نے فرمایا کہ ایک بڑا آسان نسخہ ہے، جس کے بعد رزق اتنا زیادہ ہوجائے گا کہ آپ سے سنبھالنا دشوار ہوجائے۔ کہنے لگے: جب بھی دعا کریں، اپنے بجائے اپنے دشمنوں، مخالفوں کے لیے دعا کریں۔ پورے خشوع وخضوع سے، دل سے، گڑگڑا کر جیسے اپنے لیے دعائیں مانگتے ہیں، ویسے اپنے دشمنوں، مخالفوں، ناپسندیدہ افراد کے لیے دعا مانگیں۔ جو چیز اپنے لیے چاہتے ہیں جیسے رزق کی کشادگی، صحت، اولاد کی فرماں برداری، ملازمت میں ترقی، وغیرہ وغیرہ، تو یہ سب چیزیں اپنے مخالفین، دشمنوں کے لیے بھی مانگیں۔ انہیں تو پتہ نہیں ملیں گی یا نہیں ملیں گی، مگر رب کریم آپ کے لیے بے پناہ آسانیاں عطا فرمائے گا، رزق ان شااللہ اتنا وسیع اور کشادہ ہوجائے گا کہ آپ خود حیرت زدہ رہ جائیں گے۔

یہ بات حیران کن تھی، ابتدا میں بڑا عجیب لگتا تھا۔ اپنے ناپسندیدہ ترین لوگ جن کے بارے میں پتہ ہے کہ وہ ہم سے شدید حسد کرتے ہیں، ہمیں خوش دیکھ کر انہیں آگ لگ جاتی ہے، ان کا بس چلے تو ہمیں تباہ وبرباد کر دیں، ایسے منحوسوں پر آ گ بر سانے کے بجائے ان کے لیے ہم ہل ہل کر زور شور اور خشوع وخضوع سے دعائیں کر رہے ہیں۔ یہ آسان نہیں۔ البتہ ایسا کرنا شروع کر دیں تو کچھ ہی دنوں میں یوں لگتا ہے جیسے دل صاف ہوگیا اور اس میں کسی کے لیے میل،کدورت، غصہ، نفرت، بیزاری، شکوہ باقی نہیں رہا۔ شاید اسی کیفیت کے حصول کے لیے یہ ایکسرسائز کرائی جاتی ہے۔

شاہ صاحب نے اپنی کتابوں میں بھی یہ بات لکھی ہے۔ میں نے کئی دوستوں کو یہ بات بتائی۔ ہمارے ایک راجپوت بزرگ دوست کو تصوف سے دلچسپی تھی، صوفی بننا چاہتے تھے، ہر روز کئی گھنٹے ذکر کرتے۔ ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے انہیں یہ مشورہ جڑ دیا۔ سن کر خاموش ہوگئے، ایک دو منٹ پرتفکر انداز میں دیکھتے رہے، پھر مونچھوں پر تاؤ دے کر بولے، خاکوانی صیب! سانوں دا اے دسّو کہ اُنہاں بےغیرتاں نوں گو لہ کس طرح مارئیے۔ اے دعاواں اسیں نہیں کر سکدے۔

ایک دوست جو بڑی حلیم طبعیت کے مالک تھے، انہیں بتایا تو کہنے لگے، یار! مجھے تو اس کا بالکل اندازہ نہیں کہ کون میرا مخالف یا مجھے پسند نہیں کرتا، تو ان کے نام کیسے لوں دعا میں؟ اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق انہیں مشورہ دیا کہ آپ ایسا کریں کہ بے نام یا بے چہرہ ہی تصور کریں دعا میں کہ جو بھی میرے مخالف، مجھے پسند نہیں کرتے، یا اللہ ان سب کے لیے یہ یہ نعمت نازل فرما وغیرہ۔

ایک زمانے میں یہ پریکٹس زیادہ کی تھی، تب ایک جگاڑ یہ نکالا کہ ان بدبختوں کے لیے دعا کرتے ہوئے پہلے یہ دعا کی اللہ انہیں ہدایت دے، ان کا شر ختم کر، ان کا کینہ، نفرت، غصہ ختم کرے اور پھر ان کے لیے دل کھول کر دعائوں کی بارش کی جائے۔ ان ابتدائی جملوں سے ہماری بھی کچھ تسکین ہوجاتی کہ چلو فرشتاں کو سنڑا دا ڈتے کہ اے خبیث ھن کہیو جیے (چلو فرشتوں کو سنا تو دیا ہے کہ یہ مردود کیسے مجسم شر ہیں۔)

ہمارے ایک دوست نے ایک اور دلچسپ طریقہ نکالا، بتانے لگے کہ جب کوئی ایسا شخص ہوتا ہے جس نے میرے خلاف گھٹیا پن اور کم ظرفی کی انتہا کر دی، اتنی تکلیف پہنچائی کہ وہ معافی ڈیزرو ہی نہیں کرتا۔ اسے میں معاف تو کر دیتا ہوں، ان کے لیے دعا بھی کرتا ہوں، مگر پہلے اچھی طرح سنا کر اور دل کی بھڑاس نکال کر۔

رب سے مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ اللہ میاں! یہ ایسا مردود، بدبختِ زمانہ ہے کہ بالکل معافی ڈیزرو نہیں کرتا، اس پر تو بدترین عذاب نازل ہونا چاہیے۔ صرف آپ کی وجہ سے، آپ کی خاطر، آپ کو خوش کرنے کی خاطر میں یہ کوڑا گھٹ (کڑوا گھونٹ ) پی رہا ہوں، اسے معاف کر رہا ہوں اور ہمیشہ اس کے لیے دعاگو بھی رہوں گا۔ صرف اس لیے کہ آپ خوش ہوں، آپ کی خوشنودی حاصل کرنا ہی واحد وجہ ہے۔ اس لیے پلیز یہ بات یاد رکھیے گا اور روز آخرت مجھے اپنی شان کے مطابق صلہ عطا کیجیے گا۔

ایسا کرنے سے دل کی بھڑاس اور نفرت غصہ سب نکل جاتا ہے اور دل سکون، طمانیت سے بھر جاتا ہے۔ یقین رہتا ہے کہ رب کریم جو کسی سے ناانصافی نہیں کرتا، ذرا برابر اچھائی کا بھی بہترین صلہ دیتا ہے، وہ ضرور اس کام کو میری توقع سے کہیں زیادہ بڑا انعام دے گا۔

تو صاحبو! بات یہ ہے کہ کسی کو معاف نہیں کریں گے تو اس سے کیا مل جائے گا؟ روز آخرت آپ اسے سزا دلانے پر تلے ہوئے ہیں، فرض کریں وہ نذر جہنم بن جائے تب بھی آپ کو کیا حاصل ہوگا؟ اس دن تو ہر کوئی یہی آرزو اور خواہش کرے گا کہ اس کی اپنی تقدیر اچھی ہو جائے، وہ بچ جائے، وہ سرخرو ہوجائے۔ دوسروں کے ساتھ کچھ ہوتا ہے نہیں ہوتا، اس میں کسی کی دلچسپی ہی نہیں ہوگی۔

اس لیےاس دنیا کی زندگی میں جو بھی کیا جائے، وہ آخرت کی تیاری کی نیت سے کیا جائے تو یہی بہترین فیصلہ اور بہترین اقدام ہوگا۔

رہے نام اللہ کا ، باقی رہے نہ کو۔


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں

ایک تبصرہ برائے “معاف کرنے کا ایک حیران کن سائیڈ ایفکیٹ”

  1. جاوید اصغر Avatar
    جاوید اصغر

    اچھی تحریر ہے ۔۔۔ منفرد تصور۔۔۔

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے