نریندر مودی اور ان کی بیوی جیشودابن

نریندر مودی کی بیوی شوہر کی خوشیوں میں شریک کیوں نہیں ہوتیں؟

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

نریندر مودی نے آج مسلسل تیسری بار بھارت کی وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھالیا ہے۔ جب وہ حلف اٹھا رہے تھے تو ان کی اہلیہ جیشودابن تقریب حلف برداری میں شریک نہیں تھیں۔ وہ سینکڑوں کلومیٹر دور شہر احمد آباد میں تھیں اور انھیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں تھی کہ نریندر مودی ایک بار پھر وزیراعظم بن رہے ہیں۔ مودی نے پہلے بھی دو بار وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا، تب بھی جیشودابن تقریب میں شریک نہیں ہوئیں۔ اس سے قبل جب نریندر مودی گجرات کے وزیراعلیٰ ہوا کرتے تھے، تب بھی جیشودابن ان کی خوشی میں شریک نہیں ہوا کرتی تھیں۔ سبب یہ ہے کہ وہ انیس سو اکہتر سے نریندر مودی سے علیحدہ زندگی گزار رہی ہیں۔

جیشودابن صرف دو برس کی تھیں جب ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا۔ ان کی نریندر مودی کے ساتھ 1967 میں شادی ہوئی تھی۔ اس وقت مودی اٹھارہ برس کے تھے اور جیشودابن سترہ برس کی۔ اس سے قبل وہ تین یا چار برس تک منگنی کے بندھن میں بندھے رہے۔کہا جاتا ہے کہ شادی نریندر مودی کی مرضی کے برعکس ہوئی تھی۔چنانچہ وہ شادی کے صرف تین برس اکٹھے رہے۔

مسز جیشودابن نے مختلف انٹرویوز میں بتایا کہ نریندر مودی سے ان کی علیحدگی شادی کے صرف تین برس بعد ہی ہوگئی تھی اور ان تین برسوں میں وہ صرف تین مہینے ہی اکٹھے رہے تھے، تاہم اس دوران میں ان کے درمیان میاں بیوی جیسے تعلقات نہیں رہے۔

بھارتی اخبات ’انڈین ایکسپریس‘ سے ایک انٹرویو کے دوران مسز جیشودا بن نے بتایا کہ شادی کے بعد انھوں نے کالج کی تعلیم ترک کردی تھی تاکہ وہ ایک خاتون خانہ کے طور پر زندگی سے لطف اندوز ہوسکیں تاہم نریندر مودی نے انھیں تعلیم کا سلسلہ دوبارہ جوڑنے کو کہا۔ ان کی زیادہ تر گفتگوؤں کا موضوع میری تعلیم کی تکمیل ہی ہوتی تھی۔ حالانکہ اس سے قبل وہ مجھ سے مختلف موضوعات پر گپ شپ کیا کرتے تھے، کچن کے معاملات پر بھی۔ لیکن پھر ان کی سوئی میری تعلیم کی تکمیل پر اٹک گئی۔  پھر ایک روز مودی چلے گئے۔

جیشودابن کہتی ہیں:’ انہوں(نریندر مودی) نے مجھے ایک بار بتایا کہ میں پورے ملک کا سفر کروں گا اور جہاں دل کرے گا، جاؤں گا۔ ایسے میں تم میرے پیچھے کیا کرو گی؟ جب میں ان کے خاندان کے ساتھ رہنے کے لیے وڈ نگر آئی، تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم  سسرالی گھر کیوں آئی ہو جبکہ تم ابھی بہت چھوٹی ہو، تمہیں اس کے بجائے اپنی پڑھائی پر توجہ دینی چاہیے۔‘ واضح رہے کہ اس وقت جیشودابن مڈل اسکول کی طالبہ تھیں۔

 وہ کہتی ہیں ’ چھوڑنے کا فیصلہ میرا اپنا تھا اور ہمارے درمیان کبھی کوئی جھگڑا نہیں ہوا۔ انہوں نے مجھ سے کبھی بھی آر ایس ایس کے بارے میں یا اپنے سیاسی جھکاؤ کے بارے میں بات نہیں کی۔ جب انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق ملک میں گھومیں پھریں گے تو میں نے انھیں کہا کہ میں بھی ان کے ساتھ جانا چاہوں گی۔

پھر کئی بار جب میں اپنے سسرالی گھر گئی تو وہ وہاں موجود نہیں ہوتے تھے کیونکہ انھوں نے وہاں آنا ہی چھوڑ دیا، وہ آر ایس ایس کے کاموں ہی میں کافی وقت گزارتے تھے۔ چنانچہ بعدازاں میں نے بھی وہاں جانا چھوڑ دیا اور میں اپنے والد کے گھر  ہی رہنے لگی۔

’ علیحدگی کے بعد ہم کبھی ایک دوسرے سے رابطے میں نہیں رہے۔ آج تک کبھی ہمارے مابین بات نہیں ہوئی۔ ہم اچھے انداز میں الگ ہوئے تھے کیونکہ ہمارے درمیان کبھی لڑائی نہیں ہوئی تھی۔

جب آپ نریندرمودی کے گھر سے واپس اپنے والدین کے گھر گئیں تو اپنے اخراجات کا انتظام کیسے کرتی تھیں؟

جیشودابن کہتی ہیں’ میرے سسرال والے میرے ساتھ اچھا سلوک کرتے تھے لیکن وہ میری ازدواجی زندگی کے بارے میں کبھی بات نہیں کرتے تھے۔ میرے والد نے میری پڑھائی کی فیس ادا کی اور مجھے اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے اپنے بھائیوں سے کچھ مالی امداد بھی ملی۔ میں نے اپنی ماں کو اس وقت کھو دیا تھا جب میں دو سال کی تھی اور میں نے دوبارہ پڑھنا شروع کیا تو دو سال بعد اپنے والد کو کھو دیا۔اس وقت میں 10ویں جماعت میں تھی۔ تاہم جب ایک بار میں نے اپنی پڑھائی شروع کی تو مجھے پڑھنے میں مزہ آنے لگا۔ پھر میں نے 1974 میں ایس ایس سی کیا، اور 1976 میں ٹیچر ٹریننگ مکمل کی اور 1978 میں استاد بن گئی۔ مجھے پڑھانے میں مزہ آتا تھا۔ میں نے پہلی سے پانچویں جماعت تک پڑھایا اور تمام مضامین پڑھائے۔‘

دوبارہ شادی کیوں نہیں کی؟ جیشودابن کا کہنا تھا کہ اس تجربے کے بعد میرا دل نہیں چاہا کہ ایک بار پھر شادی کروں۔

جیشودابن سے علیحدگی کے بعد نریندر مودی نے کسی پر ظاہر نہیں کیا کہ وہ شادی شدہ ہیں۔ انھوں نے پہلی بار 2014 میں اپنی شادی کی  اس وقت تصدیق کی تھی جب انھوں نے وزیر اعظم کے عہدے کے لیے کاغذات جمع کرائے تھے۔

نریندر مودی نے آپ سے شادی کا کہیں ذکر نہیں کیا، کیا آپ کو یہ برا نہیں لگا؟ اس سوال کے جواب میں مسز جیشودابن کا کہنا تھا’ نہیں، مجھے برا نہیں لگتا، کیونکہ میں جانتی ہوں کہ ایسے حالات میں انھیں ایسی باتیں کرنا پڑتی ہیں اور جھوٹ بھی بولنا پڑتا ہے۔ میرے حالات خراب نہیں ہیں کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ ایک طرح سے میری قسمت بھی بہتر ہوئی ہے۔

مسز جیشودابن ہمیشہ نریندر مودی کی کامیابی کی دعائیں کرتی رہیں، جب نریندر مودی ابھی ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو وہ کہا کرتی تھیں کہ مودی ایک روز وزیراعظم بنیں گے۔

ان سے پوچھا گیا کہ آپ نریندر مودی کے بارے میں خبریں تلاش کرکے پڑھنا پسند کرتی ہیں؟ جیشودابن کا کہنا تھا کہ میرے ہاتھ جو کچھ بھی لگ جاتا ہے، پڑھتی ہوں۔ میں تمام اخبارات پڑھتی ہوں، ٹیلی ویژن پر خبریں دیکھتی ہوں۔ اور ہاں نریندر مودی کے بارے میں جاننا چاہتی ہوں۔

اب مسز جیشودابن کو ماہانہ 14 ہزار روپے پینشن ملتی ہے۔ وہ اپنے بھائیوں کے گھر میں رہتی ہیں۔ وہ ایک مذہبی ہندو خاتون ہیں۔ زیادہ تر وقت پوجاپاٹ ہی میں گزارتی ہیں۔

وہ اپنا ایک دن کیسے گزارتی ہیں؟ اس سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا

’ آج کل، میں زیادہ تر اپنے دن کا آغاز صبح 4 بجے سے کرتی ہوں اور امبی ما (دیوی درگا) کی دعاؤں سے شروع کرتی ہوں۔ میں اپنا سارا وقت بھکتی (دعا) میں گزارتی ہوں۔ میں زیادہ تر اپنے بڑے بھائی اشوک مودی کے ساتھ رہتی ہوں جو انجھا میں رہتا ہے لیکن جب بھی میرا دل چاہتا ہے میں اپنے دوسرے بھائی کے گھر چلی جاتی ہوں جو انجھا کے قریب برہمن وڈا میں رہتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ میرے بھائی اچھے ہیں جنہوں نے میرا ساتھ دیا۔‘

نریندر مودی اور جیشودا بن کی کہانی برصغیر پاک و ہند کی دیگر بہت سی ایسی کہانیوں میں سے ایک ہے جس میں لڑکے کی مرضی کے بغیر اس کی شادی کردی جاتی ہے۔ وہ بادل نخواستہ شادی کی رسومات پوری کرتا ہے لیکن اس کے بعد لڑکی کو اپنی بیوی نہیں مانتا۔ مجبوریوں کی ماری ایسی بے چاری لڑکیاں اسی انداز میں اگلی ساری زندگی گزار دیتی ہیں۔ وہ نہ والدین پر بوجھ بنتی ہیں اور نہ ہی اپنے بھائیوں پر۔ بلکہ  جیشودابن  کی طرح اپنی زندگی خود گزارتی ہیں ان ٹوٹے خوابوں کے ساتھ جو انھوں نے لڑکپن اور جوانی میں دیکھ رکھے تھے۔ ان ٹوٹے خوابوں کی کرچیاں انھیں ہمیشہ زخمی کرتی چلی جاتی ہیں۔


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں

ایک تبصرہ برائے “نریندر مودی کی بیوی شوہر کی خوشیوں میں شریک کیوں نہیں ہوتیں؟”

  1. جاوید اصغر Avatar
    جاوید اصغر

    دلچسپ ۔۔۔۔ مفصل ۔۔۔ منفرد۔۔۔ ایک گھریلو عورت کی کہانی۔۔۔ جو صرف عورت ہے۔۔ اور عورت ہی رہنا چاہتی ہے۔

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے