اویغور خاتون اپنے لاپتہ رشتہ داروں کے حق میں مظاہرہ کر رہی ہے

میں ایک اویغور مسلمان لڑکی ہوں

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

گلناز اویغور

میرا نام گلناز ہے اور میں اویغور مسلمان ہوں ۔ میں مشرقی ترکستان میں پیدا ہوئی جسے دنیا ’سنکیانگ‘ کے نام سے جانتی ہے، سبب یہ ہے کہ چین نے اسے یہی نام دیاہے۔

جب میں لڑکی تھی، ابھی ٹین ایج میں داخل ہورہی تھی، شاید گیارہ برس کی تھی۔ اس عمر کی لڑکی حالات دیکھ کر کافی حد تک سمجھ سکتی تھی کہ چین اس کے لئے محفوظ ملک نہیں ہے۔ اب میری عمر 25 برس ہے۔ اس قدر زیادہ برس باہر گزارنے کے باوجود سنکیانگ سے مجھے خوف محسوس ہوتاہے۔

میری کوشش ہے کہ میں اپنے بارے میں بہت زیادہ گفتگو نہ کروں ۔ میری یہ کہانی پڑھ کر شاید آپ میری پوزیشن کو سمجھ سکیں ،اگرآپ پسند کریں تو آپ اسے دوسروں کو پڑھنے کے لئے بھیج سکتے ہیں۔

مجھے یاد ہے کہ مجھے سکول میں پڑھنے کا موقع نہیں مل سکا تھا کیونکہ میں اپنے والد کے ساتھ مل کر کھیتوں میں کام کرتی تھی ۔ بعض اوقات مجھے وہاں اکیلے ہی کام کرنا پڑتا تھا کیونکہ میرے والد کی طبعیت ٹھیک نہیں ہوتی تھی ۔ میرے چھوٹے ہاتھ کام کرنے میں زیادہ معاون ثابت نہیں ہوتے تھے لیکن میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔

جب ہم مارکیٹ میں جاتے تھے تو مجھے وہ چینی سیکورٹی اہلکار یاد ہیں جن کی آنکھیں ہم پر جمی ہوتی تھیں ۔ تب مجھے ایسا محسوس ہوتاتھا کہ شاید ہم کسی دوسرے سیارے کی مخلوق ہیں، جسے وہ ناپسند کرتے ہیں۔ تاہم اس ناپسندیدگی کا اصل سبب یہ تھا کہ ہم اویغور اور مسلمان تھے۔

پھر ایک رات چینی سیکورٹی اہلکاروں نے ہمارے گھر پر حملہ کردیا، انھوں نے گھر کا ہرکونا کھدرا چھان مارا۔ میری والدہ نے مجھے تہہ خانے میں چھپادیا ۔ انھوں نے ایک چھوٹی سی شیشی میں ایک محلول مجھے تھما دیا اور کہا کہ اگرکوئی اہلکار تمھیں چھوئے تو تم یہ شربت پی لینا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس کی نوبت نہ آئی۔ انھوں نے ہمیں کہا کہ یہ معمول کی تلاشی ہے تاہم کچھ عرصہ بعد ایک ایسا خوفناک واقعہ ہوا جس نے ہمیں ملک سے فرار ہونے پر مجبور کردیا۔

میری ایک خالہ ہمارے ہمسائے میں رہتی تھیں، وہ دوسرے بچے کے لئے امید سے تھیں، ان کے گھر والے انھیں کہیں دور بھیجنے کا منصوبہ بنارہے تھے کیونکہ اویغور ماﺅں کو دوسرا بچہ پیدا کرنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔

بہرحال کسی نہ کسی طرح چینی حکام کو میری خالہ کا پتہ چل گیا، انھوں نے اسے اسقاط حمل کرانے پر مجبور کردیا۔ گرد سے اٹے ایک ہسپتال کے ایک کمرے میں ایک رات میری خالہ انتقال کرگئیں۔ وہ اس وقت چھ ماہ کی حاملہ تھیں، ان کی زندگی کو شدید خطرہ تھا لیکن ڈاکٹراپنا کام کرتے رہے۔

اس واقعے نے ہمارے خاندان کو شدید غم اورصدمہ سے دوچار کردیا ۔ چنانچہ میرے والد نے چین چھوڑ دینے کا فیصلہ کرلیا۔ ہم فوراً ترکی کی طرف روانہ ہوگئے۔ اس دوران میں ہم کسی ایک جگہ پر زیادہ دیر قیام نہیں کرتے تھے۔ اس طرح ہم دو سال تک زندگی بسر کرتے رہے۔

ان دوبرسوں کے دوران میں ، ہم چین میں اویغور لوگوں پر کریک ڈاﺅن کی خبریں سنتے رہے، ارمچی کے قتل عام کابھی پتہ چلا، مسجدوں کو شہید کرنے کی خبریں بھی ملتی رہیں، معصوم افراد کی گرفتاریوں کا علم ہوتا رہا، حتیٰ کہ ہمیں یہ بھی خبرملی کہ بیرون ملک مقیم اویغور مسلمانوں کو تلاش کرنے کے لئے آپریشن کئے جاتے ہیں۔

میرے والد نے ہمیں خبردار کیا ہوا تھا کہ اپنی اویغور شناخت ظاہر نہ کرنا۔ انھوں نے خود بھی ہمیں اویغور کلچر کی تعلیم دینے سے گریز کیا۔ پھر تھائی لینڈ سے خبرآئی کہ 300اویغور لوگوں کو وہاں سے واپس چین بھیج دیاگیا،

اس خبر نے ہمیں شدید خوفزدہ کردیا۔ حقیقت یہ تھی کہ گرفتار اویغور لوگوں کا احتجاج اور بھوک ہڑتال بھی ان کے کام نہ آسکی، اس سے معلوم ہوتاتھا کہ اگر چین نے ہمیں بھی تلاش کرلیا تو ہمیں بھی سزا دی جائے گی۔

تمام تر مشکلات جو ہم نے برداشت کیں، کے باوجود میرے والد نے ہماری تعلیم پر سمجھوتہ نہیں کیا ۔ انھوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ہماری تعلیم بہت اچھی ہو۔ ان کا خیال تھا کہ اچھی تعلیم ہی ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جائے گی جو غلامی اور خوف سے نجات دلاسکتاہے۔

وہ مجھے ایک ٹیچر بنانا چاہتے تھے تاکہ میں دنیا کو ہر فرد کے لئے ایک بہترجگہ بنانے میں اپنا کردار ادا کرسکوں۔ اگرچہ میں اپنے آپ کو ایک ایکٹویسٹ سمجھتی ہوں، جب بھی میں ناانصافی کی کوئی خبرسنتی یا دیکھتی ہوں تو میراخون کھولنے لگتاہے، پھر میں کچھ نہ کچھ کرنے کا ارادہ کرتی ہوں۔

یہ عالم ’پہلی دنیا‘ اور ’تیسری دنیا‘ کے ممالک میں تقسیم ہے، تاہم اویغور لوگوں کو کہیں بھی جگہ نہیں دی جارہی ہے۔ عالمی رہنماﺅں نے ہم لوگوں کو مظالم سہنے کے لئے چھوڑ رکھاہے، سوال یہ ہے کہ وہ آخر ایسا کیوں کررہے ہیں؟کیا ہم اویغورانسان نہیں ہیں؟

چند سال پہلے میرے اندر کی اویغور لڑکی نے مجھ پر غلبہ پالیا، چنانچہ میں نے ٹوئٹر پر اپنا اکاﺅنٹ بنایا جہاں میں بہت سے لوگوں کو چین میں جاری اویغور لوگوں کی جدوجہد سے آگاہ کرتی ہوں۔ آخر ہمیں اویغوراور مسلمان ہونے کی وجہ سے سزاکیوں دی جارہی ہے؟ ہمارا جرم کیا ہے؟بہت سے لوگ جن سے میرا رابطہ ہوا، ان میں سے کچھ نے میری کہانی جاننے کی خواہش ظاہر کی۔ تاہم میں ایسا کچھ نہیں بول سکتی جس سے میرے گھر والوں پرمشکلات آن پڑیں۔

یہ کہانی لکھنے کے بعد خدشات بڑھ گئے ہیں کہ چینی حکام میرا تعاقب کریں گے۔ ممکن ہے کہ مجھے خاموش کرادیاجائے۔تاہم میری کہانی بہت اہم ہے ۔ دنیا ایک طویل عرصہ سے اویغور لوگوں کو نظرانداز کرتی رہی ہے لیکن اب وہ ہمارے ساتھ کھڑی ہوچکی ہے۔

بہت سے دیگر اویغور لوگوں کی طرح گلناز کو بھی اغوا کیاجا سکتا ہے، اس پر تشدد کیا جاسکتا ہے، اسے قتل کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کی جنگ ، نا انصافی کے خلاف لڑائی کسی نہ کسی کو جاری رکھنی چاہئے، مجھے امید ہے کہ وہ آپ ہوں گے۔


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں

ایک تبصرہ برائے “میں ایک اویغور مسلمان لڑکی ہوں”

  1. زبیدہ رؤف Avatar
    زبیدہ رؤف

    یہ ایک تکلیف دہ صورتحال ہے ۔ عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینا چاہیے ۔