Eid corona-1

کورونا کی آزمائش، عید الفطر سے عیدالاضحیٰ تک

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

حافظہ سعدیہ انور :

عیدالا ضحیٰ نزدیک نزدیک ہے لیکن پہلےمیری کچھ با ت ہوگی چھوٹی عید یعنی عید الفطر کے حوالے سے۔ عید الفطر کا 22واں روزہ تھا جب میرے جیٹھ بہت بیمار ہوگئے، وہی کورونا ہو گیا۔ ایک دم گھر میں خوف و ہراس پھیل گیا کہ چار بچے ان کے اور دو بچے ہمارے جنھیں وہ اٹھاتے رہے تھے اور میری بیٹی یشفاء کو بہت لگاؤ ہےاپنے بڑے ابو سے، وہ زیادہ ٹائم ان کے ساتھ ہی گزارتی ہے ۔

اب کیا ہوگا؟ کیا ہمارے بچے محفوظ ہیں؟ میں بتاتی چلوں کہ میرے شوہر پانچ بھائی ہیں۔ پانچوں ہی شادی شدہ اور علیحدہ علیحدہ، اپنے اپنے گھروں میں رہتے ہیں۔ میرے شوہر سب سے چھوٹے ہیں اور ان سے بڑے دونوں ایک گھر میں رہتے ہیں۔ باقی دو گاؤں اور ایک علیحدہ فیصل آباد میں ۔

یہ سب کچھ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم سب ہر عید پر اکٹھے ہو تے تھے مگر اس عید پر دل افسردہ تھا کہ ہم نہیں جا سکیں گے، جیٹھ بھی بیمار تھے انھیں کورنٹائن کر دیا گیا۔

بہت دعائیں ما نگیں کہ یا اللہ ! ہمارے بچوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھنا، الہی انھیں کچھ نہ ہو۔

اسی طرح افسردہ افسرہ چھوٹی عید گزر گئی۔ عید کے تیسرے دن سے اور کورونا وائرس کے حملے سے چودھویں دن سے میرے جیٹھ ٹھیک ہونا شروع ہو گئے، مطلب انھوں نے کورونا وائرس کے خلاف جنگ جیت لی تھی.

شکر ہے اللہ پاک کا کہ ہمارے بچے محفوظ و سلامت رہے۔ میرے شوہر کہتے تھے کہ معصوم بچے کبھی بھی اس وبائی مرض کا شکار نہیں ہو سکتے۔ بھلا ان پر آزمائش، کیسی وہ تو ابھی فرشتہ ہیں اور فرشتے تھوڑی غلطیاں کرتے ہیں۔ بس ! یہی بات سوچ کر مجھے بھی حوصلہ ہوجاتا۔

مجھے یاد ہے کہ میرے شوہر عید کے دن بہت روئے کہ امی ابا یاد کر رہے ہو ں گے کہ اعظم نہیں آیا اس عید پر۔

جب سے میری شادی ہوئی، ان کا شیڈول تھا کہ عید کی صبح اٹھ کرعید کی نماز پڑھنے سے پہلے امی ابا کی قبر پر جاکے قرآن پاک کی تلاوت کرکے آتے، ساتھ میں بھتیجوں اور بھائیوں کو بھی لے جاتے لیکن اب کی بار امی ابا کی قبر پر بھی نہ جا سکے۔

مختصر یہ کہ عید الفطر بہت ہی افسردہ گزری۔ یہ بھی ماضی کی یادگار عید بن جائے گی کیونکہ ضروری نہیں کہ زندگی کے خوش کن واقعات ہمیشہ یاد رہیں۔ اسی طرح بہت سی تلخ یادیں بھی ماضی کا حصہ بن جاتی ہیں۔

اب کے عید الاضحی پر ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اس عید پراحتیاطی تدابیر کو اپناتے ہوئے گاؤں جائیں گے اور عید الاضحی کورونا وائرس کو شکست دیتے ہوئے منائیں گے۔

جن میں
○بار بار ہاتھوں کو دھونا ہے،
○کسی سے مصافحہ نہیں کرنا،
○گلے نہیں ملنا ،
○ماسک کا استعمال لازمی کرنا ہے،
○چھ فٹ کا فاصلہ رکھنا ہے وغیرہ وغیرہ

عید الاضحی کیسی گزری یہ تو عید کے بعد ہی بتائیں گے ، تب تک کے لیے اللہ حافظ ۔
دعا ہے کہ اللہ پاک تمام مسلمانوں کو عید الاضحی جوش وخروش سے منانے کی تو فیق دی اور ہمیں اور ہمارے بچوں کو کورونا وباء سے محفظوظ رکھے۔ آمین ثم آمین


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں

ایک تبصرہ برائے “کورونا کی آزمائش، عید الفطر سے عیدالاضحیٰ تک”

  1. راشدہ قمر Avatar
    راشدہ قمر

    بہت خوب سعدیہ
    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ