مزار حضرت علی ہجویری المعروف بہ داتا گنج بخش، لاہور

ہم بنے داتا کے ملنگ ( قسط چہارم )

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

” داتا گنج بخش “ کے مزار کے احاطے میں اور آس پاس رات کی تاریکی اور دن کے اجالے میں کون سے کھیل کھیلے جاتے ہیں؟ حیران کن انکشافات

انور جاوید ڈوگر :

ہم بنے داتا کے ملنگ ( قسط اول )

ہم بنے داتا کے ملنگ ( قسط دوم )

ہم بنے داتا کے ملنگ ( قسط سوم )

پروین جیسی کہانیاں رکھنے والی 16 سے زائد عورتیں آج بھی داتا دربار پر موجود ہیں اور ان سب کے دھندے کی نوعیت ایک جیسی ہے۔ یہ عورتیں داتا دربار پر کئی نوعیت کے دھندے کرتی ہیں۔ ایسی خواتین کا سامان اور نقدی چوری کرنا جو منت مان کر کئی روز تک داتا دربار کے احاطہ میں قیام کرتی ہیں، خواتین کے پرس غائب کر دینا، جوتے اور ٹوپیاں چوری کرنا۔ گھر سے بھاگی ہوئی لڑکیوں کو فروخت کر دینا۔ مختلف عورتوں کو گناہ کی زندگی کی طرف راغب کرنا اور گناہ آلود زندگی گزارنا ان خواتین کی فطرت کا حصہ بن چکی ہے۔

یہ خواتین مختلف جعلی پیروں کے لئے گاہک بھی گھیرتی ہیں۔ داتا دربار آنے والی خواتین سے ملاقات کے بعد یہ اندازہ ہوا کہ اکثر خواتین اپنے شوہروں یا گھر والوں کو داتا دربار آنے کے اصل مقاصد سے آگاہ نہیں کرتی ہیں۔ ایسی سادہ لوح اور جاہل خواتین جب ان شاطر عورتوں کے جال میں پھنس جاتی ہیں تو پھر وہ ناصرف جعلی پیروں کا شکار ہوتی ہیں بلکہ دربار میں موجود ان شاطر عورتوں کا بھی مستقل شکار رہتی ہیں۔

ان خواتین کی سادگی کا انجام اس قدر خوفناک اور بھیانک ہوتا ہے کہ اس کے تصور سے ہی خوف آتا ہے۔ داتا دربار کے احاطہ میں میری ملاقات پہلے ہی روز ارسلان خان کے ساتھ ہوگئی تھی۔ مجھے ارسلان خان کے ہوٹل والے کمرے کا علم تھا۔ چار اگست ہی کو میں اس کے ہوٹل میں چلا گیا تو اس ہوٹل کے منیجر نے مجھے کہا :

” شاہ جی! مجھے پرچیوں کے نمبروں میں اس مہینے 4400 روپے کا گھاٹا پڑا ہے۔ اب میری حالت یہ ہے کہ گھر میں کھانے کو بھی نہیں، بچے ٹیوشن نہیں جا سکتے۔ بیوی سے رات دن جھگڑا رہتا ہے۔ آپ دعا کریں کہ اب میرا نمبر لگ جائے اور آپ اپنے کشف کے ذریعے مجھے کوئی ایسا نمبر بنا دیں جو آئندہ اور روزانہ ہونے والی قرعہ اندازی میں نکل آئے۔

میں نے چند منٹ آنکھیں بند کر کے اسے ایک نمبر بتا دیا۔ یہ نمبر بتانے سے پہلے میں نے اس نوجوان منیجر جس کا نام فیصل ہے کو یہ مشورہ دیا کہ تم یہ نمبر لگانے کا کاروبار بند کیوں نہیں کر دیتے؟ محنت کرو، اللہ تعالیٰ نقصان کا ازالہ بھی پورا کر دے گا۔

وہ نوجوان کہنے لگا کہ مجھے ایک پیر صاحب نے بتایا تھا کہ جوئے میں پرانے والا گھاٹا جوئے کی رقم سے ہی پورا ہوتا ہے اس لئے جوا کھیلتے رہنا چاہیے۔ مجھے فیصل کی حالت پر بہت ترس آیا اور ساتھ ہی یہ یقین بھی ہو گیا کہ اسے جوا جاری رکھنے کا مشورہ دینے والا پیر بھی میری طرح کا جعلی شاہ ہو گا۔

فیصل کے ہوٹل میں ارسلان خان سے ملاقات ہوئی، وہ میرا بے حد احترام کرتا تھا۔ اس احترام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے اس کے کاروبار کے بارے میں باتیں کرنا شروع کر دیں۔ وہ کچھ باتیں تو بتا تا رہا لیکن اپنے دھندے کے اصل ” راز“ کو گول کر جاتا۔ میں نے اس کے قریب رہ کر یہ معلومات حاصل کر لیں کہ ان ہوٹلوں میں باقاعدہ اسلحہ نہیں لایا جاتا۔

اسلحہ فلائنگ کوچ کے ذریعے پشاور سے لاہور لایا جاتا ہے اور اس مقصد کے لئے ڈرائیور حضرات خصوصی کردار ادا کرتے ہیں۔ لاہور میں یہ اسلحہ بند روڈ اور پرانے ائیرپورٹ پر واقع پختون آبادیوں میں موجود بعض لوگ اصل گاہکوں تک پہنچاتے ہیں۔ ارسلان خان کے پاس میں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد کو بھی آتے جاتے دیکھا۔

میرے لئے پولیس افسروں کی اسلحہ کے سمگلر کے ساتھ ملاقاتیں کوئی عجوبہ نہیں تھیں کہ یہ بات طے شدہ ہے کہ پولیس کے تعاون کے بغیر اسلحہ کی سمگلنگ اور فروخت کا کاروبار ممکن ہی نہیں ہوتا۔ ارسلان خان نے لاہور میں اسلحہ کی فروخت کے بارے میں جو تفصیلات بتائیں اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ اگر کسی مرحلے پر ملک کے اندر سول نافرمانی کی کوئی تحریک چل پڑتی ہے تو دہشت گردی اور جرائم پیشہ افراد اس قدر اسلحہ لے کر باہر نکل آئیں گے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے انہیں کنٹرول کرنا ناممکن ہو جائے گا۔

ارسلان خان اور اس کے ساتھیوں کے ہمراہ پانچ چھ خواتین بھی ٹھہری ہوئی تھیں۔ اسلحہ کے سمگلروں کے ساتھ پنجابی خواتین کا موجود ہونا میرے لئے حیرت انگیز تھا۔ اس لئے میں اس ٹوہ میں رہا کہ ان عورتوں کے ساتھ میں سراغ لگاؤں کیونکہ یہ عورتیں مجھے صرف پیشہ ور بھکارنیں نظر نہیں آتی تھیں اگر یہ محض پیشہ ور عورتیں ہوتیں تو یہ وارداتیں ان کے ساتھ قیام کرتیں لیکن میں نے تو ان عورتوں کو چھ روز تک اس گروہ کے ساتھ مسلسل دیکھا ہے اس لئے میرے نزدیک ان عورتوں کا کردار بہت مشکوک اور پراسرار ہو گیا تھا۔

ان عورتوں کے بارے میں ہوٹل کے منیجر فیصل نے انکشاف کیا کہ یہ پٹھانوں کے ساتھ تعلقات رکھتی ہیں اور ان تعلقات کی آڑ میں خود پھیرے لگاتی ہیں۔ ایسی عورتوں کو میں نے ہوٹل میں داتا دربار کی حدود کے اندر غیر محسوس طریقے سے گشت کرتے ہوئے بھی پایا تھا یہ عورتیں لاہور کے شریف خاندانوں سے تعلق رکھتی تھیں مگر حالات نے انہیں پھیرے باز بنا رکھا تھا۔

یہ اسلحہ کے گاہک بھی تلاش کر لیتی ہیں اور پھر ان خریداروں کے درمیان دلال کا کردار ادا کر کے پیسے بھی کماتی ہیں۔ ایسی ہی ایک خاتون کے ساتھ جب داتا دربار کی حدود پر ملاقات ہوئی تو اس نے میری طرف یوں دیکھا جیسے میرا بہت احترام کرتی ہو۔ میں نے اس موقع پر بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک جملہ کہا کہ

” بی بی! یہ بھی کوئی زندگی ہے ساری زندگی گناہ میں گزار رہی ہو، آخر کب تک پھیرے بازی کرتی رہو گی۔ “ اس نے احترام سے گردن جھکا دی میں نے اسے پیار دیا اور پھر گراؤنڈ کے اندر بٹھا کر پیروں کے سے انداز میں باتیں کرنا شروع کر دیں۔ اس کے بارے میں ،میں نے چند ایسی باتیں کہہ دیں جو کہ مجموعی طور پر ہمارے گھرانوں میں ہوجایا کرتی ہیں ۔

اس خاتون نے بھی مجھے کوئی پہنچی ہوئی ہستی سمجھ کر اپنی پوری داستان سنائی اور خواست کی کہ میں ان کے کاروبار کی ترقی کے لئے دعا کروں۔ صوبیہ نے بتایا کہ کوئی دس بارہ سال قبل میرا خاوند دوسرے ملک چلا گیا۔ بیرون ملک مزدوری مل گئی اور وہ ہمیں گھریلو اخراجات کے لئے روپے بھیجتا رہا۔ اس کی ملازمت کو دو سال ہوئے ہوں گے کہ مجھے اطلاع ملی میرے شوہر امانت علی نے کسی اور لڑکی کے ساتھ شادی کر لی ہے۔

میں تین بچوں کی ماں تھی جن میں سے بڑی بیٹی تھی۔ جب شوہر کی دوسری شادی کی اطلاع ملی تو اس کے ساتھ ہی مجھے آنے والے پیسوں کا آنا بھی بند ہو گیا اور میں دنیا میں عزیز و اقارب کے رحم و کرم پر ہو کر رہ گئی۔ عزیز و اقارب آخر کب تک سہارا دیتے۔ مجھے علم تھا کہ ہمارے ساتھ والے گھر میں رہائش پذیر ایک خاتون کی سربراہ بھارت ایران اور بعض دیگر ممالک سے مختلف سامان لا کر فروخت کرتی ہے۔

میں نے اس کے ساتھ رابطہ کیا اس نے مجھے بتایا کہ
صوبیہ ! اس کام میں پیسہ تو اتنا مل جاتا ہے کہ ایک خاندان آسانی کے ساتھ گزارہ کر سکتا ہے لیکن رسک بہت زیادہ ہوتا ہے۔ میں نے کہا کہ شوہر کی بے مروتی کے بعد پریشان ہونا تو میرے مقدر کا حصہ بن چکا ہے۔ اس لئے مجھے اپنی زندگی کی کوئی پرواہ نہیں ، میں نے اپنی اولاد کی خاطر زندہ رہنا اور معاشرے کا مفید شہری بننا ہے۔

پہلی مرتبہ میں اپنے زیور فروخت کر کے عزیزوں کے ساتھ ایران گئی اور وہاں سے مال لے کر آئی۔ یہ مال فروخت ہو گیا ، سلسلہ بڑھتا چلا گیا پھر بھارت اور پھر ایران گئی۔ بابا جی ! پیسہ پیسے کو کماتا ہے۔ میں نے یہ مال لا کر لاہور میں بھی فروخت کیا تو اس سے کمائی ہوئی لیکن وہ کمائی کس کام کی جس میں عورت کی عزت محفوظ نہ ہو۔

کئی بار ایسے مختلف محکموں کے اہلکاروں کے ساتھ روابط بن گئے جو مال ملک سے لے جانے اور لانے میں امداد کیا کرتے تھے۔ ایسے ہی ایک سرکاری افسر نیاز کے ساتھ میں نے مراسم قائم کر لئے۔ ان خصوصی مراسم کے نتیجہ میں میرے گھر آنا جانا شروع کر دیا۔ اس آمدرفت کے نتیجہ میں میری لڑکی کو بھگا کر لے گیا۔ اس نے میری بیٹی کے ساتھ شادی رچا لی اور میں نے خاموشی کے ساتھ اپنے آشنا کو اس کے شوہر اور اپنے داماد کے طور پر قبول کر لیا کہ اگر کسی سے بات کرتی تو وہ کسی بھی سمگلنگ کے مقدمہ میں گرفتار کروا سکتا تھا۔

اس وقت سے آج تک میں ایک پھیرے باز عورت کے طور پر کام کر رہی ہوں ۔ اس دھندے میں ایک عورت کو کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، بابا جی میں آپ کو بتا نہیں سکتی۔ میرا خاندان اکیلا رہ گیا، بچے ہیروئن کے نشے کی لعنت میں پڑ گئے ہیں، چوری چکاری کی وارداتیں شروع کر دی ہیں اور میں اب سمگلروں کے گروہ کی ایک رکن ہوں۔

بابا جی آپ میرے لئے دعا کریں عورت کا اصل مقام گھر کی چاردیواری ہے مگر عورت جب قدم اٹھا لیتی ہے تو ایک دھیلے کی نہیں رہتی۔ اس نے کچھ ایسی چیزیں بھی دکھائیں جو وہ باڑہ مارکیٹ سے فروخت کرنے کی غرض سے لائی تھی۔ اس نے سمگلروں کے ساتھ مستقل رہنے کے سلسلے میں بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران سے مل کر ہم اپنا پھیرا لگاتے ہوئے، ان کا اسلحہ بھی علاقہ غیر میں لے آتی ہیں۔ ہم مسافر کے روپ میں سمگلر ہیں اور آتی جاتی ہیں تو ہر قیمت ادا کرنی پڑتی ہے حتیٰ کہ اپنی عزت کی قیمت چکا کر بھی دھندے کو جاری رکھنا پڑتا ہے۔

میں ایسے خاندانوں کے لئے نشان عبرت بن کے رہ گئی ہوں۔ ان کی بہو بیٹیاں اپنے شوہروں یا والدین کو کمائی کے لئے بیرون ملک بھجوا کر خوشی محسوس کرتی ہیں اور پھر ان کے خاندان برباد ہو جاتے ہیں۔ ابھی دو سال قبل میرا اپنے خاوند یہاں آیا تھا اور مجھے طلاق دے کر واپس چلا گیا ہے۔ اب میں ہوٹلوں، گلیوں ریل گاڑیوں اور ہوائی جہازوں میں دھکے کھاتی پھرتی ہوں۔

بظاہر میں بہت زیادہ خوش ہوں مگر میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ جس عورت کے پاس عزت نہ ہو اور اس کے پاس بابا جی کچھ بھی نہیں ہوتا۔ میں بھی اس کی باتوں پر غور کر رہا ہوں اور آنکھیں بند کر کے اس کی کہانی سن رہا ہوں۔ وہ خاموش ہو جاتی ہے۔

تھوڑی دیر بعد جب میری آنکھ کھلتی ہے تو کیا دیکھتا ہوں کہ صوبیہ اپنے گروہ کے ایک فرد کے ساتھ چند قدموں کے فاصلے پر سلام کے لئے داتا دربار کی طرف جا رہی تھی۔ ( جاری ہے )


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں