Pakistani Old woman and girl

وہ دِل، وہ دِیا

·

نانی اماں جی کے پہلو میں لیٹ کر پاکستان بننے کی کہانی اور سفرِ ہجرت کی داستان سننا ننّھی کے بچپن کا وہ ان مٹ نقش ہے جو کبھی مدہم نہ ہو سکا۔

گرمیوں میں گھر کی چھت پہ رات کو کھلے آسمان، خوبصورت جگمگ کرتے تاروں کی چھاؤں کا ساتھ ہو، بدلتے موسم کے رنگ ہوں، برسات کے پکوان کی خوشبو ہو…… یا پھر سخت سردی میں ٹھٹھرتے ہاتھ پاؤں لے کر اماں جی کے ساتھ انگیٹھی پہ ہاتھ تاپتے ہوئے گرمائش کا احساس…… یا جاڑے کے سناٹے میں رات کو گلی سے کتے کے بھونکنے اور بلی کے رونے کی آواز سے خوفزدہ ہونا اور لحاف میں گھس کر اماں جی کے سینے میں منہ چھپا کر کانپتے دل پہ قابو پانے کا مرحلہ، ہر حال میں کسی نہ کسی طور پر ہجرت کا ذکر آ ہی جاتا…… ننّھی کو محسوس ہوتا، ہر موسم، ہر کیفیت کے ساتھ سفرِ ہجرت کا احساس جڑا ہوا ہے…… ٹرین کا لمبا سفر ہوتا، یا گاؤں جانے کے لیے تانگے میں بیٹھنا ہوتا…… گاؤں کے کھیت ہوتے یا کچے گھر، پکی گلیاں ہوتیں یا پکے گھر، داستانِ ہجرت کا کوئی نہ کوئی پہلو کھٹ سے اپنے پٹ کھول دیتا…… ننّھی، اماں جی اور پاکستان…… ایک ایسی تکون تھی جس کو آج بھی کوئی نہیں توڑ سکا۔

بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اماں جی، بیتے دنوں کو یاد کرتی جاتیں اور جانے کب ن

ننّھی کی آنکھ لگ جاتی اور قصے کا کوئی حصہ ادھورا رہ جاتا۔ چند سال کی ننّھی کہانیاں سننے کی شوقین تھی۔ کہانی کی نہ بنت سمجھ آتی، نہ شروع کے مناظر یاد تھے، نہ ہی انجام تک آنکھیں انتظار کرنا جانتی تھیں۔ اسکول جانے کی عمر سے پہلے چند ناموں اور لفظوں کی تکرار اس کے ذہن میں رہ جاتی۔

دارالسلام، روڑی، سرسہ، بابا جی، سفر کی تھکاوٹ، پیاس اور خوف۔ بیماری اور موت، ان سب کے ساتھ ایک لفظ ‘پاکستان‘ کی تکرار۔

دو چار سال بعد لفظوں اور جملوں کی ترتیب اور واقعات کا سرا ننّھی کے منے سے ذہن میں سمانے لگا۔

سید ابو الاعلیٰؒ نے پٹھان کوٹ میں ‘دارالسلام‘ کے نام سے ایک بستی بنائی تھی۔ اس کی طرز پر حکیم عبداللہؒ، چوہدری نذیر احمدؒ نے دوسرے ساتھیوں، نوجوان لڑکوں کے ساتھ مل کر سرسہ شہر سے باہر ایک بستی ’دارالسلام‘ کے نام سے آباد کی تھی…… سرسہ شہر کے قریب ایک گاؤں ‘روڑی‘ میں اماں جی اور سب لوگ رہتے تھے۔ دارالسلام میں مسجد، مدرسہ تھا اور اسلام سے محبت کرنے والے گھرانے بچوں کو یہاں پڑھنے بھیجتے اور آہستہ آہستہ وہاں آباد ہو رہے تھے۔ ہم اس مثالی بستی کو چھوڑ کر مثالی ملک بنانے نکلے تھے۔ اب ننّھی اس قابل ہو گئی تھی کہ سمجھ نہ آنے والی بات پہ سوال کر سکے، اور کچھ معلومات میں اضافہ اور کہانی کی ترتیب کو سنبھال سکے۔

’اماں جی! ہندو کیسے ہوتے ہیں؟‘ ننّھی کے ذہن میں ہندو کے نام سے انسان کا تصور نہ بندھ رہا تھا۔

اماں جی کے چہرے پہ مسکان سی آئی۔

’ہوتے تو انسان ہی ہیں۔ مگر ان کے سر پر چوٹی ہوتی ہے بالوں کی…… اور وہ بتوں کو پوجتے ہیں، اللہ کو نہیں مانتے، مسلمانوں کو ملیچھ سمجھتے ہیں۔‘

’ملیچھ؟’ ننّھی کی حیرت سے پھٹی آنکھیں دیکھ کر اماں جی کے چہرے پر مسکراہٹ گہری ہو گئی۔

’ملیچھ، یعنی ’ناپاک‘۔ وہ اپنے گھروں میں مسلمانوں کو نہیں آنے دیتے۔ ان کے برتن کو مسلمان چھو لے تو اس کو پاک کرتے ہیں۔ ان کا جوٹھا پانی نہیں پیتے۔‘

اماں جی کے لہجے میں گہری اداسی اور آواز میں نقاہت سی آ جاتی۔ ننّھی کو یہ سب کچھ سمجھ نہ آتا…… مگر سر پر بالوں کی ایک لمبی سی چوٹی والا ہندو اسے ڈرانے کو کافی تھا۔

اماں جی جب بھی شہر سے باہر کسی بیٹے کے پاس جاتیں تو ننّھی ان کی ہم سفر ہوتی۔ رحیم یار خان، بہاولپور جانا ہوتا تو نانی اور ننّھی کا ساتھ نہ چھوٹتا اور اس سے بھی پہلے جب وہاڑی میں ان کے چھوٹے بیٹے کی اسکول میں ملازمت تھی۔ ننّھی اسکول کی ابتدائی کلاسوں میں تھی۔ ان دنوں چھٹیاں تھیں۔ سالانہ امتحان ہو چکے تھے۔ بہار کا موسم تھا۔ رم جھم سی ہوتی رہتی۔ ٹھنڈی ہوائیں…… چھوٹا سا گھر…… چھوٹے ماموں، اماں جی اور ننّھی کا ساتھ خوب تھا۔

دودھ جلیبیاں، چوری، گرم گرم تازہ دودھ…… اور کہانیاں پڑھنے کو روز نُنّھے بچوں کو نئی کتابیں…… جو چھوٹے ماموں اسکول کی لائبریری سے روزانہ لاتے…… اماں جی اور ننّھی کی تو روز عید تھی، دونوں مطالعہ کی شوقین، فیروز سنز کی ساری کتابیں دنوں میں ختم ہو گئیں جو وہ پڑھ سکتی تھی۔

’ننّھی! وہاڑی اور روڑی دونوں ملتے جلتے ہیں نا!‘

’جی! آپ کو یاد آ رہا ہے اپنا گاؤں؟‘

’یاد تو آتا ہے…… مگر اب تو اپنا پاکستان ہے نا! تمھیں پتہ ہے پاکستان کے معنی ہیں: پاک جگہ یا پاک رہنے والوں کی جگہ۔‘

اور پھر سفرِ ہجرت، ہجرت کی اہمیت اور اس کے نتیجے میں ملنے والے ثواب پہ خوش ہوتی رہیں۔

ایک دن ننّھی نے سوال کیا۔

’اماں جی! کیا آپ کو پتہ تھا کہ اگر پاکستان بنا تو اس طرح مسلمانوں کو قتل کیا جائے گا؟‘

’نہیں۔ سرسہ ہمارے گاؤں کے ساتھ شہر تھا۔ اور ارد گرد کے سارے لوگ بابا جی (مولانا محمد سلیمانؒ) کی بہت عزت کرتے تھے۔ ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کی غمی خوشی میں شریک ہوتے تھے۔‘

’کیسے شریک ہوتے تھے؟ جب ہندو مسلمانوں کو اپنے قریب بھی نہیں آنے دیتے تھے……‘ ننّھی کی آنکھوں میں بے یقینی سی تھی۔

’ہندو کو جب اپنا فائدہ نظر آتا ہے نا تو وہ گدھے کو بھی باپ بنا لیتا ہے۔‘چھوٹے ماموں نے جواب دیا جو ساتھ ہی بیٹھے تھے۔

’کیا فائدہ تھا اس کو؟ پہلے مل جل کر رہ رہے میں؟‘ ننّھی کو اب سوال بہت آنے لگے تھے۔

’ان کو پتہ تھا کہ اگر انھوں نے مسلمانوں کو تکلیف دی تو ان کا برا حشر ہوگا۔ ہندو جو ہے نا! وہ بزدل بھی ہوتا ہے!!‘

’تو ان کے لیے تو اچھا ہی تھا نا! کہ مسلمان علیحدہ رہیں، وہ علیحدہ۔ دونوں کو ایک دوسرے کا ڈر نہ ہو…… ان کو کیا تکلیف تھی مسلمانوں کا ملک بننے سے؟‘ ننّھی سخت مشتعل تھی۔

’وہاں کے ہندو دراصل انگریزوں کے جانے کے بعد ہندوستان پہ حکمرانی کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے اور مسلمانوں کو غلام بنا کر رکھنا چاہتے تھے۔‘

چھوٹے ماموں اس وقت بالکل ماسٹر صاحب لگ رہے تھے…… ننّھی نے اکتاۓ سے لہجے میں بے زاری کا اظہار کیا اور منہ سر لپیٹ کر بستر میں لیٹ گئی…… رات بھر مچھر کاٹتے رہے اور اگر نیند آتی تو ہندو کی چوٹی زور زور سے ادھر ادھر ہلتی نظر آتی جیسے ہندو بندر کی طرح چھلانگیں لگاتا دیواریں پھلانگتا، مارنے آ رہا ہو…… خوف سے ننّھی کا دل دھک دھک کرنے لگتا…… اسی خوف کی حالت میں ننّھی، اماں جی سے جا کر لپٹ گئی۔

’کیا ہوا؟‘

’اماں جی، ہندو آ جائے گا…… ڈر لگ رہا ہے۔‘

’کملی نہ ہوتو…… یہ پاکستان ہے، یہاں کوئی ہندو تمھیں کچھ نہیں کہہ سکتا۔‘ اماں جی نے ننّھی پہ آیت الکرسی پڑھ کر پھونکی۔

جب ۶۵ء کی جنگ لگی تو اماں جی کی حالت دیدنی تھی۔ اٹھتے بیٹھتے فتح کی دعائیں مانگا کرتیں، اور ننّھی کو ہر روز پاکستان کی طرف ہجرت کے روح فرسا واقعات سننے کو ملتے۔ ننّھی کا یقین پختہ ہوتا جاتا کہ مسلمان ہندوؤں کے ساتھ نہیں رہ سکتے تھے۔

’ایسے ہی مفت میں نہیں بن گیا پاکستان، خون کا سمندر دیکھا ہے ہم نے، کتنے شیر جوان قربان کیے ہیں…… اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے یہ جگہ دی ہے۔ مدینہ بنانے کے لیے…… لوگو، قدر کرو، قدر کرو۔‘

ہر آتے جاتے فرد کے پاس بیٹھ کر دہائی سی دیتی اماں جی۔ جنگی ترانے سنتیں، فوجی جوانوں کے پیغامات سنتیں اور ہونٹ ہل رہے ہوتے دعا کے ساتھ۔

خبریں لازماً سنتیں…… روزانہ سورۃُ الفتح کی تلاوت کرتیں۔ ’نَصْرٌ مِّنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ‘قرآن پڑھنے والی شاگرد لڑکیوں کو یاد کروا دی تھی…… کسی کو فضول باتیں کرنے کی اجازت نہ تھی…… زبان ہلانی ہی ہے تو فتح کی دعا مانگو۔

ننّھی نے جان لیا کہ پاکستان سے تعلق، لگاؤ، اس کی فکر اور اس سے محبت اس لیے ہے کہ اس کی بنیادوں میں ایمان، یقین، مدینہ کی بو باس رچ گئی ہے…… یہ اسلام کا قلعہ ہے، اس سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔

’اماں جی! آج شروع سے ساری کہانی سنا دیں ہجرت کی۔‘ننّھی کے لیے اب بہت کچھ سمجھنا آسان ہو گیا تھا…… مگر اماں جی کے لہجے میں یاسیت سی آتی جا رہی تھی۔

’پاکستان کا مطلب کیا— لا الٰہ الا اللہ…… کیا تمھیں لگتا ہے کہ یہ مطلب واضح ہو رہا ہے۔ پاکستان میں؟‘ الٹا اماں جی نے سوال کر دیا۔

پھر خود ہی تھکی تھکی سی کہنے لگیں۔

’ملاوٹ والی چیزیں مل رہی ہیں…… آنکھوں میں حیا ختم ہوتی جا رہی ہے……‘ ننّھی کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہ تھا۔

جب ۷۰ء کے الیکشن ہوئے تو بھی پاکستان کو پاکستان بنانے کی دہائی دیتی رہیں۔ ننّھی نے جان لیا تھا کہ اماں جی کو اپنے پاکستان کو بنانے میں جو کچھ قربان کرنا پڑا۔ اس کی یاد تازہ کرتے رہنا ایک خوراک ہے جو کسی کمزور ہوتے انسان کو دیے جانا ضروری ہوتا ہے۔

’اماں جی! آپ کو کتنے دن لگے تھے سرسہ شہر سے پاکستان کی سرحد تک پہنچنے میں؟‘ ننّھی نے آغاز کر دیا……

’پندرہ دن لگے…… چھوٹے بچے، بیمار لوگ، کھانے کی قلت…… پینے کے لیے نہر کا گدلا پانی، گاؤں والے گھر سے نکلنے کے بعد دو عیدیں ہم نے مہاجرت و مسافرت میں منائیں…… جب کچھ ٹھکانہ نہ میسر آیا تو ہیضے کی وبا آئی…… گنتی کے چند دنوں میں گھر سے کئی جنازے اٹھے۔‘

دونوں کی آنکھوں میں نمکین پانی تیرنے لگا۔ ننّھی نے یہ سب جنازے نہ دیکھے تھے مگر اماں جی کی آنکھوں کے چراغ مدہم ہونے لگتے۔ ٹھنڈی سانسیں بھرتیں— اِنَّا لِلّٰہ پڑھتیں اور صبر کے بہترین اجر کے یقین سے پرسکون سی ہو جاتیں۔

’اماں جی! آپ کے خیال میں پاکستان، ’پاکستان‘ کیوں نہیں بنا اب تک؟‘ ننّھی کو اس دن بہت بے تابی تھی۔ اماں جی کے منہ سے جواب سننے کی۔

پاکستان رمضان المبارک کی ۲۷ تاریخ کو دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ یہ ۱۴ اگست کو کیوں بنا دیا قومی دن؟

دیکھو، اگر ۲۷ رمضان المبارک کو آزادی کا دن مناتے تو اس رات ہر سال کتنی دعائیں، عبادتیں ہوتیں…… اللہ تعالیٰ بھی خوش ہوتا، لوگوں کو ہدایت ملتی۔ آپ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں اماں جی…… ننّھی کو یہ بات اچھی طرح سمجھ آ گئی۔

ننّھی اور اماں جی کے درمیان پاکستان کی طرف ہجرت کے بارے میں آخری لمبی گفتگو ان دنوں ہوئی جب ۷۰ء کے الیکشن کے نتائج نے سب کو پژمردگی کے حصار میں جکڑ رکھا تھا۔

’ننّھی! تم اچھی طرح روؤ…… یہ رونے کا ہی مقام ہے۔ ایسے حالات میں نہ روئیں تو پھر کس پہ روئیں گے؟‘

’یہ پاکستان نہیں ہے۔ لوگوں نے اسے ناپاک ستان بنا دیا ہے، کتنی مہنگائی ہے۔ کتنی بے حیائی بڑھ گئی ہے۔ بے ایمان لوگ ہیں۔ بے غیرت و بے حیا۔‘

اماں جی کو بے حیائی بڑھ جانے کا غم ستائے رکھتا تھا…… جب حیا نہ رہے تو پھر ہر برائی آتی جاتی ہے۔ بغیر کسی رکاوٹ کے۔

’کیا ہم نے ایک لمبا سفر اور مشقت اس لیے برداشت کی تھی کہ اپنے وعدوں سے منکر ہو جائیں۔ مال، جان، گھر بار، اسباب، عزت آبرو لٹا کر یہ منزل پا رہی ہے قوم؟‘

ننّھی کے پاس کیا جواب تھا بھلا؟

’کئی روز بھوکے پیاسے پیدل چل چل کر جب قافلہ بیکانیر میں داخل ہوا تو وہاں کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان کی سرحد میں داخل ہونے کے لیے…… صحرا میں پڑے رہے بے یار و مددگار…… لگتا تھا منزل چند قدم دور ہے مگر پہنچنا مشکل ہے۔ سارا قافلہ بیکانیر کے صحرا میں اپنی موت دیکھ رہا تھا…… وہ اللہ ہی ہے جو مشکلات میں آسانی پیدا کرتا ہے۔ سب کو پتہ ہے کہ پوری پوری ٹرین کے مسافروں کے ٹکڑے ہی پہنچے پاکستان میں۔ یہ ہے اس کی بنیادوں میں ڈالا جانے والا مصالحہ…… کیا اس کی بنیادیں ہم نے کمزور بنائی ہیں؟‘

اماں جی خود بھی تھک سی گئی تھیں…… ماہ و سال نے ان کے وجود کو بھی کھوکھلا سا کر دیا تھا۔

۷۱ء کی جنگ میں اماں جی نے کیا محسوس کیا اور کیا ہوا، ننّھی اس سے بے خبر رہی کہ وہ حصولِ تعلیم کی وجہ سے ان سے دور تھی۔ البتہ جس دن اسلامی سربراہی کانفرنس لاہور میں ہوئی وہ خاصی خوش تھیں۔ ریڈیو پر براہ راست اسلامی ملکوں کے سربراہوں کی آمد و استقبال کا حال سنتی رہیں۔ اور ننّھی بھی اس خوشی میں شریک رہی۔ معمر قذافی کی تقریر کا ترجمہ ساتھ ساتھ ہو رہا تھا۔ جوش، ولولے، امید نے ننّھی اور اماں جی کو شادسا کر دیا، مگر بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کا اعلان ہوا اور اخبار میں خبریں آئیں تو ننّھی اماں جی کی گود میں سر رکھے روتی رہی…… اور کمزور بوڑھا سا ہاتھ سر پہ دھرارہا جس میں جان نہیں تھی۔

شاہ فیصل کی شہادت پہ ننّھی اور اماں جی نے کوئی خاص تبصرہ نہ کیا۔ مگر دکھ اور صدمہ کی وہ کیفیت جو اندھیرا بڑھ جانے اور روشنی کی امید نظر نہ آنے پہ ہوتی ہے وہ بغیر کہے سمجھ آ رہی تھی۔

کچھ ہی دنوں بعد ننّھی رخصت ہو کر پیا کے ساتھ پردیس چلی گئی…… آج اماں جی کو دنیا سے رخصت ہوئے ربع صدی سے زیادہ ہو گیا ہے۔ ننّھی بھی نانی اور دادی بن گئی…… پاکستان کیسا چاہا تھا…… کیا بن گیا۔ ہندو تہذیب ہر گھر میں ڈیرہ جما رہی ہے۔ نظریۂ پاکستان کی نفی کی جا رہی ہے۔

غریب عوام غریب تر ہوتے جا رہے ہیں اور اس کے امیر حکمران امیر ترین ہوتے جا رہے ہیں…… پاکستان بنانے والے رخصت ہوتے جا رہے ہیں اور ہجرت کی داستان سننے والے بھی ان کے پیچھے جانے کو تیار ہیں۔ نئے پاکستان کا بہت غل ہے۔ اب پاکستان، پاکستان بنے گا؟ وہ خواب کب پورا ہوگا؟

وہ خواب، گل رنگ خواب

جس کی تعبیر تمنا میں آنکھیں کھلی ہی رہیں

وہ روشنی،

جس کی ضو کے لیے میں نے زندگی تج دی

وہ منزل

جس کے لیے میں نے قدموں کو آشنائے صعوبت کیا

وہ قلبِ حزیں

جو تکمیلِ تمنا کی آرزو میں نیم بسمل رہا

ہاں وہ خواب، گل رنگ خواب

خوشبو، مہک، تازگی، زندگی

روشنی، چاندسی روشنی

ضیاء، نور، آشتی، آگہی!

کہاں کھو گئی؟

وہ راستہ، سیدھا راستہ

علم و عمل، وہ جذبۂ جاں افزا

کہاں رہ گیا؟

وہ دل، وہ دیا…… کہاں بجھ گیا؟

آؤ، آج ہم تم سبھی

ہاں مل کر ابھی،

اس بجھتے دیے کو شمعِ سوز و دروں سے روشن کریں

ہم دیے سے دیے کو جلاتے چلیں۔

❖ ❖ ❖

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں