یوم آزادی مبارک ‏: تیری رہبری کا سوال ہے؟

·

تو اِدھر اُدھر کی نہ بات کر، یہ بتا کہ قافلے کیوں لُٹے‎

تری رہبری کا سوال ہے، ہمیں راہزن سے غرض نہیں

یہ  جامعہ دہلی میں  اردو کے سابق پروفیسر  ڈاکٹر شہاب جعفری  ‏‏(1930-2000)کا مشہور شعر ہے مگر لوگ پتا نہیں کس کس  سے ‏منسوب کردیتے ہیں اور بعض  نے تو تحریف  کرتے  ہوئے  دوسرے  مصرع  ‏میں  لفظ  غرض کو ’’گلا ‘‘ کردیا ہے۔اس  شعر  کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ‏تقسیمِ ہند پر کہا گیا تھا  اور مخاطب اس کے بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لال  ‏نہرو تھے۔یہ شعر بھارتی پارلیمان میں بھی کئی مرتبہ پڑھا  گیا ہے۔‏

روایت ہے کہ ایک بار وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد نے پارلیمان ‏میں وزیراعظم جواہر لال نہرو کے سامنے  یہ شعر پڑھا تھا۔ اس وقت شہاب ‏جعفری کی شاعری اپنے ابتدائی  ایّام میں تھی اور وہ  کوئی زیادہ مشہور نہیں ‏ہوئے تھے اور اس وقت ترقی پسند تحریک کا دم بھرتے تھے۔

سینہ گزٹ ‏کے مطابق گورکھ پور یونیورسٹی یا کسی اور جامعہ  کے جلسہ تقسیم عطائے اسناد ‏کے موقع پر جواہر لال نہرو مہمان  خصوصی تھے۔وہاں میزبانوں میں سے ‏کسی نے یہ شعر جواہر الال نہرو کو مخاطب ہوکر پڑھ  دیا  تو اس کے بعد کہتے ہیں ‏کہ نہرو اتنے دل گرفتہ ہوئے کہ وہ  تقریر نہیں کرسکے تھے۔ شاعر نے ان کی ‏طرف اشارہ کرکے کہا کہ بلوائیوں  اور راہزنو ں کا کام ہی قافلوں کو لوٹنا ‏تھا۔ان کی لُوٹ مار  سے ہمیں کوئی غرض نہیں۔ آپ اِدھر بھارت یا اُدھر ‏پاکستان کی  بات نہ کیجیے، فقط یہ بتائیے کہ آپ کی رہبری کیا ہوئی؟آپ راہبر ‏قوم  تھے اور ہندوستان کی تقسیم کے وقت اس خونریزی کو کیوں نہیں روک ‏سکے۔ راہزنوں ، قاتلوں اور لٹیروں کو قتل وغارت سے کیوں نہیں روکا؟

‏1947؁ میں تقسیم  کے ہنگام  اتنی قتل  وغارت ہوئی تھی کہ کسی ‏ملک کی پیدائش  یا تقسیم کے وقت پہلے کبھی اتنا خون  نہیں  بہا  تھا۔ جنگوں میں ‏لوگ کام آتے تھے لیکن  کسی ملک کے قیام  کے وقت نہیں۔ مورخین  اور ‏محققین  کے  محتاط  انداز وں کے مطابق صرف پنجاب  پانچ سے  10 لاکھ افراد ‏مارے گئے تھے اور اس سے دُگنا نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔صوبہ جموں ‏میں دو لاکھ  افراد مارے  گئے اور تین لاکھ  مہاجرت کی زندگی گزارنے پر مجبور ‏کردیے  گئے تھے۔

اس قدر خونریزی اور آبادی کی  اکھاڑ پچھاڑ کو  دیکھ کر قائد اعظم محمد علی ‏جناح سے مولانا ابوالکلام آزاد  تک سبھی مسلم قائدین آبدیدہ تھے۔کسی کے ‏وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ اس قدر خون بہے گا اور یوں لاکھوں کی تعداد ‏میں لٹے پٹے قافلے دہلی اور مشرقی پنجاب سے مغربی پنجاب پہنچیں ‏گے۔ مولانا آزاد نے سربرآوردہ مسلمانوں کو دہلی میں روکنے  اور تحفظ مہیا ‏کرنے کی کوشش کی لیکن انھوں نے جب  عرض کیا کہ اب تو جان کے لالے ‏پڑ گئے اورانتہا پسند  ہندو اور سکھ  بلوائیوں  کا زور ہوگیا تو پھر مولانا نے انھیں  ‏نہیں روکا  بلکہ خود مسلمان افسروں سے کہا کہ جاؤ اور جاکر پاکستان کو مضبوط ‏بناؤ۔ بڑے صنعت کارمسلم  خاندانوں کا  پاکستان بھیجا۔ ان میں ایک شیروانی ‏خاندان تھا  جو لاڑکانہ اور دوسرے علاقوں میں آباد ہوا۔ان کے  محفوظ انخلا کا ‏بندوبست کیا۔یہ تمام تفصیل تو خود مورخ پاکستان ڈاکٹر صفدر محمود مرحوم ‏نے لکھی تھی اور بہت سے عینی شاہدین نے مولانا آزاد اور مولانا حفظ الرحمٰن ‏سیوہاروی کے مسلمانوں کو بچانے کے لیے اپنی جانیں تک داؤ پر لگانے کے ‏واقعات نقل کیے ہیں۔

جب ہر کہیں ’بیلے وچھیاں لاشاں تے لہو دی بھری چناب ‘ کا منظر ‏تھا تو سرحدکے دونوں اطراف  مسلم لیگ اور کانگریس کے بڑے قائدین سر ‏جوڑ کر بیٹھے،مشرقی اور مغربی پنجاب سے لوگوں کے انخلا اور نقل مکانی کو ‏کچھ منضبط اور مربوط کیا۔ پھر کہیں جا  کر  خونریزی کا سلسلہ تھما تھا  لیکن  تب ‏تک صدیوں سے اکٹھے رہنے والے انسان  ایک دوسرے کا  بہت خون بہاچکے  ‏تھے ور ظاہر ہے ، بہتے خون میں ، خون ِمسلم کی ارزانی تھی۔

‏14 اگست 2026‏

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں