نگری دنیا بھر سے نرالی ( مصر کی مختصر تاریخ)
یوں تو مشرقِ وسطیٰ کہلانے والے اس خطّے کے چپے چپے پر تاریخ نے اپنے نقوش چھوڑے ہیں، مگر معلوم تاریخ کا شاید ہی کوئی سنگِ میل ایسا ہو جس کی یادگار مصر میں موجود نہ ہو۔ تمام آسمانی کتب میں اس کا تذکرہ موجود ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بی بی سارہ کے ساتھ مصر کا سفر کیا۔ حضرت ہاجرہ، جن کے نقشِ قدم پر کروڑوں مرد دوڑتے ہیں، کا تعلق مصر ہی سے تھا۔ اسی نسبت سے دورِ فاروقی میں جب مصر پر فوج کشی کی گئی تو ہدایات یہ تھیں کہ مصری ہمارے ننھیالی ہیں، ان سے اچھا سلوک رکھا جائے۔
عربوں کے تین بڑے نسلی گروہوں میں سے ایک عربِ عروبہ یعنی ARABIZED ARAB کہلاتا ہے۔ یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد ہیں، جو دراصل عرب باشندے نہیں تھے، کیونکہ حضرت ابراہیم کا تعلق موجودہ عراق کے شہر اُر (Ur) سے تھا۔ حضرت ہاجرہ عربوں کی ماں تھیں اور اس طرح ہم مسلم شناخت رکھنے والوں کا بھی مصری تہذیب سے تعلق بہت گہرا ہے۔
آسمانی صحیفوں کے مطابق حضرت یوسف علیہ السلام کو کنعان، یعنی فلسطین، سے مصر لے جا کر بیچ دیا جاتا ہے۔ بعد ازاں بنی اسرائیل، یعنی حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد، کو مصر میں بسایا گیا۔ فرعون کے ظلم سے تنگ بنی اسرائیل کو نجات دی گئی، جسے یہود ایکسوڈس (EXODUS) یعنی خروج کا نام دیتے ہیں۔ ایک دلچسپ امر یہ ہے کہ کچھ یہودیوں کے مطابق اٹھارویں اور انیسویں صدی میں یہود کی یورپ کے مظالم سے نجات کے لیے امریکا ہجرت بھی ایک طرح کا خروج تھا، گو یورپی یہودیوں کے بنی اسرائیل کی نسل سے ہونے کے معاملے میں تاریخ متنازع ہے۔
بنی اسرائیل نے 40 سال صحرائے سینا میں قیام کیا، جو اس وقت موجودہ مصر کا حصہ ہے۔ بائبل کا بابِ خروج دراصل انہی واقعات کو اپنا موضوع بناتا ہے۔ بائبل کے اس باب پر ہالی ووڈ میں بے شمار فلمیں بنائی گئیں۔ 2014ء میں بننے والی کثیر بجٹ کی فلم ایکسوڈس بھی اسی موضوع پر تھی۔
تاریخ کے مطابق فراعنۂ مصر کا تذکرہ تمام آسمانی صحیفوں میں موجود ہے۔ ان کا دور کوئی تین ہزار سال قبلِ مسیح سے شروع ہو کر 500 قبلِ مسیح پر ختم ہوتا ہے۔
کوئی 500 ق م میں مصر فارس اور 326 ق م میں سکندرِ اعظم کی فارس کے خلاف مہم جوئی کے بعد موجودہ ترکی، عراق، شام، فلسطین کے ساتھ مصر بھی یونانی حکومت کے زیرِ اثر آگیا۔ سکندر کو اللہ نے بہت مختصر زندگی دی۔ معمولی بخار سے اس کی موت کے بعد اس کی سلطنت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ مصر اس کے جرنیل بطلیموس کے حصے میں آیا۔
اور جن خاتون کو ہم قلوپطرہ کے نام سے جانتے ہیں، وہ مصری نہیں بلکہ اسی یونانی بطلیموسی خاندان کی آخری چشم و چراغ تھیں۔ خاصی رنگین مزاج خاتون تھیں۔ مشہور اور مقبول رومی حکمران جولیس سیزر کی مدد سے انہوں نے اپنا اقتدار قائم رکھنے کی کوشش کی۔ رومی سینیٹ میں سیزر کے قتل کے بعد اس کے دوست انتھونی سے بھی ان کی راہ و رسم رہی، جو سیزر کے جانشین اور انتھونی کے برادرِ نسبتی آگسٹس سیزر کو کچھ زیادہ پسند نہ آئی، اور انہوں نے مصر پر چڑھائی کر دی۔
انتھونی تو مارا گیا اور قلوپطرہ نے خودکشی کر لی۔ شیکسپیئر نے اس واقعے پر شہرۂ آفاق تصنیف انتھونی اینڈ قلوپطرہ (Antony and Cleopatra) تحریر کی، جس نے قلوپطرہ کے ساتھ ساتھ انتھونی کی زندگی کو بھی امر کر دیا۔ یہ 47 ق م کا واقعہ ہے اور اس کے بعد سے دورِ فاروقی تک مصر رومی قبضے میں رہا۔
دورِ فاروقی میں مسلمانوں نے جب یروشلم کا محاصرہ کیا تو شہر والوں نے دروازہ کھولنے کے لیے شرط رکھی کہ عمر رضی اللہ عنہ کو بلاؤ۔ فلسطین کے سفر کے دوران حضرت عمرو بن العاص نے، جو ایامِ جاہلیت میں مصر کا سفر کر چکے تھے اور اسکندریہ کی شان و شوکت کو اپنی نظروں سے دیکھ چکے تھے، مصر پر چڑھائی کی تجویز رکھی۔
عمرو بن العاص سے منسوب اسلامی تاریخ کا یہ واقعہ مجھے ہمیشہ بہت مزے کا لگتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مفتوحہ علاقوں کے انتظام، مسلمانوں کے جان و مال کے تحفظ اور اقلیتوں کے حقوق کے معاملے میں بہت حساس تھے۔ کسی خطے کو فتح کر لینا آسان، لیکن اس کی انتظامی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونا آسان نہیں۔ اس حقیقت کا آپ کو پوری طرح ادراک تھا۔ آپ کچھ متامل ہوئے، لیکن حضرت عمرو بن العاص کے اصرار پر چار ہزار کی فوج ان کے حوالے اس تاکید کے ساتھ کی کہ اگر العریش (فلسطین اور قاہرہ کے درمیان صحرائے سینا کا ایک قصبہ، جو فلسطین کے رفح بارڈر سے کوئی 50 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے) پہنچنے سے پہلے میرا مکتوب ملے اور اس میں واپسی کا حکم ہو تو واپس آ جانا، لیکن اگر العریش سے کوچ کر گئے ہو تو پھر خط کو نظر انداز کر دینا اور فوج کے ساتھ آگے پیش قدمی کرنا۔
کہتے ہیں العریش پہنچنے سے پہلے خلیفہ کا مکتوب آن پہنچا، مگر عمرو بن العاص نے یہ کہہ کر کھولنے نہیں دیا کہ جلدی کیا ہے، آگے چل کر کھولیں گے، اور یوں یہ مختصر سی فوج بعد میں مزید کمک پہنچنے پر رومی لشکر کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئی۔ یاد رہے، یہ مشرقی رومی سلطنت تھی، جسے بازنطینی بھی کہا جاتا ہے، جس کا مرکز قسطنطنیہ تھا۔ قبطی اور اسلامی مورخین کے مطابق، اس فتح میں رومیوں کے ظلم سے تنگ مقامی عیسائی قبطی آبادی نے بھی مسلمانوں کا ساتھ دیا۔
قبطی مصر کی مقامی آبادی ہے، جو دورِ فراعنہ سے نیل کے کنارے آباد تھی۔ مسلمانوں کی فتح کے وقت یہ آبادی عیسائی ہوچکی تھی اور سکندر کی فتح کے بعد ان پر یونانی ثقافت کا اثر بہت گہرا ہوچکا تھا۔
پہلی صدی عیسوی میں سینٹ مارک نے مصر میں عیسائیت کو متعارف کروایا۔ تیسری صدی عیسوی تک مقامی آبادی کی اکثریت عیسائیت کو قبول کرچکی تھی۔ یہی نہیں، بازنطینی عیسائیوں اور قبطی عیسائیت کے دو مختلف فرقے بن چکے تھے، اور یہ فرقہ وارانہ اختلاف محض مذہبی نہیں بلکہ سیاسی کشمکش کی صورت بھی اختیار کر گیا تھا۔ اور یہی سبب تھا کہ بازنطینی سلطنت کے زیرِ حکومت قبطیوں پر مذہبی ظلم و ستم بہت بڑھ گیا تھا۔ اور اس سیاسی اور مذہبی پس منظر میں قبطی عیسائیوں نے مسلمانوں کا ساتھ دیا۔
عمرو بن العاص نے فسطاط کے نام سے رومی قلعے کے باہر شہر بسایا۔ اس سے قبل کا رومی شہر قبطی قاہرہ کہلاتا ہے، جو رومی قلعے کے اندر اور باہر تک تھا۔ ایک اہم تاریخی حقیقت یہ ہے کہ بابیلون کا قلعہ، جو ایک رومی حکمران نے بنوایا تھا، اور قبل از اسلام یہودی سیناگوگ (یہودی عبادت گاہ) اور کلیسا آج بھی وہاں موجود ہیں، جس کا ذکر ہم آگے سفرنامے میں کریں گے۔ یاد رہے، اس علاقے، قبطی قاہرہ، میں قلعے کی فصیل کے اندر متعدد قبل از اسلام سیناگوگ اور کلیسا موجود ہیں۔
پچھلے دنوں ایک سیناگوگ سے نویں صدی عیسوی کے کچھ ریکارڈز بھی برآمد ہوئے، جن کے مطابق مسلم دورِ حکومت میں جزیہ ٹیکس کے بدلے انہیں مکمل مذہبی آزادی حاصل تھی۔ مصر میں اعداد و شمار کے مطابق اب بھی دس فیصد عیسائی آبادی بستی ہے۔ اس علاقے میں، میں دو دفعہ گئی۔ یہ قاہرہ میٹرو کے مار جرجس اسٹیشن کے سامنے ہی واقع ہے۔ وہاں موجود عیسائی آبادی سے گفت و شنید بھی رہی۔ یاد رہے، یہ حسنی مبارک کا مصر تھا۔ ابھی عرب بہار آنے میں کوئی چار سال باقی تھے۔
خیر، ہم پھر تاریخ کی طرف چلتے ہیں۔
عربوں نے مصر فتح تو ساتویں صدی میں کیا، لیکن مصر کے لوگ فوراً مسلمان نہیں ہوگئے۔ فاتحین نے حکومت بدلی، آبادی نے مذہب نہیں۔ مصر کی مسیحی اکثریت کو مسلمان اکثریت بننے میں کئی صدیاں لگیں۔ یہ امر اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ ساتویں صدی سے لے کر بعد کی صدیوں تک مسلم حکمرانوں نے کبھی آبادی کے مذہبی معاملات میں دخل نہیں دیا۔ ان کی عبادت گاہیں آج تک موجود ہیں اور یہودی، عیسائی آبادیاں بھی موجود رہیں۔ مصر کی یہودی آبادی نے اسرائیل کے قیام کے بعد بتدریج مصر چھوڑا۔ مصر میں بھی ماڈرن ایران کی طرح اسرائیل کے قیام کے بعد بھی یہودی اور صیہونی نیٹ ورک بہت مضبوط رہا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قاہرہ میں ہمارا قیام بھی ایک یہودی سیناگوگ کے برابر میں تھا۔ قاہرہ کے سفر میں اس کا ذکر بھی آئے گا۔
اس دوران بہت سی حکومتیں تبدیل ہوئیں۔
خلافتِ راشدہ کے بعد بنی امیہ اور بنو عباس کے درمیان فیصلہ کن معرکہ مصر میں ہی لڑا گیا۔ بنو عباس نے گو بنو امیہ کے مقابلے میں زیادہ عرصہ مسلم دنیا کی سربراہی کی، مگر ان کی مرکزی حکومت اتنی مضبوط نہ تھی۔ نویں صدی میں مصر کے عباسی گورنر ابن طولون نے خودمختاری کا اعلان کر دیا۔ گو جمعہ کا خطبہ عباسی خلیفہ کا ہی پڑھا جاتا تھا۔ قاہرہ کے سفر میں ابن طولون کی مسجد کا بھی ذکر آئے گا، جو آج بھی اسلامی قاہرہ کے اہم ترین سیاحتی مقامات میں شمار ہوتی ہے اور نویں صدی کے قاہرہ کی یاد دلاتی ہے۔
دسویں صدی میں شمالی افریقہ کے اسماعیلی حکمرانوں، فاطمیوں نے مصر فتح کیا۔ فاطمی خلیفہ نے اپنے سپہ سالار جوہر الصقلی کو مصر کی مہم پر روانہ کیا۔ جوہر نے قاہرہ کی بنیاد رکھی اور جامع الازہر کے لیے جگہ کا تعین بھی کیا، جو آج دنیا کی قدیم ترین فعال جامعات میں شمار ہوتی ہے۔
مصر کے اس سفر کے برسوں بعد میں سسلی گئی تو پالرمو شہر میں مجھے جوہر الصقلی بہت یاد آیا، مگر اس کا تذکرہ پھر سہی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جوہر الصقلی کا تعلق اٹلی کے جزیرے سسلی سے تھا، جہاں فاطمیوں نے ایک صدی سے زیادہ عرصے تک حکومت کی۔ اسے کم عمری میں غلام بنا کر لایا گیا تھا اور اس دور کے رواج کے مطابق فوج میں شامل کیا گیا۔ پھر صلاحیت اور قابلیت کی بنیاد پر ترقی کرتے کرتے وہ فاطمی فوج کے اعلیٰ ترین عہدوں تک پہنچا اور بالآخر مصر کی فتح کی مہم کی قیادت اس کے حصے میں آئی۔
مسلم دنیا میں ایسے بے شمار غلام گزرے ہیں جو اقتدار کی بلند ترین منزلوں تک پہنچے اور خود حکمران بنے۔ خود احمد ابن طولون کے والد، طولون، عباسی سلطنت کے ایک ترک غلام تھے، جو اپنی قابلیت اور عسکری صلاحیت کی بنیاد پر ترقی کرتے ہوئے فوج کے ایک اہم کمانڈر کے منصب تک پہنچے۔
بارہویں صدی میں فاطمیوں نے اقتدار خود صلاح الدین کو سونپ دیا، جس نے ایوبی خاندان کی بنیاد رکھی۔ فاطمیوں کی چھوڑی ہوئی دولت اور صلاح الدین کی سخاوت اور فیاضی نے مسلمانوں کو متحد کیا اور وہ بیت المقدس سے 90 سالہ صلیبی قبضہ ختم کروانے میں کامیاب ہوا۔
ایوبی خاندان کے بعد خدا نے کاکیشیا سے ہوئے غلاموں کو امت کی سربراہی کے لیے چنا، جو مملوک کہلائے۔ مصر، شام، فلسطین کے علاوہ حجاز، یعنی مکہ، مدینہ، اور یمن بھی ان کے زیرِ حکومت آتے تھے۔
آج بھی مصر سے مکہ آنے والے حج قافلے کے راستے میں مملوکوں کے بنوائے ہوئے قلعے جابجا نظر آتے ہیں۔ ضباء، شمال کا شہر، اتفاق سے مصری حج کارواں کے روٹ پر ہی واقع تھا، جو قاہرہ سے صحرائے سینا اور وہاں سے موجودہ اردن کی بندرگاہ عقبہ سے ہوتا ہوا مدینہ کے راستے مکہ تک جاتا تھا۔ راستے میں جابجا حاجیوں کو ٹھہرانے کے لیے قلعے، جو اب بہت ابتر حالت میں ہیں، موجود ہیں۔
سقوطِ بغداد کے بعد مملوکوں ہی نے تاتاریوں کو عین جالوت، موجودہ مقبوضہ فلسطین، کے مقام پر شکست دی۔
سولہویں صدی میں اناطولیہ، یعنی موجودہ ترکی، کے عثمانوی حکمرانوں نے حجاز، شام اور یمن کے ساتھ مصر بھی فتح کر لیا اور مصر، حجاز کے ساتھ، عثمانوی سلطنت کا ایک صوبہ بن گیا۔ سلیمانِ عالیشان کے بعد جب عثمانوی سلطنت کمزور پڑنے لگی تو متعدد علاقوں میں مملوک امیروں نے اپنی خودمختاری کا اعلان کر دیا۔
سن 1799ء مصر ہی نہیں بلکہ عالمِ اسلام کی تاریخ میں بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اسی زمانے میں نپولین نے اچانک مصر پر حملہ کیا۔ مصر میں اگرچہ مقامی اقتدار مملوکوں کے ہاتھ میں تھا، لیکن مصر بدستور عثمانی سلطنت کا ایک صوبہ سمجھا جاتا تھا۔
نپولین نے مصر کے عوام کو آزادی دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ مملوک، جو خود غلاموں کی اولاد تھے، مصر جیسی شاندار قوم پر حکومت کرنے کے اہل نہیں۔ یہ وہی آزادی کا نعرہ ہے جو تقریباً دو سو سال بعد عراق پر حملے کے وقت صدر بش نے بھی بلند کیا۔ عراقی آج تک اس آزادی کے ثمرات بھگت رہے ہیں، جو ان پر بزورِ شمشیر مسلط کی گئی تھی۔
مصر پر قبضے کے بعد نپولین نے فلسطین کے شہر عکا (Acre/Akka) کا محاصرہ کیا، مگر وہاں کے مملوک گورنر احمد پاشا الجزّار کی کامیاب مزاحمت نے نپولین کے عزائم پر پانی پھیر دیا اور اسے فلسطین سے پسپا ہونے پر مجبور کردیا۔ الجزّار پاشا شام اور لبنان کے ایک بڑے حصے پر بھی اقتدار رکھتا تھا۔
نپولین کے عزائم صرف شام اور فلسطین تک محدود نہیں تھے۔ اس کے بعد وہ برصغیر میں برطانوی اقتدار کو چیلنج کرنا چاہتا تھا۔ اسی سلسلے میں اس کے میسور کے حکمران ٹیپو سلطان سے خط کتابت کے روابط بھی قائم ہوئے تھے۔
یہ تاریخ کا ایک دلچسپ تضاد ہے کہ فرانس میں انقلاب برپا ہوچکا تھا، آزادی، مساوات اور انسانی حقوق کے نعرے گونج رہے تھے، جبکہ فرانسیسی حکمران بیرونِ فرانس نئی فتوحات اور سلطنت سازی کی مہمات میں مصروف تھے۔
بالآخر عثمانیوں کی درخواست پر برطانوی بحری بیڑے کی مشرقی بحیرۂ روم میں آمد اور فرانسیسی افواج پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث نپولین کو مصر سے واپس جانا پڑا۔ اس کے بعد محمد علی پاشا مصر میں طاقتور ہوکر ابھرا اور بالآخر ایک نیم خودمختار حکمران کی حیثیت سے مصر پر قابض ہوگیا۔
محمد علی پاشا کے خاندان نے اپنی حکومت مضبوط رکھنے کے لیے برطانیہ اور فرانس کے ساتھ جو تعلقات قائم کیے، انہوں نے نہ صرف مصر کی سیاسی سمت بدل دی بلکہ بالآخر عثمانی سلطنت کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے والے عوامل میں اپنا کردار ادا کیا۔
اس دور میں فراعنہ کی چھوڑی ہوئی وہ نوادرات، جو اٹھارویں صدی کے آغاز تک بڑی حد تک محفوظ تھیں، لوٹ مار کے ایسے بازار کی نذر ہوئیں جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ پورے یورپ میں مصری نوادرات کے حصول کی ایک دوڑ شروع ہوگئی۔ برطانیہ کے برٹش میوزیم، فرانس کے لوور، جرمنی کے برلن میوزیم سمیت یورپ اور امریکا کے بے شمار عجائب گھروں میں آج بھی وہ نوادرات موجود ہیں جو اس دور میں مصر سے مختلف ذرائع سے باہر لے جائی گئیں۔
اس کے علاوہ، فراعنہ کے مندروں سے نکالے گئے دیوہیکل سنگی ستون، جنہیں انگریزی میں Obelisk کہا جاتا ہے، آج بھی لندن، روم اور نیویارک میں ایستادہ ہیں۔ ان ستونوں پر فراعنہ نے اپنے عہد کی تاریخ، فتوحات اور کارنامے نقش کروائے تھے۔ یوں قدیم مصر کی تاریخ کے یہ خاموش گواہ آج اپنے وطن سے ہزاروں میل دور کھڑے ہیں۔
بحرِ احمر اور بحیرۂ روم کے درمیان راستہ نکالنے کے لیے سویز کینال کا منصوبہ بھی یورپی مفادات ہی کا حصہ تھا، جس نے مصر کو اس طرح قرضوں تلے دبایا کہ برطانیہ نے 1882ء میں اپنی سرمایہ کاری بچانے کے بہانے مصر پر قبضہ کر لیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ مصر پھر بھی پہلی جنگِ عظیم اور عثمانی خلافت کے سقوط تک عثمانی صوبہ ہی کہلاتا رہا، اگرچہ اصل حکومت برطانیہ کرتا تھا، لیکن آثارِ قدیمہ کا شعبہ فرانس کے ہاتھ میں رہا۔ بعض یہودی ویب سائٹس کے مطابق ریلوے اور سویز کنال کی تعمیر کے دوران مصر کی معیشت بڑی حد تک صیہونی یہودیوں کے ہاتھوں میں رہی- سویز کنال کی تکمیل سے پیشتر حکمرانوں نے بڑے بڑے تعمیراتی منصوبوں کا آغاز کروایا- بیرونی انویسٹمنٹ بھی بڑی تعداد میں یہاں آئی- یہاں فلم میکنگ کی صنعت نے بھی ایک دور میں خاصی ترقی کی- نپولین کے حملے کے بعد سے مصر دنیا کی سیاحت میں بھی ایک منفرد مقام کی حیثیت اختیار کر گیا-
برطانیہ اور یورپ کے متمول افراد نے یہاں آثار قدیمہ اور نوادرات کی تلاش کے منصوبوں میں بھی بہت انویسٹمنٹ کی۔ مصری آثارِ قدیمہ برطانیہ اور فرانس کی وہ مشترکہ محبوبہ تھی، جس کی وجہ سے یہ دونوں رقیب مصر میں اکثر ایک دوسرے کا گریبان پکڑتے رہے۔ انڈیانا جونز سیریز کی پہلی فلم میں جونز کا حریف ماہرِ آثارِ قدیمہ بھی ایک فرانسیسی ہی دکھایا گیا ہے۔ جی ہاں، یہ رقابت ہالی ووڈ کی فلموں تک جا پہنچی ہے! اس سے آپ مصری نوادرات کے لیے مغربی اقوام کی دلچسپی کا اندازہ کیجیے۔
انڈیا کے بعد برطانیہ کا مشرق میں دوسرا بڑا سیاسی مرکز قاہرہ میں تھا۔ یہیں سے عثمانیوں کے خلاف عرب بغاوت کو منظم کیا گیا اور تقویت دی گئی اور مشرقِ وسطیٰ کے نقشے کو نئے سرے سے ترتیب دینے کا عمل شروع ہوا۔ فلم لارنس آف عریبیہ دیکھنے والے اس عرب بغاوت کے پس منظر سے واقف ہوں گے۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کے سقوط کے نتیجے میں برطانیہ فلسطین اور عراق کے مینڈیٹ بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔
1919ء میں سعد زغلول نامی مصری رہنما نے مصر اور سوڈان کی آزادی کے لیے تحریک چلائی۔ تحریک بظاہر اپنے فوری مقصد میں کامیاب نہ ہوئی، مگر 1922ء میں برطانیہ کو مصر کی آزادی کو تسلیم کرنا پڑا۔ تاہم برطانیہ نے سویز کینال کے علاقے سے اپنی فوجیں ہٹانے سے انکار کردیا۔ اسی دوران حسن البنا نامی اسکول ٹیچر اور ریفارمر نے مصر میں اخوان المسلمون کی بنیاد ڈالی۔ حالیہ برسوں میں معروف سوئس اور فرانچ اسکالر، جو آکسفورڈ میں تدریس بھی کرتے رہے، طارق رمضان، حسن البنا کی بڑی بیٹی وفا کے بیٹے ہیں۔
1952ء میں مصر سے بادشاہت کا خاتمہ ہوگیا اور فوج نے اقتدار سنبھال لیا۔
بالآخر 1956ء کے سوئز بحران کے بعد برطانیہ اپنی فوجیں مصر سے نکالنے پر آمادہ ہوا۔ یہ جمال عبدالناصر کا دورِ حکومت تھا، جس نے سویز کینال کو نیشنلائز کر لیا، یعنی مصر کی قومی ملکیت میں لے لیا۔ 1948ء سے لے کر 1973ء تک مصر نے شام کے ساتھ مل کر اسرائیل کے خلاف تین جنگیں لڑیں۔ جمال عبدالناصر کے بعد انور سادات نے 1978ء میں اسرائیل سے کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کرلیا، جس کی قیمت اسے جان دے کر چکانی پڑی۔
اس کے بعد مصر نے حسنی مبارک کا تیس سالہ دور دیکھا، حتیٰ کہ عرب بہار کے نتیجے میں مختصر وقت کے لیے منتخب صدر مرسی نے عنانِ اقتدار سنبھالی اور پھر صدر سیسی نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ کر دوبارہ مصر میں فوجی ڈکٹیٹر شپ رائج کردی۔
اس طرح معلوم تاریخ کے تقریباً ہر سنگ میل کی یاد گار مصر میں ملیں گی۔ صرف ایک شہر الاقصر میں کہا جاتا ہے کہ دنیا کے ایک تھائی قدیم نوادرات آج بھی موجود ہیں۔ اور اسی لیے ہمارے پلان میں قاہرہ سے پیشتر القصر شامل تھا۔
ہماری خوش نصیبی یا بد نصیبی کہ ہمارا مصر کا یہ سفر حسنی مبارک کے دور میں ہوا۔









