بھارت ، لکھیم پور ، دو دلت بہنوں کا قتل

بھارت ، جہاں دلت خواتین ریپ اور قتل کے بعد درختوں پر لٹکا دی جاتی ہیں

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

فریحہ حسین

گزشتہ ہفتے بھارت کی ریاست اترپردیش کے ضلع لکھیم پور کھیری میں پندرہ اور سترہ برس کی دو دلت بہنوں کے خلاف جنسی زیادتی کا ارتکاب کیا گیا۔ بعد ازاں انھیں گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا اور ان کی لاشیں درخت سے لٹکا دی گئیں۔ پولیس نے گینگ ریپ اور قتل کے الزام میں چھ افراد کو گرفتار توکرلیا ہے مگر شنید یہی ہے کہ با اثر ہندو ہونے کی وجہ سے گرفتار افراد ماضی کی طرح کیفر کردار تک نہیں پہنچ پائیں گے۔

اس واقعے نے بھارت کے ذات پات میں جکڑے سماجی نظام کی قلعی ایک بار پھر کھول دی ہے ۔ جہاں نچلی ذات سے تعلق کی وجہ سے دلت خواتین جنسی تشدد کا نشانہ بھی بن رہی ہیں اور انھیں انصاف کی فراہمی کی بھی کوئی امید نہیں ہے۔

دلتوں کے خلاف مبینہ ظلم و زیادتی کے واقعات روزمرہ کا معمول ہیں ۔ انھیں شادی اور غمی تک کے رواجوں پر عمل کرنے سے روکا جاتا ہے ۔ سیکولر ہونے کا دعوی کرنے کے باوجود بھارت میں انھیں امتیازی سلوک کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق 2015 اور 2016 میں دلتوں کے خلاف بالترتیب38670 اور 40801 جرائم کا ارتکاب کیا گیا۔بیورو کی ایک اور رپورٹ کے مطابق سال 2021 کے اواخر تک ،دلت ذات کے افراد کے ساتھ ہونے والے جرائم کے تقریباً 71000کیسز تک زیر التوا تھے ۔

اعدادو شمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ سن 1990کی دہائی کے اوائل سے دلتوں کے حقوق کی تحریک میں تیزی آنے کے ساتھ ہی ان کے خلاف تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ سخت قوانین اور حکومت کے وعدوں کے باوجود ذات پات پر مبنی قتل ، سماجی تفریق اور دیگر خلاف ورزیاں روز کا معمول بن گئی ہیں۔

ذات پات کے سماجی نظام میں جکڑے بھارت میں دلتوں کو سب سےکم درجے کا طبقہ سمجھا جاتا ہے۔ ، انھیں ماضی میں اچھوت کہا جاتا تھا۔ انیسویں صدی میں ایک سماجی کارکن کی طرف سے دلت کے لفظ کو ایک اصطلاح کے طور پر متعارف کرایا گیا۔ یہ لوگ ہندوؤں کی مقدس کتاب منو سمرتی کے مطابق ذات پات کے نظام میں مذکورہ چار ذاتوں برہمن،کشتری، ویش اور شودر کے بعد آتے ہیں۔ اس لیے عملا یہ ذات پات کے نظام سے باہر ہیں ۔

عمومی طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ ہندوستان میں ذات پات کا یہ نظام تین ہزار سال پرانا ہے جس کی شدت میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا گیا ۔ برطانوی سامراجی نظام نے بھارت میں مردم شماری اور حکمرانی کو آسان بنانے کے لئے اس نظام کو ایسے ہی نافذ کر دیا۔

بھارت میں دلت کمیونٹی کی آبادی 20 کروڑ کے لگ بھگ ہے ۔ آزادی کے بعد بھارت میں ان لوگوں کو سماجی تخفظ دینے کے لئے قانون سازی بھی کی گئی۔ 1950میں بھارت کے آئین کی دفعہ 17 کی رو سے ملک میں ذات پات کی بنیاد پر امتیاز برتنے پر پابندی عائد کر دی گئی ۔1955میں اس دفعہ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اچھوت پن جرائم کا قانون بنایا گیا۔

اسی طرح 1989میں درج فہرست طبقات اور درج فہرست قبائل ایکٹ بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا۔ دستور کی دفعہ 23 کی رو سے انسانوں کی خریدو فروخت پر پابندی عائد کی گئی۔ دستور کی دفعہ 25(2b)کی رو سے عوامی نوعیت کے کسی بھی عبادت کے مقام پر ہندوؤں کو بلا تفریق جانے کا اختیار دیا گیا۔ آئین کی دیگر کئی اور دفعات کے ذریعے معاشرتی اونچ نیچ کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے ۔

ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہر 18 منٹ کے بعد دلتوں کے خلاف ایک جرم سرزد ہوتا ہے ۔ ہر روز 2 دلت قتل ہوتے ہیں اور ان کے گھر جلائے جاتے ہیں ۔32 فیصد دلت خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ مگر دلتوں میں بھی سب سے بری حالت دلت خواتین کی ہے ۔

گزشتہ کچھ عرصے میں دلت خواتین کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے کو ملا ہے ۔ جنسی تشدد کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف ٹھوس کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے حالات مزید ابتر ہونے کا خدشہ ہے ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دلت خواتین بھارت کے صدیوں پرانے ذات پات کے سماجی نظام میں روایتی طور پر سب سے کم سطح پر سمجھی جاتی ہیں۔ ان کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات اب تو معمول کا حصہ سمجھے جانے لگے ہیں ۔

لکھیم پور کھیری کے واقعے نے سال 2014 میں ہونے والے اسی طرح کے ایک خوفناک واقعے کی یادیں تازہ کر دیں جب اترپردیش ہی کے بدایوں ضلع میں دو کم سن دلت بہنوں کو اغوا کیا گیا ، انھیں گینگ ریپ کا نشانہ بنا کر لاشوں کو ایک درخت سے لٹکا دیا گیا تھا۔

بھارت ، لکھیم پور ، دو دلت بہنوں کو ریپ کے بعد قتل کرکے درخت پر لٹکا دیا گیا

اس انسانیت سوز واقعے کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج مظاہرے کیے گئے اور اقوام متحدہ کو قصور واروں کے خلاف فوراً کارروائی کرنے کی اپیل کرنا پڑی تھی۔ سال 2020 میں بھی اترپردیش ہی کے ہاتھرس ضلع میں اعلیٰ ذات کے ہندؤوں نے ایک 19سالہ دلت لڑکی کو گینگ ریپ کے بعد قتل کردیا تھا۔ اس واقعے نے بھی بھارت میں دلتوں کی سماجی حثیت کے حوالے سے بہت سے سوالات اٹھادیئے۔

نوبل انعام کے متبادل کے نام سے مشہور رائٹ لائیولی ہڈ ایوارڈ یافتہ معروف سماجی کارکن رتھ منورما نے ایک حالیہ انٹرویومیں بتایا: "دلت خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ ریپ دراصل ان کے وجود اور وقار کو کچل دینے کی گھناؤنی سازش ہے ۔ سماجی نظام کے حساب سے اعلیٰ ذات کے سمجھے جانے والے مرد اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ، دلت خواتین کا جنسی استحصال کرتے ہیں۔”

حالیہ اعدادوشمار سے ثابت ہوتا ہے کہ 2015 سے 2020 کے دوران دلت خواتین کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات میں 45 فیصد اضافہ ہوا ہے اور خدشہ ہے کہ حقیقی اعدادوشمار اس سے کہیں زیادہ ہوں ۔

بھارت میں دلت خواتین کے ساتھ جنسی تشدد کے سب سے زیادہ واقعات اترپردیش ، بہار اور راجستھان میں ریکارڈ کیے گئے بلکہ ایک رپورٹ کے مطابق دلت خواتین کے ساتھ اس غیر انسانی سلوک کے نصف سے بھی زیادہ واقعات انھی تین ریاستوں میں پیش آتے ہیں ۔

خواتین کے حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم ‘ایکوالٹی ناؤ’ سال 2020 کی ایک رپورٹ کے مطابق : ”دلت خواتین اور لڑکیاں بالعموم انصاف سے محروم رہ جاتی ہیں بالخصوص اگر جرم کرنے والے شخص کا تعلق بھارتی سماجی نظام میں اعلیٰ درجے کی ذات سے ہو”۔

دلتوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم دلت ہیومن رائٹس کی جنرل سکریٹری بینا پالیکل کا کہنا ہے : ” اتر پردیش میں بھارتی دلتوں کے خلاف جرائم کے واقعات سب سےزیادہ ہوتے ہیں۔” انہوں نے مزید بتایا : ”خواتین کے حقوق کے لیے سر گرم تنظیمیں بھی ایسےواقعات پر کچھ نہیں کر پاتیں ۔ اگر ہمیں دلت خواتین کو تحفظ فراہم کرنا ہے توملک کے پورے عدالتی نظام پر ازسر نو غور کرنے کی ضرورت ہے”

فریحہ حسین ، مضمون نگار

درحقیقت دلت خواتین کو عورت ہونے کی وجہ سے ، نچلے درجے کی ذات سے تعلق کی بنا پر اور اقتصادی طور پر پسماندہ ہونے کی وجہ سے اپنے حقوق کی جنگ لڑنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے’۔

سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ بھارت میں یوں تو دلتوں کے خلاف جرائم کے لیے سخت قوانین موجود ہیں لیکن ان پر شاذ و نادر ہی عمل ہو پاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دلت خواتین کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات کم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں اور مستقبل قریب میں اس صورت حال میں کمی کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں