پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے میں کامیاب ، فائدہ کیا ہوگا؟)

پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے میں کامیاب ، فائدہ کیا ہوگا؟

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

عبید اللہ عابد

پاکستانی حکومت اور قوم اس خبر پر نازاں ہے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے فہرست سے نکل گیا ہے ۔فیٹف کے صدر ٹی راجہ کمار نے کہا کہ پاکستان نے 35 سفارشات پر بہتر انداز میں عمل کیا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالا جا رہا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ پاکستان کو فیٹف کی گرے لسٹ سے نجات ملی اور عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ اور وقار کی بحالی قوم کو مبارک ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یہ ہماری عظیم قربانیوں کا اعتراف ہے۔ میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزارت خارجہ ، تمام متعلقہ حکام اور وزارتوں کو مبارک پیش کرتا ہوں۔‘

شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ وہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو اس کامیابی میں کلیدی کردار پر سراہتے ہیں اور مبارک دیتے ہیں۔

دوسری طرف بھارت نے ایف ٹی اے ایف کے اس اقدام پر محتاط ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انڈیا نے کہا ہے کہ پاکستان کا اس فہرست سے نکالا جانا دنیا کے مفاد میں ہے تاہم پاکستان کو انتہا پسندی کے خلاف مہم جاری رکھنی چاہیے۔انڈین وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں لانڈرنگ اور دہشت گردی کے خلاف انسداد دہشت گردی کی فنڈنگ پر ایشیا پیسیفک گروپ کے ساتھ کام جاری رکھے گا۔‘

سوال یہ ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنا پاکستان کے لئے کس قدر اہم ہے ؟ اس کے لئے آئیے ! پہلے جانتے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف کیا ہے ؟ اس کی گرے لسٹ کیا ہے ؟ پاکستان گرے لسٹ میں کب شامل ہوا ؟ ایف اے ٹی ایف کی شرائط کیا ہیں؟ اور پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے کیا فوائد حاصل ہوں گے ؟

ایف اے ٹی ایف کیا ہے ؟

ایف اے ٹی ایف” فنانس ایکشن ٹاسک فورس کا مخفف ہے۔ یہ عالمی ادارہ 1989ء میں قائم ہوا ۔ ایف اے ٹی ایف کے 35 ارکان ہیں جن میں امریکہ، برطانیہ، چین اور انڈیا بھی شامل ہیں، البتہ پاکستان اس تنظیم کا رکن نہیں ہے۔ ایف اے ٹی ایف قائم کرنے کے تین بنیادی مقاصد تھے :
اول : دہشت گردی کے لیے ہونے والی فنانسنگ کو روکنا،
دوم : منی لانڈرنگ پر قابو پانا اور
سوم : ٹیکس کی معافی سے دنیا بھر کے ملکوں کو روکنا۔

گرے لسٹ کیا ہے ؟

ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ایسے ممالک کو رکھا جاتا ہے جن کے ہاں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ روکنے کے لئے پر معمول کی بجائے زیادہ کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔

گرے لسٹ میں پھنسے باقی ممالک

پاکستان اور نکارا گوئے کے گرے لسٹ سے نکلنے کے بعد بائیس ممالک اب بھی گرے لسٹ میں ہیں ، ان میں البانیا ، بارباڈوس ، بورکینافاسو ، کمبوڈیا ، کیمین آئی لینڈ ، کانگو ، جبرالٹر ، ہیٹی ، جمیکا ، اردون ، مالی ، مراکش ، موزمبیق ، پانامہ ، فلپائن ، سینیگال ، جنوبی سوڈان ، شام ، تنزانیہ ، ترکیہ ، یوگینڈا ، متحدہ عرب امارات اور یمن شامل ہیں۔

پاکستان گرے لسٹ میں کب شامل ہوا ؟

پاکستان پہلی بار دو ہزار آٹھ میں گرے لسٹ میں شامل ہوا ، دوسری بار سن دو ہزار بارہ میں گرے لسٹ میں شامل ہوا ۔ اسے تین برس تک اس فہرست میں رہنا پڑا۔ بعدازاں اسے سن دو ہزار اٹھارہ میں دوبارہ گرے لسٹ میں شامل کرلیا گیا۔ پاکستان پر الزام عائد کیا گیا کہ یہاں سے عالمی سطح پر دہشت گردی کو فنانسنگ ہو رہی ہے لیکن پاکستانی حکومت اس فنانسنگ کو روکنے کے لئے مطلوبہ اقدامات کرنے میں ناکام رہا۔

پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے کیا فوائد حاصل ہوں گے ؟

ماہرین کے مطابق پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے خارج ہونے سے معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔ اس کے نتیجے میں عالمی سطح سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے دروازے کھلیں گے۔ اب عالمی سرمایہ کار پاکستان میں براہ راست سرمایہ کاری کرسکیں گے۔ جب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھا گیا تھا ، بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے اور یہاں کے بنکوں پر اعتماد کرنے سے جھجھک رہی تھیں۔ ایسا نہیں ہے کہ گرے لسٹ سے نکلنے کے فورا بعد عالمی سرمایہ کار پاکستان پہنچ جائیں گے تاہم اب وہ پاکستان کے بارے میں سوچنا شروع ہوجائیں گے۔ پاکستانی حکومت بھی پورے وقار کے ساتھ انھیں سرمایہ کاری کرنے کی طرف راغب کرسکے گی۔ اس دوران میں پاکستان کو ایسی قابل اعتماد کوششیں کرنا ہوں گی کہ فیٹف سفارشات کے تحت بنائے ہوئے قوانین پر عمل ہوتا نظر آئے۔ اسی طرح یہاں کے بنکنگ سیکٹر کا نظام بھی مضبوط سے مضبوط تر کرنا ہوگا۔

دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ اب پاکستان کی معمول کے مطابق مانیٹرنگ ہوگی جس کے نتیجے میں بڑی سہولت بینکنگ سیکٹر کو ملے گی ۔ اب پاکستان کو سیلاب زدگان کی مدد کرنے کے لئے دی جانے والی امداد براہ راست مقامی بینکوں میں منتقل ہوسکے گی ، اس پیسے کی زیادہ جانچ پڑتال نہیں ہوگی۔ اسی طرح انفارمل تجارت پر عائد پابندیوں میں کمی واقع ہوگی۔

گرے لسٹ : کیا پاکستان اب بھی معرض خطر میں ہے ؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو مستقبل میں بھی اس گرے لسٹ سے بچ کر رہنا ہے تو اسے کم از کم دو حوالوں سے سخت انتظام کو یقینی بنانا ہوگا ۔ اول : پاکستان میں مالیاتی نظام کو اس قدر مضبوط کیا جائے کہ منی لانڈرنگ نہ ہوسکے۔ دوم : داخلی سطح پر ایسے افراد اور تنظیموں کے گرد گھیرائو تنگ سے تنگ کرتا چلا جائے جو عالمی پابندیوں کی زد میں ہیں۔ اگر ایسے افراد اور تنظیمیں کسی نئے روپ میں ابھر کر سامنے آئے اور سرگرم ہوئے تو پاکستان کو تیسری بار بھی گرے لسٹ میں ڈالا جاسکتا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا بھی کہنا ہے کہ جب سے پاکستان گرے لسٹ میں آیا تو ہماری تجارت ، سرمایہ کاری کاروباری حضرات کو بہت مشکلات درپیش آئیں ،اب گرے لسٹ سے نکلنے کے بعد پاکستان کو ان مسائل سے ہمیشہ کیلئے نجات مل جائے گی اس کیلئے شرط یہ ہے کہ ہم ان شرائط پر کاربند رہیں جس کا اعتراف فیٹف کے سربراہ نے کی۔


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں