قاضی حسین احمد

قاضی حسین احمد : عندلیبِ باغ حجاز

ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

ان کی آنکھوں میں خواب صاف نظر آتے تھے اور ان کے ارادوں میں خوابوں کی تعبیریں نظر آتی تھیں ۔
اس دن صبح سویرے موبائل کی بیپ نے متوجہ کیا ۔ ممانی جان کا نام موبائل کی سکرین پر دیکھ کر بے تابانہ اسے کان پر لگاتے ہوئے ذہن میں خیال آرہا تھا کہ ابھی پرسوں ہی تو بات ہوئی ہے ان سے ، اللہ کرے خیریت ہو ۔

سلام دعا کے بعد انہوں نے ” انا للہ وانا الیہ راجعون “پڑھا ۔ یکدم سارے حواس ہوشیار ہو گئے ۔ اسی طرح جیسے انسان اپنے اوپر گرتی دیوار کو دیکھتا ہے یا ایک گہرے دریا کو عبور کرنے کے لئے ہمت جمع کرتا ہے ۔ مگر اندر ہی اندر خوف اس پر لرزہ بھی طاری کر دیتا ہے۔

’’بشریٰ ! پتہ چلا ؟ ‘‘ ان کے لہجے میں غم کی آمیزش تھی ۔
’’کیا؟‘‘میری آواز میں لرزش مجھے خود محسوس ہو رہی تھی۔
’’رات قاضی صاحب کا انتقال ہوگیا۔‘‘
’’اناللہ وانا الیہ راجعون‘‘۔

شور برپا ہے خانۂ دل میں
کوئی دیوار سی گری ہے ابھی

دل میں اداسی نے ڈیرے ڈال لئے ۔ ابھی پروفیسر غفور احمد کا غم تازہ تھا ۔ موت کا دن معین ہے ۔ سب کی منزل وہی ہے جہاں سب ایک کے بعد ایک پہنچتے جارہے ہیں ۔ مگر انسان اپنے پیاروں کے بارے میں کیسے سوچ سکتا ہے کہ وہ ابھی چلے جائیں گے ۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ موت برحق ہے اور اس کا وقت کسی کو معلوم نہیں تو جب اللہ نے چاہا اسے بلالیا ۔ پھر بھی انسان کے لئے اپنے پیاروں کی جدائی کو برداشت کرنا ایک مشکل امر ہے

ان کے ہاں بہن زینت صدیقی رحمھا اللہ اور بہن صبیحہ شاہد رحمان اللہ سے بھی ملاقات ہوئی ۔ میرے لئے یہ خوش نصیبی کی بات ہے کہ حرم شریف مکہ میں اعتکاف بیٹھے اپنے امیر جماعت کے لئے افطاری اور خورونوش کا انتظام میرے اور زینت بہن کے حصے میں آیا ۔ ہم نے رمضان المبارک کے آخری چند دن گلفرین بہن کے گھر ڈیرے ڈال لئے تھے , وہ بھی اعتکاف میں تھیں۔

قاضی صاحب اور سب کے لئے کھانا میری دونوں بیٹیاں نویرہ رحمان اور فائزہ رحمان ، گلفرین کی بیٹی ماریہ نواز کے ساتھ لے کر جاتیں اور میرا منا سا بیٹا واصف بھی ساتھ ہی جاتا ۔ قاضی صاحب کی محبت ، شفقت اور دعائیں ہم سب کے لئے سرمایۂ افتخار ہیں ۔ چاروں بچے واپس آکر خوش خوش ان سے ہاتھ ملانے ، بات کرنے اور گود میں بیٹھنے کا تذکرہ کرتے۔

افطاری کے وقت کی گئی دعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں اور ہم ان دعائوں پہ ’’ آمین‘‘ کہہ کر مہر قبولیت لگواتے رہتے۔

کاروان دعوت و محبت‘‘ نے پوری تحریک میں ایک جان ڈال دی تھی ۔ جوش ، ولولہ جس میں رقت بھی ہو … ایک ہیجان بھری کیفیت ، جیسے سویا ہوا جاگ جائے ، جاگا ہوا اٹھ کر بیٹھ جائے اور بیٹھنے والا اپنے بیٹھ رہنے پہ شرمندہ ہو اور برق رفتار ہو جائے ۔ ان دنوں ہم اگرگاڑی میں ہیں تو کاروان دعوت و محبت کے ترانے لازمی سنتے ۔ گھروں میں ویڈیو کیسٹ لگا کر ’’ کاروان دعوت ومحبت ‘‘ کے مناظر سے لہو گرما رہے ہیں ۔ لگتا تھا اب ’’ دعوت و محبت ‘‘ کا کلچر عام ہونے لگا ہے۔ جوش ، ولولے اور جذبات کی حدت سے دل پگھلنے لگتا اور آنکھیں ، موتی ٹپکانے لگتیں ۔ جیسے شمع جلتی ہے تو قطرہ قطرہ آنسو کی شکل میں اپنی حدت کی شدت کو ظاہر کرتی ہے ۔ نوجوانوں کا جوش نعروں کے ذریعے آتش فشاں نظر آتا تھا۔

ہم بیٹے کس کے … قاضی کے !
پروانے کس کے … قاضی کے !

جوان اور جوشیلے خون کو ایک رہنما چاہیے تھا۔ ایک سمت کا تعین چاہیے تھا۔ سپاہیانہ جلال اور درویشانہ رعب ودبدبہ درکار تھا۔ قاضی صاحب کی ظاہری شخصیت ان کے باطن کی آئینہ دار تھی۔ دونوں میں تضاد نہ تھا۔

قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلماں

ہر امیر جماعت اپنی خوبیوں کے ساتھ اس موجودہ وقت کے لئے موزوں ہوتا ہے اور یہ وقت تھا دھیمی ، خاموش قیادت کے بعد جوش اور رعب والی قیادت کا … کیونکہ جماعت پہ اللہ کا ہاتھ ہوتاہے ، اللہ ہی کی مرضی سے منصب ملتا ہے اپنی خواہش سے نہیں۔

جب ہم پاکستان آکر اتفاق ٹائون میں رہائش پذیر ہوئے تو تقریبا روزانہ منصورہ جانا ہوتا تھا … کسی پروگرام سے واپسی پر ، اکثر قاضی صاحب کے دولت کدہ پہ حاضری دینے چلے جاتے ۔ ارکان کے اجلاس کے بعد بیگم قاضی ، کبھی خود ہی اصرار کرکے لے جاتیں ۔ ساتھ والی بلڈنگ میں چچا جان عبدالوکیل علوی رحمہ اللہ کا فلیٹ تھا ان سے ملنے آنا ہوتا تو بھی قاضی صاحب کے گھر ضرور حاضری لگ جاتی۔

وہ کس قدر بے کل و بے چین ہیں۔

قرآن و حدیث کے بعد اقبالؒ کے کلام کے شیدائی قاضی حسین احمدؒ کی زندگی واقعی ’’ ہر لحظہ مومن کی نئی شان نئی آن ‘‘ کا مصداق تھی ۔ گفتار اور کردار میں اللہ کی برہان … بہی برہانی دبدبہ تھا کہ ان کے دلائل کے سامنے کسی کو یارانہ تھا ۔ جلسہ ہو یا جلوس ، دھرنا ہو یا احتجاج … سینہ تان کر پورے جاہ و جلال سے بات کرتے۔

کوئی احتجاج ریکارڈ کروانا ہو تو بس کاغذ کا ٹکڑا بھیج دینا کافی نہ ہوتا … اس ملک کے نمائندے کو سامنے بٹھا کر خود سنا کر آنا کسی جری ، بے باک شخص کا ہی کام ہوسکتا ہے اور ساتھ یہ بھی باور کرانا کہ’’ سنتا جا شرماتا جا ‘‘۔

جس سے جگر لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم
دریائوں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان

پارٹی کے مصروف لیڈران کو فرصت کہاں ملتی ہے؟ یہ جماعت اسلامی کے راہبروں کی خاص خوبی ہے کہ وہ اپنے کارکنان کی غمی و خوشی میں شریک ہوتے ہیں ۔ اپنے نمائندے بھیج کر مطمئن نہیں ہو جاتے ۔ ہماری بیٹی نویرہ کی شادی میں ان کی طرف سے محبت اور دعائوں سے بھرپور خط ایک بہت کارآمد و قیمتی تحفے کے ساتھ موصول ہوا…

ہمارے بچوں کے دادا جان کی وفات ہوئی تو تعزیت کے لئے گھر تشریف لائے ۔ پھر واصف بیٹے کی شادی کی مبارکباد دینے تشریف لائے۔

ٹی وی پہ قاضی صاحب کا آخری دیدار ہوا … ایک دل کی دھڑکن بند ہو گئی تھی مگر لاکھوں دلوں کی دھڑکنیں ان کے لئے دعا گو تھیں ۔ یہ وہی دل کی شمعیں ہیں جن کو قاضی حسین احمد نام کی ایک شمع دل نے فروزاں کیا تھا۔

شرافت ، سادگی ، خلوص … درخشاں و تاباں زندگی کا ایک ایسا نقش تھے جو دنیا کی لوح حیات پہ تادیر ثبت رہے گا۔انسان ہونے کے ناتے ، ہر کسی سے خطائیں ہوتی ہیں ۔ خطائیں معاف ہو جاتی ہیں جب خلق خدا نے اس بندے سے فیض پایا ہو۔

ان کی یہ خوبی روز روشن کی طرح سب پہ عیاں ہے کہ وہ اللہ کے بندوں کی فلاح چاہتے تھے۔ وہ اس کا بندہ بننا چاہتے تھے۔ جس کو اللہ کے بندوں سے پیار ہو … وہ ملا کی اذاں اور مجاہد کی اذاں کا فرق واضح کرنا چاہتے تھے۔ وہ فصل گل لالہ کا پابند نہیں ہونا چاہتے تھے۔ … اسی لئے بہار تھی یا خزاں انہوں نے لاالہ الا اللہ کا نغمہ ہر موسم میں گایا۔ ان کی ہر ممکن کوشش رہی کہ وہ ایسے بندۂ مومن بن جائیں جس کی اذاں سے وہ سحر پیدا ہو کہ شبستان کا وجود لرز جائے ۔ وہ جوانوں کو خودی کا راز داں ہونے اور خدا کا ترجمان ہو جانے کا سبق دیتے رہتے۔

اقبالؒ کا ’’مرد مسلماں‘‘ پڑھتے ہوئے قاضی صاحب کی شخصیت اور چہرہ آنکھوں سے نہیں ہٹتا ۔ آج وہ ’’ عندلیب باغ حجاز ‘‘ باغِ عدن میں جا پہنچا جس کی گرمیٔ نوا کی بدولت وطن کی کلی کلی متاثر تھی۔

ان پہ اللہ تعالیٰ کی رحمت خاص ہو اور ان کو اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کا قرب نصیب ہو آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں