ایران-کے-دارالحکومت-تہران-رات-کا-منظر

ایران کشور جہان ( سفرنامہ، قسط:4)

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جہاز میں کھانے کی سروس مناسب تھی مگر مشروبات غیر ملکی تھے۔ سینڈوچ، کوکیز، چاکلیٹ، یوگرٹ اور مشروبات۔ چنانچہ میں نے اپنی کین کسی دوست کو دیدی۔

جب ہم تہران کے قریب لینڈ کرنے والے تھے تو کھڑکی سے تہران شہر کی لائیٹنگ دکھائی دینا شروع ہوگئی۔ اسے دیکھ کر حیرت ہوئی کہ تہران کتنا بڑا شہر ہے۔ میں سمجھ رہا تھا کہ ایک مناسب آبادی کا شہر ہوگا مگر یہ تو ایک بہت بڑا ، آباد شہر نکلا۔ شاید اس حیرت کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے ہمسائیہ اور قریب ہونے کے باوجود ایران کو اس کے تاریخی اور جدید ترقی کے زاویہ نگاہ سے نہیں دیکھا یا ہمیں دیکھنے نہیں دیا گیا۔

 آرام دہ لینڈنگ کے بعد جب باہر  آئے تو ائیرپورٹ پر جہازوں کی قطاریں لگی ہوئی دیکھی۔ اندازہ ہوا کہ یہ تو بہت بڑا ائیرپورٹ ہے۔ بسوں میں سوار ہوکر آمد والے لاؤنج میں سامان کا انتظار کیا۔ اس دوران کسی نے بتایا کہ یہ تہران کا مھرآباد ائیرپورٹ ہے جو صرف ڈومیسٹک فلائٹس کو ہینڈل کرتا ہے، امام خمینی انٹرنیشنل ائیرپورٹ الگ ہے۔

اس دوران میں تین اور شہروں سے بھی فلائیٹس لینڈ کرگئی تھیں۔ بندرعباس اور بوشہر مجھے یاد ہیں۔ یہاں پر میں نے لوگوں کو قریب سے دیکھنا شروع کردیا۔ سب لوگ تروتازہ، ہشاش بشاش اور خوش لباس تھے۔ تقریباً تمام لوگ سفید اور پروفیشنل لگے۔ اکثر خواتین نے صرف چھوٹا سا اسکارف سر پر رکھا ہوا تھا۔ کچھ خواتین جو بہت کم تھیں،نے امام خمینی اسٹائل کا برقعہ پہنا ہوا تھا۔ تاہم مجھے لوگ زیادہ تر لبرل مگر باوقار اسٹائل میں لگے۔ یہ میری ایرانی قوم سے پہلی بالمشافہ ملاقات تھی۔

یہاں پر میں اس مشاہدے میں گم تھا جبکہ دوستوں نے اپنا سامان وصول کرلیا تھا۔ میرا سامان سب سے آخر میں آیا۔ کچھ گھبراہٹ ہوئی کہ خدانخواستہ بیگ آف لوڈ تو نہیں کیا گیا تھا۔ سامان لے کر باہر آئے تو پتہ چلا کہ ہمیں لینے کے لیے ایران ایکسپو کے منتظمین نے ایک کوچ کا انتظام کر رکھا ہے۔ اس دوران ہمیں چابھار سے خصوصی طور پر آئے دوست اور میزبان میر حمید میر نے جوائن کیا جو فون پر مسلسل انتظامیہ اور علی اصغر بھائی سے رابطے میں تھے۔

علی اصغر کتری چابھار کے رہنے والے ہیں اور انتہائی محبت کرنے والے شخص ہیں۔ انہوں نے اس ٹور میں ہمارا جس طرح سے خیال رکھا وہ مثالی تھا۔ گوادر چیمبر آف کامرس کے دوست بھی اس کوچ میں ہمارے ساتھ بیٹھ گئے۔ ائیرپورٹ سے ہوٹل تک تہران ہمیں ہر لمحے حیران کر رہا تھا۔ تہران کا ایک اہم لینڈ مارک ’آزادی ٹاور‘ ائیر پورٹ کے قریب نظر آیا۔ ہم آدھے گھنٹے کے بعد ہوٹل پہنچے۔

ہوٹل میں داخل ہونے کے لیے کوئی سیکیوریٹی بیریئرز نہیں تھے۔ کسی نے بھی ہمارا سامان چیک نہیں کیا۔ ہوٹل کی کوئی باؤنڈری وال بھی نہیں تھی۔ سب کچھ اوپن تھا۔ استقبالیہ پر ایران ایکسپو کے دوستوں نے ہم سے پاسپورٹ لےکر کمرے الاٹ کروائے۔ میں اور حفیط روم میٹ بن گئے۔ باقی دوستوں کو تین، تین اور دو بیڈ کے کمرے الاٹ کیے گئے۔ ہمارا کمرہ دسویں فلور پر تھا۔ کمرے زبردست اور تمام تر سہولتوں سے آراستہ تھے۔ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں چابھار ائیرپورٹ پر ادا کرچکا تھا۔ چنانچہ اب ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے سوگئے۔

رات کو ہی ہمیں بتایا گیا تھا کہ ناشتے کا وقت صبح سات بجے سے دس بجے ہے۔ اور ایکسپو جانے کےلیے آخری بس دس بجے روانہ ہوگی۔صبح بیدار ہوا تو کھڑکی کھولی سامنے تہران کے برف سے ڈھکے پہاڑ اور برج میلاد جیسے لینڈ مارک تھے۔ یہ وہ مناظر تھے جو میں نے تہران کی تصاویر میں ہی دیکھے تھے۔ آج اللہ تعالیٰ نے صبح کے آغاز ہی میں ان مناظروں سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کیا۔ (شکراً یا ربی)

میں اور حفیظ ناشتے کے لیے دوڑے۔ ناشتے کا شاندار بوفے اسٹائل میں انتظام کیا گیا تھا۔ وہاں پر پاکستان اور گوادر سے آئے ہوئے تاجروں اور دیگر شرکاء سے ملاقات ہوئی جو کافی زیادہ تعداد میں تھے۔

ہم 9:45 پر نیچے لابی میں پہنچ گئے تھے تو پتہ چلا کہ عطاءاللہ، واجد اور مونس روایتی کراچی والی دیر سے اٹھنے والی عادت کے سبب ابھی خواب خرگوش میں تھے۔ وہ لوگ دیر سے اٹھے اور بغیر ناشتہ کیے خوش قسمتی سے ایک کار میں مفتے میں ایکسپو تشریف لائے۔

ہوٹل لالے کا پرانا نام ہوٹل انٹرکانٹی ننٹل تھا جو شاہ ایران کے دور میں تہران کے لیے خصوصی طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ انقلاب کے بعد نام تبدیل کیا گیا اور ’ہوٹل لالے‘ رکھا گیا جو آج کل ہوٹلوں کی ایک زبردست چین بن چکی ہے۔

دس بجے میں حفیط، سجاد اور مسلم شاکر اور مہمانوں کے ساتھ ایکسپو کے لیے روانہ ہوگئے۔ یہ 45 منٹ کا سفر تھا۔ اس دوران میں تہران شہر کو خوب دیکھنے کا موقع مل رہا تھا۔ ہر طرف کاریں ہی کاریں نظر آرہی تھیں۔ تہران میں اکثر کاریں سفید رنگ اور ٹیکسیاں پیلے رنگ کی ہیں۔ راستے میں بعض مقامات بڑے خوبصورت نظر  آئے۔ ایکسپو پہنچے تو دیکھا کہ شرکاء کو لانے کے لیے کئی بسیں قطار میں کھڑی ہیں۔

استقبالیہ گیٹ سے گزرے تو دیکھا تو یہ ایک بالکل مختلف انداز کا ایکسپو گراؤنڈ ہے۔ یہاں قطار میں ہالوں کے بجائے پورا ایکپسپو ویلیج بنایا گیا ہے جہاں کل 45 ہالز ہیں۔ ایک قطار سے دوسری قطار کے ہالز تک جانے کے لیے شٹل سروس مہیا کی گئی تھیں۔

اس ایکسپو کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ کراچی شہر ساڑھے تین کروڑ کی آبادی کا شہر ہے جبکہ کراچی ایکسپو سینٹر کے فقط 6 ہالز ہیں۔ جبکہ تہران پرمننٹ فیئر گراؤنڈ کے 45 ہالز ہیں جو ایک دوسرے سے ہٹ کر بنائے گئے ہیں۔

ہم نے شٹل پر بیٹھ کر ہال نمبر 35 سے وزٹ شروع کیا۔ کچھ ہالز گھومے اور مختلف کاروباروں کے بارے میں معلومات اکھٹی کیں۔ ہر جگہ کافی، چائے، بسکٹس، کیکس، جوسز اور کھانے پینے کی مختلف چیزوں سے ملاقاتیوں کی تواضع کی جا رہی تھی۔

کچھ مشکلات زبان کے حوالے سے تھیں مگر ہر جگہ تقریباً مترجم کا انتظام تھا۔ ہالز اور دوسرے مقامات پر لڑکے اور لڑکیاں مترجم کے طور پر اپنی خدمات پیش کر رہی تھیں۔

میں نے دوستوں سے گزارش کی کہ مجھے فوڈز کے ہال 8-9 لے جائیں جہاں میں کچھ کمپنیز کے لوگوں کی انٹرویوز کرسکوں۔ اس دوران خوش نصیبی سے علی اصغر بھی تشریف لائے۔ انہوں نے میری یہ مشکل آسان کردی اور مطلوبہ اسٹالز پر  فارسی زبان میری ترجمانی کی۔ اس دوران میں شیرین عسل، اور کچھ اہم کمپنیز کے انٹرویوز ریکارڈ ہوسکے۔ اس کے لیے  ہمارے گروپ کے اہم ممبر نثار لال نے اہم ترین کردار ادا کیا اور میری بہت زیادہ مدد کی۔ کچھ وقت کی کمی اور فارسی زبان کی وجہ سے میں انٹرویوز کا مطلوبہ ٹارگٹ پورا نہیں کر پایا۔

اس دوران دوستوں نے کہا کہ لنچ کے لیے چلتے ہیں جس کا انتظام بی ٹو بی میٹنگز کے لیے مخصوص ہال کے قریب کیا گیا۔ کھانے کی جگہ کو ڈھونڈنے کے لیے  ہمیں بہت چلنا پڑا۔ بڑی مشکل سے پوچھتے پوچھتے وہاں پہنچے تو دیکھا ہمارا کراچی گروپ کھانے کے مخصوص خیمے میں موجود ہے۔ ناشتہ نہیں کیا تھا اس لیے بھوک ان کو یہاں لے کر آگئی تھی۔ کھانے کی تقسیم بہت ہی منظم انداز میں کی گئی تھی۔

 کارڈ یا دعوت نامہ دیکھ کر خیمے میں اندر جانے دیتے تھے۔ یہ ایک بہت ہی لمبا خیمہ تھا جو ایکسپو کے خوبصورت ڈانسنگ فاؤنٹین کی گرل کے ساتھ ساتھ بنایا گیا تھا۔ ہال میں داخل ہوتے ہی آپ کو ایک ٹرے میں مشروبات، چمچے، پانی اور دہی ملتی اس کے بعد چاول اور کباب کے ساتھ ساتھ خیمے، دلیم، دال اور کچھ سالن کی گریبی۔ سینکڑوں لوگ ایک وقت میں انتہائی منظم انداز میں لنچ سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

کھانے سے فراغت کے بعد میں اور واجد سامنے موجود امام بارگاہ میں چلے گئے۔ یہ میری زندگی میں یاد گار لمحہ تھا جب میں ایک امام بارگاہ میں اپنے رب کے حضور سر بسجود تھا۔ اس امام بارگاہ میں ہر رنگ و نسل اور فرقے کے لوگ اپنے اپنے فقہی انداز میں نماز ادا کر رہے تھے۔ امام بارگاہ میں امام خمینی کے تصویر بھی لگی دیکھی۔

امام بارگاہ کے باہر مضمون نگار

کاش! ہم ہر جگہ دلوں میں اتنی وسعتیں پیدا کریں۔ زندگی کی خوبصورتی نفرت سے نہیں بلکہ برداشت اور محبت سے پیدا ہوتی ہے۔ چار بجے کے قریب ہم ٹیکسی لینے کے لیے ایک گیٹ سے نکلے اور تقریباً ایک کلومیٹر کے بعد ٹیکسی لینے کے لیے مین روڈ  تک پہنچ گئے۔ وہاں ہم سے ایک اور پیارے دوست تہران یونیورسٹی میں انٹرنیشنل ریلیشنز میں پی ایچ ڈی کرنے والے خالد بلوچ ملے۔

خالد بہت ہی خوبصورت شخصیت کے مالک ہیں۔ نوجوان ہیں اور چابھار سے تعلق  رکھتے ہیں۔ وہ ہمارے ساتھ ٹیکسی میں بیٹھ گئے جس کا یہ فائدہ ہوا کہ ٹیکسی ڈرائیور سے بات کرتے ہوئے آسانی ہوئی۔ ٹیکسی ڈرائیور ایران ائیر میں کام کرتے رہے ہیں۔ کراچی اور یورپ میں پوسٹنگ ہوئی تھیں۔ ہمارے ساتھ گپ شپ میں لگ گئے۔ خوش مزاج انسان لگے۔ دو شادیاں کی تھیں لیکن پھر بھی خوش۔۔۔۔۔۔ خالد نے ہمارے مترجم کا کردار بخوبی نبھایا۔ تہران میں کافی ٹریفک جام رہتی ہے جس کہ وجہ سے ہم کچھ لیٹ پہنچے، باقی لوگ پہلے دوسرے راستوں سے پہنچے تھے۔

آج ہمارے گروپ کا پروگرام تھا کہ ہم برج میلاد جائیں گے جو تہران کا ایک اہم ٹورسٹ لینڈ مارک ہے۔ برج میلاد امام خمینی کے صد سالہ یوم پیدائش پر خصوصی طور پر تعمیر کیا گیا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس پروجیکٹ کا آئیڈیا شاہ کے دور کا ہے جس کی اس زمانے میں تعمیر پر 5 ارب ڈالرز کا تخمینہ لگایا گیا تھا جو آج کے حساب سے 21 ارب ڈالرز بنتے ہیں۔ یہ بہت بڑا پروجیکٹ ہے جس میں پنج ستارہ ہوٹل، کنونشن سینٹر، ورلڈ ٹریڈ سینٹر شامل ہیں۔ 435 میٹر(1427 فیٹ) اونچا اور دنیا کی چھٹی اونچا ٹیلی کام ٹاور ہے۔

برج میلاد

اس کی تعمیر کا آغاز سن 1997 میں ہوا  اور مکمل ہونے میں  گیارہ سال لگے۔ سال 2008 میں اس کا افتتاح کیا گیا۔ ہم ٹکٹ لے کر  اس کے پہلے حصے میں پہنچے۔ اس کے بعد پھر لفٹ کے ذریعے دوسرے حصے میں پہنچے جو بہت ہی بلند ہے۔ یہاں تہران شہر کا نظارہ کیا۔ پھر ہمیں کئی منزلیں نیچے لے کر گئے جہاں انہوں نے ایک میوزیم بنایا ہے۔ اپنے قوم کے لیے کام کرنے اور قربانی دینے والی شخصیات، سائنس دان، شاعر، ادیب، استاد اور انقلاب ایران کے لیے کام کرنے والے افراد شامل تھے جن میں سب سے اہم حاج قاسم سلیمانی کا مجسمہ ہے۔

مضمون نگار قاسم سلیمانی کے مجمسہ کے سامنے

قاسم سلیمانی آج کے ایران کا قومی ہیرو ہیں۔ ان کی ہر جگہ فوٹوز نظر آئیں۔ ائیرپورٹس، ہوٹلز، شاپنگ مالز، میٹرو ہر جگہ قاسم سلیمانی کو نمایاں رکھا گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ امام خمینی اور آیت اللہ خامنہ ای کے بعد قاسم سلیمانی ایران کی اہم ترین شخصیت ہیں۔(جاری ہے)


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے