اسرائیل میں انتخابات

اسرائیلی انتخابات: اہم جماعتوں کے نعرے کیا تھے اور ان کی کارکردگی کیسی رہی؟

·

اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات میں کوئی بھی واضح فاتح بن کر سامنے نہیں آیا ہے۔ تقریباً 90 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد دونوں بڑے سیاسی اتحاد حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کا اتحاد 120 رکنی کنیست (پارلیمنٹ) میں 53 نشستیں حاصل کرنے کی راہ پر ہے، جبکہ گاڈی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد کو 48 نشستیں ملنے کی توقع ہے۔ عرب اکثریتی جماعتوں نے 19 نشستیں جیت کر ایک تاریخی ریکارڈ قائم کیا ہے، جس کی بڑی وجہ اسرائیلی فلسطینی شہریوں کی جانب سے تقریباً 80 فیصد کا ریکارڈ ٹرن آؤٹ ہے۔

اس صورتحال نے عرب جماعتوں کو حکومت سازی کے جوڑ توڑ کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے، حالانکہ کئی پارٹی رہنماؤں نے ان کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کو مسترد کر دیا تھا۔

آئیے! دیکھتے ہیں کہ انتخابات سے پہلے اور پولنگ کے دوران اہم جماعتوں کے رہنماؤں نے کیا کہا تھا، اور وہ کس حد تک کامیاب رہے؟ آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں:

انتخابات سے پہلے: انتخابی مہم کے دوران نتن یاہو کافی پرامید دکھائی دیے۔ انہوں نے 22 اکتوبر کو ‘دی یروشلم پوسٹ’ سے بات کرتے ہوئے کہا، ’میں مزید پانچ مدتوں کے لیے اقتدار میں رہوں گا۔‘ اتوار کے روز انہوں نے اپوزیشن کو نشانہ بنایا۔ اخبار ‘ہارٹز’ کے مطابق اسرائیل کے چینل 14 پر نشر ہونے والے ایک بیان میں نتن یاہو نے خبردار کیا کہ اگر اپوزیشن جیت گئی تو وہ لاکھوں فلسطینیوں کو شہریت دے دیں گی، جو کہ ’یہودی ریاست کے خاتمے‘ کا اشارہ ہوگا۔

انتخابات کے دن: منگل کے روز انہوں نے کہا کہ عرب قیادت والی جماعتوں کے ساتھ حکومت بنانا ’شرم اور رسوائی‘ کی بات ہوگی۔ انہوں نے اپنے حامیوں سے کہا، ’اسرائیل کو خطرے میں ڈالنا اور صیہونیت مخالف عرب جماعتوں پر انحصار کرنے والی حکومت قائم کرنا سراسر ممنوع ہے، بلکہ سخت ممنوع ہے۔‘

انتخابات کے بعد: انتخابات کے بعد نتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی نے ووٹ دینے والے اسرائیلی فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنایا۔ نتن یاہو کی جانب سے جاری کیے گئے پارٹی کے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ’انتخابات ان عرب جماعتوں نے چوری کیے ہیں جو دہشتگردی کی حمایت کرتی ہیں اور سنگین مجرمانہ جرائم کے ذریعے یہودی ریاست کا خاتمہ چاہتی ہیں۔‘ تاہم، ‘دی ٹائمز آف اسرائیل’ کے مطابق، پولیس اور مرکزی الیکشن کمیٹی نے ان دعووں کو پہلے ہی مسترد کر دیا ہے۔

نتائج کیا بتاتے ہیں: لیکوڈ پارٹی 20.65 فیصد ووٹوں کے ساتھ 26 نشستیں لے کر سب سے بڑی پارٹی بننے کی راہ پر ہے، لیکن نتن یاہو کے اتحاد کے پاس 53 نشستیں ہیں، جو اکثریت سے 8 نشستیں کم ہیں۔ واضح رہے کہ دو ہزار بائیس کے عام انتخابات میں لیکوڈ پارٹی نے بتیس سیٹیں جیتی تھیں۔ حالیہ انتخابات میں چھ نشستوں کے خسارے کا سامنا ہے۔

انتخابات سے پہلے: ستمبر میں ‘دی یروشلم پوسٹ’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے اس خیال کو مسترد کر دیا کہ انہیں عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ انہوں نے کہا، ’میرا ماننا ہے کہ ہمیں جو اکثریت حاصل ہوگی وہ موجودہ پولز کے نتائج سے کہیں زیادہ ہوگی۔‘ اور مزید کہا، ’مجھے کوئی ایسی عرب پارٹی نظر نہیں آتی جو میرے اصولوں کو تسلیم کرے۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’میرا اندرونی احساس کہتا ہے کہ اب مجھ میں نتن یاہو کو شکست دینے کی صلاحیت ہے۔‘

انتخابات کے دن: آئزن کوٹ نے اسرائیلیوں کو ’اسرائیل کی تاریخ کی بدترین حکومت‘ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے متحرک کیا۔ تاہم، انہوں نے مقابلہ سخت ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا، ’ہم شاید ریاست کے قیام کے بعد سے اب تک کے سب سے اہم ترین دن کا سامنا کر رہے ہیں۔‘

انتخابات کے بعد: بدھ کے روز آئزن کوٹ نے اپنے حامیوں سے کہا کہ اسرائیلی عوام نے نتن یاہو کے ’خلاف ووٹ دیا‘ ہے اور وعدہ کیا کہ ’وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ عوام کے فیصلے کو ایک صیہونی حکومت کی شکل دی جائے‘۔

نتائج کیا بتاتے ہیں: گزشتہ برس یعنی دو ہزار پچیس میں قائم ہونے والی یشار پارٹی 16.16 فیصد ووٹوں کے ساتھ 21 نشستیں حاصل کرنے کی راہ پر ہے۔ ان کے اتحاد کے پاس 48 نشستیں ہیں، جو اکثریت سے 13 نشستیں کم ہیں، اور وہ عرب قیادت والی جماعتوں کے بغیر 61 کے ہندسے تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس جماعت کی کامیابی کا مطلب ہے کہ اسرائیلی قوم میں نتن یاہو کے خلاف جذبات خاصے بڑھ گئے تھے جس کے دو مظاہر سامنے آئے۔ ایک: نتن یاہو کی پارٹی کو  گزشتہ انتخابات کی نسبت کم سیٹیں اور ووٹ ملنا۔ دوم: یشار پارٹی جیسی نئی پارٹی کو غیر معمولی طور پر بڑی کامیابی حاصل ہونا۔

انتخابات سے پہلے: فروری میں، ووٹنگ سے کئی ماہ قبل، بینیٹ نے پارٹی کارکنوں کی ایک بند کمرہ کانفرنس کو بتایا کہ وہ منصور عباس کی ‘رعام’ پارٹی کے ساتھ حکومت بنانے کے اپنے 2021 کے فیصلے پر قائم ہیں، لیکن وہ اسے دوبارہ نہیں دہرائیں گے۔ ‘اسرائیل نیشنل نیوز’ کے مطابق انہوں نے کہا، ’ہم میری قیادت میں ایک قومی اتحاد کی حکومت قائم کریں گے… ہم جیتنے جا رہے ہیں اور ہم ہی حکومت بنائیں گے۔‘

میں نے اسرائیل میں کیا دیکھا، کیا سنا؟

اسرائیلی سیاست دان کی گواہی

نیتن یاہو کا اقتدار ختم ہوچکا، زپی لیونی سابق اسرائیلی وزیر خارجہ

انتخابات کے دن: بینیٹ نے تل ابیب میں اپنے حامیوں سے کہا، ’نتن یاہو ہار چکے ہیں، اور 7 اکتوبر والی حکومت اب گھر جا رہی ہے۔‘

انتخابات کے بعد: سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (ٹویٹر) پر ایک پوسٹ میں بینیٹ نے اسرائیلیوں سے کہا کہ وہ ’اپنے سر بلند رکھیں‘ اور کہا کہ وہ ’صیہونی الائنس آف سرونٹس کی حکومت قائم کرنے کے لیے‘ سب کچھ کریں گے۔

نتائج کیا بتاتے ہیں: ٹوگیدر پارٹی 9.07 فیصد ووٹوں کے ساتھ 12 نشستیں حاصل کرنے کی راہ پر ہے، جو ‘جوائنٹ لسٹ’ سے معمولی پیچھے ہے۔ نفتالی بینیٹ ایک وقت میں اسرائیل کے وزیر اعظم تھے، گزشتہ برس انھوں نے اپنی جماعت بنائی اور ایک دوسری جماعت کے ساتھ اتحاد قائم کیا۔ تاہم اس اتحاد کو پہلے کی نسبت کافی کم ووٹ اور سیٹیں ملیں۔

انتخابات سے پہلے: اپنی انتخابی مہم میں بن غفیر نے اب تک کے بدترین نسل کشی کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اگست میں کہا تھا کہ غزہ میں کچھ ایسے فلسطینی ہیں ’جو زندہ رہنے کا استحقاق نہیں رکھتے۔ انہیں زندہ نہیں رہنا چاہیے۔ وہ انسان بھی نہیں ہیں۔‘ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل ہر رات غزہ میں ’30 سے 40‘ لوگوں کو قتل کرے۔

انتخابات کے دن: انہوں نے عرب شہر کفر قاسم کے داخلے پر اپنے حامیوں سے کہا، ’اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ ملک یہودی اور صیہونی رہے، اور اگر آپ نہیں چاہتے کہ یہ ملک (اسرائیلی پارلیمنٹ کے ارکان) منصور عباس اور احمد طیبی کے ہاتھوں میں چلا جائے، تو باہر نکلیں اور ووٹ دیں۔‘

نتائج کیا بتاتے ہیں: اوتزمہ یہودیت پارٹی 5.58 فیصد ووٹوں کے ساتھ صرف 7 نشستیں حاصل کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے، جو ان کی خواہش (15 نشستیں) کے آدھے سے بھی کم ہے۔

انتخابات سے پہلے: اگست میں جاری کیے گئے ایک بیان میں انہوں نے اپنی مہم کے حصے کے طور پر فلسطینیوں کی قیمت پر ’نقب اور جلیل کے علاقوں کو یہودیانے‘ کے پروگرام کے ساتھ اپنی بستیوں کی تعمیر کے ’انقلاب‘ کو وسعت دینے کا وعدہ کیا تھا۔

انتخابات کے دن: انہوں نے فیس بک پر اسرائیلی فلسطینی شہریوں کے علاقوں میں اعلیٰ ٹرن آؤٹ پر تشویش کا اظہار کیا اور دعویٰ کیا کہ اگر دائیں بازو کے ووٹر باہر نہ نکلے تو ’دہشتگردوں کے حامی‘ حکومت میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اسی رات انہوں نے حامیوں سے کہا کہ ’غزہ میں یہودی بستیاں قائم کی جائیں گی۔‘

نتائج کیا بتاتے ہیں: مذہبی صیہونیت پارٹی 4.78 فیصد ووٹوں کے ساتھ 6 نشستیں حاصل کرنے کی راہ پر ہے۔

انتخابات سے پہلے: ‘دی یروشلم پوسٹ’ کے مطابق، اگست میں انہوں نے اصرار کیا تھا کہ صرف ’ایک بڑی اور مضبوط ‘جوائنٹ لسٹ’ ہی نتن یاہو/بن غفیر/سموٹرچ حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے پوری طاقت سے کام کرے گی‘۔

انتخابات کے دن اور رات: ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ نتن یاہو جانتے ہیں کہ ’ہم ان کے خونی دورِ اقتدار کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔‘

انتخابات کے بعد: انہوں نے X پر لکھا کہ ان کی پارٹی نتن یاہو حکومت کو ’برطرف‘ کرنے کے لیے تیار ہے، جسے انہوں نے ’خون ریزی‘ کی حکومت قرار دیا۔ انہوں نے لکھا، ’برتری، نسل پرستی اور بائیکاٹ کی سیاست کے خلاف، ہم ایک بالکل مختلف متبادل پیش کرتے ہیں۔ تبدیلی یہودی-عرب شراکت داری، ایک سچی اور برابر کی شراکت داری کے ذریعے ہی آتی ہے۔‘

نتائج کیا بتاتے ہیں: جوائنٹ لسٹ 9.14 فیصد ووٹوں کے ساتھ 12 نشستیں حاصل کرنے کی راہ پر ہے، جس سے یہ ووٹ شیئر کے لحاظ سے تیسری بڑی پارٹی بن گئی ہے۔

انتخابات کے دن اور رات: جولائی میں، عباس نے رعام پارٹی کے لیے کم از کم 7 نشستوں کا ہدف مقرر کیا تھا، ان کا استدلال تھا کہ یہ نشستیں ایک ’تبدیلی کی حکومت‘ میں توازنِ اقتدار حاصل کرنے کے لیے کافی ہوں گی۔

انتخابات کے دن: انہوں نے اسرائیلی فلسطینی شہریوں کے بارے میں نتن یاہو کی سوشل میڈیا پوسٹس کا جواب دیتے ہوئے ایک ویڈیو میں کہا کہ وہ ’جھوٹ بول رہے ہیں اور رعام کے خلاف اکسا رہے ہیں، اور اسے دائیں بازو کے ووٹرز کو ڈرانے اور انہیں پولنگ اسٹیشنوں تک لانے کے لیے ایک حربے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں‘۔

نتائج کیا بتاتے ہیں: رعام پارٹی 6.09 فیصد ووٹوں کے ساتھ 8 نشستیں حاصل کرنے کی راہ پر ہے، جو ان کے 7 نشستوں کے ہدف سے بہتر کارکردگی ہے۔ واضح رہے کہ پچھلے عام انتخابات میں اس جماعت کی پانچ نشستیں تھیں۔ یہ ہر آنے والے انتخابات میں پہلے سے زیادہ نشستیں حاصل کر رہی ہے۔

انتخابات سے پہلے: 15 اکتوبر کو انہوں نے دعویٰ کیا تھا: ’ہم تبدیلی کے اتحاد کے لیے 61 یا اس سے زیادہ نشستیں حاصل کر لیں گے۔‘

انتخابات کے دن: انہوں نے صبر کی تاکید کرتے ہوئے جمعہ کے روز کہا، ’ہم جلد ہی ایک بہت بہتر اور زیادہ پرامید تصویر کے بارے میں بات کرنے کے قابل ہوں گے۔‘

نتائج کیا بتاتے ہیں: یسرائیل بیتینو پارٹی 5.93 فیصد ووٹوں کے ساتھ 7 نشستیں حاصل کرنے کی راہ پر ہے۔

انتخابات سے پہلے: ستمبر میں انہوں نے ایک بیان پوسٹ کیا جس میں کہا گیا، ’نتن یاہو نے 7 اکتوبر سے پہلے ہر انتباہ کو نظر انداز کیا، اور اب، انتخابات سے صرف 28 دن پہلے، وہ اچانک خوف پھیلانے کی سیاست میں مصروف ہو گئے ہیں۔‘

انتخابات کے دن: انہوں نے جیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا، ’نتن یاہو کے اتحاد کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔‘

نتائج کیا بتاتے ہیں: ٹوگیدر پارٹی، جس کی قیادت وہ نفتالی بینیٹ کے ساتھ مل کر کر رہے ہیں، 9.07 فیصد ووٹوں کے ساتھ 12 نشستیں حاصل کرنے کی راہ پر ہے۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں