والدہ شوکت خانم اور بیٹا عمران خان

والدہ محترمہ شوکت خانم بنام فرزندارجمند وزیراعظم عمران خان

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

سہیل وڑائچ :

ساتواں آسماں

خلد آشیان

4اگست2020ء

فخرِ پاکستان و فخرِ اسلام بیٹے!

دعائیں اور پیار۔ دنیائے لامکاں میں تمہاری خبریں دل کو خوش کرتی رہتی ہیں۔ تم نے میرے نام پر شوکت خانم اسپتال بنا کر مجھے زمین و آسمان دونوں جگہ پر عزت دی ہے اور اپنا مقام بھی بلند کیا ہے۔ تم جب سے وزیراعظم بنے ہو، پاکستان اور دنیائے فانی سے آنے والے لوگ مجھے تمہاری اطلاعات پہنچاتے رہتے ہیں۔

ابھی کل ہی احسن رشید آئے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ عالمِ اسلام میں عمران خان واحد شخصیت ہے جو مشرق اور مغرب کا ملاپ کرا سکتا ہے۔ وہ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ عمران نے جس طرح کرکٹ میں چار دانگ عالم میں ڈنکا بجادیا تھا، ویسے ہی یہ عالمی سیاست میں ملک کا نام روشن کرے گا۔ احسن رشید نے بتایا کہ اسٹاک مارکیٹ بہت بہتر ہو گئی ہے۔

معجزاتی طور پر کورونا نے پاکستان کی جان چھوڑنا شروع کردی ہے۔ بیرون ملک سے کاٹن انڈسٹری کو دھڑا دھڑ آرڈر مل رہے ہیں۔ تعمیراتی شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے غرضیکہ دو برس بعد پہلی بار معاشی پہیے میں حرکت شروع ہوئی ہے۔ میں نے یہ باتیں سنیں تو دل بہت خوش ہوا اور تمہیں بھی میں ان کامیابیوں پر مبارکباد دیتی ہوں۔

پیارے عمران!

تمہیں علم ہے کہ میں صرف لاڈ پیار کرنے والی ماں نہیں ہوں، حقیقت پسند بھی ہوں اور میں چاہتی ہوں کہ تمہاری غلطیوں کی اصلاح بھی ہو۔ کل ہی میں نے اپنی ایک راز دار کو شریفی محلے اور بھٹو منزل بھیجا تھا کہ وہ سن گن لے کہ وہاں کیا سوچا جا رہا ہے۔

حیران کن خبر یہ ملی کہ ان دونوں سیاسی حریفوں کے ہاں خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔ قہقہے اور مسکراہٹیں بکھر رہی ہیں۔ میں نے اپنی راز دار سے پوچھا کہ وہاں تو سوگ ہونا چاہئے تھا۔

ان کا احتساب ہو رہا ہے، گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا ہے، ایسے میں وہاں خوشیاں کیوں منائی جا رہی ہیں؟ میری راز دار نے اندر کی خبر یہ بتائی کہ یہ دونوں خاندان خوش ہیں کہ عمران خان نے دو سال سے کوئی سیاست نہیں کی۔

عمران اکلوتا بیٹا ہے، نہ ہی کوئی بہن سیاست میں ہے اور نہ ہی بیٹے سیاست میں آئیں گے۔ سیاسی وارث کوئی نہیں ہے۔ اب یہ 70سال کا ہونے کو ہے اگر اگلے الیکشن تک حکومت چلتی ہے تو یہ 73,72سال کا ہو جائے گا،

نسبی وراثت ن میں ہے، پیپلز پارٹی میں ہے، تحریک انصاف میںنہ اس کا امکان ہے اور نہ اس کی پالیسی ہے۔ نونی اور پیپلی سوچ تو خیر مریضانہ ہے، اصل بات اصولوں کی وراثت کی ہے۔

اصل وراثت ہے کہ آپ حکومت، سیاست اور معاشرے پر اپنا کیا اثر چھوڑ کر جائو گے۔ مجھے علم ہے کہ تمہیں اپنی ساکھ، عزت اور وقار کی ہمیشہ پرواہ رہی ہے لیکن دو برسوں میں ایسی کوئی وراثت پیدا نہیں کی، ایسی ساکھ نہیں بنائی کہ لوگ تمہیں اور تمہارے خاندان کو یاد رکھیں۔

میرے اکلوتے بیٹے!

تم جالندھری پٹھانوں اور میانوالی کے نیازی خاندان کے سب سے نامور فرزند ہو۔ تمہارے ننھیال برکی خاندان میں بڑے بڑے افسر اور کرکٹر پیدا ہوئے ہیں لیکن نہ کوئی کرکٹر تمہارے جیسا مقام حاصل کر سکا اور نہ کوئی اور صدر یا وزیراعظم جیسے عہدہ جلیلہ پر پہنچ سکا۔

اب تم پر یہ ذمہ داری ہے کہ تم اصولوں اور پالیسیوں کا ایسا ورثہ چھوڑو کہ آنے والی نسلیں تمہیں یاد رکھیں۔ احتساب بہت اچھی چیز ہوتی ہے مگر پوری تاریخ دیکھ لو جس کسی نے بھی صرف مخالفوں کا احتساب کیا تاریخ نے اسے منصف حکمران کا خطاب نہیں دیا۔

پوری تاریخ میں خلفائے راشدین کے بعد جو بھی اچھے ادوار رہے ہیں ان میں عوام کو ریلیف دیا گیا، لوگ چین کی نیند سوئے۔ وزیراعظم صرف ایک پارٹی کا نہیں پوری قوم کا حکمران ہوتا ہے اسے صرف اپنے حامیوں کا نہیں بلکہ مخالفوں کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے۔

میثاقِ مدینہ میں یہودی بھی شامل تھے اور مدینہ کی ریاست غیرمسلموں کو بھی انصاف فراہم کرتی تھی۔ تم ہمیشہ ریاست مدینہ کی مثالیں دیتے ہو، اپنے طرزِ عمل اور سلوک میں توازن پیدا کرتے ہوئے مخالفوں کے لئے بھی اپنے دل کو کھلا کرو۔

پیارے بیٹے!!

تم بڑے سمجھدار ہو، عقل مند ہو مگر یاد رکھو پاکستان میں اقتدار آتے اور جاتے دیر نہیں لگتی یہاں کئی وزیر اور وزیراعظم اپنے آنے اور جانے کی کہانیاں سناتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ انہیں کتنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر رخصت کر دیا گیا۔

محمد علی بوگرہ اور حسین شہید سہروردی تو ابھی تک حیران ہیں کہ انہیں وزارتِ عظمیٰ کا تاج پہنایا کیوں اور پھر اُتروایا کیوںگیا؟ یہ دونوں اب بھی شیخ مجیب الرحمٰن سے متحدہ پاکستان کے حق میں بحث مباحثہ کرتے رہتے ہیں۔ بنگالی محلے سے گزریں تو اب بھی کئی گھروں پر پاکستان کے جھنڈے لہرا رہے ہوتے ہیں۔

ہاں تو خیر بات ہو رہی تھی اقتدار کے آنے اور جانے کی۔ یہاں کے سب لوگوں کا خیال ہے کہ اگر آج الیکشن ہو جائیں تو پنجاب میں نونی سویپ کر جائیں گے جبکہ سندھ میں پپلیے پھر جیت جائیں گے۔ پختونخوا میں بھی تمہاری جماعت کی حالت اتنی مضبوط نہیں رہی۔ کیا یہ سب تمہارے علم میں نہیں۔ تحریک انصاف کے سوچنے اور سمجھنے والے لوگ پریشان ہیں کہ ہمارا سیاسی ورثہ کیا ہوگا؟

دنیا سے جو بھی آ رہا ہے وہ کہتا ہے کہ تمہارے بیٹے کی ٹیم ٹھیک نہیں، خاص کر پنجاب کا ذکر کیا جاتا ہے۔ مجھے علم ہے کہ تمہاری کوئی کمزوری نہیں ہے، تم نے تو خالہ زاد بھائی ماجد خان کو ٹیم سے فارغ کر دیا تھا حالانکہ ان کے ہم پر بڑے احسانات تھے۔

تم نے اکرام اللہ کے بھتیجوں حفیظ اللہ نیازی اور انعام اللہ نیازی کو فارغ کرنے میں بھی دیر نہیں لگائی ایسے میں تمہاری کیا مجبوری بن گئی ہے کہ تم نے اپنا سارا ورثہ، ساری سیاست اور اپنا سارا وزن ایک ہی شخص کے پلڑے میں ڈال دیا ہے۔

یاد رکھو! انسان ہر بات میں ٹھیک نہیں ہوتا۔ تم نے منصور اختر کے بارے میں بھی ایسے ہی ضد کی تھی اس پر کتنا زور لگایا تھا مگر اس نے نہ چلنا تھا نہ وہ چلا۔ اب بھی اپنی ٹیم پر نظر ثانی کرو، سیاسی اور سماجی اصلاحات لائو۔ انصاف کو سستا اور میرٹ کو لاگو کرو۔ شوگر، گندم، ادویات اور دیگر مافیاز سے عوام کو چھٹکارا دلائو۔

تمہاری والدہ

شوکت خانم


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں