باحجاب مسلمان خاتون

تقدیس نسواں کا محافظ مرد

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

تسنیم اشرف :

ایک زمانہ تھا کہ باپ یا بھائی کے گھر میں داخل ہوتے ہی بیٹیوں اور بہنوں کے ہاتھ اپنے آنچل کی طرف چلے جاتے تھے کہ ٹھیک طرح سے سر اور سینہ ڈھانپ لیں،
حالانکہ اس دور کی مائیں گھر میں بھی دوپٹہ اتار کر شتر بے مہار پھرنے کو بیٹیوں کےلئے برا سمجھتی تھیں،

اور یہ کوئی صدیوں پرانی بات نہیں ہے،یہی چار پانچ دہائی پہلے کی بات ہے۔
یہ بھی نہیں تھا کہ ہر ماں کسی مدرسے کی عالمہ فاضلہ تھی،
یہی عام عورتیں تھیں جن کی گھٹی میں شرم و حیا ڈال دی گئی تھی،اور وہ اسی کو آگے منتقل کر رہی تھیں۔

اس دور کے مرد بھی شرم و حیا کے تقاضوں کو سمجھتے تھے،اور بیٹیوں بہنوں پر نظر رکھتے تھے،
ماں کو اگر بیٹی سے کوئی بات منوانا مشکل ہو جاتا تو باپ کو شکایت لگانے کی دھمکی دی جاتی اور بس یہ دھمکی کافی ہو جاتی تھی،

تب شاید ٹی وی ہر گھر میں نہیں پہنچا تھا،
کسی کسی گھر میں ہوتا تھا اور رات آٹھ بجے صرف ایک ڈرامہ آتا تھا،گلی کے سب بچے اسی گھر میں جمع ہو کر کچھ دیر ٹی وی دیکھ لیتے، اور کچھ لوگ تب بھی بیٹیوں کو جانے کیااجازت نہیں دیتے تھے،

ان چار پانچ دہائیوں میں کیسے اتنی بڑی تبدیلی آ گئی، کہاں کمی رہ گئی، کس نے اپنی ذمہ داری سے صرف نظر کیا، کیا ان حالات کو من و عن قبول کر لیا جائےیہ سوچ کر کہ قرب قیامت کے آثار ہیں،یا ہم میڈیا،معاشرے اور حکومت کے سامنے بے بس ہیں!

قابل غور بات ہے، ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ ہم میں سے ہر ایک مسوُل ہے،ہم سب سے اپنی رعییت کے بارے میں سوال کیا جائے گا،
جواب ابھی سے سوچنا ہو گا،اس کی تیاری کرنی ہو گی،

مردوں کو اللہ تعالٰی نے گھر کا نگران بنایا ہے،ان سے یہ سوال بھی ضرور ہو گا کہ اولاد کی تربیت کی ذمہ داری کہاں تک پوری کی،ان کو دین سکھایا؟ یا ایسے ہی چھوڑ دیا کہ
چلو ادھر کو تم، جدھر کو ہوا چلے

بے شک مائیں بھی تربیت اولاد کے معاملے میں ذمہ دار ہیں،اور اس دور میں مائیں ہی ذیادہ ذمہ دار ہیں، لیکن شاید مائوں کی معاونت کےلئے باپ کا وہ کوڑا نہیں رہا، جس کا حدیث مبارک میں ذکر کیا گیا ہے کہ اولاد کی تربیت کے لئے کوڑا لٹکائے رکھو،
مطلب یہ کہ اولاد کو یقین ہو کہ ذرا سا بھی راہ سے ہٹنے پر کوڑا برس بھی سکتا ہے،

اس سلسلے میں ہمارے دین میں مکمل رہنمائی موجود ہے، قرآن کو کھول کر تو دیکھیں، احادیث سے رجوع کریں،بحیثیت باپ آپ کو تربیت کے بہترین اصول ملیں گے،استفادہ کریں،اور معاشرے کو ایک بہترین نسل فراہم کریں،
ایسی نسل جو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق تعلیم یافتہ بھی ہو اور اپنے دین سے رہنمائی لینے والی بھی ہو،
یقین مانیں اگر ایسا ہو گیا تو ہمیں کسی غیر مسلم کا نصاب تعلیم اپنانے کی ضرورت نہیں رہے گی،
بقول اکبر الہ آبادی۔

دیکھا جو بے پردہ کل چند بیبیوں کو
پوچھا تیرا وہ پردہ کیا ہوا
کہنے لگیں کہ پڑ گیا مردوں کی عقل پر


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں