مقبوضہ کشمیر کا دارالحکومت سری نگر خارداروں تاروں میں قید

مسئلہ کشمیر، عالمی طاقتیں خاموش کیوں؟

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

شبانہ ایاز :

مسئلہ کشمیر انسانی تاریخ کا ایک المیہ ہے۔ یہ عالمی سطح کا تسلیم شدہ متنازعہ خطہ ہے۔ 1989میں کشمیریوں نے نئے سرے سے تحریک آزادی کو منظم کیا۔ ان کی اس متحرک مزاحمت کو دیکھتے ہوئی یکجہتی کشمیر کے طور پر حکومت پاکستان نے امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد کی کوششوں کے نتیجے میں 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منانے کا اعلان کیا۔

کشمیر کی تحریک آزادی کے اندرونی محرکات خاصے مضبوط ہیں جن کی وجہ سے آج یہ مسئلہ آتش فشاں کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ دوسری طرف خالصتان تحریک کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں متعین آٹھ لاکھ سے زائد بھارتی فوجیوں کے لئے مزید مسائل پیدا ہوچکے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 اور 35A کو ختم کرکے مسلم آبادی کو اقلیت میں بدلنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ڈومیسائل کے نئے قوانین کے ذریعے ایک لاکھ ہندووں کو کشمیر کی شہریت دے دی گئی ہے۔ہندوستان میں نفرتوں اور فاشزم کے بھوت انسانی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔ کشمیر، ہندوستانی مسلمانوں اور اقلیتوں کے ساتھ بی جے پی کی حکومت جو زیادتی کر رہی ہے وہ خطرناک ہے۔ انڈیا کا یہ کہنا کہ یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے اور بیرونی مداخلت ہورہی ہے، وہ سب غلط ثابت ہوگیا ہے۔

مودی ہندوتوا کی آئیڈیالوجی کو لے کر چل رہا ہے، جس کی وجہ سے انڈیا کی عوام اس سے ناخوش ہیں اور اس کی پالیسیوں پر ناراض ہیں۔ انڈیا جو بڑی جمہوریت سمجھا جاتا تھا آج وہ ایک فاشسٹ بندے کی سوچ کی وجہ سے دنیا میں ہزیمت سے دوچار ہے۔

مودی سرکار کی زراعت اصلاحات کے خلاف کسان پچھلے دو ماہ سے مظاہرے کر رہے ہیں۔ کسانوں کی تنظیمیں اس پالیسی سراپااحتجاج ہیں۔ مودی سرکار نے بزرگ سکھ کسانوں پر لاٹھیاں برسا کرخالصتان تحریک کے لیے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ اب اگر مودی سرکار زراعت پر قوانین واپس لیتی بھی ہے تو اس سے خالصتان تحریک کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ 26 جنوری یوم جمہوریہ کے موقع پر سکھوں نے لال قلعہ پر خالصتان کا پرچم لہرا کر کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ الگ وطن کی تحریک کو تیز تر کر چکے ہیں۔ دوسری طرف دنیا کے سامنے کشمیر کا مسئلہ کھل کر سامنے آ گیا ہے، مسئلہ بڑی طاقتوں کے رویوں میں ہے۔

گزشتہ 74 سالوں سے مسئلہ کشمیر جوں کا توں ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی نے بین الاقوامی طاقتوں کا رویہ تبدیل نہیں کیا یا پھر عالمی طاقتیں مسئلہ کشمیرحل ہی نہیں کرنا چاہتیں۔ برطانیہ کی بددیانتی کی وجہ سے ہی مسئلہ کشمیر پیدا ہوا تھا۔ اگر تقسیم غلط طریقے سے نہ ہوتی اور ہندوستان کو کشمیر تک پہنچنے کا راستہ نہ دیا جاتا تو یہ مسئلہ پیدا ہی نہ ہوتا۔۔ ہندوستان کو برٹش کامن ویلتھ میں رکھنے اور کانگریس کو منانے کے لیے کشمیر کی ڈیل مانٹ بیٹن نے کی۔

دوسری بڑی طاقت روس نے بھی مسئلہ کشمیر کو پیچیدہ تر کر دیا ہے۔ روس نے ہندوستان کے حق میں اپنی ویٹو پاور استعمال کرکے اقوام متحدہ کی قراردادوں سے استصواب کا لفظ ہی غائب کروادیا ہے۔ اسی لئے اقوام متحدہ کے ذریعی مسئلہ کشمیر کے حل کی کوئی امید باقی نہیں بچی۔ کشمیر میں لاک ڈائون کو ڈیڑھ سال ہوگیا، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوام متحدہ، لاک ڈائون تک ختم نہ کروا سکے، کشمیر کی آزادی تو دور کی بات ۔

ہم اگر امریکہ پر اعتماد کریں کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کروائے گا ، تو ان کی پلاننگ ایسی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اس طرح حل ہو کہ خود پاکستان کی آزادی و خود مختاری دائو پر لگ جائے۔ امریکہ ، چائنا کے مقابلے میں ہندوستان کا اسٹریٹجک پارٹنر ہے۔ وہ ہندوستان کو کبھی ناراض نہیں کرے گا۔ رہ گیا چائنا تو چائنا نے عملی طور پر اپنے آپ کو لداخ میں محفوظ کیا ہے۔

سارا مسئلہ پاکستان کی اپنی پوزیشن کا ہے۔ ہماری کمزوریاں ہیں جن کی وجہ سے ہم اپنے مسئلے حل نہیں کروا سکے۔ ہم نے بڑی طاقتوں کی جنگ لڑی اور جیتی ہے، تو ہم اپنی جنگ کیوں نہیں جیت سکتے۔ ہم عالمی طاقتوں کے اچھے معاون ثابت ہوئے، لیکن جب ہمارے مفاد کی بات ھو تو ہمیں عالمی طاقتوں کی ڈپلومیٹک سپورٹ نہیں ملتی۔

1971 مشرقی پاکستان کے کیس میں امریکہ اور چائنا نے پاکستان کی مدد نہیں کی۔ ہندوستان روس کے ساتھ معاہدہ کرکے ہمیں چت کرکے چلا گیا۔ 1984 میں ہم نے افغانستان میں امریکہ کی روس کے خلاف مدد کی لیکن جب انڈیا نے سیاچن پر قبضہ کیا تو امریکہ نے ہماری طرف دیکھا بھی نہیں۔ کارگل میں کلنٹن نے پاکستان کے مقابلے میں ہندوستان کو امداد دی۔

عالمی طاقتیں اپنے مفاد کے لیے ہمیں استعمال کرتی ہیں لیکن جب ہمارے مفاد کی بات ہوتی ہے تو دوسری طرف دیکھنے لگتی ہیں۔ تمام جنگیں بلین ڈالرز وار نہیں ہوتیں۔ مضبوط معیشت، آرمی کی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتیں ، اگر ایسا ہوتا تو امریکہ ویت نام میں کامیاب ہوجاتا اور افغانستان میں پسپائی اختیار نہ کرتا۔

ڈپلومیسی جنگ میں بھی جاری رہتی ہے اور امن میں بھی۔ صرف ڈپلومیسی سے کشمیر آزاد نہیں کیا جاسکتا۔کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کامیاب کرنے کے لیے ہمیں کھل کر سامنے آنا ہوگا۔ ہمارے حکمران اللہ کے بھروسے پر اٹھ کھڑے ہوں اور اللہ کی تائید سے اس مسئلہ کو حل کریں۔ جو لوگ اللہ کی طاقت پر اعتماد کرتے ہیں وہ اپنے سے 10 گنا طاقت سے بھی لڑ کر کامیاب ہو سکتے ہیں۔ افغانستان کی مثال سب کے سامنے ہے۔ بغیر سازوسامان کے مجاہدین نے اللہ کے بھروسے پر دنیا کی سپر پاور کو شکست دی اور اب امریکہ کو اپنی فوجیں نکالنے کے لیے ان سے امن معاہدہ کرنا پڑا ہے۔

پاکستان کو سیاسی اور سفارتی محاذ پر جارحانہ انداز میں مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اٹھانا چاہیے۔ بھارت کے کشمیریوں پر مظالم کو پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے دنیا کے سامنے لاکر اس کے مکروہ چہرے سے نقاب ہٹانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ کشمیری مجاہدین کا بھرپور ساتھ دینا چاہیے اور معذرت خواہانہ انداز چھوڑ کر جارحانہ انداز اپنانا چاہیے، کیونکہ لاتوں کے بھوت باتوں سے کب مانتے ہیں۔ سیاسی و سفارتی محاذ کا اپنا کردار اور افادیت ہے لیکن جہاد فی سبیل اللہ سے ریاست جموں و کشمیر کی آزادی ممکن ہے۔ کیونکہ غلام کا کوئی ووٹ نہیں ہوتا۔


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں