معروف مغربی جریدے ’دی اکانومسٹ‘ کا جامع تجزیہ
ترجمہ: عبدالمالک ہاشمی
مارچ سے اب تک تقریباً چالیس مرتبہ ڈونلڈ ٹرمپ یہ دعویٰ کرچکے تھے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ہونے ہی والا ہے۔ اس بار، بالآخر، ان کا دعویٰ درست ثابت ہوا۔ اتوار اور پیر کی درمیانی شب امریکا اور ایران دونوں نے ایک ایسے معاہدے کا اعلان کیا جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ تقریباً چار ماہ سے جاری جنگ کا خاتمہ کردے گا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھول دے گا۔
یہ پیش رفت ایک ایسے خطے کے لیے سکون کا سانس ثابت ہوگی جو جنگ کے زخموں سے چور ہے، اور عالمی توانائی کی منڈیوں کو بھی درکار استحکام فراہم کرے گی۔ تاہم یہ معاہدہ ان بنیادی تنازعات کو حل نہیں کرتا جنہوں نے امریکا اور ایران کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا تھا۔
ابتدائی نوعیت کا یہ سمجھوتا، جسے امریکی حکام یادداشتِ مفاہمت (Memorandum of Understanding) قرار دے رہے ہیں، پیر کے روز طے پایا۔ اس کی باضابطہ دستخطی تقریب جمعہ کو جنیوا میں منعقد ہونے والی ہے۔ اس وقت تک غالب امکان یہی ہے کہ معاہدے کا مکمل متن منظرِ عام پر نہیں آئے گا۔ آنے والے چند دنوں میں دونوں فریق پوری کوشش کریں گے کہ اس معاہدے کو اپنی اپنی کامیابی کے طور پر پیش کریں اور اسے زیادہ سے زیادہ خوش نما بنائیں۔ لیکن ان کے دعووں کو احتیاط اور شک کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے، کیونکہ ان میں سے بعض دعوے حقیقت سے بہت دور، بلکہ محض سیاسی بیانیہ بھی ہوسکتے ہیں۔
امریکا کے لیے سب سے اہم اور فوری مسئلہ ایران کے اُس ذخیرۂ یورینیم کا ہوگا جو جوہری ہتھیار بنانے کے درجے کے قریب تک افزودہ کیا جاچکا ہے اور جس کی مقدار چار سو کلوگرام سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے پاس تقریباً نو ہزار کلوگرام کم درجۂ افزودگی والا یورینیم بھی موجود ہے۔
گزشتہ کئی ماہ سے ڈونلڈ ٹرمپ کا اصرار تھا کہ ایران یہ ذخیرہ امریکا کے حوالے کردے، لیکن تہران نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے یہ تجویز پیش کی تھی کہ یورینیم کی افزودگی کو کم کرکے اسے نسبتاً نچلی سطح پر لے آیا جائے۔ اب معلوم ہوتا ہے کہ واشنگٹن نے اپنے مؤقف میں نرمی اختیار کرلی ہے۔
اس معاملے کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے، International Atomic Energy Agency ، کو بھی مذاکراتی عمل میں شامل کیا جائے گا تاکہ وہ آئندہ لائحۂ عمل کے بارے میں فنی مشورے فراہم کر سکے۔ زیرِ غور امکانات میں یہ تجویز بھی شامل ہے کہ یورینیم کے ذخیرے کو کسی تیسرے ملک منتقل کردیا جائے، جہاں اس کے بارے میں کوئی قابلِ قبول انتظام کیا جاسکے۔
یادداشتِ مفاہمت پر باضابطہ دستخطوں کے بعد امریکا ایران کو بعض قلیل مدتی رعایتیں بھی دے سکتا ہے۔ ان میں ایرانی تیل کی برآمد کی اجازت دینے کے لیے پابندیوں سے استثنا شامل ہوسکتا ہے، نیز ایران کے منجمد اثاثوں میں سے چوبیس ارب ڈالر تک کی رقم مرحلہ وار جاری کیے جانے کا امکان بھی موجود ہے۔ البتہ اس رقم کے استعمال پر مختلف شرائط اور پابندیاں عائد رہیں گی۔
یہ معاہدہ ایک اور مقصد بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے: لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کا خاتمہ۔ تاہم اس بارے میں معاہدے کی زبان خاصی مبہم بتائی جاتی ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا اس میں اسرائیل کو جنوبی لبنان کے اُن علاقوں سے انخلا کا پابند بنایا جائے گا یا نہیں جن پر اس وقت اس کا قبضہ ہے۔ یوں بظاہر یہ معاہدہ کئی محاذوں پر کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اس کے اہم ترین نکات ابھی دھند میں لپٹے ہوئے ہیں، اور ان کی حقیقی صورتِ حال شاید دستخطی تقریب کے بعد ہی سامنے آسکے گی۔
پاکستان نے اپریل میں امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان ایک ابتدائی جنگ بندی کرانے میں کردار ادا کیا تھا، جو اگرچہ تمام فریقین کی جانب سے بار بار خلاف ورزیوں کے باوجود مجموعی طور پر قائم رہی۔ تاہم اس تازہ یادداشتِ مفاہمت (MOU) کی ثالثی میں اس کا کردار نسبتاً کم رہا۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران قطر کے سفارت کار مسلسل تہران اور دیگر دارالحکومتوں کے درمیان آمد و رفت کرتے رہے، اور وہ امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے، جو واشنگٹن میں اس مذاکراتی عمل کی قیادت کر رہے تھے۔
معاہدے کی خبر سامنے آتے ہی پیر کی صبح عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔ برینٹ خام تیل 83 ڈالر فی بیرل تک گر گیا، جو مارچ کے پہلے ہفتے کے بعد اس کی کم ترین سطح ہے، اگرچہ یہ اب بھی جنگ سے پہلے کی قیمتوں کے مقابلے میں تقریباً 20 ڈالر فی بیرل زیادہ ہے۔
آبنائے ہرمز کی بحالی کے بعد خلیج فارس سے تیل کی ایک بڑی کھیپ عالمی منڈیوں کا رخ کرنے کے لیے تیار کھڑی ہے۔ اعداد و شمار فراہم کرنے والی کمپنی کلیپر (Kpler) کے مطابق تقریباً ساٹھ تیل بردار جہاز، جو خام تیل سے بھرے ہوئے ہیں، کئی ماہ سے راستہ بند ہونے کے باعث سمندر میں رکے ہوئے تھے۔
دوسری جانب خلیجی ممالک کے تیل پیدا کرنے والے اداروں کے ذخائر بھی خام تیل سے لبریز ہیں۔ جنگ کے دوران پیداوار جاری رہنے کے باعث ذخیرہ گاہیں تقریباً بھر چکی ہیں اور اب ایسا محسوس ہوتا ہے جیسےتیل کےگوداموں میں بند یہ ’سیاہ سونا‘ ایک ہی جھٹکے میں عالمی منڈی میں اُمڈ پڑنے کے لیے بے تاب ہو۔
تاہم اس بات کا امکان کم ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت فوری طور پر جنگ سے پہلے والی سطح پر بحال ہو جائے۔ ماہرین کے نزدیک معمول کی سرگرمیوں کی واپسی میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، خصوصاً اگر حتمی معاہدے پر جاری مذاکرات کسی تعطل کا شکار ہو جائیں، اور ایسا ہونا بعید از قیاس بھی نہیں۔
صرف ساٹھ دن کے اندر ایک جامع اور پائیدار معاہدہ طے کر لینا کوئی آسان کام نہیں۔ اعلیٰ درجے تک افزودہ یورینیم کا مسئلہ تو محض آغاز ہے۔ امریکا ایران کے جوہری پروگرام پر مزید پابندیوں اور نگرانی کے معاملات زیرِ بحث لانا چاہے گا، جبکہ ایران اس کے بدلے میں وسیع تر اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرے گا۔یوں جس معاہدے کو فی الحال ایک عبوری معاہدے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، بعید نہیں کہ وہ وقت گزرنے کے ساتھ ایک طویل المدت بندوبست کی شکل اختیار کر لے اور عارضی سمجھا جانے والا یہ سمجھوتہ خطے کی نئی سیاسی حقیقت بن جائے۔
اگر واقعی جنگ کا اختتام اسی انداز میں ہوتا ہے تو یہ ایک ایسی جنگ ہوگی جس میں کوئی فریق خود کو واضح فاتح قرار نہیں دے سکے گا۔ جب بمباری کا آغاز ہوا تھا تو صدر ٹرمپ نے ایرانی عوام سے مخاطب ہو کر کہا تھا کہ ’تمہاری آزادی کی گھڑی آن پہنچی ہے‘۔ مگر اب وہ اسی حکومت کے ساتھ مفاہمت کی راہ اختیار کر رہے ہیں جسے کبھی اقتدار سے ہٹانا ان کا ہدف بتایا جاتا تھا۔
واشنگٹن میں ایسے کسی بھی معاہدے کا خیرمقدم متفقہ طور پر نہیں ہوگا۔ اس کے برعکس، اس کے گرد سیاسی تنازع کھڑا ہونے کا قوی امکان ہے۔ ریپبلکن سینیٹر لنڈسی گراہم، جو خارجہ امور میں اپنے سخت گیر مؤقف کے لیے معروف ہیں، پہلے ہی مطالبہ کر چکے ہیں کہ اس معاہدے کو کانگریس کی منظوری اور جانچ پڑتال کے عمل سے گزارا جائے۔
گراہم اس بات کے بھی خواہش مند دکھائی دیتے ہیں کہ اگر یہ سمجھوتا توقعات کے مطابق ثابت نہ ہو تو اس کی سیاسی ذمہ داری نائب صدر جے ڈی وینس کے کھاتے میں ڈالی جائے۔ ان کے بقول، مفاہمتی یادداشت (MOU) کے اصل معمار Vance ہی ہیں، لہٰذا کسی ممکنہ ناکامی کا بوجھ بھی انہی کو اٹھانا چاہیے۔
اس منظرنامے میں سب سے زیادہ نقصان اسرائیل کے حصے میں آتا دکھائی دیتا ہے۔ اسرائیل طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والا کوئی بھی معاہدہ صرف اس کے جوہری پروگرام تک محدود نہ ہو بلکہ اس کے میزائل ذخیرے اور خطے میں سرگرم مسلح گروہوں کی سرپرستی کے معاملات کو بھی اپنے دائرۂ کار میں شامل کرے۔ مگر موجودہ حالات میں ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ حتمی معاہدے میں ان دونوں موضوعات کو کوئی نمایاں جگہ مل سکے۔ اگرچہ ایران کے میزائل پروگرام کو خاصا نقصان پہنچا ہے، تاہم وہ اب بھی اسرائیل پر میزائل حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی طرح حزب اللہ کے ساتھ اس کے تعلقات اور حمایت کا بنیادی ڈھانچہ بھی بڑی حد تک برقرار ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو ایک اور محاذ پر بھی نقصان اٹھانا پڑا ہے: اپنے سب سے قریبی اتحادی، امریکہ، کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے۔ امریکی سیاست میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹس اور تنہائی پسند ریپبلکن، دونوں حلقے اسرائیل پر یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ اس نے امریکا ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیا ہے جس سے واشنگٹن گریز کرنا چاہتا تھا۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران خود صدر ٹرمپ کے بیانات میں بھی اسرائیلی وزیر اعظم بین جومن نیتن یاہو کے بارے میں واضح ناراضی اور برہمی جھلکتی رہی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں اتحادیوں کے تعلقات میں بھی غیر معمولی تناؤ پیدا ہو چکا ہے۔
ایران کی حکومت بلاشبہ اس جنگ کے اختتام کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرے گی۔ آخرکار وہ نہ صرف جنگ کے طوفان سے محفوظ نکل آئی بلکہ اپنے سے کہیں زیادہ طاقتور دو مخالفین کا مقابلہ کرتے ہوئے ایسی صورتِ حال پیدا کرنے میں کامیاب رہی جسے فیصلہ کن فتح یا شکست کے بجائے ایک تعطل سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ ایرانی قیادت کی نئی نسل کا خیال ہے کہ اس کی نسبتاً جارحانہ حکمتِ عملی نے صدر ٹرمپ کے مقابلے میں اسے سیاسی برتری دلائی ہے۔
تاہم ایران کے نو کروڑ بیس لاکھ عوام شاید اس صورتِ حال کو فتح کے جشن کے بجائے تھکن اور اضطراب کی نظر سے دیکھیں۔ ایک سال سے بھی کم عرصے میں انہوں نے دو جنگوں کے اثرات سہے ہیں۔ معیشت پہلے ہی شدید بحران کا شکار ہے؛ خوراک کی قیمتوں میں تین ہندسوں تک پہنچ جانے والی افراطِ زر نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، جبکہ ایک سرکاری اندازے کے مطابق ایرانی صنعتی مراکز پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں دس لاکھ سے زائد افراد روزگار سے محروم ہو چکے ہیں۔
ایسے حالات میں اگر حتمی معاہدہ مستقبل میں جنگ کے خطرے سے حقیقی تحفظ فراہم نہ کر سکا اور عوام کی معاشی زندگی میں واضح بہتری نہ لا سکا تو ایران کی یہ کامیابی دراصل ایک بے ثمر فتح ’ ‘(Pyrrhic Victory) ثابت ہوگی۔
امریکا اور ایران کو اس نازک موڑ تک پہنچانے میں دو اہم عوامل نے بنیادی کردار ادا کیا۔ پہلا، جوہری مذاکرات کے دو سابقہ ادوار کی ناکامی تھی؛ ایک فروری میں اور دوسرا 2025 کے اوائل میں۔ دوسرا سبب گزشتہ موسمِ سرما میں ایران بھر میں اٹھنے والا عوامی احتجاج تھا، جسے بے قابو مہنگائی اور تیزی سے گرتی ہوئی قومی کرنسی نے ہوا دی۔ انہی حالات کو صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے جواز کے طور پر پیش کیا۔
تاہم موجودہ مفاہمتی یادداشت (MOU) ان دونوں بنیادی مسائل کا کوئی واضح حل پیش نہیں کرتی۔ جوہری تنازع بدستور اپنی جگہ موجود ہے اور اس کے اہم نکات ابھی تک طے طلب ہیں۔ دوسری جانب معاہدے کے تحت ایران کو جو محدود اقتصادی رعایتیں اور پابندیوں میں جزوی نرمی ملنے کا امکان ہے، وہ اس قدر نہیں کہ ملک کو اپنے گہرے معاشی بحران سے نکال سکے۔
اگرچہ حالیہ معاہدہ وقتی طور پر کشیدگی کم کرنے اور جنگی ماحول کو ٹھنڈا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اس کے موجودہ خدوخال یہ اشارہ دیتے ہیں کہ اس نے نہ تو جوہری مسئلے کی جڑ کو چھیڑا ہے اور نہ ہی ایرانی عوام کو درپیش معاشی مشکلات کے لیے کوئی مؤثر اور دیرپا راستہ فراہم کیا ہے۔
اس تمام صورتِ حال میں اصل خطرہ یہ ہے کہ کہیں یہ مختصر اور محدود نوعیت کا معاہدہ جنگ کے حقیقی خاتمے کے بجائے محض ایک عارضی وقفہ ثابت نہ ہو۔ امریکا کے لیے یہ قابلِ قبول نہیں کہ ایران کا جوہری پروگرام اپنی موجودہ شکل میں برقرار رہے، جبکہ دوسری طرف ایرانی حکومت بھی اس وقت تک اپنے داخلی اور معاشی بحرانوں پر قابو نہیں پا سکتی جب تک اس کی معیشت عالمی تنہائی اور پابندیوں کے حصار میں جکڑی رہے۔
اگر آنے والے مہینوں میں دونوں فریق ایک جامع اور دیرپا معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے تو یہ خدشہ موجود رہے گا کہ وہ دوبارہ محاذ آرائی کی راہ اختیار کر لیں۔ اس امید پر کہ شاید نئی کشمکش انہیں مذاکرات کی میز پر زیادہ مضبوط پوزیشن اور اپنے حق میں بہتر شرائط حاصل کرنے کا موقع فراہم کر دے۔یوں موجودہ مفاہمت بظاہر جنگ کے شعلوں کو سرد کرتی دکھائی دیتی ہے، لیکن اگر بنیادی تنازعات جوں کے توں باقی رہے تو یہ امن کا مستقل راستہ نہیں بلکہ ایک ایسے وقفۂ سکوت میں تبدیل ہو سکتا ہے جس کے بعد تصادم کی نئی لہر جنم لے۔









