بھارت میں سرکاری ملازمتوں اور میڈیکل کالجز میں داخلے کے لیے لیے جانے والے مسابقتی امتحانات نے کروڑوں نوجوانوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا رکھا ہے۔ ایک کسان کا بیٹا برسوں کی محنت اور خاندانی جمع پونجی خرچ کرنے کے باوجود اعلیٰ سرکاری عہدہ حاصل نہ کر سکا، جبکہ ایک گھریلو ملازمہ کی بیٹی میڈیکل کالج میں داخلے کا خواب پورا نہ کر پائی۔ جب ان جیسی ان گنت کہانیاں متوسط طبقے کی وسیع تر مایوسی سے جا ملیں، تو ہزاروں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے اور ملک کے امتحانی نظام کو للکار دیا — ایک ایسی بغاوت جس نے بالآخر ایک وفاقی وزیر کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا۔
خبر رساں ادارے ’ روئٹرز‘ نے اس حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے جسے قارئین کی دلچسپی کی خاطر اردو کے قالب میں ڈھال کر پیش کیا جارہا ہے:
اشوک کمار اچھی طرح جانتا ہے کہ نریندر مودی نے اس کی زندگی بہتر بنا دی۔
اشوک کو بچپن کے وہ دن یاد ہیں جب اس کے کسان والدین گزر بسر کے لیے مشکلات کا سامنا کرتے تھے، اور یہ بھی یاد ہے کہ 2014 میں مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد حالات کس طرح بدلے۔ ان کی حکومت نے سستے کھانا پکانے کے گیس سلنڈر اور کاشتکاروں کو براہِ راست مالی امداد جیسی مراعات میں اضافہ کیا، جس سے اشوک اور اس کے چھوٹے بھائی ابھیشیک کو ایک بہتر مستقبل کی امید ملی۔ ان کے والدین نے تین مختلف انتخابات میں مودی کو ووٹ دے کر اس تبدیلی کا صلہ چکایا۔
لیکن گزشتہ ہفتے، 25 سالہ اشوک خود کو جنتر منتر کے قریب مودی حکومت کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے پا رہا تھا۔ جنتر منتر، اٹھارہویں صدی کی ایک فلکیاتی رصدگاہ، نئی دہلی کے مرکزی احتجاجی مقام کے طور پر جانی جاتی ہے۔ یہ مظاہرے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی قیادت میں ہوئے ، ایک طنزیہ تحریک جو بھارت کے مایوس نوجوانوں کی آواز بن چکی ہے۔
یہ بے چینی اس وقت پھوٹ پڑی جب حکومت نے تقریباً 20 لاکھ طلبہ کے قومی میڈیکل امتحان کے نتائج، جن میں ابھیشیک بھی شامل تھا، اس انکشاف کے بعد منسوخ کر دیے کہ امتحانی پرچے پہلے ہی افشا ہو چکے تھے۔
بھارت میں ایسے معیاری امتحانات متوسط طبقے تک پہنچنے کا واحد راستہ سمجھے جاتے ہیں۔ دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہزاروں سرکاری ملازمتوں — سفارت کاروں اور منتظمین سے لے کر کلرکوں اور محکمہ جنگلات کے اہلکاروں تک — کی رسائی کو انتہائی سخت امتحانات کے ذریعے محدود کرتا ہے، جن کی تیاری میں طلبہ برسوں اور خطیر رقم صرف کر دیتے ہیں۔
ان امتحانات میں کامیابی کا امکان اعداد و شمار کے لحاظ سے ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلے سے بھی مشکل ہو سکتا ہے، لیکن انعام میں تاحیات ملازمتی تحفظ کے ساتھ ساتھ پنشن اور رہائشی مراعات بھی شامل ہوتی ہیں جو نجی شعبے میں دستیاب نہیں۔ دوسری جانب، مارسیلس انویسٹمنٹ مینیجرز کے مطابق، کارپوریٹ شعبے میں ملازمتوں کی نمو 2020 سے پہلے کی دہائی میں 11 فیصد سالانہ سے کم ہو کر اب محض 3 فیصد رہ گئی ہے۔
روئٹرز کے سرکاری ریکارڈز اور میڈیا رپورٹس کے جائزے کے مطابق، 2014 سے اب تک کم از کم دو درجن امتحانات کے نتائج پرچہ لیک ہونے کے باعث منسوخ ہو چکے ہیں۔ لیکن اس بار یہ معاملہ گزشتہ کئی دہائیوں میں بھارت کی سب سے بڑی عوامی بغاوتوں میں سے ایک بن گیا۔
دہلی اور دیگر شہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے تاکہ اس امتحانی نظام کی بار بار بدانتظامی پر اپنا غم و غصہ ظاہر کر سکیں، ایک ایسا نظام جو عوام اور ملازمتی تحفظ کے درمیان حائل ہے، جسے ایشیائی محاورے میں ’لوہے کا چاول کا پیالہ‘ کہا جاتا ہے۔
چار سال قبل اشوک ایک چھوٹا سا بیگ لے کر اپنی آبائی ریاست بہار سے ایک ہزار کلومیٹر دور دہلی منتقل ہوا۔ وہاں اس نے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور ایک کوچنگ اکیڈمی میں داخلہ لیا، جہاں اس نے بار بار اعلیٰ سرکاری ملازمتوں کے امتحانات میں کامیابی کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ بعد ازاں اس کا چھوٹا بھائی ابھیشیک بھی ایک اتنے ہی سخت میڈیکل داخلہ امتحان کی تیاری کے لیے اس کے ساتھ آ ملا۔
اسی طرح کے ہزاروں مایوس نوجوان مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کے خلاف مختلف شکایات لے کر مظاہروں میں شامل ہوئے، ایسی شکایات جو اکثر بھارت کے دنیا کو حیران کرنے والے شرح نمو کے اعداد و شمار کے پیچھے چھپ جاتی ہیں۔ روئٹرز کے چھ روزہ مظاہروں کے دوران درجنوں افراد سے کیے گئے انٹرویوز کے مطابق ان شکایات میں بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات، نوجوانوں میں بلند بے روزگاری اور آزادیٔ اظہار رائے کے حقوق میں کمی شامل ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 30 سال سے کم عمر بھارتی شہریوں میں بے روزگاری کی شرح اوسط شہری کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔
طلبہ نے ایسے پوسٹرز اٹھا رکھے تھے جن پر ستر سالہ مودی اور ان کے وزرا کا سخت زبان میں مذاق اڑایا گیا تھا، وہی حکمران جو تقریباً 90 کروڑ افراد پر مشتمل ایک ایسی آبادی پر حکومت کرتے ہیں جن میں سے اکثریت 35 سال سے کم عمر ہے۔ ان مظاہروں نے اس مضبوط رہنما کے گرد ناقابلِ تسخیر ہونے کے تاثر کو بھی نقصان پہنچایا، جس نے کبھی طاقتور رہنے والی کانگریس پارٹی کو انتخابی میدان میں شکست دی اور ناقدین کے مطابق، ملک کے روایتی طور پر آزاد میڈیا کو بھی خاموش کروا رکھا ہے۔
مودی کے دفتر نے تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔ حکومت اس سے قبل اپنی معاشی کارکردگی پر تنقید کو مسترد کرتی رہی ہے، اور اس کا مؤقف رہا ہے کہ بے روزگاری کے بحران کے دعوے مبالغہ آمیز ہیں اور معیشت کے بنیادی اشاریے مستحکم ہیں۔
عوام کی پارٹی
’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (یعنی ’عوام کی پارٹی‘) کا نام بھارت کے چیف جسٹس کی جانب سے رواں سال بے روزگار نوجوانوں کے بارے میں کی گئی ایک توہین آمیز ریمارکس سے اخذ کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے بعد میں کہا تھا کہ ان کے تبصرے کو غلط طور پر پیش کیا گیا۔
20 جولائی کو، بعض تخمینوں کے مطابق 50 ہزار سے زائد افراد نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی۔ انہیں پولیس کے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا، مگر آن لائن ان مظاہروں کی پیروی کرنے والے کہیں زیادہ لوگوں کی ہمدردیاں حاصل ہوئیں۔ ان ہجوموں میں، جو اب مختلف عمر اور طبقاتی پس منظر کے افراد پر مشتمل ہو چکے تھے، مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔ بالی وڈ کے کئی ستاروں نے بھی سوشل میڈیا پر مظاہرین کی حمایت کی۔
اشوک نے، پولیس کے ڈنڈے سے لگنے والا زخم دکھاتے ہوئے کہا: ’لوگ عام طور پر مذہب، ذات اور زبان کی بنیاد پر بٹے ہوتے ہیں۔ یہ پہلا موقع تھا جب وہ تعلیم کے مسئلے پر متحد ہوئے۔‘
دہلی پولیس نے مظاہروں کے دوران اپنے طرزِعمل سے متعلق سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اس سے قبل پولیس یہ کہہ چکی ہے کہ مظاہروں کو پیشہ ورانہ انداز میں کنٹرول کیا گیا اور 20 جولائی کے تصادم میں 118 اہلکار زخمی ہوئے۔
ہفتے کے اختتام تک ’کاکروچوں‘ کو اپنی پہلی بڑی کامیابی مل چکی تھی: وفاقی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان، جو مظاہرین کا بنیادی ہدف تھے، مستعفی ہو گئے۔ ایک نایاب اقدام کے تحت مودی نے مظاہرین کے مطالبات کے سامنے جھکتے ہوئے رعایت دی۔
اس کے بعد سے حکومت نے امتحانی پرچے افشا ہونے سے متعلق قانون کو سخت تر بنا دیا ہے، جس میں کڑی سزائیں شامل کی گئی ہیں۔ مودی نے ملک کے نوجوانوں سے براہِ راست خطاب کرتے ہوئے ایک ویڈیو پیغام میں امتحانی نظام کے جائزے کے لیے ایک کمیٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا۔
حکومت نے مزید یہ بھی اتفاق کیا کہ ان طلبہ کے اہلِ خانہ کو معاوضہ دیا جائے گا جنہوں نے پرچہ لیک ہونے کے بعد خودکشی کی، اور مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی بھی ترک کر دی جائے گی۔
پردھان کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
چاول کی کاشت اور بھینس کے دودھ پر گزر بسر
بھارت کی عظیم اقتصادی ترقی کا سفر 1990 کی دہائی میں شروع ہوا، جب ملک نے دہائیوں پر محیط تحفظاتی پالیسیوں کو ترک کر کے عالمی کاروباری اداروں کا خیرمقدم کیا۔ بعد میں ملک نے اپنی مضبوط کمپنیاں بھی تیار کیں، جو وال اسٹریٹ اور سیلیکون ویلی کو بیک آفس خدمات فراہم کرتی ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے یہ دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے اور اب اس کے تقریباً 50 کروڑ شہری متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
تاہم یہ خوشحالی اشوک اور ابھیشیک کی آبائی ریاست بہار میں کہیں دور کی بات محسوس ہوتی ہے۔ بہار، جو فی کس آمدنی کے لحاظ سے بھارت کی سب سے غریب ریاست ہے۔
روئٹرز کے نامہ نگاروں نے ریاست کے ایک دور دراز گوشے میں واقع ان کے آبائی گھر کا دورہ کیا، جہاں کاشتکاری ہی معاش کا واحد ذریعہ ہے۔ گھر کے صحن میں گوبر کے ڈھیر کے درمیان ایک بھینس بندھی ہوئی تھی، وہی بھینس جس کا دودھ ان کی والدہ بیچ کر شوہر کی چاول کی کھیتی سے حاصل ہونے والی آمدنی میں اضافہ کرتی ہیں۔
مئی کے میڈیکل داخلہ امتحان کی منسوخی نے 20 سالہ ابھیشیک کو، جو یہ امتحان تین بار ناکام دے چکا تھا، شدید مایوس کر دیا۔
ابھیشیک نے اپنے آبائی گھر میں بتایا: ’میں سمجھتا تھا کہ ڈاکٹر بننے سے میں اپنی ماں کے لیے کچھ زیورات اور گھر کے لیے ایک ٹی وی خرید سکوں گا۔‘
اس کے برعکس، ابھیشیک اب اپنے والدین سے پرانی، ٹوٹی ہوئی چپل بدلوانے کے لیے پیسے مانگنے سے بھی گھبراتا ہے۔
اس نے کہا: ’میں کب تک پڑھائی کروں؟ میں دوبارہ اتنی تیاری نہیں کر سکتا۔‘
بڑے بھائی اشوک نے نوجوانی میں ہی سرکاری ملازمت کے حصول کا فیصلہ کر لیا تھا۔ بہار کے پرعزم نوجوانوں کے لیے کھیتوں سے نکل کر ترقی کرنے کے چند ہی راستوں میں سے ایک سرکاری ملازمت ہے۔
اس نے گھر پر رہتے ہوئے ہی کوچنگ اکیڈمیوں میں جانا شروع کیا، اور کبھی کبھار بجلی چلے جانے پر لالٹین کی روشنی میں پڑھائی کرتا رہا۔ اس نے یاد کرتے ہوئے کہا: ’میں سمجھتا تھا کہ صرف محنت ہی کافی ہو گی۔‘
لیکن دھوکہ دہی کے کئی اسکینڈلز، جن میں سے اکثر بہار میں پیش آئے، نے اس کے اس خیال کو غلط ثابت کر دیا۔ 2015 میں یہ ریاست عالمی خبروں کی زینت بنی، جب امتحان دینے والے طلبہ کے رشتہ داروں اور دوستوں کی وہ تصاویر دنیا بھر میں نشر ہوئیں جن میں وہ کھڑکیوں کے ذریعے جواب پہنچانے کے لیے عمارت کی دیواروں پر چڑھتے دکھائی دیے۔
ایک امریکی نیوز ویب سائٹ نے اس واقعے پر طنزیہ عنوان لگایا تھا۔
2024 میں بھی، ریاستی سرکاری ملازمت کے امتحان کے مبینہ آن لائن لیک ہونے پر سینکڑوں افراد نے احتجاج کیا تھا۔ بہار کی حکومت، جسے مودی کی جماعت کی حمایت حاصل ہے، نے اس وقت کہا تھا کہ صرف معمولی بے ضابطگیاں پیش آئیں اور نتائج کی توثیق کر دی۔
اس سے اشوک کو کوئی فائدہ نہ ہوا۔ وہ اگلے مرحلے تک پہنچنے کے لیے مقررہ حد سے محض 10 نمبر پیچھے رہ گیا تھا۔ اس نے یہ امتحان زیادہ مسابقتی قومی امتحانات کی تیاری کے دوران دیا تھا، اور اس معمولی ناکامی نے اسے شدید دلبرداشتہ کر دیا۔
گزشتہ چار برسوں میں اس نے ایسے سات امتحانات دیے، مگر ہر بار ناکام رہا۔ اس کا اندازہ ہے کہ اس دوران وہ 10 ہزار ڈالر سے زائد رقم خرچ کر چکا ہے جس کا بیشتر حصہ اس کے والد کی جمع کردہ محنت کی کمائی ہے۔
دہلی میں اشوک کے تنگ و تاریک کرائے کے کمرے میں، جھڑتی ہوئی پلستر والی دیواروں پر کئی پوسٹرز آویزاں ہیں، جن میں ایک پر ہندو راہب سوامی وویکانند کا ایک تحریک آفرین قول درج ہے: ’اٹھو، جاگو، اور اپنی منزل حاصل کیے بغیر مت رکو۔‘
لیکن یہ جذبہ اب اس پر بے اثر معلوم ہوتا ہے۔
اس نے کہا: ’عوامی امتحانی نظام تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔‘
’ملک کے بچوں کے مستقبل کی خاطر‘
دیویا اُنی بھارت کی کامیاب داستانوں میں سے ایک ہیں۔
جب بھارت نے اپنے معاشی آزادی کے سفر کا آغاز کیا تو وہ ایک بچی تھیں۔ جب تک وہ بالغ ہوئیں، بھارت کا اپنا وگ میگزین بھی سامنے آ چکا تھا، جہاں انہوں نے کام کیا، اور بعد میں انہوں نے کامیابی سے اداکاری اور ہدایتکاری کے شعبے کا رخ کیا۔ ان کی حقوقِ نسواں پر مبنی مختصر فلمیں یوٹیوب پر لاکھوں افراد دیکھ چکے ہیں۔
مگر جولائی میں، 41 سالہ اُنی بھی جنتر منتر پر ہزاروں مایوس ’کاکروچوں‘ کے ساتھ آ ملیں۔ ہجوم ’انقلاب زندہ باد‘ کے نعرے لگا رہا تھا — ایک ضد استعماری نعرہ جس کا مطلب ہے ’انقلاب زندہ رہے۔‘ لاؤڈ اسپیکرز پر مائیکل جیکسن کا 1990 کی دہائی کا احتجاجی گیت "They Don’t Care About Us” بج رہا تھا۔
ممبئی کے ساحلی شہر میں رہائش پذیر اُنی کو بھی حکومت سے شکایات تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فلمی ادارے ہندو قوم پرست موضوعات پر مبنی فلمیں بنانے کو ترجیح دے رہے ہیں، اور یہ کہ اجرتیں مہنگائی کے مقابلے میں نہیں بڑھیں۔
مگر اُنی بنیادی طور پر اپنے لیے دہلی نہیں آئی تھیں۔ ان کا اپنی گھریلو ملازمہ ممتا سنگھ کی 21 سالہ بیٹی سمرن سنگھ کے ساتھ بہنوں جیسا رشتہ قائم ہو چکا تھا۔ سمرن، میڈیکل کا امتحان دینے اور پھر اس کے نتائج منسوخ ہونے کے بعد شدید مایوسی کا شکار ہو گئی تھی۔
مدد کرنے کی خواہش رکھنے والی، مگر یہ نہ جانتے ہوئے کہ کیسے مدد کریں، فلم ساز نے اپنے شوہر کے ساتھ 17 گھنٹے کا ٹرین سفر طے کیا اور اپنی مرحوم والدہ کی ساڑھی اور بالوں میں پھولوں کی مالا سجائے جنتر منتر پر مارچ میں شریک ہوئیں۔
انہوں نے کہا: ’ہم صرف اس ملک کے بچوں کے مستقبل کے لیے کسی مقصد کی حمایت کرنے آئے تھے۔‘
اُنی کی گھریلو ملازمہ ممتا بھی، کمار برادران کی طرح، بہار سے ممبئی آئی تھیں۔ وہ اپنے اور اپنی بیٹی سمرن کے لیے بڑے خواب دیکھنے کی خاطر شہر منتقل ہوئی تھیں۔
مئی کے امتحانی نتائج منسوخ ہونے تک، یہ فیصلہ کامیاب دکھائی دے رہا تھا۔ ان کے کام کے اوقات طویل تھے، مگر اجرت اتنی تھی کہ وہ سالانہ 3 ہزار ڈالر سے زائد سمرن کی امتحانی کوچنگ پر خرچ کر سکیں۔ ممتا کے مطابق، ان کی بیٹی والدین کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے پرعزم تھی، اور مہینوں تک پڑھائی میں مصروف رہتے ہوئے اس نے اپنے دوستوں سے بھی خود کو تقریباً الگ کر لیا تھا۔
امتحان کے بعد سمرن کو یقین تھا کہ وہ 500 سے زائد نمبر حاصل کرے گی جو غالباً میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے کافی ہوتے۔ مگر جلد ہی بھارتی میڈیا نے امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کی خبریں دینا شروع کر دیں۔ ممتا کے مطابق، سمرن دو دن تک خود کو کمرے میں بند کر کے کچھ کھائے بغیر بیٹھی رہی۔
بعد ازاں مودی حکومت نے اعلان کیا کہ ’طلبہ کے مفاد میں‘ امتحان منسوخ کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے اس معاملے کو، 2024 کی طرح، جب اس سال کے امتحان کے پرچے بھی وقت سے پہلے افشا ہوئے تھے، وفاقی تحقیقاتی اداروں کے حوالے بھی کر دیا۔
حکومت نے جون میں دوبارہ امتحان کا انتظام کیا، مگر اس بار سمرن کی کارکردگی توقع سے کم رہی۔ تاہم اس سے پہلے ہی وہ میڈیکل کے خواب ترک کر کے کم اہمیت کے حامل کسی دوسرے شعبے میں تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کر چکی تھی۔
ممتا نے کہا: ’آج میری بیٹی 21 سال کی ہے۔ ایک سال بعد وہ 22 کی ہو جائے گی اور پھر وہی سب کچھ دہرایا جائے گا۔ کیا ہم ساری زندگی یہی کرتے رہیں گے؟ وہ اپنی زندگی کب جیے گی؟‘









