مراکش انتخابات میں خاتون ووٹ ڈالتے ہوئے

مراکش کے جمہوری نظام پر بڑے سوالات اٹھ گئے؟

·


مراکش میں انتخابات قریب آتے ہی سیاسی جماعتیں نئے نعرے لگاتی، وعدے کرتی اور امیدواروں کے چہرے بدلتی ہیں، لیکن بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ انتخابات کے نتیجے میں بننے والی حکومت کو ملک چلانے اور اہم فیصلے کرنے کا حقیقی اختیار حاصل بھی ہے یا نہیں؟

2011ء کے آئین کے مطابق حکومت کو انتظامی اختیارات حاصل ہیں اور اسے عوامی پالیسیوں، اہم شعبوں اور خارجہ پالیسی کے معاملات میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہییں۔ لیکن مراکش میں’ خودمختار وزارتیں ‘ (وزارات السیادة) کی اصطلاح رائج ہے، حالانکہ آئین میں ایسی کوئی باقاعدہ تقسیم موجود نہیں۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اہم فیصلے حقیقت میں کون کرتا ہے اور منتخب حکومت کے اختیارات کہاں تک ہیں؟ ’خودمختار وزارتیں‘ سے مراد ایسی اہم وزارتیں ہیں جن کے سربراہوں کی تقرری اور پالیسیوں پر اثراندازی میں بادشاہ اور شاہی اداروں کا کردار نمایاں سمجھا جاتا ہے، نہ کہ صرف وزیراعظم اور حکمران جماعت کا۔

جب حکومتی اختیارات واضح نہ ہوں تو ناکامی کی ذمہ داری بھی متعین نہیں ہوپاتی۔ تعلیم، صحت، بے روزگاری اور دیگر عوامی مسائل حل نہ ہوں تو شہری کس سے جواب طلب کریں؟ متعلقہ وزیر سے، وزیراعظم سے، سیاسی جماعت سے یا کسی دوسرے ادارے سے؟ یوں ہر فریق یہ کہہ کر ذمہ داری سے بچ سکتا ہے کہ فیصلے اس کے اختیار میں نہیں تھے۔

مراکش کے عوام کو تعلیم و صحت کے بحران، بے روزگاری، مختلف علاقوں میں ترقی کے فرق اور قوتِ خرید میں کمی کا سامنا ہے۔ ان مسائل کے مستقل حل کے بجائے عارضی اقدامات، نئے منصوبوں اور اعلانات سے کام چلایا جاتا ہے، جن کا عام آدمی کی زندگی پر کوئی نمایاں اثر نہیں پڑتا۔

سیاسی جماعتیں بھی عوام کی سیاسی تربیت، نئی قیادت تیار کرنے اور متبادل پالیسیاں دینے کے بجائے انتخابی کامیابی، عہدوں اور وقتی سیاسی اتحادوں کے حصول میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں۔ سرکاری مالی معاونت کے باوجود وہ عوام کو حقیقی متبادل فراہم نہیں کرتیں۔

مراکش میں جمہوری نظام کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ آئین کی بالادستی تمام اداروں پر یکساں طور پر قائم ہو اور منتخب حکومت کو اپنے آئینی اختیارات کے مطابق ملکی معاملات چلانے کی پوری آزادی اور گنجائش حاصل ہو۔ اس کے ساتھ ہی اختیارات اور ذمہ داریوں کی حدود واضح کی جائیں تاکہ یہ طے ہوسکے کہ فیصلے کون کرتا ہے، ان پر عمل درآمد کون کرتا ہے اور ناکامی کی صورت میں جواب دہ کون ہے۔

سیاسی جماعتوں کو بھی محض انتخابی اتحاد اور اقتدار کے حصول کی سیاست تک محدود رہنے کے بجائے عوام کی سیاسی تربیت، نئی قیادت کی تیاری اور ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے حقیقی متبادل پالیسیاں پیش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں