سال 2028 کے امریکی صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کی تیاری کرنے والے امریکی ڈیموکریٹ سینیٹر کرسٹوفر وان ہولن کی پیدائش پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں ہوئی تھی۔
میری لینڈ ریاستی حکومت کی ویب سائٹ ‘میری لینڈ مینوئل آن لائن’ پر ان کی سوانح عمری کے مطابق، وہ 1959 میں کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔
سینیٹر وان ہولن نے خود بھی گزشتہ برس پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام میں پاکستان کے ساتھ اپنے اس ’خاص تعلق‘ کا تذکرہ کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا ’مجھے آپ کے ساتھ پاکستان کا 79 واں یومِ آزادی مناتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے۔ میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میرا پاکستان کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے، کیونکہ میں ایک امریکی فارن سروس آفیسر کے بیٹے کے طور پر کراچی میں پیدا ہوا تھا۔‘
انہوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا ’اپنی پوری زندگی میں نے پاکستانی عوام کی مہمان نوازی، شرافت اور عزم کا خود مشاہدہ کیا ہے۔ مجھے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان قائم مضبوط تعلقات پر فخر ہے اور میں امریکی و پاکستانی عوام کے درمیان دوستی کے ان رشتوں کو مزید مضبوط بنانے کا خواہا ں ہوں۔‘
واضح رہے کہ 2021 میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد جب امریکی اور دیگر غیر ملکی شہریوں کو وہاں سے نکالا جا رہا تھا، تو وان ہولن نے اس انخلا میں مدد فراہم کرنے پر پاکستان سمیت دیگر ممالک کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔
پاکستان کے علاوہ میری لینڈ کے اس سینیٹر نے ہندوستان میں بھی وقت گزارا، جہاں انہوں نے تامل ناڈو ریاست کے ‘کوڈائی کنال انٹرنیشنل اسکول’ میں تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں، انہوں نے سوارتھمور کالج سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی اور پھر ہارورڈ یونیورسٹی سے پبلک پالیسی میں ماسٹرز کیا۔ انہوں نے جارج ٹاؤن یونیورسٹی سے جیورس ڈاکٹر (قانون) کی ڈگری حاصل کی اور 1990 میں میری لینڈ بار میں شامل ہوئے۔
وہ جنوری 2017 سے امریکی سینیٹ کے رکن ہیں۔ اس سے قبل، وہ 2003 سے 2017 تک امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔
حال ہی میں منعقد ہونے والے مڈ ٹرم (مجموعی) انتخابات میں ریپبلکنز کی کامیابی کے بعد، وان ہولن کو سینیٹ میں ڈیموکریٹک لیڈر چک شومر کے ممکنہ متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔
تاہم، انہوں نے فاکس براڈکاسٹنگ کمپنی کے نیوز چینل ‘فاکس 5’ سے گفتگو کرتے ہوئے ان قیاس آرائیوں کو ختم کر دیا اور کہ ’میں نے یہ بات بالکل واضح کر دی ہے کہ میں سینیٹ میں اگلا ڈیموکریٹک لیڈر بننے کا خواہش مند نہیں ہوں۔ میں 2028 کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے امکانات کا جائز لے رہا ہوں۔‘









