علامہ محمد اقبال

عورت افکارِ اقبال کے آئینے میں

·

علامہ اقبالؒ ایک الہامی شاعر تھے، ان کی شاعری اور نثر قرآن وحدیث کی تشریح ہے اور اس میں صحیح القیدہ مسلمان کی فکر و آگہی کا نور جھلکتا ہے۔

علامہ اقبال حقیقت میں پوری امت کے حدی خواں اور قائد ہیں۔امت مسلمہ کا ہر فرد مرد ہو یا عورت حتیٰ کہ بچوں کی فکری رہنمائی بھی ان کے کلام میں موجود ہے۔

اقبالؒ نے مسلمان عورت کا جو نقشہ اپنے کلام میں پیش کیا ہے۔ اس سے عورت کی حرمت نمایاں ہے۔ علامہ اقبالؒ نے جنوری1929ء میں انجمن خواتین مدراس کی ایک تقریب میں خواتین کے بہت سے سوالوں کے جواب میں ان خیالات کا اظہار فرمایا تھا:

’مجھے یہ اظہار کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اسلام میں مردوزن میں قطعی مساوات ہے۔ میں نے قرآن پاک کی آیات سے یہی اخذ کیا ہے کہ مقام ومرتبے کے لحاظ سے مردوعورت میں کوئی فرق نہیں۔ بعض علما مرد کی فوقیت کے قائل ہیں اور وہ اس کی دلیل میں آیت الرجال قوامون علی النساء پیش کرتے ہیں۔ عربی محاورے کی رو سے اس کی یہ تفسیر صحیح معلوم نہیں ہوتی کہ مرد کو عورت پر فوقیت حاصل ہے۔ عربی گرام کی رو سے قائم پر جب’علیٰ ‘ آئے تو معنی مخاطب کے ہوجاتے ہیں۔مرد عورت کا محافظ ہے ۔ ھن لباس لکم وانتم لباس لھن لباس بھی محافظت کے لیے ہوتے ہیں۔قرون اولیٰ کی صحابیات جہاد میں شریک ہوئیں مرد کی محافظت میں رہتے ہوئے حضرت عائشہؓ نے مردوں کو تعلیم دی، ان کی تربیت کی مگر پردہ میں رہ کر۔ عباسی خلافت میں خلیفہ کی بہن قاضی القضاۃ کے عہدے پر فائز تھیں، خودفتویٰ صادر کرتی تھیں مگر مرد ان کی محافظت سے بے پرواہ نہ ہوئے تھے۔ عورت کے بحیثیت عورت اور مرد کے بحیثیت مرد بعض خاص علیحدہ علیحدہ فرائض ہیں۔ ان فرائض میں اختلاف ہے مگر اس سے یہ اصول قائم نہیں ہوتا کہ عورت ادنیٰ ہے اور مرد اعلیٰ، اگر آپ ان حقوق پر غور کریں جو اللہ تعالیٰ نے عورت کو عطا فرمائے ہیں تو آپ پر واضح ہو جائے گا کہ اس دین نے عورت کو کسی بھی درجہ میں مرد سے کم تر نہیں رکھا ‘۔

اسی تقریب میں علامہ اقبال نے مزید فرمایا:

 ’آپ نے اپنے لیے’اسیران قفس‘ کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ ان سے مجھے مغربی عورتوں کی تحریک کا خیال آرہا ہے جسے ترکی میں اور یورپ میں دیگر مقامات پر ایمنسی پیشن (Emancipation) مردوں کے غلبہ سے آزادی کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔آپ کو لفظ آزادی پر نہیں جانا چاہیے، آزادی کے درست مفہوم پر غور کرنا چاہیے۔ یورپ کی آزادی کو ہم خوب دیکھ چکے ہیں، یورپین تہذیب باہر ہی سے دیکھی جارہی ہے۔ کبھی اندر سے دیکھی جائے تو رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔بڑھے ہوئے معیار زندگی کا وہاں لوگوں پر یہ اثرپڑا ہے کہ بعض ماں باپ بچے کی زندگی کا بیمہ کرا دیتے ہیں پھر اسے قطرہ قطرہ زہر پلاکر ہلاک کردیا جاتا ہے۔ بچوں کو ایسی ہلاکت سے بچانے کے لیے کئی سوسائیٹیاں قائم ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ قرآن پڑھیں اور اس کی تعلیم پر غور کریں۔(گفتار اقبال، مرتبہ محمد رفیق افضل صفحہ ۷۵،۸۴)۔

تعدد ازواج کا مسئلہ مسلمان عورت کو ہمیشہ اچنبھے میں ڈالتا ہے کیونکہ مسلمان مرد اس  کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے۔علامہ اقبال نے اسی تقریب1932ء میں عورتوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

’ ان تمام امور میں شریعت اسلامی نے ایک عام اصول کو ہمیشہ مدنظررکھا ہے وہ یہ ہے کہ’الدین یسر‘۔(دین آسان ہے) پھر اسلام میں تعدد ازواج کاحکم نہیں دیا محض اجازت ہے۔ یہ سچ ہے کہ مسلمان مردوں نے اس اجازت سے بے جائزفائدہ اٹھایا۔جس سوسائٹی میں اس قسم کی اجازت نہ ہو اس کی ضرورت کے وقت جن مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اس سے آپ نا آشنا ہیں۔جرمنی میں ایک موقع پر یہ ضرورت پیش آگئی تھی۔آخر عہد نامہ ویسٹ فیلیا(West Phaila)میں بیس سال کے واسطے ہر مرد کے لیے تعددازواج جائز قرار دیا گیا۔جب جنگ میں کسی قوم کے مردوں کی تعداد میں خاص کمی واقع ہو جائے تو آئندہ ملکی حفاظت کیلیے ضروری ہو جاتا ہے کہ مرد ایک سے زائد بیویاں کرے۔ قرآن پاک میں انہی مصالح کو سامنے رکھ کر اس قسم کی اجازت دی گئی ہے‘۔

’ جاوید نامہ‘کے نام سے اقبال کا دیوان1932ء میں شائع ہوا۔اس میں علامہ نے جن الہامی خیالات کا اظہار فرمایا ہے1995ء میں عورتوں کی بیجنگ کانفرنس کے احوال میں حرف بحرف صحیح ثابت ہوا ہے۔

افکار ِاقبال کا احیا

علامہ اقبال کا نظریہ ادب و فن

علامہ اقبال کی شاعری پر کرشن چندر پی ایچ ڈی کرنا چاہتے تھے مگر۔۔۔۔

علامہ اقبال کو demolish کرنے کا حکم ماننے سے فیض احمد فیض کا انکار
مولانا رومیؒ کی رفاقت میں جب علامہ اقبالؒ ’فلک مریخ‘ سے گزرتے ہیں

تو وہاں نبوت کی جھوٹی دعوے دار عورت کے خطاب سننے کاموقع ملتا ہے، وہ اپنی پیروکارعورتوں سے کہتی ہے:۔

اے زناں ، اے مادراں اے خواہراں

زیستن تا کے مثال دل براں

ماؤں،بہنوں! تم کب تک مرد کی غلامی اور دلبری کرتی رہو گی۔ مرد اپنی جھوٹی محبت کے ذریعے تمہارا استحصال کرتا ہے، زندگی کی دل آزاری، بچوں کی پیدائش کا جنجال ہے شوہر اور اولاد کے بغیر زندگی کتنی حسین و دلفریب ہے۔

از امومت زرد روئے مادراں

اے خنک آزادیٔ بے شوہراں

اور وہ مزید عورتوں کو بغاوت پر اکساتی ہے کہ

خیز و با فطرت بیا اندر ستیز

تاز پیکار تو حر گرد دکنیز

یعنی ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ رحم مادر کے علاوہ کسی اور مصنوعی طریقہ سے آئندہ نسل کی پیدائش وافزائش ہو اور ہمارا استحصال بند ہو۔ ہمیں مرد کی چیرہ دستی اور ظلم و وحشت کے خلاف اعلان جنگ کردینا چاہیے۔

علامہ اقبال کے روحانی استاد مولانارومیؒ اس پر تبصرہ کرتے ہیں:

مذہب عصر تو آئینے نگر

حاصل تہذیب لا دینے نگر

مغربی تہذیب کا سب سے بڑا ظلم یہی ہے کہ وہ قوانین قدرت اور انسانی فطرت سلیمہ کی مخالف سمت میں چل رہی ہے۔ حیااور عفت کا اس میں کوئی مقام و مرتبہ نہیں۔

وہ آنکھ کہ ہے سرمۂ افرنگ سے روشن

پر کار وسخن ساز ہے نمناک نہیں ہے

بے کاری و عریانی و مے خواری و افلاس

کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کے فتوحات

’ جنت ماں کے قدموں تلے ہے‘علامہ اقبال اس کی تشریح یوں کرتے ہیں کہ’ رموز بے خودی‘میں ایک باب کا عنوان ہی ماں کے کردار پر ہے اور ماں کے احترام اور اس جذبہ مامتا کی حفاظت پر ہے۔

نیک اگر بیٹی امومت رحمت است

زانکہ اُو را با نبوت نسبت است

از امومت پختہ تر تعمیر ما

در خطِ سیمائے او تقدیر ما

گفت آں مقصود حرفِ کن فکاں

زیر پائے امہات آمد جناں

حافظ رِمز امومت مادراں

قوت قرآں و ملت مادراں

اقبالؒ کی نظر میں حضرت فاطمۃ الزہرہؓ کی زندگی مسلم عورتوں کے لیے مکمل اسوہ حسنہ ہے۔ حضرت مریم علیہ السلام کی عظمت، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہونے کی حیثیت سے ہے مگر سیدہ فاطمہؓ کو تین مبارک نسبتیں عطا کی گئیں۔بیٹی ہونے کی حیثیت سے ، بیوی ہونے کی حیثیت سے اور حسنینؓ کی والدہ ہونے کی حیثیت سے۔

مریم از یک نسبت عیسیٰ عزیز

از سہ نسبت حضرت زہراؓ عزیز

مزید فرمایا:

عزرع تسلیم را حاصل بتولؓ

مادراں را اسوۂ کامل بتولؓ

عورت کی تعلیم کے بارے میں علامہ اقبالؒ کا نظریہ یہی تھا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا شعور حاصل کرے اور اپنے میدان میں  کمال حاصل کرے۔ وہ خاتون خانہ ہو، چراغ خانہ ہو شمع محفل نہ ہو۔مغربی معاشرت کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔

کیایہی ہے معاشرت کا کمال

مرد بے کارو زن تہی آغوش

ان کا واضح نقطۂ نظر یہ تھا جو آج بھی حقیقت ہے کہ :

تہذیب فرنگی ہے اگر مرگ امومت

ہے حضرت انساں کے لئے اس ثمر کا موت

جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن

کہتے ہیں اسی علم کو ارباب نظر موت

ضرب کلیم میں علامہ اپنے افکار عالیہ میں فرماتے ہیں کہ عورت اگر آزادانہ گھومے پھرے گی تو اس آزادی کا صلہ اسے’زمرد کے گلوبند‘ سے محرومی کی صورت میں ملے گا۔

 ’زمرد کا گلوبند‘ یعنی وہ مقام ومرتبہ، عزت واحترام، تقدس، احساس ذمہ داری جو اسلام نے اس کے مقدر میں لکھا ہے اس سے وہ محروم ہو جائے گی۔

اس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش

مجبور ہیں، معذور ہیں مردان خرد مند

کیا چیز ہے آرائش و قیمت میں زیادہ

آزادیٔ نسواں کہ زمرد کا گلو بند

ضرورت اس امر کی ہے کہ کلام اقبال کو’بیمار امت‘کی مسیحائی کے لیے استعمال کیا جائے۔ قرآن پاک، سنت و سیرت کی اشعارمیں تشریح روح کو اک نئی آبیاری عطا کرتی ہے۔ نغمگی، ترنم، الفاظ کی خوبصورتی انسانی فکر میں ارتعاش پیدا کرتی ہے۔جذبوں کو جگانے، خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرنے اور جوش و جذبہ وغیرت دلانے کے کام آتی ہے۔ علامہ اقبال کا فارسی کلام، اردو کلام کے ساتھ سیکھاجائے، سکھایاجائے۔ تعلیمی ادارے، قرآن فہمی کی کلاسز لینے والے استاد، پرائیویٹ تعلیمی ادارے، اکیڈمیاں ایک مہم کے طورپر اس زندہ کلام کے ذریعے’زندگی‘ پانے کی منصوبہ بندی  کریں۔ بقول اقبالؒ

اٹھ کہ ظلمت ہوئی پیدا اُفقِ خاور پر

بزم میں شعلہ نوائی سے اجالا کر دیں

نوٹ: بادبان ڈاٹ کام پر شائع شدہ کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا بادبان ڈاٹ کام کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔