چین

چین میں بنیادی ڈھانچے کی حد سے زیادہ تعمیر اور بڑھتا قرض

·

چین نے گزشتہ کئی دہائیوں میں سڑکوں، پلوں، سرنگوں، تیز رفتار ریلوے اور ہوائی اڈوں کا وسیع جال بچھایا ہے۔ اس سرمایہ کاری سے سفر اور تجارت آسان ہوئی، سامان کی ترسیل کا وقت اور خرچ کم ہوا اور صنعتی ترقی کو فروغ ملا۔ لیکن اب بہت سے منصوبے ضرورت سے زیادہ ثابت ہورہے ہیں۔ ان کا استعمال کم ہے، آمدنی سے اخراجات پورے نہیں ہوتے اور ان کی تعمیر کے لیے گئے قرضوں کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے۔ اسی لیے چین نے بنیادی ڈھانچے کی مزید توسیع کے بجائے موجودہ نظام کی بہتری پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

چین نے 2023ء میں ٹرانسپورٹ کے شعبے پر 3.9 کھرب یوآن خرچ کیے۔ ملک میں 2 لاکھ کلومیٹر موٹرویز، 50 ہزار کلومیٹر سے زیادہ تیز رفتار ریلوے اور 270 ہوائی اڈے قائم ہوچکے ہیں۔ اس سے سفر، تجارت اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ ملا، لیکن کئی منصوبے حقیقی ضرورت اور مسافروں یا تجارتی سامان کی طلب کو مدنظر رکھے بغیر تعمیر کیے گئے۔ جنوب مغربی چین کے غریب اور دور دراز علاقوں میں ایسی موٹرویز اور پل بنائے گئے جہاں ٹریفک محدود ہے، جبکہ زیادہ صنعتی اور خوش حال ساحلی علاقوں میں ان کی ضرورت زیادہ تھی۔ مثال کے طور پر گوئی ژو (Guizhou) کے ہواجیانگ پل پر 33 کروڑ ڈالر خرچ ہوئے، جو سفر کا وقت دو گھنٹے سے دو منٹ کردیتا ہے، مگر کم ٹریفک کے باعث اس کی لاگت پوری کرنا مشکل ہے۔

بہت سی تیز رفتار ٹرینیں کم مسافروں کے ساتھ چل رہی ہیں۔ بعض علاقوں میں ٹکٹوں کی آمدنی سے صرف ٹرین چلانے کا خرچ پورا ہوتا ہے، ریلوے لائنوں کی دیکھ بھال کا نہیں۔ 2019ء سے 2025ء کے دوران چین کے 43 فیصد تجارتی ہوائی اڈوں پر مسافروں کی تعداد بھی کم ہوئی۔ چھوٹے شہروں میں ضرورت سے زیادہ بڑے اور مہنگے ریلوے اسٹیشن اور ہوائی اڈے تعمیر کرنا بھی وسائل کا ضیاع ثابت ہورہا ہے۔

ان منصوبوں کی بڑی لاگت مقامی حکومتوں نے قرض لے کر پوری کی۔ ان کے بالواسطہ قرضوں کا حجم مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 51 فیصد ہوسکتا ہے۔ غریب صوبے اس بوجھ سے زیادہ متاثر ہیں۔ خدشہ ہے کہ مرکزی حکومت کو بھی ان قرضوں کی ذمہ داری اٹھانا پڑے گی، جس سے صحت، سماجی تحفظ اور عوامی فلاح کے لیے دستیاب وسائل کم ہوسکتے ہیں۔

چین کی تیزی سے بوڑھی ہوتی آبادی بھی مستقبل میں مسئلہ بن سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق 2050ء تک چین کی آبادی 15 کروڑ کم ہوجائے گی، جس سے ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے مسافروں کی تعداد بھی گھٹ سکتی ہے۔

چین نے نئی سڑکوں، ریلوے اور ہوائی اڈوں کی توسیع کے بجائے موجودہ نظام کی دیکھ بھال، مرمت اور بہتری کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ البتہ آئندہ پانچ برس میں بجلی کے نظام، ڈیٹا سینٹرز، موبائل نیٹ ورکس، رسد، نہروں اور پائپ لائنوں پر 25 کھرب یوآن کی سرمایہ کاری کا منصوبہ برقرار ہے۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں