مصری نژاد امریکی اور مشی گن میں پیدا ہونے والے ڈاکٹرعبدالرحمان محمد السید امریکی سینیٹ کا حصہ بننے والے پہلے مسلم رہنما بن گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے خلاف چلائی جانے والی نسل پرستانہ اور اسلاموفوبک حملوں پر مبنی بدترین مہم کو شکست دے کر یہ شاندار کامیابی حاصل کی۔
42 سالہ ڈاکٹرعبدالرحمان محمد السید وبائی امراض کے ماہر اور صحت عامہ کے شعبے میں ایڈمنسٹریٹر کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کے والدین مصر سے امریکا منتقل ہوئے تھے۔ ڈاکٹرعبدالرحمان محمد السید مشی گن ہی میں پیدا ہوئے اور یہیں پلے بڑھے۔
رواں سال کے آغاز میں، وہ ایک ایسی ریاست میں ڈیموکریٹک پارٹی کا پرائمری الیکشن جیتنے والے پہلے ترقی پسند (پروگریسو) رہنما بنے تھے جہاں 2024 کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کامیابی حاصل کی تھی۔ ڈاکٹرعبدالرحمان محمد السید خود کو سرمایہ دارانہ نظام کا حامی قرار دیتے ہیں اور سوشلزم کا لیبل سختی سے مسترد کرتے ہیں۔
نومنتخب امریکی سینیٹر ڈاکٹرعبدالرحمان محمد السید کو سیاسی و صحافتی حلقوں میں اسرائیل کے پالیسیوں کے ایک شدید اور سخت ترین نقاد کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد، طاقتور امریکی لابی ‘ایپک’ (AIPAC) اور امریکی سیاست میں اسرائیلی اثر و رسوخ پر مسلسل آواز اٹھائی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی پالیسیوں پر ان کی تنقید کو کسی طور بھی یہودیت یا یہودی عوام کے خلاف دشمنی سے تعبیر نہ کیا جائے۔
ڈاکٹرعبدالرحمان محمد السید نے جنوری 2024 میں ایک پوڈ کاسٹ کے دوران غزہ کی جنگ کو کھلم کھلا ’نسل کشی‘ قرار دیتے ہوئے فوری اور مستقل بندی کا مطالبہ کیا تھا۔
مئی 2026 میں ‘ٹائم’ میگزین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے سوال اٹھایا ’اگر آپ ایک ایسی چیز کو جو صاف طور پر ‘نسل کشی’ ہے، اس کے اصل نام سے نہیں پکار سکتے، تو پھر آپ ڈونلڈ ٹرمپ یا ادویات بنانے والی بڑی کمپنیوں (فارما سی ای اوز) کے سامنے کیسے ڈٹ کر کھڑے ہو سکتے ہیں؟‘
اپریل 2026 میں ‘سی این این’ (CNN) سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انسانی جانوں کے ضیاع پر اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور کہا ’دسوں ہزار بے گناہ انسانوں کا قتل عام آپ کو انتہائی ظالم اور جابر بناتا ہے۔‘
ڈاکٹرعبدالرحمان محمد السید کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے ایک مخصوص ‘یہودی ریاست’ کے طور پر قائم رہنے کا حق تسلیم نہیں کرتے۔ انہوں نے اسرائیل کو ایک ‘نسلی ریاست’ (Ethnostate) قرار دیتے ہوئے کہا ’میں ایسی ریاستوں کا قائل نہیں ہوں اور نہ ہی میں یہ مانتا ہوں کہ ایسی نسلی ریاستوں کو برقرار رکھنا ہمارے ملک (امریکا) کی ذمہ داری ہے۔‘
ڈاکٹرعبدالرحمان محمد السید 2026 کی ایران جنگ کا بڑا سبب امریکی سیاست میں ‘ایپک’ کے اثر و رسوخ کو قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کو ایک ’بدمعاش ریاست‘ (Rogue State) قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ امریکا کو اسرائیلی فوج کے لیے ‘بلا مشروط اور اندھا دھند رقم’ دینے کا سلسلہ فوری طور پر بند کرنا چاہیے۔
اکتوبر 2026 میں ‘فاکس نیوز’ اور ‘این بی سی نیوز’ کو دیے گئے انٹرویوز میں ڈاکٹرعبدالرحمان محمد السید نے ایران کے خلاف جنگ کو غیر قانونی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ سے امریکا کی سلامتی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، بلکہ اس کی وجہ سے آبنائے ہرمز سے تیل اور گیس کی نقل و حمل معطل ہو کر رہ گئی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل نے امریکا کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیا ہے جس کا مقصد اسرائیل کی سرحدوں کو وسعت دینا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ستمبر 2026 میں امریکا نے ایک غیر ملکی حکومت کو 2 ہزار پاؤنڈ کے بھاری بم خریدنے کے لیے 2.8 ارب ڈالر فراہم کیے، حالانکہ وہ اس رقم کو امریکی اسکولوں، تعلیم اور اپنے ملک کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے پر خرچ کرنا زیادہ مناسب سمجھتے ہیں۔
مخالفین کا پروپیگنڈا اور الزامات
انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر ریپبلکن رہنماؤں نے ڈاکٹرعبدالرحمان محمد السید کی امریکا سے وفاداری پر بارہا سوالات اٹھائے اور ان پر دہشتگردوں کے ہمدرد ہونے کے من گھڑت الزامات عائد کیے۔ ٹرمپ مڈٹرم انتخابات کے لیے مہم چلانے کے دوران بار بار ڈاکٹرعبدالرحمان محمد السید کے خلاف باتیں کرتے رہے۔
یہ بھی پڑھیے
اسرائیل کی 4 ارب ڈالر سالانہ امریکی امداد ختم کرنے کا اعلان، ٹرمپ کی انتخابی شکست نہ ٹال سکا
امریکی مڈٹرم انتخابات: ایران کون سی نئی حکمت عملی اختیار کرنے والا ہے؟
ٹرمپ صاحب نے امریکا کو کتنا ’عظیم‘ بنا لیا؟
ریپبلکنز کا دعویٰ تھا کہ ان کے انتخاب سے امریکیوں کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔
دوسری جانب ان کے حریف مائیک راجرز نے یہ موقف اپنایا کہ ڈاکٹرعبدالرحمان محمد السید کی جانب سے سب کے لیے یکساں اور مفت علاج (یونیورسل ہیلتھ کیئر) اور دیگر ترقی پسند پالیسیوں کی حمایت انہیں روایتی امریکی سیاست سے الگ تھلگ کرتی ہے۔
اسرائیل اور غزہ کی صورتحال پر موقف
اسرائیل کے معاملے پر ڈاکٹرعبدالرحمان محمد السید کے موقف نے مشی گن میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ووٹرز کو متحرک کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ حد تک تقسیم بھی کیا۔ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کارروائیوں پر ان کے بیانات کی وجہ سے جہاں بعض یہودی ووٹرز نے تحفظات کا اظہار کیا، وہیں عرب امریکی اور مسلم ووٹرز کی بڑی تعداد نے ان کے موقف کی بھرپور اور بے لوث حمایت کی۔
تمام تر الزامات اور شدید مخالفت کے باوجود، ڈاکٹرعبدالرحمان محمد السید کی یہ فتح امریکی ایوانِ بالا (سینیٹ) میں اقلیتوں اور مسلم برادری کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہوئی ہے۔
ڈاکٹرعبدالرحمان محمد السید کا فتح کے بعد پہلا خطاب
ڈاکٹرعبدالرحمان محمد السید نے اب سے کچھ دیر پہلے ڈیٹروئیٹ میں منعقدہ اپنی ‘واچ پارٹی’ کے دوران پرجوش کارکنوں سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا ’مجھے عظیم ریاست مشی گن کے نومنتخب سینیٹر کے طور پر آپ کے سامنے کھڑے ہونے پر بے حد فخر اور اعزاز محسوس ہو رہا ہے۔‘
اپنے خطاب میں ڈاکٹرعبدالرحمان محمد السید نے روایتی مفاہمتی لہجہ اختیار کرنے کے بجائے مخالفین پر شدید تنقید کی اور اپنی مہم کو امید کا پیغام جبکہ حریف مائیک راجرز کی مہم کو کارپوریٹ مفادات کے تابع قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا ’ہم نے ایک زیادہ روشن، عظیم اور امید سے بھرپور مشی گن کی بات کی، جبکہ دوسری طرف کارپوریٹ فنڈنگ سے چلنے والی ایک ایسی مصنوعی اور دکھاوے پر مبنی مہم تھی جس کا مقصد صرف عوام کو دھوکہ دینا اور ان کی توجہ بھٹکانا تھا۔‘
اسلاموفوبیا اور نسل پرستانہ حملوں کا جواب
مشی گن میں پیدا ہونے والے مصری نژاد مسلم رہنما ڈاکٹرعبدالرحمان محمد السید نے انتخابی مہم کے دوران اپنے خلاف چلائی جانے والی نسل پرستانہ اور اسلاموفوبک مہم کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’شروع میں انہوں نے میرے نام اور میرے عقیدے کی طرف اشارہ کیا جیسے وہ کہنا چاہتے ہوں کہ یہ شخص ذرا مختلف ہے۔ جب یہ چال ناکام ہو گئی تو انہوں نے مجھے دوسروں کے ساتھ جوڑ کر مجرم بنانے کی کوشش کی۔ اور جب وہ بھی نہ چلا تو انہوں نے ہماری زندگی کی سب سے گھناؤنی مہم چلائی۔‘
انہوں نے مزید کہا ’وہ شاید میرے نام اور مذہب کی طرف اشارہ کر رہے تھے، لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ میرا نام یا میرا عقیدہ وہ وجہ نہیں جس سے آپ پیٹرول، راشن یا ڈاکٹر کی فیس ادا کرنے کے قابل نہیں رہے۔ یہ تمام حقیقی معاشی مسائل ہیں۔‘
یاد رہے کہ انتخابی مہم کے دوران ریپبلکنز کی جانب سے ڈاکٹرعبدالرحمان محمد السید کو ‘مسلم انتہا پسند’ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی اور ان کے خلاف سوشل میڈیا پر متعدد جھوٹے اور گمراہ کن دعوے پھیلائے گئے۔
ساؤتھ کیرولائنا سے ریپبلکن رکنِ کانگریس نینسی میس نے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ڈاکٹرعبدالرحمان محمد السید’امریکا میں شریعت قانون نافذ کرنے کی وکالت کر رہے ہیں۔‘ تاہم، تحقیق سے ثابت ہوا کہ یہ ویڈیو 2010 کی ہے جس میں وہ اوکلاہاما ریفرنڈم میں اسلامی قوانین سے متعلق تجاویز پر تنقید کر رہے تھے، نہ کہ امریکا میں شریعت کے نفاذ کی حمایت۔
لیفت ونگ اسٹریمر حسن پیکر کے سالوں پرانے متنازع بیان (’امریکا 9/11 کا حقدار تھا‘) کو سوشل میڈیا پوسٹس میں غلط طور پر ڈاکٹرعبدالرحمان محمد السید سے منسوب کر دیا گیا۔ ڈاکٹرعبدالرحمان محمد السید نے حسن پیکر کے ساتھ کچھ دیر مہم تو چلائی تھی لیکن انہوں نے اس پرانے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’احمقانہ‘ قرار دیا تھا، جبکہ حسن پیکر خود بھی اپنے اس بیان کو نامناسب قرار دے چکے ہیں۔









