سید بدر سعید
فیس بک اب صرف سوشل نیٹ ورکنگ کی سائٹ نہیں رہی بلکہ باقاعدہ منافع بخش ڈیجیٹل بزنس کا پلیٹ فارم بن چکی ہے۔ پاکستان میں فیس بک مونیٹائزیشن ٹولز فعال ہو چکا ہے یعنی آپ کسی اور ملک کی بجائے اپنی پاکستانی شناخت اور پاکستان میں بنے اکاؤنٹ کے ذریعے ڈالر کما سکتے ہیں۔
یہ تخلیق کاروں، صحافیوں اور نوجوانوں کے لیے شاندار معاشی موقع ہے کہ آپ فیس بک کے ذریعے گھر میں رہتے ہوئے فل ٹائم یا پارٹ ٹائم کام کر کے اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکتے ہیں اور اگر بے روزگار ہیں تو آپ یہ سمجھیں کہ میڈیا ہاؤس کی طرح 8گھنٹے باقاعدہ ملازمت کر رہے ہیں۔ اگر آپ 8 کی بجائے صرف چار گھنٹے بھی روزانہ کام کر لیں تو بھی آپ میڈیا ہاؤس کی تنخواہ سے زیادہ کما سکتے ہیں ۔ (میں کوشش کر رہا ہوں کہ کوئی ایسا سٹنگ پوائنٹ بنا لیں جہاں ہم روزانہ چار پانچ گھنٹے کے لیے اکٹھے ہو کر آفس ماحول کی طرح ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے اپنے اپنے لیے کمائیں۔ )
بہرحال فیس بک پر مونیٹائزیشن کے سفر کا آغاز کرنے کے لیے سب سے پہلے یہ دیکھنا ہے کہ آپ کام کس فارمیٹ پر کرنا چاہتے ہیں۔
اگر آپ کا پرانا ذاتی اکاؤنٹ موجود ہے تو پروفائل سیٹنگز میں جائیں اور وہاں سے پروفیشنل موڈ (Professional Mode) آن کر دیں جس سے فالوورز کا گراف پبلک ہو کر کمائی کے آپشنز کھل جاتے ہیں۔
لیکن اگر آپ طویل مدتی اور پیشہ ورانہ شناخت بنانا چاہتے ہیں تو نیا فیس بک بزنس پیج بنانا سب سے زیادہ محفوظ طریقہ ہے جہاں تفصیلی اینالیٹکس اور ٹیم مینیجمنٹ کے جدید ٹولز دستیاب ہوتے ہیں۔ جو لوگ کسی خاص نچ یا چینل نام کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں وہ عموماً پیج بنا لیتے ہیں لیکن جو لوگ خود کو بطور کری ایٹر پیش کرتے ہیں وہ اپنی پروفائل کو پروفیشنل موڈ پر آن کر دیتے ہیں ۔ آپ دونوں میں سے کوئی بھی طریقہ اپنا سکتے ہیں ۔
یہ بھی پڑھیے
فری لانسنگ: کلپر بنیں۔۔۔۔گھر بیٹھے لاکھوں کمائیں
میں سوشل میڈیا ویڈیوز وائرل کر کے سالانہ 120,000 پاؤنڈ کماتا ہوں
برانڈنگ: ڈیجیٹل دور میں اپنی محنت کی قیمت کیسے بڑھائیں؟
آپ کا فیس بک پیج کم از کم 30 دن پرانا ہونا ضروری ہے تاکہ فیس بک کا سسٹم اسے فعال اور معتبر تصور کرے۔
فیس بک پر بنیادی طور پر آمدنی کے چار بڑے ذرائع ہیں:
ان میں سب سے زیادہ آمدنی ان اسٹریم ایڈز (In-stream Ads) سے ہوتی ہے جو ایک منٹ یا اس سے طویل ویڈیوز کے دوران دکھائے جاتے ہیں۔
اس کے ساتھ شارٹ ورٹیکل ویڈیوز کے لیے ایڈز آن ریلز (Ads on Reels) ہے جو ویڈیوز کے وائرل ہونے پر میٹا کی طرف سے خودکار دعوت (Invite-only) پر ملتا ہے۔
تیسرا ذریعہ فیس بک اسٹارز (Stars) کا ہے جہاں ناظرین ویڈیوز اور لائیو نشریات پر تحفتاً اسٹارز بھیجتے ہیں اور ہر اسٹار کے بدلے ایک امریکی سینٹ ملتا ہے۔
چوتھا طریقہ باقاعدہ فالوورز کے لیے سبسکرپشنز (Subscriptions) کی فیس وصول کرنا ہے۔
پاکستان میں سب سے زیادہ ان سٹریم ایڈ (کانٹنٹ موناٹائزیشن ) کا طریقہ اپنایا جاتا ہے۔
ان میں سب سے اہم یہی ہے ۔
ان اسٹریم ایڈز کے لیے بنیادی شرائط یہ ہیں کہ پیج پر کم از کم 5,000 فالوورز موجود ہوں اور آخری 60 دنوں کے اندر تمام ویڈیوز پر مجموعی طور پر 60,000 منٹس کا واچ ٹائم حاصل ہوا ہو یعنی آج کی تاریخ سے پچھلے 60 دن کا ریکارڈ ۔ اس کے علاوہ آپ کے اکاؤنٹ یا پیج پر کم از کم 5 معیاری ویڈیوز پبلش ہو چکی ہوں۔
مونیٹائزیشن کے اس مرحلے میں سب سے نازک پہلو پارٹنر مونیٹائزیشن پالیسیز پر مکمل عمل درآمد ہے۔
یاد رکھیں کہ واچ ٹائم کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو لیکن اگر مواد اصلی نہیں یا کسی دوسرے یوٹیوب چینل، ٹک ٹاک یا ٹی وی سے کاپی شدہ ہوگا تو فیس بک فوری طور پر Unoriginal Content کا وائلیشن لگا کر پیج کو بلاک کر دیتا ہے۔ اس لیے مواد ہمیشہ اپنی آواز، اپنے چہرے یا خود تخلیق کردہ ریسرچ پر مبنی ہونا چاہیے اور پس منظر میں صرف میٹا کی لائبریری سے کاپی رائٹ فری آڈیو استعمال کرنی چاہیے۔
جب آپ کی شرائط مکمل ہو جائیں تو میٹا بزنس سوٹ کے مونیٹائزیشن سیکشن میں جا کر پے آؤٹ اکاؤنٹ سیٹ اپ کرنا ہوتا ہے۔
اس مرحلے پر اپنے قومی شناختی کارڈ کے مطابق درست نام، تاریخِ پیدائش، ٹیکس کے لیے W-8BEN فارم میں شناختی کارڈ نمبر بطور فارن ٹیکس آئی ڈی اور پاکستان کے کسی بھی بینک اکاؤنٹ کا IBAN اور SWIFT Code درج کیا جاتا ہے۔
جب آپ کی کمائی کم از کم 100 ڈالرز تک پہنچ جاتی ہے تو فیس بک ہر مہینے کی 21 سے 26 تاریخ کے دوران یہ رقم براہِ راست آپ کے پاکستانی بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دیتا ہے۔ اگر کسی مہینے یا شروع میں آپ کی آمدن سو ڈالر سے کم ہو تو بھی یہ رقم ضائع نہیں ہوتی بلکہ فیس بک اسے اگلے مہینے کے پے آؤٹ میں رول اوور کر دیتا ہے ۔ یعنی اگر پہلے ماہ آپ نے 30 ڈالر کمائے ہیں اور اگلے دو ماہ میں بھی 70 ڈالر کما لیے تو آپ کے پچھلے ڈالرز اس میں شامل کر کے سو ڈالر ہونے پر خود کار نظام کے تحت رقم آپ کے بنک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دی جائے گی۔
نئے دوستوں کے لیے بہترین حکمتِ عملی یہ ہے کہ شروع میں ریلز کے ذریعے تیزی سے فالوورز حاصل کریں اور ساتھ ساتھ معلوماتی طویل ویڈیوز کا شیڈول برقرار رکھیں۔ فوٹو جرنلسٹ تصاویر پر کام کر سکتے ہیں کیونکہ تصویر پر بھی ڈالر بنتے ہیں









